Tag Archives: complete novel
Chalo Hum Har Jate Hen by Hina Malik Novel20869
**"اور جب محبت ہوئی... تو اس شخص سے ہوئی... جو شاید اس دنیا میں سب سے زیادہ اسی سے نفرت کرتا تھا۔" میرب کی آنکھوں سے بےاختیار آنسو بہنے لگے۔ سالار کے سخت لہجے اور اس کے الزامات کے جواب میں وہ صرف ایک سوال کر سکی، "مجھ جیسی عورتیں؟ آخر میں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے؟" یہی لمحہ اس کہانی کے جذباتی عروج کو نمایاں کرتا ہے۔
Shab e Hijar Ki Barish by Umme Iman Fatima Novel20864
**"مجھے معلوم ہے تمہاری کوئی بیٹی نہیں، اس لیے اب تم اپنا پوتا ونی کے طور پر دو گے۔ وہ میرے گھر میں نوکر بن کر رہے گا۔" یہ سفاک فیصلہ سنتے ہی پنچایت میں سناٹا چھا گیا، مگر چودھری اعظم غصے سے گرج اٹھے، "میں برسوں پہلے بھی ونی کی اس ظالمانہ رسم کے خلاف تھا، اور آج بھی ہوں۔ میں اپنے پوتے کو ہرگز ونی میں نہیں دوں گا!" یہی لمحہ کہانی کا سب سے طاقتور اور دل دہلا دینے والا موڑ بن جاتا ہے۔
Be Zuban Qurbani By MK Khan Novel20862
"وہ صرف کاغذ پر نہیں تھا، لالا... وہ میرے احساسوں میں تھا۔ کچھ لوگ صرف کہانیوں میں نہیں رہتے، دل میں بھی جگہ بنا لیتے ہیں۔" سروین کی یہ بات سن کر سنان بھی چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا، مگر اگلے ہی لمحے اس نے ہنستے ہوئے کہا، "کل سے ناول پڑھنے سے پہلے وصیت لکھ دینا!" دونوں بہن بھائی کی یہی محبت اور ہلکی پھلکی نوک جھونک اس منظر کو یادگار بنا دیتی ہے۔
Jab Dil Miley By Guray Nayyab & Perishah Malik Novel20857
"مصطفیٰ نے گن اپنے ہی سر پر رکھ لی اور زونی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا، 'میں آخری بار پوچھ رہا ہوں... ہاں یا ناں؟' ٹریگر پر اس کی انگلی دیکھ کر زونی کی سانسیں رک گئیں۔ نم آنکھوں سے وہ چیخ اٹھی، 'ہاں... کروں گی نکاح!' یہ سن کر سب نے سکون کا سانس لیا، مگر زونی کا لرزتا وجود اس لمحے کے خوف کی گواہی دے رہا تھا۔"
Ek Thi Heer Novel By Aiman Akmal Novel20856
وہ پہلی لڑکی تھی جو گئی تو جاب انٹرویو کے لیے تھی مگر کمپنی کے مالک کو ہی بیٹھی دھمکا رہی تھی کہ اگر اس نے اسے جاب پر نا رکھا تو اسکے ساتھ کیا کیا ہو سکتا ہے۔
Poojan By Aanakham Novel20855
"جس ہاتھ کو تھامنے کی خواہش برسوں سے دل میں بسی تھی، آج وہی ہاتھ اسے کسی اور کے ہاتھ میں دینا پڑا۔ آنکھوں میں محبت، دل میں درد اور لبوں پر صرف ایک وعدہ تھا... 'ہمیشہ میری دوست کو خوش رکھنا۔' اس لمحے اس نے ثابت کر دیا کہ سچی محبت کبھی کبھی اپنے محبوب کو پانے میں نہیں، بلکہ اس کی خوشی کے لیے خود کو قربان کر دینے میں ہوتی ہے۔"
Hareer E Hayat By Aanakham Novel20854
"آپ وہ تلاش ہیں جس کی میں نے کبھی کوشش نہیں کی تھی، مگر جب آپ میری زندگی میں آئیں تو مجھے احساس ہوا کہ مجھے بس آپ ہی چاہیے تھیں۔"
"ان ری ایکشنز کا تو زیادہ نہیں پتا، لیکن آپ کو دیکھتے وقت میرے چہرے پر جو ری ایکشن آتا ہے، وہ یہ ناچیز ضرور بتا سکتا ہے۔"
ذادن کی یہ بات سن کر وہ شرما کر نظریں جھکا گئی، جبکہ دونوں کی خاموش مسکراہٹ نے اس لمحے کو ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیا۔
Dastan E ishq By Parisha Malik Novel20853
"ڈائری کے پہلے صفحے پر اپنی تصویر دیکھتے ہی سجیلہ کے ہوش اُڑ گئے۔ ہر لفظ وابصہ کی برسوں پرانی، خاموش اور پاکیزہ محبت کی گواہی دے رہا تھا۔ 'میری چاہت تیرے نام، میری وفا تیرے نام... بس تو ایک بار کہہ دے، تیری محبت میرے نام۔' یہ الفاظ پڑھ کر سجیلہ ٹوٹ کر رو پڑی اور پہلی بار اسے احساس ہوا کہ وابصہ کی محبت کتنی سچی اور بے لوث تھی۔"
Khulain Naseeb Mere by Maha Malik Novel20849
وہ خاموشی سے اس کے ہر تلخ لفظ کو سہہ لیتی تھی۔ اسے یقین تھا کہ قصور اس کا اپنا ہے۔ آخر وہ ایک سانولی، سادہ اور ان پڑھ گاؤں کی لڑکی تھی، جبکہ حیدر ہر لحاظ سے خوبصورت، تعلیم یافتہ اور باوقار انسان تھا۔ وہ سوچتی تھی شاید اس کے نصیب میں محبت لکھی ہی نہیں گئی۔ اگر اس کی موجودگی ہی حیدر کی اداسی اور بے چینی کی وجہ ہے تو پھر وہ خود ہی اس کی زندگی سے دور ہو جائے گی۔ محبت تو قربانی کا نام ہے، اور وہ اپنی محبت کی خاطر خاموشی سے واپس اسی گاؤں لوٹ جانے کا فیصلہ کر لیتی ہے جہاں سے کبھی دل میں ہزاروں خواب سجا کر آئی تھی۔ مگر کیا واقعی اس کی جدائی ہی دونوں کی تقدیر بنے گی، یا قسمت ابھی ایک نیا موڑ سنبھالے بیٹھی ہے؟
Chalo Kuch Diye Jalaye by Durre Saman Saleem Novel20846
آذان شاہ کے ساتھ نکاح عینا کی مرضی سے نہیں بلکہ حالات کی مجبوری بن چکا تھا۔ رخصتی کے وقت وہ اپنے والد جمال دین کی بے بسی، مامی کی خاموش آنکھوں اور اپنے بکھرتے خوابوں کو دل میں دفن کیے اس گھر سے روانہ ہوئی جہاں اس نے صرف محبت ہی مانگی تھی۔ آذان اسے اپنے گھر لے آیا، مگر عینا کے دل میں اس کے لیے صرف نفرت تھی۔ کمرے میں آذان نے نرمی سے بات کرنے کی کوشش کی تو عینا نے فوراً اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور قریب رکھا کرسٹل کا گلدان اٹھا لیا۔
"خبردار! مجھے ہاتھ مت لگانا۔ اگر تم میرے قریب آئے تو میں کچھ کر بیٹھوں گی۔ تم نے مجھے زندہ رہتے مار دیا ہے آذان شاہ۔ تم سمجھتے ہو مجھے رسوا کر کے مجھے حاصل کر لیا؟ نہیں، تم مجھے پا کر بھی کبھی نہیں پا سکو گے۔ تم نے میری ہر خوشی چھین لی، اب تم بھی زندگی بھر خوشی کو ترسو گے۔ مجھے تم سے ہمیشہ نفرت تھی، ہے اور رہے گی۔"
آذان حیرت اور بے بسی سے اسے دیکھتا رہ گیا۔ وہ جانتا تھا کہ عینا کے دل میں اس کے لیے صرف غلط فہمیاں اور نفرت بھری ہوئی ہیں، مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ ایک دن سچ ضرور سامنے آئے گا۔