Sneak
"تم نے... تم نے مجھے ہاسپٹل میں کیوں نہیں بتایا تھا کہ تمہارے پیٹ میں لڑکی ہے؟ ہاں!" وہ اس کے سر پر کھڑے ہو کر چیخا تھا۔ "ایاز! میں وہاں کیا بتاتی؟" وہ ہمت کر کے اٹھی۔ "کیا بتاتی کا کیا مطلب ہے؟ میں بکواس کرتا رہا سارے راستے، مجھے بتاؤ کیا بتایا ہے ڈاکٹر نے؟ اور تم ڈرامے کرتی رہیں کہ گھر جا کے بتاؤں گی۔" اس کی آواز اتنی اونچی تھی کہ حریم نے بے بسی سے کانوں پر ہاتھ رکھے۔ "میں سوچتا رہا تم سرپرائز دینے کا سوچے بیٹھی ہو، کوئی اچھی خبر ہوگی۔" وہ دیوانوں کی طرح اس کے کانوں سے ہاتھ ہٹا کر اسے جھنجھوڑ کر بولا۔ حریم کو ایسا محسوس ہوا جیسے اس کا بازو الگ ہو گیا ہے۔ "بیٹی... بیٹی؟ تمہیں بتایا تھا میں نے۔ مجھے بیٹا چاہیے!" بیٹے پر زور دیتے وہ دھاڑا تھا۔ "بیٹا، بیٹی تو اللہ کے ہاتھ میں ہے نا ایاز! میرا کیا قصور؟" وہ ہمت جمع کر کے بولی۔ "سال پہلے تم کہتی تھیں ان شاء اللہ، اب تم کہہ رہی ہو اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں؟" وہ ادھر ادھر سر پکڑ کر چلا تھا۔ "میں سوچ رہا ہوں میں نے تم سے شادی کیوں کی تھی؟" وہ پورا زور لگا کر چیخا تھا۔ حریم بیڈ پر بیٹھ گئی۔ اس نے شادی کیوں کی تھی؟ یاد کرنے کی کوشش کی پر دماغ اور پیروں میں جان نہیں تھی۔ "میرے لال! میں تیری دوسری شادی کر دوں گی۔ بیٹا ہی ہوگا تجھے پہلے، آپ سب ایسا کیوں کر رہے ہیں؟" وہ بہت آرام سے کہہ رہی تھی، آنسوؤں کا گولا حلق میں پھنسا تھا۔ "تمہارا کیا قصور ہے؟ یہ میں تمہیں بتاؤں؟" ایاز اس کی طرف دیکھ کر غُرایا۔ 'میں پڑھی لکھی ہوں، کانفیڈنٹ ہوں'، آواز تھی کہ گونجے ہی جا رہی تھی۔ "اولاد تو اللہ کی دین ہے ایاز! بیٹا ہو یا بیٹی، اب تو کوئی بھی فرق نہیں ہے۔ آپ خود اسمبلی میں ہوتے ہیں آج کل، آپ کو معلوم ہے پارلیمنٹ ہاؤس میں بھی عورتیں ہیں۔ اب تو بیٹا بیٹی میں کوئی بھی فرق نہیں ہے۔" حریم اس کا ہاتھ پکڑے نرمی سے سمجھا رہی تھی۔ "اب تم اپنی بدقسمتی ایسے چھپاؤ گی، ہاں؟" اس نے حریم کا بازو ہلایا۔ "اس میں بدقسمتی کی بات کہاں سے آگئی؟ اس میں ایسا کیا ہے کہ بیٹی ہے؟" درد کو نظر انداز کرتے ہوئے اس نے اپنی کوشش جاری رکھی جو پورے مہینے سے ناکام تھی۔ "یہ تمہاری بدقسمتی ہے جو میرے اوپر آگئی ہے۔" وہ اپنی ماں کے الفاظ بول رہا تھا، "تمہاری بدقسمتی کی وجہ سے بیٹی ہے۔ نہیں چاہیے مجھے بیٹی! بیٹا چاہیے تھا مجھے، کتنی دفعہ کہا تھا میں نے!" اس نے حریم کا بازو اس زور سے ہلایا کہ اسے لگا بازو باہر نکل گیا ہے اور آواز اتنی اونچی تھی کہ حریم نے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے تھے۔ "ایاز! میں..." اس نے کہنے کی کوشش کی۔ "تمہاری اوقات کیا تھی، ہاں؟ باپ نے دوسری شادی کر لی، بھائیوں نے بھی پیچھے مڑ کر دیکھا نہیں۔ تمہاری ماں ساری عمر سائیں سے جوتے کھاتی رہی اور تم یہاں آ کر بکواس کرتی ہو کہ بیٹا بیٹی میں کوئی فرق نہیں!" شاید اسے خود بھی معلوم نہیں تھا وہ کیا بول رہا ہے، پھر اپنی ماں کے الفاظ ٹرانس کی صورت میں اس کے منہ سے نکل رہے تھے۔ "اولاد برابر ہوتی ہے ایاز! بیٹی بیٹے کی تفریق نہیں ہوتی۔ 2024ء ہے یہ ایاز!" اس کی آواز بھی اس شخص تک نہیں پہنچ رہی تھی۔ "تم چاہتی ہو جو میں رات کو دو گھڑی کے لیے گھر آتا ہوں، وہ بھی نہ آیا کروں؟" وہ اسے بیڈ پر دھکیلتا چیخا تھا۔ "تم یہاں سے دفع کیوں نہیں ہو جاتیں؟ تمہاری شکل مجھے نظر کیوں آتی ہے؟" وہ چیخ رہا تھا۔ حریم نے دیکھا آہستہ آہستہ کمرا لوگوں سے بھر رہا تھا۔ ساس، سسر، نند، دیور، جیٹھ، سب کمرے میں آ رہے تھے۔ مفت کا تماشا کون چھوڑتا ہے۔ "تو... میرے بیٹے کو دو پل سکون کے نہیں دیتی! تو ابھی آیا تھا، کون سا برا دن تھا کہ اسے لے آئی! چلی جائے یہاں سے..." وہ سب اپنی اپنی بولی بولتے ایاز کو کے سے لے کر جا رہے تھے۔ بس ایک آواز تھی جو سارے کمرے میں گونج رہی تھی: "میں پڑھی لکھی، کانفیڈنٹ ہوں، میں میں کرتا جانور نہیں۔ میں اسے بدل لوں گی۔" اس کے ہاتھ پیر ٹھنڈے ہونے لگے۔ "تم نے... تم نے مجھے ہاسپٹل میں کیوں نہیں بتایا تھا کہ تمہارے پیٹ میں لڑکی ہے؟ ہاں!" وہ اس کے سر پر کھڑے ہو کر چیخا تھا۔ ```
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
Summary — Urdu
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕





