Sneak
"شاہ جی سنیئے! مجھے آپ کے پلنگ پر سونا ہے یہ بہت نرم ہے نہ۔۔۔" 17 سالہ صفا معصوم ہاتھوں سے شاہ ویز کو جھنجھوڑتے ہوئے اٹھا رہی تھی۔ وہ معصوم ونی میں قربان ہوئی تھی لیکن اتنی کیوٹ تھی کہ شاہ ویز کا اس پر ظلم کرنے کا دل ہی نہیں کیا پر اسے زمین پر سونا پڑتا تھا لیکن کل رات وہ گھر میں نہیں تھا تو صفا اسکے نرم بستر پر سوئی تھی، اب اسے وہ پسند آ گیا۔ "صفا پلیز! سونے دو میں پہلے ہی بہت تھکا ہوا ہوں، یہ نا ہو مجھے پھر غصہ آ جائے۔" اسے نیند کی سخت ضرورت تھی۔ سرخ آنکھوں سے اسے گھورا تو اسکی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ "نہیں مجھے یہ نرم بستر چاہیے یہاں بہت اچھی نیند آتی ہے، میں کل بھی سوئی تھی۔" اسکے دلکش چہرے سے نگاہ ہی نہیں ہٹ رہی تھی شاہ کی۔ "ی۔ یہ کیا کر رہی ہو۔۔۔؟ میرے ساتھ نہیں سو سکتی تم۔" اس نے جو اب گھورتے ہوئے کہا "کیوں شاہ جی اتنا بڑا بستر ہے، میں تو یہی سوؤں گی۔" وہ ضد کرتی ساتھ لیٹ گئی تو اسکا ضبط ٹوٹ۔۔۔۔۔۔
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
**اسیرِ سنگدل** ایک ونی کی رسم، سخت مزاج مرکزی کردار اور ایک کم عمر معصوم لڑکی کے گرد گھومنے والا جذباتی اردو ناول ہے۔ کہانی میں سترہ سالہ صفا اور شاہ ویز کے درمیان ایک ایسا رشتہ دکھایا گیا ہے جس کی بنیاد صفا کی اپنی مرضی کے بجائے ونی جیسی تکلیف دہ روایت پر رکھی گئی ہے۔
صفا ایک معصوم اور کم عمر لڑکی ہے جسے ونی کی رسم کے تحت شاہ ویز کے حوالے کیا گیا ہے۔ اس کی زندگی کے حالات عام لڑکیوں سے مختلف ہیں۔ وہ ایک ایسے گھر میں رہ رہی ہے جہاں شاہ ویز کا سخت مزاج اس کے لیے خوف اور بے یقینی کا سبب بنتا ہے۔
شاہ ویز ایک سخت طبیعت کا شخص ہے، لیکن صفا کی معصومیت اسے اس کے ساتھ ظلم کرنے سے روکتی ہے۔ اس کے باوجود صفا کو زمین پر سونا پڑتا ہے، جبکہ شاہ ویز اپنے نرم اور آرام دہ بستر پر سوتا ہے۔
ایک رات شاہ ویز گھر میں موجود نہیں ہوتا۔ اس کی غیرموجودگی میں صفا اس کے بستر پر سو جاتی ہے۔ نرم بستر پر اسے اتنا آرام محسوس ہوتا ہے کہ وہ دوبارہ وہیں سونے کی خواہش کرنے لگتی ہے۔
اگلی بار صفا شاہ ویز کو نیند سے جگانے لگتی ہے۔ وہ معصوم انداز میں اسے شاہ جی کہہ کر مخاطب کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ اسے اس کے پلنگ پر سونا ہے، کیونکہ وہ بہت نرم ہے۔
شاہ ویز پہلے ہی تھکا ہوا ہوتا ہے اور اسے نیند کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔ صفا کے مسلسل جگانے پر وہ ناراض ہو جاتا ہے اور اسے سونے دینے کے لیے کہتا ہے۔ وہ اسے خبردار بھی کرتا ہے کہ کہیں دوبارہ غصہ نہ آ جائے۔
شاہ ویز کے سخت لہجے اور سرخ آنکھوں کو دیکھ کر صفا کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔ مگر وہ اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹتی۔ وہ ضد کرتی ہے کہ اسے یہی نرم بستر چاہیے، کیونکہ یہاں اسے بہت اچھی نیند آتی ہے۔
صفا یہ بھی بتاتی ہے کہ گزشتہ رات جب شاہ ویز گھر میں نہیں تھا تو وہ اسی بستر پر سوئی تھی۔ اس کی معصوم باتیں سن کر شاہ ویز اسے دیکھتا رہ جاتا ہے۔
شاہ ویز صفا کو اپنے ساتھ سونے سے منع کرتا ہے۔ وہ واضح طور پر کہتا ہے کہ صفا اس کے ساتھ نہیں سو سکتی۔
لیکن صفا کو اس کی بات سمجھ نہیں آتی۔ وہ حیرت سے پوچھتی ہے کہ اتنا بڑا بستر ہونے کے باوجود وہ وہاں کیوں نہیں سو سکتی۔
اپنی ضد پر قائم رہتے ہوئے صفا شاہ ویز کے پاس بستر پر لیٹ جاتی ہے۔ اس کے اس غیرمتوقع عمل سے شاہ ویز کے لیے اپنے جذبات پر قابو رکھنا مشکل ہونے لگتا ہے۔
یہیں کہانی کا منظر ادھورا رہ جاتا ہے اور اگلے واقعے کے بارے میں تجسس پیدا ہوتا ہے۔
**اسیرِ سنگدل** کے اس حصے میں ایک کم عمر لڑکی کی معصوم خواہش، ونی کی روایت کے تحت اس کی بے اختیار صورتحال اور شاہ ویز کے سخت رویے کو نمایاں کیا گیا ہے۔
کیا شاہ ویز صفا کی خواہش کو سمجھ پائے گا؟ کیا وہ اس کے ساتھ نرمی اختیار کرے گا؟ اور اس غیرمنصفانہ روایت کے تحت شروع ہونے والے تعلق میں آگے کیا تبدیلی آئے گی؟
ان سوالات کے جواب Sneak میں موجود نہیں، لیکن صفا اور شاہ ویز کے درمیان اس مختصر گفتگو سے ان کے مزاج اور حالات کا فرق واضح ہوتا ہے۔
Summary — Urdu
**اسیرِ سنگدل** ایک ونی کی رسم پر مبنی جذباتی اردو ناول ہے، جس کے مرکزی کردار سترہ سالہ صفا اور شاہ ویز ہیں۔
صفا ایک معصوم لڑکی ہے جسے ونی کی رسم کے تحت شاہ ویز کے حوالے کیا گیا ہے۔ شاہ ویز سخت مزاج ہے، لیکن صفا کی معصومیت کی وجہ سے وہ اس پر ظلم نہیں کرنا چاہتا۔
اس کے باوجود صفا کو زمین پر سونا پڑتا ہے۔ ایک رات جب شاہ ویز گھر پر نہیں ہوتا تو صفا اس کے نرم بستر پر سو جاتی ہے۔ اسے بستر اتنا آرام دہ لگتا ہے کہ وہ دوبارہ وہیں سونا چاہتی ہے۔
اگلی بار وہ شاہ ویز کو جگا کر کہتی ہے کہ اسے بھی اس کے پلنگ پر سونا ہے۔
شاہ ویز پہلے ہی تھکا ہوا ہوتا ہے۔ وہ صفا کو سونے دینے کے لیے کہتا ہے اور ناراض ہو جاتا ہے۔ اس کے سخت لہجے سے صفا کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں، لیکن وہ اپنی ضد نہیں چھوڑتی۔
وہ شاہ ویز کو بتاتی ہے کہ گزشتہ رات بھی اسی بستر پر سوئی تھی اور اسے وہاں بہت اچھی نیند آئی تھی۔
شاہ ویز اسے اپنے ساتھ سونے سے منع کرتا ہے، مگر صفا معصومیت سے پوچھتی ہے کہ اتنے بڑے بستر پر وہ کیوں نہیں سو سکتی۔
وہ اپنی بات پر قائم رہتے ہوئے شاہ ویز کے پاس لیٹ جاتی ہے۔
صفا کی اس حرکت سے شاہ ویز کے لیے اپنے جذبات پر قابو رکھنا مشکل ہونے لگتا ہے، اور کہانی کا یہ منظر اسی مقام پر ختم ہو جاتا ہے۔
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕





