Sneak
"کتنی بار کہا ہے میرے لئے کھانا لے کر مت آیا کرو۔۔۔ نفرت ہے تمہارے وجود سے۔" اسکی حقارت بھری نظریں خود پر محسوس کرتی زرنش کانپ اٹھی۔ دادی مرنے سے پہلے اسے زبردستی اپنے نواسے کے حوالے کر گئی تھیں۔ جو کہ اب بس مجبوری اور بے دلی سے یہ رشتہ جوڑے بیٹھا تھا، کوشش پوری یہی تھی وہ اسے اتنا تنگ کریں کہ وہ خود ہی چلی جائے اسکی زندگی سے تو وہ آرام سکون سے جی سکے۔ "آ۔ آپ کی امی نے کہا میں آپ کے کھانے کا خیال رکھوں، اگر ایسا نہیں کیا تو وہ مجھے سزا۔۔۔" جلدی میں بولتی وہ اچانک رکی۔ اسے ساس کی دھمکی یاد آئی جو وہ اکثر اسے دیا کرتی تھیں۔ اسے مارنا کبھی کھانا بند کر دینا، اسکی ساس کا معمول تھا۔ عاصم شفیق چونکا پھر یکدم بولا۔ "اوہ تو اب تم میری موم پر الزام لگاؤ گی وہ بری ہیں، پہلے خود کو تو جسے دیکھو دوسروں کی زندگی میں زبردستی گھسنے کی عادت ہو گئی ہے۔" اسکی باتیں دل چیر رہی تھی اسکا۔ غصے و غم میں وہ روم سے جانے لگی کہ اسے چکر آیا اور اگلے لمحے وہ زمین بوس ہوتی کہ اسے دو مہربان بازوؤں نے تھام لیا۔ "ڈیم اٹ! پھر دوائی نہیں کھائی اس نے، تم ہوش میں آؤ پھر بتاتا ہوں تمہیں۔۔۔۔"
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
**عشقِ بے مہر** ایک جذباتی، خاندانی اور زبردستی کے رشتے پر مبنی اردو ناول ہے، جس میں زرنش اور عاصم شفیق کی زندگی کے تلخ حالات دکھائے گئے ہیں۔ یہ کہانی ایک ایسی لڑکی کے گرد گھومتی ہے جسے شادی کے بعد محبت اور تحفظ کے بجائے نفرت، بے اعتنائی اور سسرال کے سخت رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
زرنش کی دادی اپنی وفات سے پہلے اسے اپنے نواسے عاصم شفیق کے حوالے کر جاتی ہیں۔ اس طرح دونوں ایک ایسے رشتے میں بندھ جاتے ہیں جسے عاصم دل سے قبول نہیں کرتا۔
عاصم کے لیے یہ رشتہ محض ایک مجبوری ہے۔ وہ زرنش کو اپنی زندگی کا حصہ نہیں بنانا چاہتا اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح زرنش خود ہی اس کی زندگی سے چلی جائے۔
اس مقصد کے لیے وہ زرنش سے سختی سے پیش آتا ہے۔ اس کی باتوں میں محبت یا نرمی کے بجائے حقارت اور ناراضی ہوتی ہے۔
ایک دن زرنش عاصم کے لیے کھانا لے کر آتی ہے، لیکن عاصم اسے دیکھتے ہی غصے میں آ جاتا ہے۔
وہ زرنش سے کہتا ہے کہ اسے کتنی بار منع کیا ہے کہ اس کے لیے کھانا لے کر نہ آیا کرے۔ وہ یہاں تک کہہ دیتا ہے کہ اسے زرنش کے وجود سے نفرت ہے۔
یہ الفاظ سن کر زرنش کانپ اٹھتی ہے۔
وہ ہمت کرکے بتانے کی کوشش کرتی ہے کہ عاصم کی والدہ نے اسے اس کے کھانے کا خیال رکھنے کے لیے کہا ہے، اور اگر وہ ایسا نہیں کرے گی تو اسے سزا دی جائے گی۔
لیکن زرنش اپنی بات مکمل نہیں کر پاتی۔
اسے اپنی ساس کی دھمکیاں یاد آ جاتی ہیں۔ اس کی ساس کا رویہ اس کے ساتھ انتہائی سخت ہے۔ اسے مارنا اور کبھی کھانا بند کر دینا اس کے معمولات میں شامل ہے۔
زرنش اس خوف کی وجہ سے خاموش ہو جاتی ہے۔
عاصم اس کی بات سن کر چونک ضرور جاتا ہے، مگر حقیقت جاننے کی کوشش کرنے کے بجائے اپنی والدہ کا دفاع کرنے لگتا ہے۔
وہ زرنش پر الزام لگاتا ہے کہ وہ اس کی ماں کو برا ثابت کرنا چاہتی ہے۔
عاصم کی یہ باتیں زرنش کے دل کو مزید تکلیف پہنچاتی ہیں۔
وہ پہلے ہی اپنی ساس کے رویے سے پریشان ہوتی ہے اور اب شوہر کی بے اعتنائی بھی اسے برداشت کرنا پڑتی ہے۔
غم اور غصے کی کیفیت میں زرنش کمرے سے نکلنے لگتی ہے، لیکن اچانک اسے چکر آ جاتا ہے۔
اس کا جسم بے قابو ہو جاتا ہے اور وہ زمین پر گرنے والی ہوتی ہے کہ دو بازو اسے تھام لیتے ہیں۔
اسی لمحے عاصم کی آواز سنائی دیتی ہے۔
وہ غصے سے کہتا ہے کہ زرنش نے پھر اپنی دوا نہیں کھائی اور اسے ہوش میں آنے کے بعد اس سے بات کرنے کی دھمکی دیتا ہے۔
اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ زرنش کی طبیعت اور دوا کا معاملہ بھی اہم ہے، تاہم Sneak میں اس کی بیماری یا دوا کی وجہ واضح نہیں کی گئی۔
**عشقِ بے مہر** کے اس حصے میں شوہر کی نفرت، ساس کا ظالمانہ رویہ، ایک بے بس لڑکی کی خاموش تکلیف اور اچانک طبیعت خراب ہونے کا واقعہ کہانی کو جذباتی بناتے ہیں۔
کیا عاصم زرنش کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی حقیقت جان سکے گا؟ کیا وہ اپنی والدہ کے رویے پر غور کرے گا؟ اور زرنش کی طبیعت کیوں خراب ہوئی؟
یہ سوالات کہانی کے اگلے حصے کے لیے تجسس پیدا کرتے ہیں۔
Summary — Urdu
**عشقِ بے مہر** ایک جذباتی اور خاندانی اردو ناول ہے، جس کے مرکزی کردار زرنش اور عاصم شفیق ہیں۔
زرنش کی دادی اپنی وفات سے پہلے اس کا رشتہ اپنے نواسے عاصم شفیق سے کروا جاتی ہیں۔ عاصم اس رشتے کو اپنی مرضی سے قبول نہیں کرتا اور زرنش سے دور رہنا چاہتا ہے۔
وہ زرنش کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرتا ہے تاکہ وہ خود ہی اس کی زندگی سے چلی جائے۔
دوسری طرف زرنش کو اپنی ساس کی سختیوں کا سامنا ہوتا ہے۔ اس کی ساس اسے مارتی ہے اور بعض اوقات اس کا کھانا بھی بند کر دیتی ہے۔
ایک دن زرنش عاصم کے لیے کھانا لے کر آتی ہے، لیکن وہ اسے حقارت سے منع کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اسے اس کے وجود سے نفرت ہے۔
زرنش سمجھانے کی کوشش کرتی ہے کہ اس کی والدہ نے اسے کھانے کا خیال رکھنے کا حکم دیا ہے، ورنہ اسے سزا ملے گی۔
لیکن وہ اپنی بات مکمل نہیں کر پاتی۔
عاصم اس کی بات پر یقین کرنے کے بجائے اسے اپنی والدہ پر الزام لگانے کا طعنہ دیتا ہے۔
ان باتوں سے زرنش کو شدید دکھ پہنچتا ہے اور وہ کمرے سے جانے لگتی ہے۔
اچانک اسے چکر آ جاتا ہے اور وہ گرنے لگتی ہے، مگر کسی کے بازو اسے تھام لیتے ہیں۔
عاصم اس کی دوا نہ کھانے پر غصے کا اظہار کرتا ہے۔
کیا عاصم کبھی زرنش کی تکلیف سمجھ پائے گا؟ اور کیا زرنش کو اس گھر میں عزت اور تحفظ مل سکے گا؟
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕





