Blog
Umeed by Fatima Sehr Novel20967
"بابا ہم نے کب اپنی بہن بیٹیوں کو اتنی اجازت دی کہ وہ یوں تن تنہا سڑکوں پر چل نکلے؟"
"اگر میری جگہ وہاں کوئی اور ہوتا تو آج یہ یہاں بیٹھنے کی بجائے آپ کو تھانے میں ملتی۔"
"آج سب کے سامنے اسے ذلت کا احساس زیادہ ہوا تھا۔"
"کیا ہو گیا ہے آپ کو یوسف؟ کچھ خدا کا خوف کریں، جوان بیٹی پر ہاتھ اٹھائیں گے؟"
"کوئی انہیں دیکھ کر یقین نہیں کر سکتا تھا کہ وہ یہ گھٹیا الفاظ اپنی بیٹی کے لیے استعمال کر رہے تھے۔"
"بچپن سے آج تک باپ کی طرف سے حسرت ہی رہی کہ وہ کبھی اسے پیار سے بلائے۔"