Sneak
”سر آپ کون ہیں؟ کیا دیکھ نہیں رہے وہ لڑکی آپ کی وجہ سے پریشان ہو رہی ہے۔“ میشا کے بار بار دور ہونے پر نرس نے قریب آ کر عیزان کو آہستگی سے ٹوکا۔ پورا وارڈ ہونق سا اس دلکش مرد کو دیکھ رہا تھا۔ مہنگا لباس، خوشبوؤں میں بسا، دراز قد وجیہہ دلکش سا مرد اس سادہ سی لڑکی کے سر پر سوار تھا۔ ”میں اس لڑکی کا ہزبینڈ ہوں، یہ ڈرپ اتارو میں اسے اپنے ساتھ لے جانا چاہتا ہوں۔“ عیزان میشا سے دور ہوتے ہوئے خود کو سنبھال کر نرس کی طرف پلٹا اور آہستگی سے وضاحت دی۔ وہ اس کے جملے پر حیران ہوئی۔ ”ہزبینڈ؟ سنو لڑکی کیا تم انہیں جانتی ہو؟“ نرس نے حیرت سے میشا کو دیکھا اور پھر اس کا کندھا ہلا کر اونچی آواز میں سوال کیا تو اس بدتہذیبی پر عیزان کا خون کھول اٹھا۔ کوثر بھی وہاں آ چکی تھیں۔ ”تمیز سے بات کرو۔۔ یہ کیا طریقہ ہے پیشنٹ سے بات کرنے کا۔۔“ وہ نرس کی تیز آواز پر سرد لہجے میں بولتا اسے گھورنے لگا، وہ گڑبڑا گئی۔ میشا اپنی بند ہوتی آنکھوں کو کھولنے کی کوشش کرتی موبائل اٹھا کر کال لاگ کھولنے لگی۔ ”سر اس لڑکی کو اونچا سنائی دیتا ہے، اس کی ہئیرنگ ٹھیک نہیں ہے۔ آپ کو یہ بات بھی نہیں معلوم۔۔ کیا آپ واقعی اس کے ہزبینڈ ہیں؟“ نرس نے اسے اطلاع دیتے ہوئے شکی نظروں سے اسے گھورا جبکہ عیزان اس کی بات پر ٹھٹک کر میشا کو دیکھنے لگا۔ کوثر نے چادر میں منہ چھپاتے ہوئے بہانے سے اپنے آنسو صاف کیے۔ میشا مل تو گئی تھی مگر پہلے جیسی حالت میں نہیں ملی تھی۔ زاہدہ دور اپنی بیٹی کے پاس بیٹھی ابھی تک حیرت سے میشا کو دیکھا رہی تھی۔ ”اس کی۔۔ ڈرپ اتارو۔۔ میں اسے لے جانا چاہتا ہوں۔“ عیزان کے لیے بولنا مشکل ہو گیا۔ ”آپ اس لڑکی کو ایسے نہیں لے جا سکتے، یہ ڈس ایبل ہے۔ آپ اس کے بارے میں کچھ جانتے تک نہیں اور ڈرپ بھی ایسے نہیں اتار سکتے، لڑکی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔“ نرس نے میشا کو بار بار کوئی نمبر ڈائل کرتا دیکھ کر عیزان کو روک دیا۔ ”یہ بیوی ہے میری، تم کون ہوتی ہو مجھے روکنے والی۔۔“ نرس کے روکنے پر وہ ضبط سے مٹھیاں بھنچ کر بولا۔ کوثر نے نرس کو نرمی سے سمجھاتے ہوئے میشا اور عیزان کا تعلق واضح کیا تو نرس نے ایک بار پھر میشا کو دیکھا۔ جو موبائل ایک طرف رکھے اب ہانپ رہی تھی۔ منیب سے رابطہ ممکن نہیں تھا اور کنیز بیگم کا گھرانہ اتنی طاقت نہیں رکھتا تھا کہ عیزان عباسی کو روک سکتے۔ ”کیا تم اسے جانتی ہو؟“ وہ نرس اب میشا کے قریب ہو کر اونچی آواز میں پوچھنے لگی، عیزان نے ازیت سے آنکھیں میچ کر اس ازیت کو برداشت کیا کہ اس کے ساتھ سرگوشی میں بات کرنے والی میشا اب ہلکی آوازوں کو سننے سے محروم ہو چکی تھی۔ کتنے نقصان اس کے حصے میں آئے تھے آخر۔۔۔ ابھی تو حساب شروع نہیں ہوا تھا۔ نرس کے سوال پر میشا نے آنکھیں کھول کر عیزان کو دیکھا تو وہ نرم بےتاب نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا مگر میشا کی آنکھوں میں کوئی شناسائی نہیں ابھری۔ نا کوئی پہچان کا رنگ تھا نا کوئی دوسرا تاثر۔۔ وہ کچھ دیر عیزان کو دیکھتی رہی۔ شہد رنگ آنکھیں خالی کی خالی رہی تھیں۔ ”میں نہیں جانتی یہ کون ہیں۔“ اس نے نرس کو دیکھتے ہوئے بےبسی سے کہا۔ اس کی آواز نہایت مدھم تھی مگر لہجے میں کوئی لچک، کوئی جھوٹ نہیں تھی۔ کوثر ہکا بکا رہ گئی تھی۔ کیا میشا اپنی یاداشت گنوا چکی ہے؟ جبکہ عیزان ان الفاظ پر حرکت نہیں کر پایا تھا، آٹھ سال پہلے میشا کو اس کے باپ اور تایا کے حوالے کرتے ہوئے عیزان نے اس کا آخری جملہ جو سنا تھا وہ اسے آج بھی یاد تھا۔ نم بھیگے لہجے میں کہا جملہ۔۔۔ ”مجھے تمہارے پاس رہنا ہے عیزان۔۔“ وہ جملہ اسے آٹھ سال لہجے کے بھیگے پن اور خوفزدہ احساس سمیت یاد رہ گیا تھا۔ یہ وہ جملہ تھا جو یاد آتا تھا تو عیزان کتنی دیر بےچین رہتا تھا۔ مگر آج آٹھ سال بعد ملنے پر میشا کا پہلا جملہ اسے ازیت میں ڈال گیا۔ میں نہیں جانتی یہ کون ہے۔۔ کیا وہ واقعی نہیں جانتی تھی۔ وہ اسے زخمی نظروں سے دیکھتا رہا، نرس کے جتاتی نظروں سے دیکھنے پر وہ وارڈ سے باہر نکلا اور دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔ سر جھکائے وہ اپنے آنسو پی رہا تھا۔ کوثر گھبرائی ہوئی سی اس کے پاس آئی۔
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
Summary — Urdu
Ishq e Mehram ایک جذباتی رومانوی کہانی ہے جس میں آٹھ سال کی طویل جدائی کے بعد ایک شوہر اپنی بیوی کو دوبارہ پا تو لیتا ہے، مگر اس ملاقات کے ساتھ ایسی حقیقتیں سامنے آتی ہیں جو اس کے دل کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیتی ہیں۔
عیزان عباسی ایک باوقار، وجیہہ اور بااثر شخصیت کا مالک ہے۔ آٹھ سال بعد جب اسے میشا کا سراغ ملتا ہے تو وہ اس کے قریب پہنچنے اور اسے اپنے ساتھ لے جانے کے لیے بے چین ہوتا ہے۔
لیکن میشا اسے ایک ہسپتال کے وارڈ میں ایسی حالت میں ملتی ہے جہاں اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہوتی اور اسے ڈرپ لگی ہوتی ہے۔
عیزان مسلسل اس کے پاس رہنے اور اس سے بات کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر میشا بار بار اس سے دور ہونے کی کوشش کرتی ہے۔
وارڈ میں موجود لوگ حیرت سے اس منظر کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
ایک نہایت وجیہہ اور مہنگے لباس میں ملبوس شخص ایک سادہ سی بیمار لڑکی کے سامنے بے چین کھڑا ہوتا ہے، جبکہ لڑکی اس کے قریب آنے سے گھبرا رہی ہوتی ہے۔
میشا کی پریشانی دیکھ کر نرس آگے بڑھتی ہے اور عیزان کو ٹوکتی ہے۔
وہ پوچھتی ہے کہ آخر وہ کون ہے اور کیوں اس بیمار لڑکی کو پریشان کر رہا ہے۔
عیزان اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے جواب دیتا ہے کہ میشا اس کی بیوی ہے۔
وہ نرس سے کہتا ہے کہ میشا کی ڈرپ اتار دی جائے کیونکہ وہ اسے اپنے ساتھ لے جانا چاہتا ہے۔
لیکن نرس اس کی بات سن کر حیران رہ جاتی ہے۔
وہ میشا کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور اونچی آواز میں پوچھتی ہے کہ کیا وہ اس شخص کو جانتی ہے۔
نرس کا سخت انداز عیزان کو ناگوار گزرتا ہے۔
وہ فوراً اسے مریضہ کے ساتھ تمیز سے گفتگو کرنے کی تاکید کرتا ہے۔
اسی دوران کوثر بھی وہاں پہنچ جاتی ہیں۔
میشا کمزور حالت میں اپنی آنکھیں کھلی رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے موبائل اٹھاتی ہے اور کسی کو فون ملانے لگتی ہے۔
اس کی کیفیت دیکھ کر نرس عیزان کو ایک ایسی بات بتاتی ہے جو اسے اندر تک ہلا دیتی ہے۔
نرس کہتی ہے کہ میشا کی سماعت ٹھیک نہیں ہے اور اسے اونچی آواز میں بات سنائی دیتی ہے۔
وہ عیزان سے سوال کرتی ہے کہ اگر واقعی وہ میشا کا شوہر ہے تو اسے اپنی بیوی کی سماعت متاثر ہونے کا علم کیوں نہیں۔
یہ سوال عیزان کو بے حد تکلیف پہنچاتا ہے۔
وہ میشا کو دیکھتا رہ جاتا ہے۔
اس کے ذہن میں ماضی کی وہ میشا آ جاتی ہے جو اس سے دھیمی آواز اور سرگوشیوں میں گفتگو کیا کرتی تھی۔
اب وہی میشا ہلکی آوازیں سننے سے محروم ہو چکی ہوتی ہے۔
عیزان کو احساس ہوتا ہے کہ آٹھ سال کے دوران اس کی زندگی میں نہ جانے کتنی مشکلات اور تکلیف دہ تبدیلیاں آ چکی ہیں۔
کوثر بھی میشا کی حالت دیکھ کر اپنے آنسو چھپانے کی کوشش کرتی ہیں۔
میشا کا دوبارہ مل جانا ان کے لیے اہم ہوتا ہے، لیکن اسے اس حالت میں دیکھنا بے حد تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔
زاہدہ بھی قریب موجود ہوتی ہیں اور اپنی بیٹی کے پاس بیٹھی حیرت سے میشا کو دیکھ رہی ہوتی ہیں۔
عیزان نرس سے دوبارہ میشا کو اپنے ساتھ لے جانے کی بات کرتا ہے۔
مگر نرس واضح کرتی ہے کہ مریضہ کی طبیعت ٹھیک نہیں اور ڈاکٹر کی اجازت کے بغیر اس کی ڈرپ اتارنا یا اسے ہسپتال سے لے جانا مناسب نہیں۔
وہ عیزان کے دعوے پر بھی سوال اٹھاتی ہے، کیونکہ اسے میشا کی موجودہ حالت کے متعلق زیادہ معلومات نہیں ہوتیں۔
عیزان اس اعتراض پر غصے میں آ جاتا ہے۔
وہ سختی سے کہتا ہے کہ میشا اس کی بیوی ہے اور نرس کو اسے روکنے کا کوئی حق نہیں۔
کوثر معاملہ سنبھالنے کی کوشش کرتی ہیں اور نرس کو عیزان اور میشا کے رشتے کے متعلق سمجھاتی ہیں۔
مگر نرس ابھی بھی مطمئن نہیں ہوتی۔
وہ دوبارہ میشا کے قریب جاتی ہے اور اس سے براہ راست پوچھتی ہے کہ کیا وہ اس شخص کو جانتی ہے۔
میشا اس وقت موبائل پر منیب سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے، مگر رابطہ ممکن نہیں ہو پاتا۔
اس کے چہرے پر تھکن اور بے بسی نمایاں ہوتی ہے۔
عیزان اپنی بیوی کو دیکھ کر بے حد پریشان ہوتا ہے۔
وہ محسوس کرتا ہے کہ میشا کو اس حال میں دیکھنا اس کے لیے کتنا دردناک ہے، لیکن ابھی اسے سب سے بڑا صدمہ ملنا باقی ہوتا ہے۔
نرس کے سوال پر میشا آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولتی ہے۔
وہ سامنے کھڑے عیزان کو دیکھتی ہے۔
عیزان کی نگاہوں میں بے چینی، محبت اور برسوں کی جدائی کا دکھ ہوتا ہے۔
وہ میشا کے چہرے پر کسی پہچان، کسی مانوس احساس یا کسی پرانی یاد کی جھلک تلاش کرتا ہے۔
مگر میشا کی شہد رنگ آنکھیں بالکل خالی ہوتی ہیں۔
اس کی نظروں میں عیزان کے لیے کوئی شناسائی ظاہر نہیں ہوتی۔
وہ کچھ دیر تک اسے دیکھتی رہتی ہے۔
پھر نرس کی طرف متوجہ ہو کر انتہائی دھیمی آواز میں کہتی ہے کہ وہ اس شخص کو نہیں جانتی۔
یہ چند الفاظ عیزان کے لیے ناقابلِ برداشت ثابت ہوتے ہیں۔
کوثر بھی حیران رہ جاتی ہیں۔
ان کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کہیں میشا اپنی یادداشت تو نہیں کھو چکی۔
مگر میشا کے رویے کی اصل وجہ ابھی واضح نہیں ہوتی۔
عیزان تو جیسے اپنی جگہ ساکت رہ جاتا ہے۔
اسے یقین نہیں آتا کہ آٹھ سال کی جدائی کے بعد جس لڑکی کو وہ دوبارہ پا سکا ہے، وہی آج اسے پہچاننے سے انکار کر رہی ہے۔
اسی لمحے اس کے ذہن میں آٹھ سال پرانا ایک منظر تازہ ہو جاتا ہے۔
وہ وقت جب عیزان نے میشا کو اس کے والد اور تایا کے حوالے کیا تھا۔
اس جدائی کے وقت میشا نے انتہائی خوف زدہ اور بھیگے ہوئے لہجے میں اس سے کہا تھا کہ وہ اس کے پاس رہنا چاہتی ہے۔
میشا کی وہ التجا عیزان کے دل میں آٹھ سال سے محفوظ ہوتی ہے۔
اسے جب بھی وہ الفاظ یاد آتے، وہ دیر تک بے چین رہتا تھا۔
وہ جانتا تھا کہ اس لمحے میشا اسے چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی تھی۔
لیکن آج حالات بالکل بدل چکے ہوتے ہیں۔
اب وہی میشا اپنے سامنے موجود عیزان کے متعلق کہہ رہی ہوتی ہے کہ وہ اسے نہیں جانتی۔
اس فرق نے عیزان کے اندر برسوں سے موجود دکھ کو مزید گہرا کر دیا ہوتا ہے۔
وہ میشا کو زخمی نظروں سے دیکھتا رہتا ہے۔
نرس کے سوالیہ انداز اور میشا کے واضح انکار کے بعد عیزان وارڈ سے باہر نکل جاتا ہے۔
وہ دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو جاتا ہے اور سر جھکا کر اپنے آنسو روکنے کی کوشش کرتا ہے۔
اس کے لیے یہ جاننا مشکل ہو رہا ہوتا ہے کہ میشا واقعی اسے بھول چکی ہے یا اس کے انکار کے پیچھے کوئی اور وجہ موجود ہے۔
آٹھ سال پہلے میشا اسے چھوڑنا نہیں چاہتی تھی، مگر آج اس کی آنکھوں میں عیزان کے لیے کوئی پہچان باقی نہیں دکھائی دیتی۔
اسی دوران کوثر گھبرائی ہوئی اس کے پاس پہنچتی ہیں۔
یہاں فراہم کردہ منظر ایک اہم جذباتی موڑ پر ختم ہوتا ہے۔
عیزان کے سامنے کئی سوال کھڑے ہو جاتے ہیں۔
میشا کی سماعت کس طرح متاثر ہوئی؟
آٹھ سال کی جدائی کے دوران اس پر کیا گزری؟
کیا وہ واقعی اپنی یادداشت کھو چکی ہے؟
اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر وہ عیزان کو پہچاننے سے انکار کیوں کر رہی ہے؟
یہ جذباتی رومانوی کہانی جدائی، بچھڑے ہوئے ازدواجی رشتے، ماضی کی تکلیف دہ یادوں، بدلتے ہوئے حالات اور دوبارہ ملاقات کے بعد پیدا ہونے والی بے یقینی کو پیش کرتی ہے۔
ایک طرف عیزان ہے جو آٹھ سال پرانی ایک التجا آج تک نہیں بھول سکا، جبکہ دوسری طرف میشا ہے جس کے الفاظ نے اسے اجنبی بنا دیا ہے۔
کیا عیزان ان آٹھ برسوں کی حقیقت جان سکے گا، اور کیا میشا کے انکار کے پیچھے چھپا راز کبھی سامنے آ پائے گا؟
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕





