Skip to navigation Skip to main content
Tera Sath ta Hayat Urdu novel cover
Rank#24
Views322.8K

READ URDU NOVELS AT NOVELISTAN.COM

Tera Sath ta Hayat

No ratings yet

Rate this novel

CompleteFamily ConflictFamily Drama

Novel code: Novel90029

Read OnlineDownload PDF

آصفہ اور اس کے شوہر کی دوسری شادی صرف دو افراد کا فیصلہ نہیں رہتی؛ اولاد کے جذبات اور گھر والوں کے رویے بھی اس رشتے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ نئی رفاقت اور والدین کی ذمہ داریوں کے درمیان توازن اس کہانی کا بنیادی موضوع ہے۔

Read the Novel

Sneak

"یہ نکاح میری مجبوری بن گیا تھا۔ میرا یقین کرو، میں لوز کریکٹر یا لذتِ نفس کا مارا نہیں ہوں۔ گناہ و ثواب پر بھی میرا ایمان پختہ   ہے۔ تمہاری ماما کے ساتھ خوشگوار زندگی گزار چکا ہوں، اس کے بعد میرا دامن ہزار ترغیب دیتی بلاؤں میں رہتے ہوئے بھی صاف ہے۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے چند سالوں بعد تمہاری شادی کا وقت ہے، ایسے میں گھر میں نئی بیوی لانا اچھا نہیں لگے گا۔ میں تمہارے جذبات سمجھتا ہوں، یقین رکھو میں تمہیں تمہاری دوستوں کے سامنے کبھی مزید شرمندہ نہیں ہونے دوں گا۔" اس کے کان میں جذبات سے لبریز سرگوشی کی، "پلیز گھر میں رہو۔"
"میرا شادی کا کوئی ارادہ نہیں تھا، خاص کر اس ادھیڑ عمر میں۔" وہ پھیکا سا مسکرائے۔
آصفہ نے حیرت سے دیکھا، دل کیا کہے 'آپ کی عمر کو کیا ہوا ہے؟' پر خاموش رہی۔
"گھر تو جیسے تیسے چل ہی رہا تھا پر میرے حق حلال اور خون سے سینچے ہوئے گھر کا تقدس پامال ہونے لگا تھا، جس کی وجہ سے مجھے اضطراری طور پر شادی کا فیصلہ کرنا پڑا۔ پھر تمہارے حالات کا پتا چلا تو سوچا کہ گھریلو خاتون ہی گھر لانی ہے تو تم کیوں نہیں۔ میں سمجھتا تھا کہ میری طرح عمر ڈھلی خاتون بن چکی ہوگی، لیکن تم تو بہت ینگ ہو..." (مایوس لہجہ) "...مجھے کسی اپنے جیسی خاتون سے ہی نکاح کرنا چاہیے تھا اور..."
اس بار آصفہ کو لگا بولنا ضروری ہے۔ "پھر تو پچیس تیس سال کی لڑکی ہونی چاہیے تھی۔ مجھ جیسی چالیس کی دہلیز کے پاس کھڑی عورت تو آپ کے ساتھ سوٹ نہیں کرتی۔" وہ اپنے ہاتھوں سے کھیلتے ہوئے سر جھکا کر مسکرائی۔
"ہم کتنے بھی دلکش ہوں، کچھ باتیں عمر کے تقاضے کے مطابق ہی سوٹ کرتی ہیں۔" وہ بھی مسکرائے تھے۔ عجیب بات تھی، اس سے دوسری دفعہ باضابطہ بات کر رہے تھے اور دونوں ہی دفعہ اس نے کچھ ایسا بول دیا تھا کہ جنگ لڑتے اعصاب ڈھیلے پڑ جاتے، سکون کی لہر جسم کی رگوں کو ایزی کر دیتی۔
"آپ بھلے کتنے ہی بڑے وکیل ہوں، پر میں اختلاف ضرور کروں گی۔ کبھی کبھی عمر سے زیادہ وقت کا تقاضا اہم ہوتا ہے۔ مجھے بھی وقت کا تقاضا ماننا پڑا، فری کے لیے میرا دوسری شادی کا قدم اٹھانا ضروری ہو گیا تھا، اس کی تعلیم و تربیت، صحبت..." آپ نے آہ بھر کر بات ادھوری چھوڑ دی کہ انہیں کہانی معلوم ہو چکی تھی۔
"تمہاری بیٹی چھوٹی ہے، وہ تمہارے نئے رشتوں کے ساتھ ایڈجسٹ ہو سکتی ہے۔ میرا بیٹا جوانی کی دہلیز پر ہے، اس عمر میں والدین میں سے کوئی شادی کرے تو معاشرے سے پہلے خود اولاد ہی اسے ٹھرکی اور نفس پرست سمجھنے لگتی ہے۔ مجھے کبھی کسی شے سے خوف نہیں آیا، بخدا میں اب بدترین خوف کے حصار میں وقت گزار رہا ہوں۔ جاذب خان کی خاموشی یا شاید ناراضی، یا پھر شاید بے بسی مجھے لمحہ لمحہ نچوڑ رہی ہے۔ ماں کے بعد کی ٹوٹ پھوٹ سے بمشکل سنبھلا تھا کہ باپ مجبوری کے سبب اچھی خاصی جوان بیوی لے آیا ہے! مجھے یہ خوف ستاتا ہے کہ وہ اسے بہتر آباد کرنے کی حرص نہ سمجھ لے۔"
ان کی بات پر آصفہ بری طرح خود میں سمٹی۔ دور سنگل صوفے پر اسکرین کے بالکل پاس بیٹھی فری ماشا کی حرکتوں پر زور زور سے ہنس رہی تھی۔
"میں اپنی اعصابی ٹوٹ پھوٹ پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہوں۔ جب تک جاذب خان نہیں سنبھلتا، مجھے نہیں لگتا میں اس اعصابی جنگ سے باہر آ سکوں گا۔" انہوں نے سر کے بالوں میں انگلیاں پھنسائیں۔ "لیکن گھر کو ٹریک پر آ جانا چاہیے آصفہ! ہماری فیملی ایک ہے، اس لیے کچھ چھپا ہوا تو ہے نہیں۔ مجھے بھی معلوم ہے اور تمہیں بھی خبر ہوگی کہ اس نئے رشتے سے زیادہ تر لوگ ناخوش ہیں۔ مجھے پروا نہیں، میں صرف اپنے بیٹے کی پروا کرتا ہوں لیکن میں یہ ضرور چاہتا ہوں کہ تم اپنا سابقہ صابرانہ انداز اور سلجھی ہوئی طبیعت اس گھر میں بھی جاری رکھو، کہ اب یہ گھر تمہارا بھی ہے اور تمہاری بچی کا بھی۔" اس گھر کی گفتگو پر انہوں نے بات پر زور دینے کے لیے پھر سے دہرایا: "ہاماری گفتگو اس چار دیواری میں ہی دفن ہونی چاہیے۔" وہ پورے اعتماد سے اس کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے۔
اس نے سر ہلا کر یقین دلایا۔
"جاذب خان کے ساتھ بالکل اچھا نہیں ہوا۔ مجھے یہ اسٹیپ لینا ہی نہیں چاہیے تھا، میں نے خود جاذب خان کو اس پوزیشن پر لایا ہے۔ میں نے خود اسے اشتیاق والی پوزیشن پر دھکیلا ہے۔ نوکر چاہ کر مالکان کی موجودگی میں بھی کرپشن کیا ہی کرتے ہیں، میرے گھر ہو گئی تو کون سی قیامت آ گئی تھی! نورین کے بعد خود پر بندھ باندھنے کی جو سیکھ مجھے مل چکی تھی، اب بھی ہوس سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن اس ساری نفی کشی کے بعد بھی جاذب خان کے لیے تو یہ حقیقت ہی ہے کہ اس کے باپ نے شادی کر رکھی ہے۔"
انہوں نے اپنے سر کے بال مٹھیوں میں جکڑے۔
"جب یہ حقیقت بدل ہی نہیں سکتی تو بہتر نہیں ہے کہ آصفہ کو اپنا لیا جائے، اپنے خوف سے نکلا جائے؟"
اور پچھلے کئی روز سے اس کی ارد گرد موجودگی انہیں ڈسٹرب کرنے لگی تھی۔ اس کے خالص جذبے اور انداز ان کے اندر استحقاق جگا رہے تھے۔ اس کا خلوص اور نورین سے یکسر الٹ طبیعت، اس نئی فطرت کو دریافت کرنے پر اکسانے لگی تھی۔ اپنے احساسات انہیں خود کو جاذب خان کا مجرم بنانے پر تلے تھے۔ اگر انہوں نے زندگی کے پچاس رنگ نہ دیکھ رکھے ہوتے تو طبیعت کی چڑچڑاہٹ کے باعث اب تک کئی چیزیں توڑ دیتے۔ خود پر کنٹرول پر انہیں ناز تھا، پر دفتر کا عملہ ان کی چڑچڑاہٹ بھگت رہا تھا، انہیں اس کی اچھی طرح خبر تھی۔
دفتر میں اپنی بے جا سختی کا خیال آتے ہی وہ مزید بے چین ہو کر سگریٹ سلگا کر اے سی روم سے باہر نکل آئے۔ سگریٹ پھونکتے عادتاً نیچے جھانکا تو وہ سامنے ہی ہاتھ اٹھا کر بالوں کا جوڑا باندھ رہی تھی۔ انہوں نے نظر نہ پھیری، بلکہ پہلی بار وہ بغور اور دانستہ اس کا جائزہ لینے لگے—لیمن گرین لان کا سوٹ زیبِ تن تھا، سپر ماڈل جیسا چھریرا بدن، نمکین رنگت جو ان کے گھر آ کر دمکنے لگی تھی۔ وہ پرکشش عورت تھی، اتنی پرکشش کہ انہیں متوجہ کر رہی تھی۔
'مجھے کم سے کم بھی پچاس سالہ خاتون سے شادی کرنی چاہیے تھی، آصفہ سے تو ہرگز نہیں ہونی چاہیے تھی۔ یہ تو اپنی عمر سے بھی کم دکھتی ہے اور... اور اگر میں اپنے احساسات سے مجبور ہو کر اسے اپنے کمرے میں لے آتا ہوں تو خدانخواستہ پوتا کھلانے کی عمر میں اپنا بچہ بھی پالنا پڑ سکتا ہے! جاذب خان تب تو یقیناً پکا پکا گھر چھوڑ دے گا۔ کسی کی بچی کو بہن کہہ دینا آسان ہے، لیکن اپنے باپ کی بڑھاپے کی اولاد کو بلا جھجک قبول کرنا بہت مشکل ہے!'
'جسے دیکھ لو عورتوں کے مسائل پر بول رہا ہے۔ یہ نہیں، وہ نہیں، ہماری جوت تک تمام این جی اوز اور سبھی عورت کے آگے بچھے جاتے ہیں۔ مرد کیا انسان نہیں ہیں یا ہمارے مسائل نہیں ہیں؟ مجھ جیسے جانے کتنے مرد انہی حالات سے دوچار ہیں اور مجبور بھی اتنے کہ اختیار ہوتے ہوئے بھی فیصلہ نہیں کر سکتے! لعنت ہے بھئی ہماری مردانگی پر!'
انہوں نے خود کو کوس کر سگریٹ نیچے پھینک کر یوں ملی گویا مسائل کو جوتے تلے مسل رہے ہوں۔
#secondmarriage #Dusrishadi #UrduNovel2026 #novels #urdunovels #rudehero #urdunovels #EmotionalStory #HeartTouching

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Description — Urdu

Tera Sath ta Hayat کے اس اقتباس میں دوسری شادی کے بعد اولاد کے جذبات اور گھر کے سکون کا سوال سامنے آتا ہے۔ آصفہ کے ساتھ نئے رشتے کی قبولیت ایک اہم موضوع ہے۔

Summary — Urdu

دوسری شادی کی وضاحت اور اولاد کے جذبات کا خیال رکھنے کی گفتگو کے ساتھ آصفہ اور اس کے شوہر کی صورت حال سامنے آتی ہے۔ وہ اپنے بیٹے جاذب خان کی ممکنہ ناراضی سے خوفزدہ ہیں، جبکہ آصفہ نے بھی اپنی بیٹی کی تعلیم و تربیت کے لیے دوسری شادی کی ہے۔

Related Keywords

Tera Sath ta Hayat Urdu Novel,
Share this Novel

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote this novel?

This novel is written by Novelistan.

Is this novel complete or ongoing?

The recorded status is complete novel.

Join Our Community

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *