Sneak
دروازے لاک کر کے وہ حجلہ عروسی میں آ گیا۔ اس کی آہٹ پا کر بیچ میں بیٹھی آتشیں کڑی میں ذرا سی جنبش ہوئی۔ جذبوں نے ہلچل مچائی۔ شایان آگے بڑھا اور ایک گہری سانس لے کر اس جویریہ کا زر تار آنچل بے ڈھنگے پن سے الٹ دیا۔ کیسا نکھرتا روپ آیا تھا! سولہ سنگار نہ بھی کرے تب بھی حسن کی بجلیاں گراتی تھی اور آج تو اس نے اپنے پریم پجاری کے لیے پور پور سجائی تھی، خوشبوؤں سے خوب نہائی تھی۔ حنا کی مہک، نور و روشنی کی چمک میں وہ کوئی اور ہی شے دکھائی دے رہی تھی۔ ایک ایک لمحہ اس کے خوابوں میں تصور میں بغیر رکے یہ ساری تیاری کی رونقیں اپنے اندر اتاری تھیں۔ اس کا یہ روپ صرف شایان کے لیے تھا اور اس نے جس وحشی پن سے گھونگھٹ الٹا تھا وہ تھکی تھی، پلکیں لرزی تھیں، پھر اگلے پل اس نے جس سختی سے اس کا چہرہ ٹھوڑی اٹھا کر اونچا کیا تو جیسے کسی ادراک کے کسی لمحے وہ اندر سے چونکی تو اس نے بھاری پلکوں کی باڑھ پل بھر کو اٹھائی۔ شایان جو کسی ممکنہ انتقامی کارروائی کے سبب اسے شعلہ بار نظروں سے گھور رہا تھا، گڑبڑا کر ہی تو رہ گیا۔ پہلی رات کی دلہن، محبتوں کا انجام، یہ شادی، سنہرے وعدے، پل پل چاہت سے جینے کے دعوے، محبت کی قسمیں... پھر یہ سب کیا تھا؟ "آپ... کیا ہوا؟" مارے حیرت کے وہ کپکپا کر بولی۔ "ہاں میں اور تم..." جملہ شایان سے مکمل ہی نہ ہو سکا۔ "کیا بات ہے؟" جویریہ ساری شرم و حیا بالائے طاق رکھ کر حیرتوں کے سمندر میں ڈوب کر ابھری۔ ہراساں تھی، اس کے بدلے روپ کو دیکھ کر پریشان تھی۔ حجلہ عروسی، سہاگ رات، روپہلے جذبات، نازک ارمان، مدہوشیاں، بے تابیاں... جانے سب خوبصورت عنوان کس بے حسی کی زد میں آ کر دب گئے تھے! "لباس تبدیل کر کے سو جاؤ اور فی الحال مجھ سے کسی قسم کا کوئی سوال مت کرو، ورنہ میں کوئی انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاؤں گا۔ اور ہاں! ایک بات تم پر اور واضح کر دوں، اگر کسی کو اس واقعے کی ذرا سی بھی بھنک پڑی تو اس گھر میں تمہارا وہ آخری دن ہوگا۔" شایان حسن دہاڑ رہا تھا جبکہ وہ الجھتی جا رہی تھی، کوئی سرا ہاتھ ہی نہ آ رہا تھا۔ اس کی پسند سے شادی ہوئی، سارے معاملات خوش اسلوبی سے حل ہوئے اور رخصتی کے آخر ایسی کون سی قیامت آگئی تھی جس نے آج رات کی ساری رونقیں نگل لی تھیں؟ آخر شایان کو ہوا کیا تھا جس کے بے دردی سے اس نے جویریہ کے روپہلے احساسات کا خون کیا تھا؟ اس کا ثبوت اس کی آنکھوں سے بہنے والے قیمتی موتی تھے جو ارزاں ہو کر بہہ رہے تھے۔ محبت سے گندھے لہجے کی وہ عادی تھی۔ شایان نے اس سے ٹوٹ کر پیار کیا تھا۔ وہ تو قربتوں کے لمحے کو ترستا رہا تھا، ملن کی گھڑیاں گن رہا تھا، اس کے ساتھ دن رات بتانے کو ترس رہا تھا، تنہائی اور اکیلے پن کا شکار تھا۔ اپنے کہسار جیسی سونی آنگن میں اسے لا کر اجالا کرنا چاہتا تھا، کیا اسی لیے کہ اس کی معصومیت اور نسوانیت کو آن واحد میں اپنے آگ برساتے لہجے سے بھسم کر ڈالے؟ وہ شش و پنج میں تھی۔ آخر ہوا کیا؟ کسی جذبے کے تحت اس نے ایسا کیا؟ پھر کوئی سوال نہ کرنے کا حکم، ایک اور دھمکی! بکھرے حواس مجتمع کرتی وہ واش روم کی طرف بڑھ آئی، لباس تبدیل کیا، رگڑ رگڑ کر چہرہ دھویا اور لائٹ پنک لباس زیب تن کر کے آئی تو وہ لائٹ آف کیے بنا لباس تبدیل کیے دوسری جانب کروٹ لیے لیٹا تھا۔ کمرے میں ہلکے نیلے رنگ کی مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ خاموشی سے وہ تکیہ اٹھا کر قالین پر آ گئی۔ سوچوں سے دماغ بکھر رہا تھا، جانے کس پل نیند آئی۔ نئی جگہ، نئے احساسات، دلخراش ابتدا، اکیلا گھر اور اس پر وہ ستم گر! "محترمہ اٹھ جائیے۔ یہ آپ کے والد صاحب کا دولت کدہ نہیں کہ خانساماں ناشتے کی ٹرالی لے کر آپ کے آگے پیچھے ہو گا اور آپ سو نخروں سے، اداؤں سے ایک ایک چیز اٹھائیں گی اور پھر چائے کے گھونٹ بھرتے ہوئے گھنٹہ لگائیں گی۔ واہ بھئی واہ! کیا عیش تھے۔ مجھے نو بجے آفس پہنچنا ہوتا ہے اور آٹھ بجے ناشتہ ٹیبل پر ہو جانا چاہیے، سمجھ لیں۔ آٹھ بجے کا مطلب آٹھ ہی ہونا چاہیے۔ بہت دن ہو گئے آرام کرتے کرتے۔ اونہہ!" لہجے کی تلخیاں پر انڈیلتا وہ شیو کرنے ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھ گیا۔ "کیوں رو رو کر سوگ مناتی رہتی ہو اور مجھے ڈسٹرب کرتی ہو؟" شام ہی سے اس کا دل بھر آ رہا تھا، ضبط کا حوصلہ نہ رہا تو آنسو چھلک پڑے۔ "کیا بگاڑا ہے میں نے آپ کا؟ کس بات کی سزا دے رہے ہیں؟ شادی سے پہلے آپ ایسے تو نہ تھے، جانے کیا ہو گیا مجھے! کسی بات کی سزا دے رہے ہیں، بتاتے کیوں نہیں آپ؟" مسلسل اشک شوئی سے آنکھیں حد درجہ سرخ ہو رہی تھیں اور وہ بلکتے ہوئے اس سے پوچھ رہی تھی۔ آج دو ماہ کے بعد وہ پھٹ ہی تو پڑی تھی، پورا وجود ہچکیوں سے لرز رہا تھا۔ ایک قہر آلود نگاہ اس پر ڈال کر وہ بے قراری سے ٹہلنے لگا کہ ایک دم اس کے پاس آ کر دہاڑ پڑا۔ "سننا چاہتی ہو تو سنو! تمہارا بھائی عزیر احمد ایک قاتل ہے اور تم اس کی بہن ہو، کیا یہ کافی نہیں ہے؟ تمہاری سزا اب قابلِ معافی ہے کیا؟ بولو، جواب دو!" "کیا؟ عزیر بھائی... مگر کب؟" وہ آنسو صاف کرتے ہوئے چونکتے ہوئے بولی۔ "کب؟ ہاں..." وہ گہرا سانس خارج کر کے رہ گیا۔ اس کا چہرہ اندرونی اضطراب کے باعث سرخ ہو چلا تھا۔ آج سے بارہ سال قبل میرے تایا اور تائی کو اس نے اپنی گاڑی تلے روند ڈالا تھا اور وہ دونوں موقع پر ہلاک ہو گئے تھے۔ شادی کے روز رخصتی کے وقت جب میں نے وہ چہرہ دیکھا تو میں غصے سے دیوانہ ہو گیا۔ میرا بس نہ چلتا کہ میں اپنے ہاتھوں اسے سزا دیتا، ایسی سزا کہ اس کا ایک ایک عضو پناہ مانگتا... اور تم، ہاں تم اس قاتل کی بہن ہو! اگر مجھے پہلے معلوم ہو جاتا تو شاید میں تم سے شادی ہی نہ کرتا۔ تم نے مجھے اس سے ملوایا ہی کب تھا؟" شاید وہ یہ بھلا چکا ہو کہ اس نے دو معصوم انسانوں کی زندگی کو کھلونا جان کر کس بے دردی سے انہیں توڑ پھوڑ کے مٹی میں ملا دیا تھا۔ ہاں، اب تو وہ بھول ہی چکا ہوگا! وہ اپنے حواسوں میں نہ اس وقت تھا نہ اب ہے، مگر میں... میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا، ہر لمحہ تمہیں اذیت دوں گا تاکہ میرے اندر کی تپش کم ہو سکے۔" یہ کہتے ہوئے اس نے جویریہ کے بال پکڑ کر اسے بیڈ پر دھکا دیا دروازے لاک کر کے وہ حجلہ عروسی میں آ گیا۔ اس کی آہٹ پا کر بیچ میں بیٹھی آتشیں کڑی میں ذرا سی جنبش ہوئی۔ جذبوں نے ہلچل مچائی۔ شایان آگے بڑھا اور ایک گہری سانس لے کر اس جویریہ کا زر تار آنچل بے ڈھنگے پن سے الٹ دیا۔ کیسا نکھرتا روپ آیا تھا! سولہ سنگار نہ بھی کرے تب بھی حسن کی بجلیاں گراتی تھی اور آج تو اس نے اپنے پریم پجاری کے لیے پور پور سجائی تھی، خوشبوؤں سے خوب نہائی تھی۔ #aftermarriage #RevengeBaseNovel #urdunovels #noveladdict #RomanticNovel #EmotionalStory #HeartTouching #novels #kharoos #hero
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
Summary — Urdu
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕





