Genre : Revenge Base | Age Difference | Rude Hero| Romantic novel with Happy Ending
چھوٹی لابالی عمر میں جڑتا نکاح کا مقدس رشتہ کیسے جسم و جان کا حصار آسودگئ بنے گا،
کیسے ایک مسیحا کرے گا محبت، امان، دوستی اور حفاظت میں اک نئی تاریخ رقم، کیسے ہوگی محبت کی فاتحانہ جیت۔
“احان۔۔۔۔۔ ہماری شادی کب ہوگی”
لمظ کے ہچکچا کر نظر جھکائے کیے سوال پر احان مسکرا کر بیڈ سے اٹھا اور لمظ کے گھبرائے
سے تاثرات عین روبرو کھڑے ہو کر تسلی سے جانچے، وہ احان کے پاس رہنا چاہتی تھی
مگر پھر پاس آنے پر وہ خود بے جان ہو رہی تھی۔
“فارمیلٹی باقی ہے شادی کی، ویسے تو تم احان کی آل ریڈی وائف ہو۔۔۔۔ سوچتے ہیں جلد
اس متعلق بھی۔ اب جاو ورنہ جانے نہیں دوں گا”
سنجیدہ ہو کر وہ اسکی جھکی پلکوں کے بے ساختہ گھبرا کر اٹھنے پر مسکراہٹ دبا گیا
جو احان کے آخری جملے میں الجھی سی لگی۔
“صبح صبح اپنے کمرے سے لمظ کو نکال رہے ہیں ، میں بھی نہیں بھولوں گی۔۔۔۔۔ احان ایک بات کہوں”
اپنی بوکھلاہٹ دباتی وہ خود ہی پزل ہوئی، مگر پھر کچھ دیر کی بے اختیاری کے بعد وہ تھوڑی قریب
ہوتی احان کے چوڑے سینے پر نظریں جھکائے سرگوشی میں بولی تو احان کو خوشگوار سے تجسس نے گھیرا۔
“ہاں کہو”
کمر میں حائل ہوتی احان کی بازووں پر اور بے خود سے جواب پر وہ مزید کنفوز ہوئی، گال یکدم سرخ ہو گئے۔
احان کو دیکھنا محال لگا تو پلکیں گراتی وہ خوامخواہ سرخ رو ہوتی گئی۔
“میرا دل آپ سے ایک لم۔۔۔۔لمحہ بھی دور نہیں جانا چاہتا، آئی وش میں ہر وقت آپکے پاس رہوں۔
مم۔۔مجھے نہیں پتا کیوں ہو رہا ایسا۔۔۔۔ “
جھکی نظروں کے سنگ صاف گوئی سے اپنے جذبات بیان کرتی وہ احان کو تو سراسر بہکا رہی تھی
، کوئی محبت میں اتنا معصوم اور سچا کبھی نہیں ہوا ہوگا جتنی لمظ فاطمہ تھی۔
تادیر ماتھا چومنے کے بعد وہ اسے گلے لگائے بے پناہ سرشاری محسوس کیے جذب سے آنکھیں بند
کر گیا، وہ بھی دم سادھے احان کی دھڑکنیں محسوس کرتی رہی۔
“ایسے کرو گی تو احان سے اپنا آپ سنبھالنا مشکل ہوگا ، بہت نازک ہو تم۔۔۔۔۔ محبت بھی پھول
جیسی سہہ سکتی ہو، اور میں۔۔۔۔۔۔ اظہار پر اتر آیا تو شدت پسند ہونے میں دیر نہیں لگاوں گا”
گھمبیر مگر جذبوں سے سرشار سی سرگوشی نے جئسے لمظ کی روح تک چھو لی تھی، جی جان سے دل کانپا تھا۔
وہ بھی جذبات سے چور لہجہ لیے پہلی بار اپنے دل کی کہہ بیٹھا مگر لمظ کے حواس باختہ ہو
کر اسکی بانہوں میں بے قرار ہونے پر اسے اپنی بے اختیاری کی سنگینی کا احساس ہوا تو دھیرے
سے پکڑ کر لمظ کو روبرو لائے اسکی سہمی سی مگر پر لطف شہد رنگ آنکھوں سے ہمکلام ہوا،
اس سے پہلے کہ بے خودی کچھ بے وقت اور سنگین سا سرزد کرواتی، لمظ کے اڑے حواس اور
غیر ہوتی حالت پر احان گہری مسکراہٹ جذب کرتا رکا۔
“و۔۔۔۔وہ م۔۔۔مم۔۔۔میں جاتئ ہوں”
اس سے پہلے احان اسکی گھبراہٹ اپنے تئیں کم کرتا وہ اس قربت کے ہوش اڑاتے ٹرانس سے فرار
کرتی تیز سانس لیتی فورا سے پہلے احان کا ہاتھ چھڑوا کر باہر کی سمت بھاگ گئی۔
Heart touching novel the way of you write your novel is mindblowing….I thought how think you write these heartouching and amazing words..In this novel my favourite is Ihaan,lamaz the way Ihaan protect lamz is soulful and the character of hooray the way he steadfast and recevied her hapoiness at the end 🌹🌹❣❤⚘🥀🌹🥰🥰