Sneak
وہ اتنی کم عمری میں بیوہ ہوئی تھی، اس کے ماں باپ نے اس کا دوسرا گھر تو بسانا ہی تھا نا! تمہارے دادا جان نے دوست کا بوجھ بانٹنے کے لیے بیٹے کا رشتہ پیش کر دیا، اور میں نے میمونہ کی اچھائیوں اور خوبیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف اس کا بیوہ ہونا یاد رکھا۔ کس قدر جہالت اور توہم پرستی کا ثبوت دیا میں نے! حالانکہ وہ لئیق کے لیے بہتر سے بہترین شریک حیات ثابت ہوئی، لیکن میں اپنی کم عقلی اور خودساختہ انا کے ہاتھوں اتنی مجبور ہوئی کہ زندگی بھر اسے اس کا جائز مقام ہی نہ دیا۔" "دادی جان! کیوں سوچتی ہیں اتنا؟ اب سب ٹھیک ہو گیا ہے نا، پلیز اتنی ٹینشن مت لیں!" "نہیں معاذ! اللہ نے یہ مہلت سوچنے کے لیے ہی تو دی ہے،" وہ دھیرے سے بولیں۔ "مجھے بہو سے پرخاش تھی نا، پوتے پوتیوں کا کیا قصور تھا؟ میں نے ساری عمر صرف ایک پوتے کے لاڈ اٹھائے۔ تمہیں بتاؤں معاذ! میرا دل کرتا ہے میں وقت کا پہیہ پیچھے سرکاؤں، انابیہ اور عیشا کے ویسے ہی لاڈ اٹھاؤں جیسے میں نے سارہ کے اور تم لوگوں کے اٹھائے ہیں، لیکن میرے نصیب میں صرف ان سے خدمت لینا لکھا ہے! بس میرے روم روم سے ان کے لیے دعا نکلتی ہے، اس کے سوا کچھ نہیں کر پاتی،" ان کے آنکھوں کے گوشے گیلے ہوئے تھے۔ معاذ خاموشی سے ان کا یہ پچھتاوا سن رہا تھا۔ "آج کل میرے دل میں ایک اور خواہش بیدار ہوئی ہے، ویسے تو تیری ماں کے تیور سے ڈر لگتا ہے، پر سوچتی ہوں لئیق سے کہہ کر دیکھوں، ہو سکتا ہے وہ رافعہ کو سمجھا جائے۔" "امی کو سمجھانا ابو کے بس کی بات نہیں۔ آپ مجھے بتائیں نا، میں کوئی تدبیر لڑاؤں گا، آخر بات ہے کیا؟" اس نے پھر مسکرا کر پوچھا۔ "ہاں، یہ بھی ٹھیک ہے۔ سب سے پہلے تو تجھ سے ہی پوچھنا پڑے گا، لیکن میں بتائے دیتی ہوں، تو اور تیری ماں مل کر بھی کوشش کرو گے تو میری انابیہ کے جوڑ کی لڑکی نہ ڈھونڈ پاؤ گے۔" "مطلب؟" اس نے دادی کو حیرت سے دیکھا۔ "میں نے تیرے لیے انابیہ کو سوچا ہے، مجھے کوئی اعتراض تو نہیں؟" انہوں نے بہت آس سے پوچھا۔ وہ کچھ لمحے حیرت بھری بے یقینی سے دادی کو دیکھتا رہا، پھر اس کے ہونٹوں پر دلفریب مسکراہٹ ابھر آئی۔ گردن موڑ کر کسی کے موجود نہ ہونے کا یقین کر کے وہ دادی کی طرف جھکا۔ "آپ کے اور میرے خیالات میں سو فی صد ہم آہنگی پائی جاتی ہے دادی جان! میں نے بھی اپنے لیے کچھ اسی قسم کی بات سوچی ہے، اب آپ ہیں نا میری پشت پر تو میری ساری ٹینشن ختم! امی کو انوالو کیے بغیر ابو اور چچا جان سے ڈائریکٹ بات کریں، ہو سکتا ہے بات بن ہی جائے!" اس نے اپنی رضا مندی دینے کے ساتھ ساتھ صلاح بھی دے دی تھی۔ دادی کا چہرہ خوشی سے چمکنے لگا تھا، انہوں نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔ معاذ میرے جگر کا ٹکڑا ہے اور میں اس کے لیے انابیہ سے بہتر کوئی اور انتخاب نہیں پاتی۔ میری بہو بھی لاکھوں میں ایک ہے، میرا حکم سمجھ لو یا مرتی ماں کی آخری خواہش! مجھے میرے پوتے پوتی کی خوشی دیکھ لینے دو، اگر تم دونوں میں سے کسی کو اعتراض ہے تو ابھی مجھے صاف جواب دو، میں دوبارہ یہ بات اپنے لبوں پر نہیں لاؤں گی۔" "کیسی بات کرتی ہیں اماں! معاذ پر آپ پورا حق رکھتی ہیں، اس کی زندگی کے حوالے سے آپ جو بھی فیصلہ کریں ہماری سرتابی کی مجال کہاں! اور پھر آپ نے تو اس کے لیے اتنا بہترین انتخاب کیا ہے، اس گھر کو انابیہ جیسی بہو کی ہی ضرورت تھی۔ شیراز کے لیے تو اس کی ماں نے من مرضی کر لی، لیکن معاذ کے لیے میں نے... ویسے بھی اس کا کوئی الٹا سیدھا فیصلہ یوں ہی قبول نہیں کرتا، مجھے یہ تجویز دل و جان سے قبول ہے، آپ لئیق اور میمونہ سے پوچھ لیں!" عتیق احمد نے ہلکے پھلکے انداز میں ہی اپنی رضا مندی دے دی تھی۔ وہ اماں کے لبوں سے یہ بات سن کر خوش ہوئے تھے، اتنے دنوں سے بھتیجی ان کی نظروں کے سامنے تھی، ان پر اس کے جوہر کیوں نہ کھلتے! اپنے لائق فائق اور فرمانبردار بیٹے کے لیے اتنی سمجھ دار، مہذب، نیک سیرت اور سگھڑ لڑکی کا رشتہ وہ کیوں نہ قبول کرتے! شیراز کے لیے رافعہ کا فیصلہ انہیں ویسے ہی نہ بھاتا تھا، بیگم کی آنکھوں پر تو بہن اور بھائی کی محبت کے پردے پڑے تھے، لیکن شیراز کی خواہش اور رجحان بھی کسی اور ہی طرف تھا، سو انہوں نے اس کے رشتے میں روڑے نہ لگائے تھے، لیکن اس سے پہلے معاذ ماں کے کسی غلط فیصلے کی بھینٹ چڑھتا، انہیں انابیہ کا رشتہ نعمت غیرمترقبہ لگا اور انہوں نے بیوی سے مشورے کی زحمت کیے بنا ماں کو فوری رضا مندی دے دی۔ دادی جان کی آخری خواہش انابیہ اور معاذ کے نکاح کی تھی، پتہ نہیں انہیں بے اعتباری بہو کی طرف سے تھی یا اپنی زندگی سے، بس انہوں نے دونوں بیٹوں سے اپنی خواہش کا اظہار کر دیا تھا۔ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے دونوں کو نکاح کے بندھن میں باندھنا چاہتی تھیں۔ ان کی طبیعت پھر سے بگڑنے لگی تھی۔ لئیق اور عتیق دونوں ہی ماں کی خواہش رد نہ کر پائے۔ سادہ سی تقریب میں انابیہ اور معاذ کا نکاح پڑھوا دیا گیا۔قصور تو ان لوگوں کا تھا جنہوں نے اس کی رضا مندی جانے بغیر اسے زبردستی کے بندھن میں باندھ دیا تھا، بندھن بھی ایسا مضبوط جو معاذ چاہنے کے باوجود نہ توڑ سکتا تھا۔ سچی بات تو یہ تھی کہ دل اس معاملے میں خود غرضی دکھا رہا تھا جو انابیہ کی خوشی کے بجائے اپنی خوشی سوچ رہا تھا۔ "شادی کے بعد میں انابیہ کو اتنی محبت، اتنا پیار دوں گا کہ وہ ماضی بھول جائے گی۔ اللہ نے چاہا تو ہم دونوں ایک بھرپور زندگی جئیں گے۔" معاذ خود کو تسلی دیتا۔ جیسے جیسے شادی کے دن قریب آ رہے تھے، اس کی خوش فہمی اور خوش گمانی بڑھتی جا رہی تھیدلہن بن کر انابیہ پر ایسا روپ چڑھا تھا کہ کوئی نگاہ اس پر ٹک ہی نہ رہی تھی۔ وہ شرمیلی مسکراہٹ چہرے پر سجائے سب کے تعریفی تبصرے سن رہی تھی، لیکن اس کا دل اس وقت ڈوب سا گیا جب اس نے تائی جان کی آنکھوں میں اپنے لیے وہی نخوت اور سرد مہری محسوس کی۔ انہوں نے پور پور بھی حسین و جمیل بہو کے لیے کسی قسم کے التفات کا مظاہرہ نہ کیا۔ وہ دولہا کی ماں بن کر آئی تھیں اور اسی کروفر کے ساتھ پنڈال میں بیٹھی تھیں۔ میمونہ کی طرف کی جو بھی رشتہ دار خاتون انہیں کمپنی دینے ذرا دیر کو رافعہ کے پاس بیٹھتی، وہ باتوں ہی باتوں میں نخوت بھرے انداز میں یہ باور کروانا نہ بھولیں کہ یہ رشتہ سراسر ان کی مرحومہ ساس کی خواہش پر طے پایا ہے۔ انابیہ نہ جانتی تھی کہ پچھلے کچھ دنوں میں تایا جان اس کے لیے نادان دوست ثابت ہوئے ہیں، انہوں نے بیوی کے سامنے اپنی بھتیجی کا تقابلی موازنہ کر کے انہیں انابیہ سے مزید برگشتہ کر دیا تھا۔ تائی جان کا نخوت بھرا انداز کسی کی نگاہوں سے بھی اوجھل نہ رہ پایا تھا، جب رشتہ داروں کی یہ چہ مگوئیاں اولیس کے کانوں میں پڑیں، تو وہ مضطرب ہو کر معاذ کے پاس آیا۔ شومئی قسمت اس وقت معاذ کے آس پاس دونوں طرف کا کوئی رشتہ دار موجود نہ تھا۔ "آپ کی والدہ کی باتوں سے صاف لگ رہا ہے کہ وہ دل سے اس رشتے پر راضی نہیں، لیکن انابیہ کا خیال رکھنا اب آپ کی ذمہ داری ہے۔ انابیہ عام لڑکیوں سے بہت مختلف ہے، بہت حساس دل رکھتی ہے یہ، دوسری لڑکیاں جن باتوں کو درخورِ اعتنا نہیں جانتیں، یہ ان پر بھی پہروں کڑھ سکتی ہے، پلیز اس کا خیال رکھنا، یہ ہمارے لیے بہت قیمتی ہے۔" شدتِ جذبات سے اولیس کی آواز کانپ سی گئی تھی۔ معاذ نے گہری سانس اندر کھینچی، انابیہ کے حوالے سے یہ نصیحت چچا جان، چچی جان یا خاندان کا کوئی بڑا بزرگ کرتا تو بات سمجھ میں آتی، وہ ان کے خدشات سمجھ کر تشفی آمیز جواب دینے کی ہر ممکن کوشش کرتا، لیکن انابیہ کے لیے اس شخص کا یہ استحقاق بھرا لہجہ اسے بری طرح سلگا گیا تھا۔ "انابیہ میری منکوحہ اور میری ذمہ داری ہے، میں اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھانا جانتا ہوں، آپ کو تردد کرنے کی ضرورت نہیں۔" معاذ نے سر توڑ کوشش کر کے اپنے لہجے سے ناگواری نہ جھلکنے دی تھی۔ اولیس اس کا کندھا تھپتھپا کر چلا گیا۔ رخصت سے قبل جذباتی مناظر کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا تھا، عیشا نے رو رو کر برا حال کیا ہوا تھا، سب اسے سمجھا اور سنبھال رہے تھے۔ اور آخر وہ بھی ان ہی محترم کے قابو آئی تھی، اولیس اسے بازو کے گھیرے میں لے کر ایک طرف چلا گیا تھا۔ انابیہ صرف ماں باپ کو پریشان نہ کرنے کے لیے اپنے آنسوؤں پر بند باندھے ہوئے تھی، لیکن جیسے ہی گاڑی میں بیٹھ کر سفر کا آغاز ہوا، وہ پیچھے رہ جانے والوں کو یاد کر کے وقفے وقفے سے آنسو بہاتی رہی۔ یہ سلسلہ سارے سفر میں ہی رہا تھا۔ "تم جانتی ہو انابیہ! یہ رشتہ دادی جان کی خواہش پر جڑا تھا، بعض سمجھوتے آپ کے مقدر کا حصہ ہوتے ہیں، وہ آپ کو چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی کرنے پڑتے ہیں۔ اب ہم جس بندھن میں بندھ چکے ہیں، ہمیں ہر طور اسے نبھانا پڑے گا۔ میں پوری کوشش کروں گا کہ میری ذات سے تمہیں کوئی دکھ، تکلیف نہ پہنچے، اور میں امید کرتا ہوں کہ تم بھی اس سمجھوتے کو نبھانے میں اپنی سی کوشش ضرور کرو گی۔" وہ بہت نرم لہجے میں اس سے مخاطب تھا۔ انابیہ کے سر پر گویا ساتوں آسمان گر پڑے تھے! اس نے من چاہی بہو نہ ہونے کی حقیقت تو رشتہ جڑنے کے کچھ دن بعد قبول کر لی تھی، لیکن وہ معاذ کے لیے بھی فقط ایک سمجھوتہ بھرا انتخاب تھی، یہ تلخ سچائی وہ کیسے قبول کر لیتی؟ اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔ معاذ نے جانے ان آنسوؤں سے کیا نتیجہ اخذ کیا۔ "پلیز حوصلہ کرو اور کچھ اچھے کی امید رکھو، دلوں میں گنجائش نکالنے والی ذات اللہ کی ہے، اور میں تو یہ سمجھتا ہوں کسی رشتے کو نبھانے کے لیے محبت سے زیادہ خلوص اور دیانت داری اہم ہوتی ہے، تم میرے خلوص پر بھی کوئی شبہ نہ کر پاؤ گی، جہاں تک تمہارا تعلق ہے، تم یہ رشتہ کس انداز میں نبھاتی ہو، یہ تم پر منحصر ہے۔" وہ گہری سنجیدگی سے بولا تھا۔ "میں پوری کوشش کروں گی کہ آپ کو میری طرف سے کسی شکایت کا موقع نہ ملے۔" اپنے روتے بلکتے دل کو بمشکل سنبھالتے ہوئے اس نے مجبوری سے کہا تھا۔ وہ اتنی کم عمری میں بیوہ ہوئی تھی، اس کے ماں باپ نے اس کا دوسرا گھر تو بسانا ہی تھا نا! تمہارے دادا جان نے دوست کا بوجھ بانٹنے کے لیے بیٹے کا رشتہ پیش کر دیا، اور میں نے میمونہ کی اچھائیوں اور خوبیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف اس کا بیوہ ہونا یاد رکھا۔ کس قدر جہالت اور توہم پرستی کا ثبوت دیا میں نے! حالانکہ وہ لئیق کے لیے بہتر سے بہترین شریک حیات ثابت ہوئی، لیکن میں اپنی کم عقلی اور خودساختہ انا کے ہاتھوں اتنی مجبور ہوئی کہ زندگی بھر اسے اس کا جائز مقام ہی نہ دیا۔" ```
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
Summary — Urdu
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕





