Mohabbat Sitamgar Ki mein Meerab aur Zaman ki dard bhari mohabbat ka manzar
Complete Novel, Forced Marriage Based, Innocent Heroin, Romantic Urdu Novels, Rude Hero Based

Mohabbat Sitamgar Ki By Rija Mujahid Novel20765 Novelistan.pk

ایک خفیہ نکاح... ایک بے رحم انکار... اور ایک ایسی محبت جو نفرت اور انتقام کی آگ میں جلنے پر مجبور ہو گئی۔ میرب نے سب کے سامنے زمان سے فریاد کی کہ وہ ان کے نکاح اور اپنے ہونے والے بچے کی سچائی قبول کر لے، مگر زمان نے خاندان کے سامنے اسے پہچاننے سے ہی انکار کر دیا۔ اس کے چند لفظوں نے میرب کی پوری دنیا اجاڑ دی۔ "میرا اس لڑکی سے کوئی تعلق نہیں... میں اسے نہیں جانتا۔" زمان کے انکار کے بعد میرب پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ خاندان نے اسے رسوائی کا سبب قرار دیا، گھر سے نکالنے کی دھمکیاں دیں اور اس پر اپنے بچے کو ختم کرنے کا دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ لیکن میرب نے اپنی بے گناہی اور اپنے بچے کے حق سے دستبردار ہونے سے صاف انکار کر دیا۔ دوسری طرف زمان سب کچھ چھوڑ کر دبئی چلا گیا، یہ سمجھے بغیر کہ وہ صرف ایک عورت نہیں بلکہ اپنی ہی محبت اور آنے والے بچوں کو تنہا چھوڑ آیا ہے۔ پانچ سال بعد جب وہ ایک کامیاب کاروباری شخصیت بن کر واپس لوٹا تو قسمت نے اسے ایسا منظر دکھایا جس نے اس کے قدم روک دیے۔ اس کے سامنے دو ننھے بچے کھڑے تھے، جن کے چہرے، انداز اور آنکھیں حیران کن طور پر اسی سے ملتی تھیں۔ کیا زمان اپنے ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کر پائے گا، یا انتقام، نفرت اور پچھتاوا ہمیشہ اس کی محبت پر غالب رہیں گے؟
Continue reading
Waris Ki Tarap mein Abira aur Shahab Sadozai ki dard bhari kahani ka manzar
Complete Novel, Forced Marriage Based, Romantic Urdu Novels, Rude Hero Based

Waris Ki Tarap By Zaryva Novel20766 -Novelistan.pk

ایک سال کی شادی... اولاد نہ ہونے کا الزام... اور ایک ایسا فیصلہ جس نے عبیرہ کی پوری دنیا اجاڑ دی۔ سدوزئی حویلی میں عبیرہ کی آنکھوں کے سامنے اس کے شوہر شہاب کی دوسری شادی کا اعلان کر دیا گیا۔ خاندان کا مؤقف تھا کہ حویلی کو وارث چاہیے، اور اگر پہلی بیوی اولاد نہ دے سکے تو دوسری شادی کوئی گناہ نہیں۔ عبیرہ نے آنسوؤں میں ڈوبی آواز کے ساتھ صرف ایک گزارش کی۔ "میں اپنا شوہر کسی کے ساتھ بانٹ نہیں سکتی..." مگر اس کی فریاد، محبت اور بے بسی سب خاندانی رسموں کے سامنے بے معنی ثابت ہوئے۔ امیر سائیں نے اسے حکم دیا کہ نئی دلہن کے لیے کمرہ خالی کر دے، جبکہ شہاب خاموش کھڑا سب کچھ دیکھتا رہا۔ ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ عبیرہ نے اپنے چند کپڑے سمیٹے اور رات کی تاریکی میں حویلی چھوڑ دی، اس حقیقت سے بے خبر کہ وہ اپنے شوہر کے بچے کی ماں بننے والی ہے۔ پانچ سال بعد قسمت نے ایک بار پھر انہیں آمنے سامنے لا کھڑا کیا، لیکن اب حالات، رشتے اور سچائیاں سب بدل چکی تھیں۔ کیا شہاب اپنی سب سے بڑی غلطی کا ازالہ کر پائے گا، یا بہت دیر ہو چکی ہوگی؟
Continue reading