Tag Archives: Hate to Love
Chalo Kuch Diye Jalaye by Durre Saman Saleem Novel20846
آذان شاہ کے ساتھ نکاح عینا کی مرضی سے نہیں بلکہ حالات کی مجبوری بن چکا تھا۔ رخصتی کے وقت وہ اپنے والد جمال دین کی بے بسی، مامی کی خاموش آنکھوں اور اپنے بکھرتے خوابوں کو دل میں دفن کیے اس گھر سے روانہ ہوئی جہاں اس نے صرف محبت ہی مانگی تھی۔ آذان اسے اپنے گھر لے آیا، مگر عینا کے دل میں اس کے لیے صرف نفرت تھی۔ کمرے میں آذان نے نرمی سے بات کرنے کی کوشش کی تو عینا نے فوراً اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور قریب رکھا کرسٹل کا گلدان اٹھا لیا۔
"خبردار! مجھے ہاتھ مت لگانا۔ اگر تم میرے قریب آئے تو میں کچھ کر بیٹھوں گی۔ تم نے مجھے زندہ رہتے مار دیا ہے آذان شاہ۔ تم سمجھتے ہو مجھے رسوا کر کے مجھے حاصل کر لیا؟ نہیں، تم مجھے پا کر بھی کبھی نہیں پا سکو گے۔ تم نے میری ہر خوشی چھین لی، اب تم بھی زندگی بھر خوشی کو ترسو گے۔ مجھے تم سے ہمیشہ نفرت تھی، ہے اور رہے گی۔"
آذان حیرت اور بے بسی سے اسے دیکھتا رہ گیا۔ وہ جانتا تھا کہ عینا کے دل میں اس کے لیے صرف غلط فہمیاں اور نفرت بھری ہوئی ہیں، مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ ایک دن سچ ضرور سامنے آئے گا۔
Teri Ulfat Me Sanam by Rubina Nadeem Novel20844
رخصتی سے چند لمحے پہلے نمی وصی احمر کے کمرے میں صرف ایک سوال لے کر جاتی ہے، مگر بات سوال سے بڑھ کر انا، غرور اور دل توڑ دینے والے الفاظ تک جا پہنچتی ہے۔ وصی کے جرمنی چلے جانے اور شادی سے فرار کی حقیقت جان کر نمی اسے صاف کہہ دیتی ہے کہ اگر آج اس سے دوبارہ پوچھا جاتا تو وہ کبھی اس سے شادی نہ کرتی۔ وہ اسے دوسری شادی کی تحریری اجازت بھی دے دیتی ہے اور واضح کر دیتی ہے کہ ان دونوں کے درمیان صرف ایک رسمی رشتہ ہے۔ نمی کے یہ الفاظ وصی کے غرور پر کاری ضرب ثابت ہوتے ہیں۔ غصے میں وہ اعلان کر دیتا ہے کہ شادی کے بعد وہ خود اسے طلاق دے گا۔ دونوں ایک دوسرے کو ٹھکرا کر الگ ہونا چاہتے ہیں، مگر قسمت ان کے لیے ایک بالکل مختلف کہانی لکھ چکی ہوتی ہے۔
Mohabbat To Samundar Hai by Najma Jabeen Novel20828
محبت تو سمندر ہے روشنہ جہانگیر اور اسجد کے درمیان ایک ایسے رشتے کی کہانی ہے جس کی بنیاد محبت کے بجائے جبر، خاندانی دشمنی اور انتقام پر رکھی گئی ہے۔ روشنہ اس نکاح کو دل سے قبول نہیں کرتی، جبکہ اسجد نکاح نامے کو اپنی ملکیت اور اختیار کا ثبوت سمجھتا ہے۔
روشنہ اپنی آزادی، عزت اور مرضی کے لیے اسجد کے سامنے ڈٹ جاتی ہے اور اسے صاف بتا دیتی ہے کہ طاقت کے زور پر اس کے وجود کو تو قید کیا جا سکتا ہے، مگر دل کو نہیں۔ مگر یہی بے خوفی، خودداری اور مضبوطی اسجد کے اندر وہ جذبات جگانے لگتی ہے جنہیں وہ خود بھی سمجھ نہیں پاتا۔
کیا اسجد اپنی انا اور انتقام سے نکل کر روشنہ کا اعتماد حاصل کر سکے گا؟ کیا روشنہ اس شخص کو معاف کر پائے گی جس نے اسے جبر کے رشتے میں باندھا؟ اور کیا نفرت کی گہرائیوں میں چھپی محبت کبھی سمندر بن کر دونوں کے دلوں کو ملا سکے گی؟