Family Conflict
Ja Tujhe Maaf Kiya By Hania Novel21016
یہ کہانی محبت، دھوکے اور جدائی کے بعد ہونے والی ایک ایسی ملاقات کے گرد گھومتی ہے جو ارمغان کی پوری زندگی بدل دیتی ہے۔ آرزو اور ارمغان نے خاندان کی مخالفت کے باوجود شادی کی، مگر ارمغان کی ماں نے سازش کرکے آرزو کو جعلی طلاق کے کاغذات دے دیے، جس کے بعد وہ دل شکستہ ہو کر شاہ مینشن چھوڑ گئی۔ ارمغان کو حقیقت سے بے خبر رکھ کر نتائشہ سے شادی کروا دی گئی، لیکن برسوں بعد ہسپتال میں اچانک آرزو کی آواز سن کر اس کے قدم وہیں رک گئے۔ آرزو کی پکار نے اس کے دل میں دفن تمام جذبات دوبارہ زندہ کر دیے اور وہ نتائشہ کو وہیں چھوڑ کر لیبر روم کی طرف بھاگ گیا۔ جب سالوں بعد دونوں ایک دوسرے کے سامنے آئے تو ان کے درمیان موجود خاموشی میں بے شمار سوالات چھپے ہوئے تھے، جبکہ ایک ننھے وجود کی آمد نے ان کی کہانی کو ایک نئے اور حیران کن موڑ پر لا کھڑا کیا۔
Khamosh Phool By Aiman Yasir Novel21012
ظاہری شکل و صورت سے بڑھ کر انسان کے دل اور کردار کو اہمیت دینے کی خوبصورت کہانی۔ زیرک خان کی تنہائی، لوگوں کی نفرت اور اس کے منفرد حلیے کی وجہ سے برداشت کیے گئے طعنوں کی عکاسی کی گئی ہے۔ مہر گل کا اسے دوسروں سے مختلف نہیں بلکہ ایک عام انسان سمجھنا اس کی زندگی میں امید کی پہلی کرن بنتا ہے۔ یہ کہانی قبولیت، انسانیت اور بے غرض محبت کا پیغام دیتی ہے، جہاں ایک شخص کی محبت اور سمجھ برسوں کی تنہائی کو ختم کرنے کا سبب بنتی ہے۔
Chahat By Hareem Malik Novel21001
ایک معصوم بچی جو اچانک ایک گھر میں آ کر سب کے دلوں کا حصہ بن جاتی ہے۔
ایک طرف باپ کی سختی، دوسری طرف ماں کی ممتا اور یمان کی بےلوث محبت۔
ایک ایسا رشتہ جو وقت کے ساتھ محبت، اپنائیت اور جذبات کی خوبصورت داستان بن جاتا ہے۔
Qurbat E Man By Huma Qureshi Novel20996
"یہ ماں بننے والی ہے!" بارات والے دن یہ خبر سب کے لیے ایک قیامت بن گئی۔
"کس کا بچہ ہے یہ؟" زرک کی دھاڑ نے پورے کمرے کی خاموشی توڑ دی۔
"میں نے بولا بھی تھا مجھے نہیں کرنا ان سے نکاح!" ہیزل کی معصوم سی شکایت پر سب ہنس پڑے۔
جس مرد سے وہ سب سے زیادہ چڑتی تھی، آج وہی اس کے نصیب میں لکھا جا چکا تھا۔
"مجھے طلاق دلوائیں!" ہیزل کی دہائیوں نے گھر میں ایک نیا ہنگامہ برپا کر دیا۔
کبھی نفرت سے شروع ہونے والے رشتے دل کی سب سے خوبصورت قربت بن جاتے ہیں۔
Terhween By Shireen Haidar Novel20983 – Heart Touching Family Urdu Novel
وہ دنیا میں آئی تو کسی نے اس کی آمد پر خوشی نہیں منائی۔ ماں دنیا چھوڑ چکی تھی اور گھر والوں کے لیے وہ محض ایک اور بیٹی تھی—گھر کی تیرھویں اولاد، تیرھویں بیٹی۔ یہاں تک کہ وقت کے ساتھ اس کا نام بھی اس کی شناخت نہ رہا، لوگ اسے صرف "تیرھویں" کہنے لگے۔
Zaat E Ishq By Bisma Khan Novel20978
“میری زندگی کا فیصلہ میری مرضی کے بغیر کیوں کیا گیا؟”
“اس نے سب کچھ قربان کیا تھا، مگر اپنی پڑھائی کا خواب نہیں۔”
“کچھ زخم جسم پر نہیں، انسان کی روح پر لگتے ہیں۔”
“وہ حویلی میں آ تو گئی تھی، مگر اپنے خوابوں کو وہیں دفن کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔”
Pehla Pathar By Iqbal Bano Novel20960
"میں ایسی بات نہیں مان سکتا، جسے میرا ذہن و دل تسلیم نہیں کرتا۔"
"آخر کب تک بابا جان! آپ پرانی روایات کو گلے لگاتے رہیں گے؟"
"آپ غلط کو غلط تسلیم کیوں نہیں کرتے؟"
"کوئی تو ان روایات کے کھوکھلے بتوں کو توڑے۔"
"آخر ان روایات نے ہمیں کیا دیا ہے، سوائے دکھوں کے؟"
"ہمیں حق دیجئے کہ ہم اپنے سکھ خود تلاش کریں۔"
"ہمیں روایات کی زنگ آلود زنجیریں پہنا کر دکھوں کی دلدل میں مت اتاریے۔"
"یہ ہماری برسوں پرانی روایت ہے۔ ہمارے خاندان میں کسی چھوٹے نے کبھی اپنے بزرگ کے حکم کے خلاف اُف نہیں کی۔"
Tere Sadqe Sab Waar Diya By Aiman Razzaq Novel20949
کہانی کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب حالے، حورین اور ان کی والدہ کو اچانک پاکستان واپس بلایا جاتا ہے، مگر حالے اس فیصلے کی سخت مخالفت کرتی ہے۔ دوسری جانب زرنش کی شہریار سے پہلی آمنے سامنے ملاقات شدید تلخی، غرور اور چیلنج سے بھرپور ہوتی ہے، جہاں دونوں ایک دوسرے کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ زرنش اپنی مضبوط شخصیت، خودداری اور بے باک انداز سے واضح کر دیتی ہے کہ وہ کسی کے دباؤ یا حکم کو قبول نہیں کرے گی، جبکہ شہریار ہر صورت اسے پاکستان لے جانے کا عزم رکھتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان ہونے والی یہ لفظی جنگ خاندانی دشمنی، انتقام، طاقت اور انا کی کشمکش کو نمایاں کرتی ہے، جو آگے چل کر کہانی میں کئی دلچسپ اور سنسنی خیز موڑ آنے کا اشارہ دیتی ہے۔
Tashnagi e Yaar By Alishey Khan Novel20944
Tashnagi e Yaar By Alishey Khan Novel20944
Tribal Feud | Forced Marriage | Revenge Based | Feudal System | Action Romance | Suspense |...
Shehre E Ashob Novel By Alia Bukhari Novel20889 Complete Urdu Novel
"بیوہ ہونا اتنا بڑا گناہ نہیں تھا... جتنا دوسری بار جینے کی خواہش رکھنا تھا۔"
پہلے شوہر کی جدائی کے بعد خانم نے سمجھا تھا کہ بھائی کا گھر اسے پناہ دے گا، مگر وہاں اسے صرف طعنے، بےرخی اور احساسِ بوجھ ملا۔ مجبور ہو کر اس نے ایک عمر رسیدہ شخص سے نکاح کر لیا، لیکن اس فیصلے نے پورے محلے کو اس کا دشمن بنا دیا۔ ہر قدم پر کردار کشی، ہر دروازے پر نفرت اور ہر نگاہ میں حقارت... آخر خانم کا قصور کیا تھا؟ صرف یہ کہ اس نے بیوہ ہو کر دوبارہ جینے کی کوشش کی تھی؟ شہرِ آشوب ایک ایسی عورت کی دل دہلا دینے والی داستان ہے جو معاشرے کے ظالم فیصلوں کے سامنے ٹوٹنے کے بجائے جینے کی جنگ لڑتی ہے۔