Forced Marriage Based
Betabiyan Novel by Hafsa Shakeel Novel20873
ہانیہ نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اپنے شوہر کے گھر میں قدم رکھتے ہی اس کے نصیبوں کا فیصلہ نفرت کے الفاظ سے ہوگا۔ شہیر نے ماں کی مجبوری پر اس سے نکاح تو کر لیا، مگر پہلی ہی رات اس نے ہانیہ کے کردار پر ایسے الزامات لگائے کہ اس کی روح تک زخمی ہو گئی۔ ہر لفظ زہر بن کر اس کے دل میں اترتا رہا اور وہ بے بسی سے اپنی صفائی دیتی رہ گئی۔ شہیر نے صاف کہہ دیا کہ یہ رشتہ اس کے لیے صرف ایک بوجھ ہے اور ہانیہ کو کبھی بیوی کا مقام نہیں ملے گا۔ جس لڑکی نے محبت، عزت اور ایک نئے آغاز کے خواب دیکھے تھے، اسے اپنی پہلی ہی رات احساس ہو گیا کہ اس کی زندگی ایک ایسے عذاب میں بدلنے جا رہی ہے جہاں ہر دن اس کے صبر کا امتحان ہوگا۔
Gulab Rastay Badal Liye Hain Novel By Rahat Jabeen Novel20905
شادی سے صرف ایک رات پہلے ارمغان خاموشی سے حنا کے کمرے میں آتا ہے اور نہایت سنجیدہ لہجے میں کہتا ہے کہ اگر وہ اپنی زندگی بچانا چاہتی ہے تو ابھی اسی وقت اس شادی سے انکار کر دے، کیونکہ وہ اسے کبھی خوش نہیں رکھ سکے گا۔ مگر حنا بتاتی ہے کہ وہ پہلے ہی انکار کر چکی تھی، لیکن بزرگوں نے اس کی ایک نہ سنی۔ اب دونوں ایک ایسے رشتے کی دہلیز پر کھڑے ہیں جہاں خواہش کسی کی نہیں، فیصلہ کسی اور کا ہے۔
Shab e Hijar Ki Barish by Umme Iman Fatima Novel20864
**"مجھے معلوم ہے تمہاری کوئی بیٹی نہیں، اس لیے اب تم اپنا پوتا ونی کے طور پر دو گے۔ وہ میرے گھر میں نوکر بن کر رہے گا۔" یہ سفاک فیصلہ سنتے ہی پنچایت میں سناٹا چھا گیا، مگر چودھری اعظم غصے سے گرج اٹھے، "میں برسوں پہلے بھی ونی کی اس ظالمانہ رسم کے خلاف تھا، اور آج بھی ہوں۔ میں اپنے پوتے کو ہرگز ونی میں نہیں دوں گا!" یہی لمحہ کہانی کا سب سے طاقتور اور دل دہلا دینے والا موڑ بن جاتا ہے۔
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Novel20863
"میرے نزدیک امیری اور غریبی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اگر رشید خان راضی ہوں تو میں اپنے پوتے غزنوی احمد کا نکاح ان کی بیٹی سے کرنا چاہتا ہوں۔" اعظم احمد کے یہ الفاظ سنتے ہی رشید خان کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہہ نکلے۔ ایک لمحے میں ایک غریب باپ کی سب سے بڑی فکر ختم ہو گئی، جبکہ بادشاہ خان اپنی ناکام چال پر خاموشی سے ہاتھ ملتا رہ گیا۔
Rooh E Man By Isha Khan Novel20858
"اگر تم میری شرط مان لو تو اب بھی میرے ساتھ کام کر سکتی ہو۔" سلمان کی غلیظ پیشکش سنتے ہی سوہا کا صبر ٹوٹ گیا۔ اس نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر سامنے رکھا جوس کا گلاس اس کے چہرے پر دے مارا، اور جب وہ اس کی طرف بڑھا تو کانچ کا گلدان پوری قوت سے اس کے سر پر دے مارا۔ اس ایک وار نے ثابت کر دیا کہ سوہااپنی عزت اور خودداری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
Jab Dil Miley By Guray Nayyab & Perishah Malik Novel20857
"مصطفیٰ نے گن اپنے ہی سر پر رکھ لی اور زونی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا، 'میں آخری بار پوچھ رہا ہوں... ہاں یا ناں؟' ٹریگر پر اس کی انگلی دیکھ کر زونی کی سانسیں رک گئیں۔ نم آنکھوں سے وہ چیخ اٹھی، 'ہاں... کروں گی نکاح!' یہ سن کر سب نے سکون کا سانس لیا، مگر زونی کا لرزتا وجود اس لمحے کے خوف کی گواہی دے رہا تھا۔"
Ek Thi Heer Novel By Aiman Akmal Novel20856
وہ پہلی لڑکی تھی جو گئی تو جاب انٹرویو کے لیے تھی مگر کمپنی کے مالک کو ہی بیٹھی دھمکا رہی تھی کہ اگر اس نے اسے جاب پر نا رکھا تو اسکے ساتھ کیا کیا ہو سکتا ہے۔
Mere Khwab Novel By Maryam Mah Munir Novel20852
بچپن میں ہوا ایک نکاح، جسے صنوبر نے ہمیشہ اپنا مقدر سمجھا، مگر مجید نے صرف ایک بوجھ۔ برسوں بعد جب والد نے اسے اس رشتے کی یاد دلائی تو اس نے بے رحمی سے طلاق کے کاغذات بھیجنے کی بات کر دی۔ مگر ایک بوڑھے باپ کی صرف ایک خواہش تھی... "طلاق مت دینا۔" صنوبر کو اس فیصلے کا علم بھی نہ تھا، لیکن اس کی پوری زندگی ایک ایسے وعدے کے سہارے کھڑی تھی جسے نبھانے یا توڑنے کا اختیار صرف ایک شخص کے ہاتھ میں تھا۔
Khulain Naseeb Mere by Maha Malik Novel20849
وہ خاموشی سے اس کے ہر تلخ لفظ کو سہہ لیتی تھی۔ اسے یقین تھا کہ قصور اس کا اپنا ہے۔ آخر وہ ایک سانولی، سادہ اور ان پڑھ گاؤں کی لڑکی تھی، جبکہ حیدر ہر لحاظ سے خوبصورت، تعلیم یافتہ اور باوقار انسان تھا۔ وہ سوچتی تھی شاید اس کے نصیب میں محبت لکھی ہی نہیں گئی۔ اگر اس کی موجودگی ہی حیدر کی اداسی اور بے چینی کی وجہ ہے تو پھر وہ خود ہی اس کی زندگی سے دور ہو جائے گی۔ محبت تو قربانی کا نام ہے، اور وہ اپنی محبت کی خاطر خاموشی سے واپس اسی گاؤں لوٹ جانے کا فیصلہ کر لیتی ہے جہاں سے کبھی دل میں ہزاروں خواب سجا کر آئی تھی۔ مگر کیا واقعی اس کی جدائی ہی دونوں کی تقدیر بنے گی، یا قسمت ابھی ایک نیا موڑ سنبھالے بیٹھی ہے؟
Esaret-i Ask Novel20848
شادی کی پہلی رات ہی ماہ زیب کو معلوم ہو گیا کہ اس کا شوہر کرار جعفر اس رشتے کو کبھی دل سے قبول نہیں کرے گا۔ اس نے بے رحمی سے اعلان کیا کہ وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے اور جلد دوسری شادی کرے گا۔ پھر اس نے ماہ زیب کو بستر سے نیچے اترنے کا حکم دیا اور اس کی خاموشی پر اسے زبردستی گھسیٹ کر فرش پر پھینک دیا۔ اس رات ماہ زیب نے اپنے تمام خواب ٹوٹتے دیکھے، اپنے رب کے حضور سجدے میں آنسو بہائے اور صبر کی دعا مانگتی رہی، مگر آنے والے دن اس کے لیے اس سے بھی زیادہ کٹھن ثابت ہوئے۔
