Skip to navigation Skip to main content
Dayar e Hamsafar Novel 90026 Urdu novel cover
Rank#25
Views319.6K

READ URDU NOVELS AT NOVELISTAN.COM

Dayar e Hamsafar

No ratings yet

Rate this novel

CompleteChildhood NikahRomantic Urdu Novels

Novel code: Novel90026

Read OnlineDownload PDF

نکاح کے ساتھ جڑنے والے رشتے محبت کے علاوہ اعتماد، ذمہ داری اور قبولیت کا تقاضا بھی کرتے ہیں۔ دوسری شادی، اولاد اور خاندانی الجھنوں کے گرد گھومتی یہ کہانی ساتھ نبھانے کی خواہش اور رشتوں میں چھپی تلخیوں کو سامنے لاتی ہے۔

Read the Novel

Sneak

وہ نہ صرف بیوہ بلکہ گود میں بچہ بھی لیے ہوئے تھی پھر بھی اس نے نکاح سے پہلےاپنی واحد شرط ان کے سامنے ضرور رکھ دی تھی کہ بچہ اسی کے ساتھ رہے گا۔ اگر ڈاکٹرشیرازی بچے کو محبت کے ساتھ قبول کرتے ہیں تو ٹھیک ورنہ وہ بارات واپس لے جائیں یہاں آنے کی زحمت نہ کریں۔بہرحال ڈاکٹر شیرازی امینہ کے بچے کے سر پر دستِ شفقت رکھنے کو تیار تھے اور کیونکہ دونوں طرف اب نکاح والے دن عزت والی بات تھی،ڈاکٹر شیرازی بھی ایک بچی کے باپ تھے اس لیے کوئی خاص دھوم دھڑاکا نہیں ہوا، بس خاص خاص عزیزوں کو بلایا گیا اور یوں امینہ ڈاکٹر شیرازی کے سنگ رخصت ہو کر ان کے گھر آگئیں۔ یہاں بھی ان کا کوئی خصوصی استقبال نہیں ہوا، بہت خاموشی سے انہیں شیرازی کے کمرے میں پہنچایا گیا۔ پھر جب شیرازی کمرے میں داخل ہوئے تو ان کا انداز بھی بہت عام سا تھا۔ بازوؤں میں بچی غالباً سو رہی تھی۔ انہوں نے بہت آہستگی سے اُسے بیڈ پر لٹایا اور اس کے کسمسانے پر پاس بیٹھ کر آہستہ آہستہ تھپکنے لگے۔ پھر جب اُس کے سونے کا یقین ہو گیا تو وہیں بیٹھے بیٹھے امینہ کی طرف دیکھنے لگے، جو جھکی پلکیں اونچی کر کے ان کے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھیں، جو بچی کو تھپکتے تھپکتے وہیں کھو گئے تھے۔اگر پانچ سال قبل سہاگ رات میں یہ ملن ہوتا، تو یقیناً اس کمرے کی فضا مختلف ہوتی۔ ہر شے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ اپنی طرف تکتی ہوئی لگتی۔ ایک طرف مدھر سرگوشیاں جاتیں تو دوسری طرف ہونٹوں پر شیریں مسکراہٹوں کی کلیاں کھلتیں۔ لیکن اب ایک جامد خاموشی تھی، دونوں اپنی اپنی جگہ حیران کہ کیا کہیں، کیا سنیں۔ نہ بے تابیاں، نہ بے قراریاں۔ دو اجنبی بھی جب ایجاب و قبول کے مراحل سے گزر کر اس مقام تک آتے ہیں تو اجنبی نہیں رہتے اور یہاں الٹا حساب تھا کہ اجنبی نہ ہوتے ہوئے بھی اجنبی بن رہے تھے۔کیسی ہیں آپ؟" کافی دیر بعد شیرازی نے ایک رسمی سا جملہ بول کر خاموشی کو توڑا، تو وہ سر اٹھا کر اُن کی طرف دیکھنے لگیں۔
ان کے مزاج میں شوخی و رنگینی تو پہلے بھی نہیں تھی لیکن اب تو کچھ زیادہ ہی سنجیدہ لگ رہے تھے۔
"آپ کیسے ہیں؟" جواب میں انہی کا سوال دہرا کر انہوں نے سر جھکا لیا، تو وہ ذرا سا مسکرائے، پھر اٹھ کر ان کے پاس چلے آئے۔
"امینہ! ہم زندگی کے جن امتحانوں سے گزر کر ایک دوسرے تک آئے ہیں، وہ امتحان ابھی ختم نہیں ہوئے، بلکہ زندگی کی آخری سانسوں تک ہمارے ساتھ ساتھ چلیں گے۔"
وہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگیں تو وہ وضاحت کرتے ہوئے کہنے لگے:
"مجھے سنی کا باپ بننا ہے اور آپ کو ثمرہ کی ماں، یہی ہمارا امتحان ہے اور ہم اس میں کہاں تک کامیاب ہوتے ہیں، اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔"
"میں ثمرہ کو سنی کی طرح عزیز رکھوں گی۔" امینہ فوراً کہہ کر ان کی طرف دیکھنے لگیں کہ جواب میں وہ بھی ایسی ہی بات کریں گے، سنی کو ثمرہ کی طرح عزیز رکھنے کی، لیکن وہ خاموش رہے، پھر اٹھتے ہوئے صاف گوئی سے بولے:
"میں فوری طور پر ایسا کوئی دعویٰ نہیں کر سکتا، البتہ کوشش کروں گا کہ بچے کو کسی کمی کا احساس نہ ہو۔"
یہ کہہ کر وہ ڈریسنگ روم میں چلے گئے اور امینہ کے اندر انجانے اندیشے سر اٹھانے کو تیار تھے کہ پھر فوراً انہیں یاد آیا کہ پانچ سال قبل بھی شیرازی نے اسی طرح صاف گوئی سے کام لیا تھا۔ انہیں کوئی جھوٹی تسلی دلانے کے بجائے صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ وہ کبھی بھی امی کو قائل نہیں کر سکیں گے، اگر وہ چاہتے تو ایک طویل عرصہ انہیں انتظار کی سولی پر لٹکا سکتے تھے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا تھا۔ اپنی محبت کا گلا گھونٹ کر ان سے دستبردار ہو گئے تھے، لیکن آج پھر وقت انہیں قریب لے آیا تھا اور اس مقام پر بھی وہ کوئی جھوٹا دعویٰ کرنے کے بجائے صاف بات کر گئے تھے۔ ان کی صاف گوئی گو کہ تکلیف دہ تھی، پھر بھی پرانی بات یاد کر کے امینہ نے یقین کا دامن تھام لیا کہ آج نہیں تو آنے والی کسی بھی کل شیرازی بھی دعویٰ ضرور کریں گے۔
شادی کے بعد ابتدائی چند دنوں میں ہی امینہ جان گئیں کہ انہیں اس گھر اور خاص طور سے امی جان کے دل میں جگہ بنانے کے لیے خاصے کٹھن مراحل اور صبر آزما لمحات سے گزرنا پڑے گا۔ اس لیے ان کی اولین کوشش یہ تھی کہ اُن کی طرف سے کسی کو شکایت کا موقع نہ ملے۔ سنی ابھی تک اماں کے پاس تھا۔ انہوں نے مصلحتاً بچے کو اپنے پاس روک لیا تھا کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ مرد ابتدائی دنوں میں کسی تیسرے وجود کو برداشت نہیں کرتا، لیکن یہاں ایک تیسرا وجود ثمرہ کی صورت میں پہلے سے موجود تھا۔ گو کہ ثمرہ زیادہ تر امی جان کے پاس رہتی تھی، لیکن جیسے ہی شیرازی کلینک سے آتے وہ پاپا پاپا کرتی ہوئی ان کی گود میں چڑھ جاتی۔ ایسے میں امینہ کو سنی کا خیال آتا تو ممتا بے چین ہو جاتی۔ ویسے بھی شادی کو پندرہ دن ہو گئے تھے اور وہ چاہتی تھیں سنی کو اپنے پاس لے آئیں اور یہ بھی خواہش تھی کہ اس کے لیے شیرازی خود ان سے کہیں اور کہنا تو دور کی بات، وہ تو یوں انجان سے تھے، جیسے بچے کے وجود سے یکسر لاعلم ہوں۔ اور خود سے کہنا امینہ کو بڑا عجیب سا لگ رہا تھا۔ کئی بار اس ارادے سے بات شروع کی کہ سنی کو لانے کی بات کریں گی، لیکن ہر بار پتا نہیں کیوں بات ہونٹوں تک آتے آتے رہ گئی۔ پھر ایک دن امی جان کو جانے کیسے خیال آیا، انہیں بلا کر کہنے لگیں:
"تم بیٹے کو اپنی ماں کے پاس چھوڑے ہوئے ہو، آخر کیوں؟"
امینہ کے پاس اس کیوں کا جواب نہیں تھا، اس لیے خاموشی سے سر جھکا لیا۔
"کیا تم سمجھتی ہو کہ اس کے لیے یہاں جگہ نہیں ہے؟"
"نہیں۔" امینہ گھبرا کر بولیں۔
"کیا نہیں ہے؟"
"میرا مطلب ہے کہ میں ایسا نہیں سوچتی بلکہ میرا خیال ہے بچے کے لیے اس گھر کے علاوہ گھر والوں کے دلوں میں بھی میری سوچ سے بڑھ کر گنجائش ہے۔"
"پھر وہ اب تک وہاں کیوں ہے؟"
"مجھے آپ کی اجازت درکار تھی۔" اپنے تئیں امینہ انہیں معتبر کر رہی تھیں، لیکن انہیں شاید اس متوسط طبقے کی لڑکی کی طرف سے دی گئی معتبری کی ضرورت نہیں تھی۔ لہجہ نرم کرنے کے بجائے مزید سخت کرتے ہوئے وہ کہنے لگیں:
"اجازت کیسی! جبکہ تم تو اُسے نکاح میں اپنے ساتھ لکھوا لائی تھیں اور اس لحاظ سے ہم اسی وقت اس کی پرورش کرنے کے پابند ہو گئے تھے۔"
امینہ کا دل چاہا، وہ اسی وقت انہیں اس پابندی سے آزاد کر دیں اور کہیں، مجھ میں اتنی ہمت ہے کہ میں اپنے بچے کو خود پرورش کر سکوں، لیکن پھر یہ گھر، یہ سائبان اور بقول اماں کے اب امینہ کے لیے اس سے ہٹ کر کہیں جائے پناہ نہیں تھی۔ پھر ابھی انہیں یہ مان بھی حاصل نہیں تھا کہ وہ روٹھیں گی، تو کوئی مناتے مناتے ہارے گا، اس لیے دکھ کے احساس کو اندر ہی اندر 
دباتے ہوئے بولیں:
"یہ آپ کی عالی ظرفی ہے امی جان کہ میرے بچے کے سر پر دستِ شفقت رکھ رہی ہیں۔ اگر آپ کہیں تو میں آج ہی اُسے لے آؤں۔"
"ہاں۔" امی جان نے گویا احسان کیا۔
وہ شکریہ کہتے ہوئے ان کے کمرے سے نکل آئیں۔ پھر شام میں کلینک جاتے ہوئے شیرازی انہیں اپنے ساتھ لیتے گئے اور واپسی میں وہ سنی کو اپنے ساتھ لے آئیں۔
سال بھر کا سنی اتنے دن مامتا سے دور رہ کر مرجھا سا گیا تھا۔ انہیں اپنے بچے پر بے طرح پیار آیا۔ تمام راستہ بھی اسے سینے سے چمٹائے رکھا اور گھر آ کر بھی کتنی دیر تک اس میں لگی رہیں۔ جب اُس کے سونے کا وقت ہوا تو اُسے گود میں لے کر تھپکنے لگیں۔
شیرازی نے کمرے میں آتے جاتے بہت خاموشی سے انہیں دیکھا۔ پھر جب اپنی جگہ پر لیٹے تو کہنے لگے:
"تمہارا بچہ تو ابھی بہت چھوٹا ہے، میرا خیال تھا ثمرہ کے برابر ہوگا؟"
"نہیں۔ ابھی پچھلے مہینے ہی تو یہ ایک سال کا ہوا ہے۔"
"اس کے باپ نے اسے دیکھا یا نہیں، میرا مطلب ہے، وہ اس کی پیدائش سے پہلے یا..."
"شیرازی!" انہوں نے ٹوک دیا۔ پھر کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہتی ہیں:
"یہاں آتے ہوئے میں اپنی گزشتہ زندگی کو وہیں چھوڑ آئی تھی بلکہ دفن کر آئی تھی، اس لیے نہیں کہ اس میں کوئی کمی تھی یا محرومی تھی، بلکہ آئندہ زندگی کی بہتری کے لیے۔ آپ مرد ہیں، اپنی مرحومہ بیوی کو علی الاعلان یاد کریں گے تو اسے آپ کی اس کے ساتھ وفاداری تصور کیا جائے گا، بلکہ لوگ مثالیں بھی دیں گے، اس کے برعکس میرے ہونٹوں پر اگر کبھی بھولے سے بھی میرے مرحوم شوہر کا نام آ گیا تو اسے میری آپ کے ساتھ بددیانتی قرار دیا جائے گا، اس لیے کہ میں عورت ہوں اور ساری مجبوریاں عورت ہی کے نصیب میں لکھی گئی ہیں۔ لیکن یہ مت بھولیے گا کہ میں ایک ماں بھی ہوں اور ماں بنتے ہی عورت ساری مجبوریوں، ساری محرومیوں کو شکست دینے کا حوصلہ پیدا کر لیتی ہے۔"
"کیا کہنا چاہتی ہو تم؟" شیرازی تکیہ اونچا کر کے خود بھی اونچے ہو کر بیٹھے اور بطورِ خاص ان کی طرف دیکھنے لگے تھے۔
"میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ میں نے اس لیے شادی نہیں کی کہ میں بچے کی پرورش نہیں کر سکتی تھی بلکہ اس لیے کی کہ بچہ کسی محرومی کا شکار نہ ہو۔ ابھی یہ بہت چھوٹا اور معصوم ہے، اس بات سے یکسر لاعلم ہے کہ اس کا باپ کون ہے اور میرا دوبارہ اتنی جلدی شادی کر لینے کا مقصد ہی یہ ہے کہ جو شخص اس کے سامنے آئے گا، یہ اسے ہی اپنا باپ سمجھے گا۔ اگر میں صرف اپنے بارے میں سوچتی تو ہو سکتا ہے اگلے دس سال تک مجھے شادی کا خیال نہ آتا، لیکن اس وقت بچہ کسی دوسرے شخص کو مشکل ہی سے قبول کرتا اور اس کی شخصیت دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی اور ایسا میں نہیں چاہتی تھی۔"
"اور اب تم کیا چاہتی ہو؟"
"میرے پاس اس بچے کے لیے کوئی لمبے چوڑے مطالبے نہیں ہیں، میں تو صرف اتنا چاہتی ہوں کہ ابھی جو آپ نے اتنے سے 'تمہارا بچہ' کہا، تو آئندہ ایسی غلطی مت کیجیے گا۔ یہ ہمارا بچہ ہے، ہم دونوں کا، جس طرح ثمرہ ہماری بچی ہے۔"
"اچھا!" وہ ہلکے سے ہنسے۔
"اگر میرے منہ سے انجانے میں کوئی غلط بات نکل گئی ہے، تو اس سے اپنے طور پر اندازے لگانا مت شروع کر دو۔ یہ واقعی ہمارا بچہ ہے۔ تم نے یہ کیسے سوچ لیا کہ میں ایک معصوم سے بچے سے کوئی عداوت رکھوں گا؟"
امینہ ان کی بات سن کر قدرے نادم ہوئیں، پھر کہنے لگیں:
"آج امی جان مجھے جتا رہی تھیں کہ انہوں نے بچے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔"
"دیکھو امینہ!" شیرازی پوری طرح اٹھ کر بیٹھ گئے۔ "امی جان کی بات مت کرو، ان کے بارے میں یہی کہوں گا کہ تم ان کی بات سن لیا کرو۔"
"لیکن مجھے لگتا ہے، وہ مجھ سے خوش نہیں ہیں۔"
"کیوں؟ یہ محض تمہارا وہم ہے، ورنہ ایسی کوئی بات نہیں۔" قدرے توقف کے بعد کہنے لگے: "تمہیں یہاں ایڈجسٹ ہونے میں کچھ وقت لگے گا، پھر بھی کوئی دشواری پیش آئے تو پلیز میری خاطر..."
"مجھے بس آپ کا ساتھ چاہیے شیرازی! پھر کوئی بھی دشواری، دشواری نہیں رہے گی۔"
"اور اپنی بات کے جواب میں کیا سننا چاہتی ہو؟" شیرازی نے خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ نظریں اُن پر جما دیں، تو وہ ان کی طرف دیکھتی رہ گئیں۔ کیا کہیں کہ جو سننا چاہتی تھیں، وہ تو ان کی نظریں کہہ ہی رہی تھیں۔
#secondmarriage #Dusrishadi #UrduNovel2026 #novels #urdunovels #rudehero #urdunovels #EmotionalStory #HeartTouching

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Description — Urdu

Dayar e Hamsafar کے دو فراہم کردہ اقتباسات میں دوسری شادی، اولاد کی قبولیت اور خاندانی تنازعات سامنے آتے ہیں۔ ان میں امینہ، ڈاکٹر شیرازی، نبیہ اور زیاد کا ذکر ہے۔

Summary — Urdu

پہلے اقتباس میں امینہ دوسری شادی سے قبل اپنے بچے کو ساتھ رکھنے کی شرط رکھتی ہے، جسے ڈاکٹر شیرازی قبول کرتے ہیں۔ دوسرے اقتباس میں نبیہ اور زیاد کے ازدواجی تعلق کے ساتھ خاندانی الزامات، چھپے ہوئے حقائق اور تلخ رویے سامنے آتے ہیں۔

Related Keywords

Dayar e Hamsafar Novel 90026 Urdu Novel, Dayar e Hamsafar Novel 90026 PDF
Share this Novel

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote this novel?

This novel is written by Novelistan.

Is this novel complete or ongoing?

The recorded status is Complete Novel.

Join Our Community

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *