Sneak
"اس نے پھر انکار کر دیا۔ تم بھی ضد چھوڑ دو ارسل شاہ!" ارسل شاہ کی ضد تھی وہ لڑکی اور اسکی ماں دو بار رشتہ لے کر گئی تھی۔ ہر بار کی طرح آج بھی انکار ہی ملا تو وہ غصہ ہوئی اور اسے سمجھانے لگی۔ "اس بیوہ کا پیچھا چھوڑ دو ارسل شاہ! تمہیں بہت سی کنواری لڑکیاں مل جائے گی۔" عنایا اسکے ساتھ یونی پڑھتی تھی تب سے وہ اس لڑکی سے محبت کرتا تھا لیکن وہ ہمیشہ اسے غلط سمجھتی آئی تھی اور پھر اسکی شادی ہو گئی جبکہ ایک ماہ چلی، شوہر مر گیا تو واپس اپنے مائکے آ گئی لیکن آج بھی وہ سمجھتی تھی ارسل شاہ نے اسکی زندگی برباد کی ہے جبکہ وہ غلط فہمی کا شکار تھی۔ "آہہہ تم اندر کیسے آئے۔۔۔؟" اچانک کوئی اسکے منہ پر ہاتھ رکھتا اسے دیوار سے پن کر گیا جب نگاہ ارسل پر پڑی تو وہ خوفزدہ ہوئی۔ "اس بار کھڑکی سے آیا ہوں تمہیں سمجھانے، کل امی رشتے کے ساتھ ساتھ نکاح کی ڈیٹ بھی لینے آئیں گی اور اگر انکار کیا تو اسکی ذمہ دار تم خود ہو گی بعد میں مجھ سے کوئی شکایت نہیں۔۔۔۔۔۔"
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
**محبت کی ضد میں** ایک یک طرفہ محبت، دوسری شادی، غلط فہمیوں اور جذباتی کشمکش پر مبنی اردو ناول ہے، جس کے مرکزی کردار ارسل شاہ اور عنایا ہیں۔ اس کہانی میں ایک ایسے شخص کی محبت دکھائی گئی ہے جو برسوں گزرنے کے باوجود اپنے جذبات سے پیچھے نہیں ہٹتا، جبکہ جس لڑکی سے وہ محبت کرتا ہے، وہ اسے اپنی زندگی کی مشکلات کا ذمہ دار سمجھتی ہے۔
ارسل شاہ اور عنایا ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھتے تھے۔ ارسل اسی زمانے سے عنایا سے محبت کرتا تھا، لیکن عنایا نے ہمیشہ اسے غلط سمجھا۔
وقت گزرتا گیا اور عنایا کی شادی کسی دوسرے شخص سے ہو گئی۔
مگر اس کی ازدواجی زندگی زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکی۔ شادی کے صرف ایک ماہ بعد اس کا شوہر وفات پا گیا اور عنایا واپس اپنے میکے آ گئی۔
اس واقعے کے بعد بھی عنایا کے دل میں ارسل شاہ کے بارے میں موجود غلط فہمی ختم نہیں ہوئی۔
وہ آج بھی سمجھتی ہے کہ ارسل نے اس کی زندگی برباد کی ہے، حالانکہ اصل حقیقت اس کے خیال سے مختلف ہے۔
دوسری طرف ارسل شاہ اب بھی عنایا سے شادی کرنا چاہتا ہے۔
وہ اپنی والدہ کے ساتھ عنایا کا رشتہ مانگنے جاتا ہے، لیکن ہر بار اسے انکار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایک موقع پر ارسل کی والدہ اسے بتاتی ہیں کہ عنایا نے پھر انکار کر دیا ہے۔
وہ اپنے بیٹے کو سمجھاتی ہیں کہ اب اسے اپنی ضد چھوڑ دینی چاہیے۔
ان کی نظر میں ارسل کے لیے دوسری لڑکیوں کے رشتے بھی آ سکتے ہیں، اس لیے اسے ایک ایسی بیوہ کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے جو اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔
لیکن ارسل اپنے فیصلے پر قائم رہتا ہے۔
وہ عنایا سے شادی کرنے کی خواہش ترک نہیں کرتا، حالانکہ عنایا بار بار اس کا رشتہ مسترد کر چکی ہوتی ہے۔
پھر ایک دن عنایا کے ساتھ ایک غیرمتوقع واقعہ پیش آتا ہے۔
اچانک کوئی اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے دیوار سے لگا دیتا ہے۔
عنایا گھبرا جاتی ہے، مگر جب اس کی نظر سامنے موجود شخص پر پڑتی ہے تو وہ ارسل شاہ کو پہچان لیتی ہے۔
وہ خوف زدہ ہو کر پوچھتی ہے کہ ارسل اندر کیسے آیا۔
ارسل اسے بتاتا ہے کہ اس مرتبہ وہ کھڑکی کے راستے آیا ہے۔
وہ عنایا کو سمجھانے کے لیے آنے کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن اس کی گفتگو میں دباؤ اور دھمکی نمایاں ہوتی ہے۔
ارسل کہتا ہے کہ اگلے دن اس کی والدہ رشتے کے ساتھ نکاح کی تاریخ لینے بھی آئیں گی۔
وہ عنایا کو خبردار کرتا ہے کہ اگر اس نے دوبارہ انکار کیا تو اس کے بعد ہونے والی صورتحال کی ذمہ دار وہ خود ہوگی۔
ارسل کی یہ بات عنایا کے لیے مزید خوف اور پریشانی کا باعث بنتی ہے۔
**محبت کی ضد میں** کے اس حصے میں برسوں پرانی یک طرفہ محبت، بیوہ لڑکی کی دوسری شادی کا معاملہ، ماضی کی غلط فہمی اور شادی کے لیے دباؤ جیسے اہم موضوعات سامنے آتے ہیں۔
کیا عنایا کے دل میں ارسل کے بارے میں موجود غلط فہمی دور ہوگی؟ کیا وہ اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ کر سکے گی؟ اور ارسل اپنی ضد میں کس حد تک جائے گا؟
ان سوالات کے جواب ابھی Sneak میں واضح نہیں کیے گئے۔
Summary — Urdu
**محبت کی ضد میں** ایک جذباتی اور دوسری شادی پر مبنی اردو ناول ہے، جس کے مرکزی کردار ارسل شاہ اور عنایا ہیں۔
ارسل شاہ یونیورسٹی کے زمانے سے عنایا سے محبت کرتا ہے، لیکن عنایا ہمیشہ اسے غلط سمجھتی رہی ہے۔
بعد میں عنایا کی شادی کسی دوسرے شخص سے ہو جاتی ہے، مگر شادی کے صرف ایک ماہ بعد اس کا شوہر وفات پا جاتا ہے۔
عنایا اپنے میکے واپس آ جاتی ہے، لیکن ارسل کے بارے میں اس کی غلط فہمی برقرار رہتی ہے۔
وہ سمجھتی ہے کہ ارسل نے اس کی زندگی برباد کی، حالانکہ یہ اس کی غلط فہمی ہوتی ہے۔
دوسری طرف ارسل اپنی والدہ کے ساتھ بار بار عنایا کا رشتہ مانگنے جاتا ہے، مگر ہر بار انکار ہوتا ہے۔
ارسل کی والدہ اسے سمجھاتی ہیں کہ وہ اپنی ضد چھوڑ دے اور کسی دوسری لڑکی سے شادی کر لے۔
لیکن ارسل عنایا سے شادی کرنے کے فیصلے پر قائم رہتا ہے۔
ایک دن وہ کھڑکی کے راستے عنایا کے کمرے میں داخل ہو جاتا ہے۔
عنایا اسے اچانک سامنے دیکھ کر خوف زدہ ہو جاتی ہے۔
ارسل اسے بتاتا ہے کہ اگلے دن اس کی والدہ نکاح کی تاریخ لینے آئیں گی اور اگر عنایا نے انکار کیا تو اس کے نتائج کی ذمہ دار وہ خود ہوگی۔
ارسل کی یہ دھمکی عنایا کو ایک مشکل صورتحال میں ڈال دیتی ہے۔
کیا عنایا ارسل کے بارے میں حقیقت جان سکے گی؟ اور کیا ارسل اس کے فیصلے کا احترام کرے گا؟
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕





