Sneak
آپ میری بات کا اعتبار کریں پلیز! میں کتے کے ڈر سے ان کی گاڑی میں چھپ گئی تھی، گاڑی لاک نہیں تھی۔ اس نے اپنے سوکھے ہونٹوں پر زبان پھیری اور بہت عاجزی سے کہہ کر دونوں کی طرف دیکھا تھا۔ آفیسر تو اسے اب تک ہنوز مشکوک نگاہوں کی زد میں لیے ہوئے تھا، مگر وہ بے نیاز، لمبا چوڑا آہنی وجود اور گھنی گھنی مونچھوں والا شخص پتھر کی طرح بیٹھا تھا۔ پچھلے آدھے گھنٹے سے آفیسر کو یقین دلانے کے لیے کہ یہ محض اتفاق ہے، ورنہ وہ کوئی واردات کرنے والی لڑکی یا بم دھماکہ کرنے والوں میں سے ہرگز نہیں ہے، وہ یہ کہنے کے لیے دل ہی دل میں الفاظ ترتیب دے رہی تھی کہ زندگی میں پہلی دفعہ تو اس نے پولیس اسٹیشن دیکھا تھا، ورنہ صرف ڈراموں اور فلموں تک ہی اس کا مشاہدہ ضرور کیا ہوا تھا۔ "رات کے دو بجے آپ اکیلی گھر سے باہر ہیں اور پھر کسی شریف آدمی کی گاڑی میں بیٹھنا آپ کو زیب دیتا ہے؟" انسپکٹر نے "شریف آدمی" کہہ کر اس بے نیاز شخص کو دیکھا تو اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ اتنی دیر سے وہ چپ چاپ تھی، کچھ کہا بھی تو کوئی شنوائی نہ ہوئی اور اب تو کردار کی بات آ گئی تھی۔ "دیکھیں آفیسر! میں کوئی ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں، مجبوری اگر مجھے اس طرح کے حالات سے دوچار کر رہی ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ مجھ پر کیچڑ اچھالیں، میرے بھی سرپرست ہیں۔" گھر اور سرپرست کہتے ہوئے اس کا گلا رندھ گیا۔ اگر ایسا ہی ہوتا تو کیا وہ اس طرح دو بجے سڑک پر خوار پھرتی؟ "نام کیا ہے آپ کا بی بی؟" اس بے نیاز شخص نے اچانک ہی اس سے سوال کر کے اسے حیران کر دیا۔ اس کی منحوس گاڑی میں بیٹھ کر وہ اب پچھتا رہی تھی، مگر اپنی ازلی بزدلی کے ہاتھوں مجبور تھی۔ کتے کے خوف سے بڑھ کر اپنوں کے ستم کا زیادہ ڈر تھا، جس نے اسے چھپنے پر مجبور کر دیا تھا اور وہ اب اپنے آپ کو کوس رہی تھی کہ جب اتنی ہمت کر کے حویلی سے نکل آئی تھی تو کتے سے بھی نپٹ لیتی۔ اپنی سیاہ کشمیری کڑھائی کی چادر اس نے سر پر اوڑھی۔ "آپ اپنے سرپرست کا نام بتائیں تو۔" دوبارہ وہی آہنی وجود والا شخص گویا ہوا، لہجہ بھی اس کی شخصیت کے جیسا کھردرا تھا۔ وہ سہم سی گئی، البتہ اب آفیسر خاموش بیٹھا اپنے سامنے پڑی فائل پر انگلیوں سے لکیریں کھینچ رہا تھا۔ "قاسم احمد راؤ۔ کراچی یونیورسٹی میں انگلش لٹریچر کے پروفیسر ہیں، گلشن اقبال میں رہتے ہیں۔" اس نے جلدی جلدی کہا۔ ایسا عذاب تو اس کو اس سنگلاخ حویلی میں بھی محسوس نہ ہوا تھا، جہاں سے پناہ حاصل کرنے کی خواہش نے اسے بھاگنے پر مجبور کر کے ان کے ہاتھوں رسوا کروانا لکھا تھا۔ "آپ ان کی...؟" بہت چونک کر اس شخص نے اس سے استفسار کیا۔ آنکھوں میں پہچان کے ساتھ ساتھ احترام کی واضح تحریر اس نے محسوس کی تھی، اس لیے جلدی سے سر ہلا کر کہا "میں بیٹی ہوں ان کی۔" اس نے محسوس کیا تھا کہ دونوں الجھن میں پڑ گئے ہیں، اتنے کم سن سے پروفیسر کی اتنی بڑی بیٹی! "ٹھیک ہے۔ ابراہیم یار! انہیں میری ضمانت پر چھوڑ دو، یہ پروفیسر کی بیٹی ہیں، پروفیسر راؤ کی۔" اس شخص نے بہت احترام سے کہا۔ جانے ابو کے نام کے ساتھ ہی دونوں کے دل میں اس قدر احترام کیوں امڈ آیا تھا، ورنہ اب تک تو وہ لوگ اور خاص طور پر آفیسر اس کے ساتھ عادی مجرموں جیسا سلوک کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ "مگر مجھے کارروائی تو کرنی پڑے گی بی بی! اپنا نام اور فون نمبر یہاں لکھ جائیں۔" آفیسر نے اپنے آگے سے پیڈ اور قلم اٹھا کر اس کی طرف بڑھایا، مگر اس کے ہاتھ کپکپانے لگے۔ اس کے دشمن تو اس کے پیچھے پاگل کتوں کی طرح پھر رہے ہوں گے، اگر یہاں اثر و رسوخ نکال کر پتہ چلا لیا تو اس کے ساتھ ساتھ ابو بھی پھنس جاتے، اب تک تو وہ صرف ابو کی خاطر ہی تو سارے ستم برداشت کرتی آئی تھی، اگر ملک فیملی کو خبر ہو جاتی تو اس کا جو ہوتا سو ہوتا، ساتھ ابو کو بھی سنگسار کر دیتے وہ لوگ، ان کی اتنی عزت کو بیچ چوراہے پر لے آتے۔ "ٹھیک ہے بی بی! آپ جا سکتی ہیں۔" اس بے نیاز سے شخص نے اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھے اور اس کے آگے سے اپنے مضبوط ہاتھ بڑھا کر پیڈ اور قلم لے لیا اور خود کھڑا ہو گیا۔ وہ اور زیادہ حیران بلکہ پریشان ہو گئی، اپنے نام تو نام اور فون نمبر کو تو اس نے ذہن میں بھی نہیں دہرایا تھا۔ "یار ضیغم!" آفیسر نے بھی بلبلا کر دیکھا تھا، مگر وہ بے نیاز پتھر شخص اسے اس بے نیازی سے باہر کی طرف جانے کا اشارہ کر رہا تھا۔ وہ دونوں کو ایک نظر دیکھ کر سر پر چادر برابر کرتی باہر نکل آئی۔ اب تک اندر سے وہ کانپ رہی تھی۔ اکیلی لڑکی کا واقعی معاشرے میں کوئی عزت مقام نہیں ہوتا، اس کے لیے حوالوں اور سرپرستوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ سٹرک یہاں سے وہاں تک سنسان تھی، حالانکہ کینٹ اسٹیشن پر اس وقت رش ہونا چاہیے تھا، مگر ہمیشہ کی طرح اس کی قسمت اسے اکیلا ہی چھوڑ جاتی تھی۔ جانے اس کی قسمت کو خوشی سے بیر کیوں تھا، مگر پہلے تو خوشی ہر قدم پر اس کے ساتھ تھی، یہ سال بھر کے عرصے ہی سے اس سے منہ موڑ کر ادھر ادھر چلی گئی تھی۔ اس کے قریب ہی کہیں کتے کے بھونکنے کی آواز آئی، وہ ایک دم ڈر کر چھوٹی سیٹ کی طرف ہوئی۔ پہلے بھی کتے سے ڈرتی تھی، مگر اب تو قرطاسِ خون ہو جاتی تھی جب سے ماما فاضل نے اسے اپنے شکاری کتے دکھائے تھے، جو زبان باہر نکالے اس کو تک رہے تھے اور وہ یہاں سے جانے کی ضد کر رہی تھی۔ "یہیں سے جا کر تو دیکھ، اس ماسٹر کے پاس کتے چھوڑ دوں گا تم دونوں پر، میرے کتے تم لوگوں کو پاتال سے ڈھونڈ نکالیں گے۔" اسے ایسا لگا جیسے ماما فاضل کی آواز گونجی ہو۔ اس نے خوفزدہ نظروں سے سنسان سڑک پر نظر دوڑائی۔ کتا بھی شاید سمجھ گیا تھا کہ وہ ڈر رہی ہے، جبھی آہستہ روی سے ہانپتا ہوا اس کے نزدیک آ گیا۔ وہ آہستہ آہستہ پیچھے ہوتے ہوئے غیر محسوس انداز میں پتھر کے بینچ پر بیٹھ گئی۔ کتا اس کے قریب آ کر اسے سونگھنے لگا۔ سامنے سے کسی گاڑی کی ہیڈلائٹس چمکتی قریب آ رہی تھیں۔ اس نے ایک دلخراش چیخ بلند کی اور بینچ پر کھڑی ہو گئی، اسے ایسا لگا جیسے ماما فاضل اور اس کے شکاری کتے اس کی بو سونگھتے یہاں تک پہنچ گئے ہوں گے۔ گاڑی کچھ دور جا کر دوبارہ ریورس ہوئی اور اس کے قریب رک گئی، کتا بھاگتا ہوا روڈ کراس کر گیا، ایک لمبا سا سایہ نکل کر اس کے نزدیک آ گیا۔ اس نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں اوپر اٹھائیں، نہیں! وہ بے نیاز مہربان شخص تھا، وہ شاید اب تھانے سے نکلا تھا۔ "آئیں! میں آپ کو گھر چھوڑ دوں۔" اس کا خوفزدہ چہرہ، پیلی رنگت اور سر اور جسم کو دیکھ کر اس نے نرمی سے کہا، تو وہ اچھی خاصی گھبراہٹ کا شکار ہو گئی۔ ابھی تک وہ ویسے ہی بینچ پر کھڑی تھی، اعتبار اور بے اعتباری کے درمیان معلق۔ "آ جائیں۔" شائستگی سے کہہ کر اس نے گاڑی کی طرف قدم بڑھائے۔ وہ تو اسی کیفیت میں رہ گئی، اپنے آپ پر تو اعتبار کے قابل نہ نکلے تھے، ورنہ اتنی تو چندا ماموں اور نانی کے کھلائے پکائے نوالے کی مٹھاس تھی، جو اسے اتنا بڑا کر کے اس کے دل میں مامتا کے رشتے میں چاند جیسی چاندنی ٹھنڈی ٹھنڈی گھول کر گئی تھیں، مگر ہوا کیا اور یہ ایک اجنبی...؟ اس نے غور سے دیکھا، وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گیٹ کھول چکا تھا اور گاڑی بھی اسٹارٹ کر چکا تھا۔ اس نے بینچ پر کھڑے کھڑے اپنی حالت پر غور کیا اور کچھ شرمندہ سی ہو کر بینچ سے نیچے اتر آئی۔ آہستہ روی سے چلتی پچھلے کھلے دروازے تک آ کر رک گئی اور آسمان کی تاریکی اور ویران راہوں کو ایک نظر دیکھا، اس کا دل چاہا کہ بھاگ جائے، مگر اس کی یہ ہمت نہ تھی، ورنہ یہ سب اس کا انداز نہ تھا، وہ تو ہر چیز کو ٹھوکر پر رکھتی تھی، اچانک ہی کتا جانے کہاں سے کیا نکل کر اس کے قریب آ گیا، وہ خوف زدہ ہو کر فوراً ہی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی اور جھٹکے سے دروازہ بھی بند کر لیا۔ اس شخص نے خاموشی سے گاڑی آگے بڑھا دی، وہ بھی چپ بیٹھی دل ہی دل میں قرآنی آیات کا ورد کرتی رہی، کبھی کبھار ایک چور نظر بھی ڈال لیتی اس پر، مگر وہ ضیغم ایک روبوٹ کی طرح ڈرائیو کر رہا تھا۔ "ارے! یہ کہاں سے ملی تمہیں علیشا؟ تم تو گاؤں میں تھیں بیٹا۔" مگر پروفیسر صاحب نے پہلے اسے دیکھا اور پھر روتی ہوئی بیٹی کو، وہ خود بھی بوکھلا گئے تھے، ان کے حواس بھی کھوتے جا رہے تھے، انہیں ایسا لگ رہا تھا کہ اب قیامت نزدیک ہے، مگر خود پر قابو رکھ کر اسے بٹھایا، پھر خود بھی بیٹھ گئے، وہ تو خود لاعلم تھے، انہیں کیا پتہ تھا! "ابو! میں سب کچھ چھوڑ آئی ہوں، میں نہیں رہ سکتی ان حیوانوں کے بیچ، وہ لوگ مجھے پاگل خانے بھجوا دیں گے یا پھر... یا پھر وہ دینو... بابا! وہ بالکل پاگل ہے، زنجیروں سے باندھ کر رکھتے ہیں، میں اس سے شادی نہیں کروں گی ابو! میں مر جاؤں گی، میں اللہ کے بعد زمین پر آپ کی پناہ میں آنا چاہتی ہوں، آپ کے پاس۔ ابو! میں وہاں سے بھاگ آئی ہوں۔" وہ ہچکیوں سے روتی ہی جا رہی تھی، اس کا خوف، اس کا گڑگڑنا راؤ صاحب نے فوراً اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔ جانے ان کی کیا پرسنل اسٹوری تھی، وہ خود کو وہاں بیٹھا ہوا مس فٹ محسوس کرنے لگا، مگر سر جھکائے بیٹھا رہا۔ "بیٹا! یہ تمہیں کہاں ملی اتنی رات گئے؟" راؤ صاحب نے اس سے سوال کیا تو اس نے اپنا جھکا سر اٹھا کر دیکھا۔ "میں ٹرین سے اتر کر جیسے ہی آگے آئی، دو کتے میرے پیچھے لگ گئے، میں سمجھی فاضل ماما کے ہیں ... میں ڈر کر ان کی گاڑی میں چھپ گئی تھی، پھر پولیس لے گئی۔" اس کے کچھ کہنے سے قبل ہی اس نے پوری روداد سنا دی۔ وہ شرمندہ سا ہو گیا اپنی جگہ۔ "سر! مجھے علم نہ تھا کہ یہ آپ کی بیٹی ہیں، پھر میرے ساتھ ابراہیم تھا اور وہ پولیس پروٹوکول میں ہر ایک پر شک کرتا ہے، آئی ایم سوری سر۔" اس نے جلدی سے ٹہرے ہوئے لہجے میں معذرت کی۔ "کوئی بات نہیں بیٹا! ابراہیم با اصول لڑکا ہے، اس نے ٹھیک کیا ... یہ تو اس کو بے وقوفی نہیں کرنی چاہیے تھی، کسی اور کو ملتی تو جانے کیا ہوتا۔ اللہ عزت رکھنے والا ہے۔ تمہارا یہ احسان میں کبھی نہیں بھولوں گا، اسے تو راستوں تک کی خبر نہیں ہے، کبھی اکیلے باہر تک نہیں نکلی، اتنا بڑا قدم جانے کیوں اٹھا بیٹھی؟" "بیٹا! اب تو ہی میری عزت رکھ سکتا ہوں میں تمہیں بہت اچھی طرح جانتا ہوں، تم پر ہی اعتماد کر سکتا ہوں، پلیز بیٹا! میری عزت رکھ لو۔" اسے اپنے باپ کا اس طرح گڑگڑانا ڈرا رہا تھا۔ علیشا کوئی ایسا بوجھ نہ تھی، مگر فاضل اور ماما افضل کی دھمکیوں نے اسے اپنے باپ کے کندھوں پر بوجھ کی طرح رکھ چھوڑا تھا۔ "بے شک تم صرف کاغذی کارروائی کر کے لے جاؤ، میں اپنی بیٹی کو بطور امانت تمہارے حوالے کر رہا ہوں، جیسے ہی حالات سازگار ہوں، اسے میں خود ہی بلوالوں گا، پھر تم آزاد ہو کے، میرے اوپر احسان کرو۔" پروفیسر راؤ کے لہجے میں نمی در آئی اور آواز گلو گیر ہو گئی، دروازے کے پتے سے چپکے چپکے اس نے بھی اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹ دیا۔ اس شخص نے نہ جانے کب فون کر کے بلوایا تھا یا خود اس کے آفس جا کر لے کر آئے تھے، اب تک گو مگو کی کیفیت میں بیٹھا ان کے رونے پر بے ساختہ ان کے قریب اٹھ کر آ گیا تھا۔ "جیسا آپ مناسب سمجھیں، میں اپنے گھر والوں کو..." "نہیں بیٹا! اس کا ٹائم نہیں ہے، بس ابھی اور آج ہی اسی وقت۔" قطعیت سے کہتے ہوئے پروفیسر راؤ نے اس کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ "میں تمہارا احسان کبھی نہیں بھولوں گا، جب حالات صحیح ہو جائیں میں اسے لے آؤ گا ، تم مطمئن رہو۔" "سر! میں صرف آپا کو فون کر کے بلوا لیتا ہوں..." اس نے گویا اجازت لی اور پروفیسر راؤ نے فوراً کمرے سے باہر قدم بڑھا دیے۔ اور اسے خبر ہی نہ ہوئی، کب گواہی، قاضی اور دولہا اس کے سامنے بیٹھ گئے تھے اور اس نے کانپتے ہاتھوں سے پیپرز پر دستخط کر دیے تھے اور ساتھ بیٹھے شخص نے بھی، جس سے اس کی پہلی ہی معلوماتی ملاقات ہوئی تھی۔ لان کے گرے پرنٹ سوٹ میں بڑا سا گرے دوپٹہ اوڑھے وہ بغیر کسی زیور یا میک اپ کے دلہن بن گئی تھی۔ آپ میری بات کا اعتبار کریں پلیز! میں کتے کے ڈر سے ان کی گاڑی میں چھپ گئی تھی، گاڑی لاک نہیں تھی۔ #emergencynikah #novels #UrduNovel2026 #afterNikah #aftermarriage #urdunovels #RomanticNovel #EmotionalStory #HeartTouching
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
Summary — Urdu
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕





