After Marriage, Age Difference, Army Base, Childhood Nikah, Emotional Fiction, Emotional Love Story, Social issues Based, Social Romantic Novel, Spiritual/Faith-based

Khwabon Sa Jahan By Amina Khalid Novel21013

یہ کہانی رب پر یقین، صبر اور دعا کی طاقت کو خوبصورتی سے اجاگر کرتی ہے، جہاں مشکل حالات میں بھی اللہ سے مدد مانگنے اور اس پر بھروسہ رکھنے کا پیغام دیا گیا ہے۔ بچپن کے نکاح، عمر کے فرق اور خاندانی رشتوں کے درمیان پروان چڑھنے والی محبت کو جذباتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ کہانی میں ایک فوجی کی جانب سے وطن کی خاطر اپنی جان داؤ پر لگانے، فرض نبھانے اور قربانی دینے کے جذبے کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا، ہمدردی، وفاداری اور اعتماد قائم رکھنا، جبکہ میاں بیوی کے درمیان بے لوث محبت اور مضبوط رشتے کو خوبصورت انداز میں دکھایا گیا ہے۔
Continue reading
Dil Tera Hamrahi Complete Urdu Novel by Qurasa Razi
Childhood Nikah, Complete Urdu Novel, Cousin Marriage Based, Enemies to Lovers, Forced Rukhsati, Romantic Comedy

Dil Tera Hamrahi Novel by Qurasa Razi Novel20875

ہاشم غصے سے لال پیلا اس وقت بالکل بے بس کھڑا تھا جب فضا نے سب کے سامنے "آئی لو یو" والا خط بھی اسی کے سر ڈال دیا۔ وہ ابھی اپنی صفائیاں دے ہی رہا تھا کہ داجی نے مسکراتے ہوئے ایک ایسا راز کھول دیا جس نے دونوں کو ساکت کر دیا۔ "تم دونوں صرف کزن نہیں، برسوں پہلے ایک دوسرے کے نکاح میں آ چکے ہو۔" یہ سنتے ہی فضا کے ہوش اڑ گئے، مگر ہاشم نے اگلا دھماکہ اس سے بھی بڑا کر دیا۔ اس نے فوراً اعلان کر دیا کہ اگر نکاح ہو چکا ہے تو آج ہی فضا کی رخصتی بھی ہوگی۔ یوں ایک شرارتی لڑکی اور ایک سخت مزاج مرد کی زندگی ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے بندھ گئی۔
Continue reading
Mere Khwab Novel By Maryam Mah Munir
Childhood Nikah, Complete Urdu Novel, Family Drama, Forced Marriage Based, Long Distance Relationship, Marriage Issues, Slow Burn Romance

Mere Khwab Novel By Maryam Mah Munir Novel20852

بچپن میں ہوا ایک نکاح، جسے صنوبر نے ہمیشہ اپنا مقدر سمجھا، مگر مجید نے صرف ایک بوجھ۔ برسوں بعد جب والد نے اسے اس رشتے کی یاد دلائی تو اس نے بے رحمی سے طلاق کے کاغذات بھیجنے کی بات کر دی۔ مگر ایک بوڑھے باپ کی صرف ایک خواہش تھی... "طلاق مت دینا۔" صنوبر کو اس فیصلے کا علم بھی نہ تھا، لیکن اس کی پوری زندگی ایک ایسے وعدے کے سہارے کھڑی تھی جسے نبھانے یا توڑنے کا اختیار صرف ایک شخص کے ہاتھ میں تھا۔
Continue reading