Sneak
"تمہارا ڈیئر یہ ہے کہ تم یہ ریڈ ساڑھی پہن کر لالہ کے فارم ہاؤس جاؤ گی۔" زینیا کی بات پہ فرشتے کی سانسیں تھمیں۔ "تمہارا دماغ خراب ہے وہ مجھے جان سے مار دیں گے!" مگر کسی نے ایک نہ سنی۔ "سنو تمہارے سر اندر تو نہیں؟" اس نے باہر کھڑے گارڈ سے پوچھا جو سر نفی میں ہلا گیا۔ سکون سے سانس لیتی وہ اندر کی جانب بڑھی۔ وہ قد آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر پکچر بنانے لگی جب اپنے پیٹ پہ کسی کا ہاتھ محسوس کرتے چیخ اٹھی! "ڈیئر وائف! میرے لیے تیار ہو کر آئی ہیں مجھے سراہنے تو دیں۔" سرد آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تو وہ ساکت رہ گئی۔ وہ مسلسل منہ ہی منہ میں دعائیں مانگتی، کمرے کے چکر کاٹ رہی تھی جب اچانک سائیڈ ٹیبل پر رکھا اس کا فون وائبریٹ ہوا۔ اس نے چونک کر فون کی اسکرین دیکھی۔ بغیر کسی نام کے صرف نمبر چمک رہا تھا، لیکن وہ نمبر فرشتے کو زبانی یاد تھا۔ جہان حیدر شاہ! اس نے کانپتے ہاتھوں سے کال ریسیو کی اور فون کان سے لگایا، مگر زبان سے ایک لفظ بھی نہ نکل سکا۔ "نیچے آ جاؤ۔ میں پورچ میں ہوں۔" دوسری طرف سے وہی گہری، سپاٹ اور بلا کی سنجیدہ آواز ابھری۔ بغیر کسی تمہید کے، بغیر کسی حال احوال کے! اس سے پہلے کہ فرشتہ کچھ بولتی، کال کٹ چکی تھی۔ فرشتے نے فون کو یوں دیکھا جیسے وہ کوئی دہکتا ہوا انگارہ ہو۔ "اتنی جلدی؟ پانچ بجنے میں تو ابھی دس منٹ ہیں! یہ انسان واقعی ایک منٹ بھی انتظار نہیں کر سکتا کیا؟ ہائے اللہ کاش انہیں مجھ سے محبت ہوتی اور مجھے ان کا ڈر نہ ہوتا! گھنٹوں انتظار کرواتی میں انہیں!" جلے دل سے سوچتے اس نے گہرا سانس لیا، اپنا ہینڈ بیگ کندھے پر لٹکایا اور مرتے کیا نہ کرتے کی مصداق کمرے سے باہر نکل آئی۔ ہال سے گزرتے ہوئے اس کی نظریں علیزے اور حنا پر پڑیں جو صوفے پر بیٹھی پاپ کارن کھاتے ہوئے اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔ علیزے نے آنکھ مار کر وکٹری کا نشان بنایا، جبکہ حنا نے ہلکی سی سیٹی بجائی۔ "بیسٹ آف لک، آل راؤنڈر! مجھے یقین ہے جب تم واپس آؤ گی تو اس سفید چڑی پہ گلابی پینٹ ہوا ہوگا۔" علیزے نے آنکھ مارتے اسے چھیڑا تو وہ سٹپٹا گئی۔ "تم دونوں کی تو میں بعد میں خبر لوں گی۔" اس نے دانت پیس کر دھیمی آواز میں کہا اور جلتی ہوئی زمین پر قدم رکھتی پورچ کی طرف بڑھ گئی۔ باہر پورچ میں سیاہ رنگ کی فارچونر کھڑی تھی۔ ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور جہان ایک ہاتھ سے گاڑی کی چھت پر ٹیک لگائے، دوسرے ہاتھ سے اپنے فون میں کچھ چیک کر رہا تھا۔ کالی شرٹ کے ساتھ تہہ کی ہوئی آستینیں اور کلائی پر بندھی مہنگی گھڑی اس کی وجاہت میں مزید اضافہ کر رہی تھیں۔ فرشتے کو دیکھ کر اس نے فون جیب میں ڈالا اور خاموشی سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ فرشتے کے قدم گاڑی کے پاس جا کر جم گئے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ وہ کہاں بیٹھے؟ اگر پیچھے بیٹھتی ہے تو وہ اسے اپنا ڈرائیور سمجھے گا یا برا منائے گا اور اگر فرنٹ سیٹ پر بیٹھتی ہے تو اتنی نزدیک بیٹھنے کی ہمت اس میں کہاں تھی؟ اس نے ہچکچاتے ہوئے پچھلے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ اندر سے جہان کی گہری آواز کانوں سے ٹکرائی۔ "آگے آؤ، میں تمہارا ڈرائیور نہیں ہوں۔" فرشتے کا ہاتھ وہیں جم گیا۔ اس نے تھوک نگلتے ہوئے پچھلا دروازہ چھوڑا اور اگلی نشست کا دروازہ کھول کر نہایت احتیاط سے مگر سہمے ہوئے دل کے ساتھ اندر بیٹھ گئی۔ دروازہ بند ہوتے ہی گاڑی کا ایئر کنڈیشنر اور اس میں پھیلی جہان کے مخصوص تیز پرفیوم کی مہک نے ماحول کو اور زیادہ خوابناک بنا دیا تھا۔ گاڑی پورچ سے نکل کر مین روڈ پر آ گئی۔ سفر کا آغاز ہو چکا تھا اور گاڑی کے اندر مکمل، بوجھل اور دم گھونٹنے والی خاموشی تھی۔ فرشتے نے اپنی نظریں کھڑکی سے باہر جمائی ہوئی تھیں۔ اس کی انگلیوں کی گرفت اپنے ہینڈ بیگ پر اتنی سخت تھی کہ ناخن سفید پڑ رہے تھے۔ وہ دل ہی دل میں آیت الکرسی پڑھ رہی تھی، یوں کہ اس کے پاس بیٹھا شخص انسان نہیں، کوئی جن تھا! جہان نہایت مہارت سے گاڑی چلا رہا تھا۔ اس کی نظریں بظاہر سڑک پر تھیں مگر وہ اس کا گھبرانا پھر بھی نوٹ کر چکا تھا۔ اس نے ایک ہاتھ سے اسٹیئرنگ وہیل گھماتے ہوئے سائیڈ مرر ایڈجسٹ کیا اور پھر ایک لمحے کے لیے فرشتے کی طرف دیکھا۔ "اتنا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔" جہان کی اچانک ابھرنے والی آواز خاموش فضا میں دھماکے کی طرح گونجی۔ فرشتہ سہم کر سیدھی ہوئی، اس کا دل زور سے دھڑکا۔ "ج۔۔۔ جی؟" "میں نے کہا، اتنا سہم کر بیٹھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں تمہیں کھا نہیں جاؤں گا۔" جہان نے بغیر رخ موڑے، بالکل نارمل اور ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ "م۔۔۔ میں کہاں گھبرا رہی ہوں؟ میں بالکل نارمل ہوں۔" فرشتہ نے اپنی سسکتی آواز پر قابو پانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا۔ جہان کے لبوں کے کنارے پر ایک بہت ہلکی، ناقابلِ محسوس سی مسکراہٹ ابھری، جو اگلے ہی لمحے غائب ہو گئی۔ "نارمل انسان بیگ کا تسمہ اتنی سختی سے نہیں مروڑتا کہ وہ ٹوٹنے کے قریب ہو جائے۔" گاڑی ایک سگنل پر رکی۔ جہان نے مکمل طور پر فرشتہ کی طرف رخ کیا۔ "ہمارا نکاح ہوئے تین مہینے ہو چکے ہیں، دادا جان نے یہ رشتہ ہم دونوں کی رضامندی سے جوڑا تھا۔ میں نے اسے دل سے قبول کیا ہے۔ میں جاننا چاہتا ہوں، تمہارے اس خوف کی وجہ کیا ہے؟ کیا میں نے کبھی تمہارے ساتھ کوئی بدتمیزی کی؟" "نہیں، آپ نے کچھ نہیں کہا۔" فرشتہ کی آواز باریک تھی۔ "تو پھر مسئلہ کہاں ہے؟ اگر تم میرے ساتھ اس طرح رہو گی تو رخصتی کے بعد ہمارا گزارا کیسے ہوگا؟ میں کوئی ہاؤس آف ہارر نہیں ہوں فرشتے، نہ ہی میں تم پر اپنے فیصلے مسلط کرنے کا عادی ہوں۔ میں بس اتنا چاہتا ہوں کہ تم کم از کم میرے سامنے نارمل رہنا سیکھو۔ جیسے تم ولید یا باقی کے سامنے ہوتی ہو۔" ولید کا نام سن کر فرشتہ کے ذہن میں صبح کی بات آئی۔ "تمہاری وجہ سے ہماری لڑکی بول نہیں پاتی!" اس نے تھوڑا حوصلہ اکٹھا کیا۔ "آپ ولید نہیں ہیں نا، آپ کی بات الگ ہے۔" "کیسے الگ ہے؟" جہان نے ابرو اٹھا کر پوچھا۔ "آپ۔۔۔ آپ بہت سنجیدہ رہتے ہیں۔ کبھی مسکراتے بھی نہیں ہیں، اور جب آپ دیکھتے ہیں تو لگتا ہے کھا جائیں گے۔" فرشتہ کے منہ سے بے ساختہ نکل گیا! کہتے ہی اس نے فوراً اپنے لب دانتوں تلے دبائے اور آنکھیں بند کر لیں۔ "یا اللہ! یہ میں نے کیا بول دیا!" دل میں خود کو کوستے وہ اپنے لیے اللہ سے رحم مانگنے لگی۔ گاڑی میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی، لیکن اس بار یہ خاموشی اتنی بوجھل نہیں تھی۔ جہان نے گاڑی کو ایک بڑی عمارت کے سامنے روکا۔ "یہ تمہارا ٹیسٹ سینٹر ہے۔" جہان نے باہر اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ "ہم پہنچ گئے، اور تم ابھی تک صحیح سلامت ہو۔" جہان کی آواز میں ایک ہلکا سا طنز تھا۔ "اس کا مطلب ہے اتنا بھی خوفناک نہیں ہوں کہ کسی کو کھا ہی جاؤں۔" فرشتہ نے حیرت سے جہان کی طرف دیکھا۔ اس کی سیاہ آنکھوں میں ایک مدہم سی چمک تھی، اور فرشتہ کے دل نے ایک لمحے کے لیے دھڑکنا بھول گیا! پہلی بار دل میں خوف کے علاوہ کسی جذبے نے سر اٹھایا تھا! جہان حیدر شاہ واقعی ظالم نہیں تھا۔ جہان نے گاڑی دوبارہ اسٹارٹ کرتے ہوئے سادگی سے کچھ کہا۔ اب کی بار لہجہ دو ٹوک تھا، لیکن اس بار فرشتہ کے چہرے پر ایک ہلکی سی گلابی جھجک بھی سمٹ آئی تھی۔ "جی۔" اس نے مدہم سا کہا اور پھر اس عرصے میں پہلی دفعہ اس کے لبوں پہ مسکراہٹ پھیلی تھی، جسے وہ خود سے بھی چھپاتی اپنا رخ موڑ گئی۔ جہان نے آئینے میں اس کا دمکتا چہرہ دیکھا تو لبوں پہ مچلتی مسکراہٹ کو دبا کر سر نفی میں ہلا گیا!
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
Summary — Urdu
Jana Teri Har Ada Ko Salam ایک رومانوی اور خاندانی کہانی ہے جس میں ایک شرمیلی مگر دل سے شوخ لڑکی فرشتہ اور اس کے سنجیدہ شوہر جہان حیدر شاہ کے درمیان نکاح کے بعد پیدا ہونے والی جھجک اور جذباتی قربت کو پیش کیا گیا ہے۔
فرشتہ اور جہان حیدر شاہ کا نکاح تین ماہ پہلے دادا جان کے فیصلے اور دونوں کی رضامندی سے ہوا ہوتا ہے۔ جہان اس رشتے کو دل سے قبول کر چکے ہوتے ہیں، لیکن فرشتہ اب بھی ان کی شخصیت سے غیر معمولی طور پر گھبراتی ہے۔
جہان حیدر شاہ ایک سنجیدہ، باوقار اور کم گو شخص ہیں، جن کا رعب فرشتہ کو ان کے سامنے کھل کر بات کرنے سے روکتا ہے۔
وہ گھر کے دوسرے افراد کے ساتھ ہنستی بولتی اور شوخی کرتی ہے، لیکن جہان کے سامنے آتے ہی اس کے الفاظ جیسے ختم ہو جاتے ہیں۔
ایک دن فرشتہ اپنے کمرے میں بے چینی سے چکر کاٹ رہی ہوتی ہے۔ اسے جہان کے ساتھ ٹیسٹ سینٹر جانا ہوتا ہے اور وہ اس سفر کے خیال سے ہی گھبرا رہی ہوتی ہے۔
اچانک اس کے موبائل پر جہان کا فون آتا ہے۔
جہان مختصر اور سنجیدہ انداز میں اسے بتاتے ہیں کہ وہ پورچ میں موجود ہیں اور فرشتہ نیچے آ جائے۔
فرشتہ حیران ہوتی ہے کہ مقررہ وقت میں ابھی دس منٹ باقی ہیں، لیکن جہان پہلے ہی پہنچ چکے ہیں۔
وہ دل ہی دل میں ان کی وقت کی پابندی اور سنجیدگی پر جھنجھلاتی ہے۔
اس کے ذہن میں یہ خیال بھی آتا ہے کہ کاش اسے جہان سے اتنا خوف محسوس نہ ہوتا تو وہ بھی دوسرے جوڑوں کی طرح ان کے ساتھ بے تکلفی کر سکتی۔
بہرحال وہ اپنا ہینڈ بیگ اٹھا کر کمرے سے نکلتی ہے۔
ہال میں علیزے اور حنا اسے دیکھ کر چھیڑنے لگتی ہیں۔ دونوں اس کی گھبراہٹ سے واقف ہوتی ہیں اور اس کے شوہر کے ساتھ جانے کو دلچسپ موقع سمجھ رہی ہوتی ہیں۔
فرشتہ انہیں دھمکی دیتی ہے کہ واپسی پر ان دونوں کی خبر لے گی اور پھر پورچ کی طرف بڑھ جاتی ہے۔
باہر جہان حیدر شاہ اپنی سیاہ فارچونر کے پاس موجود ہوتے ہیں۔
کالی شرٹ، تہہ کی ہوئی آستینیں اور کلائی پر مہنگی گھڑی ان کی شخصیت کو مزید پررعب بنا رہی ہوتی ہیں۔
فرشتہ کو دیکھ کر جہان خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ جاتے ہیں۔
لیکن فرشتہ کے لیے ایک نئی مشکل کھڑی ہو جاتی ہے۔
وہ سوچتی ہے کہ گاڑی کی اگلی نشست پر بیٹھے یا پچھلی نشست پر۔
اسے خدشہ ہوتا ہے کہ اگر پیچھے بیٹھی تو جہان ناراض ہو سکتے ہیں اور اگر آگے بیٹھی تو ان کے اتنے قریب بیٹھنے کی ہمت نہیں۔
آخر وہ پچھلا دروازہ کھولنے کی کوشش کرتی ہے، مگر اسی لمحے جہان کی سنجیدہ آواز سنائی دیتی ہے۔
وہ اسے آگے بیٹھنے کا حکم دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اس کے ڈرائیور نہیں ہیں۔
فرشتہ فوراً پچھلا دروازہ چھوڑ کر اگلی نشست پر بیٹھ جاتی ہے۔
سفر شروع ہوتا ہے تو گاڑی میں گہری خاموشی چھا جاتی ہے۔
فرشتہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگتی ہے اور اپنے ہینڈ بیگ کا تسمہ اس قدر زور سے پکڑتی ہے کہ اس کی انگلیاں سفید پڑنے لگتی ہیں۔
وہ دل ہی دل میں آیت الکرسی پڑھ رہی ہوتی ہے، جیسے اس کے ساتھ بیٹھا شخص کوئی عام انسان نہیں بلکہ انتہائی خوفناک شخصیت ہو۔
جہان بظاہر پوری توجہ سے گاڑی چلا رہے ہوتے ہیں، لیکن وہ فرشتہ کی گھبراہٹ کو محسوس کر چکے ہوتے ہیں۔
آخرکار وہ خاموشی توڑتے ہیں اور فرشتہ سے کہتے ہیں کہ اسے اس قدر خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔
ان کی اچانک آواز سن کر فرشتہ مزید گھبرا جاتی ہے۔
وہ اپنی گھبراہٹ سے انکار کرتی ہے، لیکن جہان اس کے ہاتھ میں مڑے ہوئے بیگ کے تسمے کی طرف اشارہ کرکے اسے خاموش کر دیتے ہیں۔
جہان اسے یاد دلاتے ہیں کہ ان کے نکاح کو تین ماہ گزر چکے ہیں اور یہ رشتہ دونوں کی رضامندی سے قائم ہوا تھا۔
وہ فرشتہ سے پوچھتے ہیں کہ آخر وہ ان سے اتنا کیوں ڈرتی ہے۔
کیا انہوں نے کبھی اس کے ساتھ کوئی بدتمیزی کی ہے یا اسے کسی طرح پریشان کیا ہے؟
فرشتہ نفی میں جواب دیتی ہے۔
جہان اسے سمجھاتے ہیں کہ اگر وہ ابھی سے ان کے سامنے اتنی گھبراتی ہے تو رخصتی کے بعد دونوں ایک ساتھ زندگی کیسے گزاریں گے۔
وہ واضح کرتے ہیں کہ وہ اس پر اپنے فیصلے مسلط کرنے کے عادی نہیں اور چاہتے ہیں کہ فرشتہ کم از کم ان کے سامنے معمول کے مطابق بات کرنا سیکھے۔
جہان اس کی مثال گھر کے دوسرے افراد، خصوصاً ولید سے دیتے ہیں، جن کے سامنے فرشتہ بے تکلفی سے گفتگو کرتی ہے۔
فرشتہ ہمت کرکے کہتی ہے کہ جہان اور ولید میں بہت فرق ہے۔
جہان اس فرق کی وجہ پوچھتے ہیں تو فرشتہ کے منہ سے بے ساختہ نکل جاتا ہے کہ وہ ہمیشہ سنجیدہ رہتے ہیں، کبھی مسکراتے نہیں اور جب اسے دیکھتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اسے کھا جائیں گے۔
اپنے ہی الفاظ سن کر فرشتہ فوراً گھبرا جاتی ہے۔
اسے یقین نہیں آتا کہ وہ جہان حیدر شاہ کے سامنے اتنی بے باکی سے بول گئی ہے۔
وہ آنکھیں بند کرکے دل ہی دل میں اپنی بات پر پچھتانے لگتی ہے۔
لیکن جہان اس کے جواب پر ناراض ہونے کے بجائے ایک ہلکی سی مسکراہٹ چھپا لیتے ہیں۔
یہ پہلا موقع ہوتا ہے جب دونوں کے درمیان موجود خاموشی کا بوجھ کچھ کم ہونے لگتا ہے۔
کچھ دیر بعد گاڑی ٹیسٹ سینٹر کے سامنے رکتی ہے۔
جہان فرشتہ کو بتاتے ہیں کہ وہ اپنی منزل تک پہنچ چکے ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ فرشتہ ابھی تک بالکل صحیح سلامت ہے۔
ان کے لہجے میں موجود ہلکا سا طنز اور شوخی فرشتہ کو حیران کر دیتی ہے۔
وہ پہلی مرتبہ محسوس کرتی ہے کہ جہان حیدر شاہ صرف سنجیدہ اور سخت مزاج شخص نہیں بلکہ ان کی شخصیت میں نرمی اور مزاح بھی موجود ہے۔
اس مختصر سی گفتگو کے بعد فرشتہ کے دل میں جہان کے لیے خوف کے علاوہ ایک نیا اور خوشگوار احساس بھی پیدا ہوتا ہے۔
وہ ان کی سیاہ آنکھوں میں موجود مدہم سی چمک دیکھتی ہے اور اس کے دل کی دھڑکن ایک لمحے کے لیے بے ترتیب ہو جاتی ہے۔
فرشتہ کو احساس ہوتا ہے کہ شاید وہ اپنے شوہر کی شخصیت کو مکمل طور پر سمجھ ہی نہیں پائی تھی۔
اس کے لبوں پر ایک شرمیلی سی مسکراہٹ ابھرتی ہے جسے وہ جہان سے چھپانے کے لیے اپنا رخ دوسری طرف موڑ لیتی ہے۔
مگر جہان اس کے بدلتے تاثرات محسوس کر لیتے ہیں اور اپنی مسکراہٹ دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔
کہانی کی ابتدائی جھلک ان دونوں کے درمیان ایک اور دلچسپ موقع بھی سامنے لاتی ہے۔
زینیا فرشتہ کو چیلنج دیتی ہے کہ وہ سرخ ساڑھی پہن کر لالہ کے فارم ہاؤس جائے۔
یہ شرط سنتے ہی فرشتہ کی گھبراہٹ بڑھ جاتی ہے۔
وہ احتجاج کرتی ہے کہ ایسا کرنے پر جہان اسے سخت ناراضگی کا نشانہ بنا سکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ فارم ہاؤس پہنچ جاتی ہے۔
وہاں گارڈ سے معلوم کرتی ہے کہ جہان اندر موجود ہیں یا نہیں۔
گارڈ کے انکار پر وہ اطمینان کا سانس لیتی ہے اور اندر داخل ہو جاتی ہے۔
سرخ ساڑھی میں تیار ہو کر جب وہ آئینے کے سامنے اپنی تصویر بنانے لگتی ہے تو اچانک اپنے پیٹ پر کسی کا ہاتھ محسوس کرکے چیخ اٹھتی ہے۔
اگلے ہی لمحے جہان حیدر شاہ کی گہری اور سرد آواز اس کے کانوں سے ٹکراتی ہے۔
وہ اسے اپنی پیاری بیوی کہہ کر مخاطب کرتے ہیں اور شوخی سے کہتے ہیں کہ اگر وہ ان کے لیے تیار ہو کر آئی ہے تو انہیں اس کی تعریف کرنے کا موقع بھی دے۔
فرشتہ ان کی اچانک موجودگی اور غیر متوقع انداز پر ساکت رہ جاتی ہے۔
یہ دونوں واقعات جہان اور فرشتہ کے تعلق میں موجود جھجک، شرارت اور نئی ابھرتی ہوئی اپنائیت کو نمایاں کرتے ہیں۔
ایک طرف فرشتہ اپنے شوہر کی سنجیدہ طبیعت سے گھبراتی ہے، جبکہ دوسری جانب جہان اس کے خوف کو کم کرکے اسے اپنے قریب لانے کی کوشش کرتے ہیں۔
کیا فرشتہ اپنے شوہر کے سامنے موجود جھجک پر قابو پا سکے گی؟
کیا جہان حیدر شاہ کی سنجیدہ شخصیت کے پیچھے موجود نرم اور شوخ پہلو دونوں کے تعلق کو مزید خوشگوار بنا سکے گا؟
یہ رومانوی خاندانی کہانی نکاح کے بعد محبت، میاں بیوی کے درمیان اعتماد، دلچسپ نوک جھونک، شرمیلے جذبات اور ایک نئے رشتے میں بڑھتی ہوئی قربت کے موضوعات پر مبنی ہے۔
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕





