Skip to navigation Skip to main content
Khwahish E Zindagi Novel90014 Urdu novel cover
Rank#15
Views329.6K

READ URDU NOVELS AT NOVELISTAN.COM

Khwahish E Zindagi

No ratings yet

Rate this novel

CompleteEmotional FictionFamily Drama

Novel code: Novel90014

Read OnlineDownload PDF

پروفیسر حدید اپنی طالبہ کی اسائنمنٹ چیک کر رہا تھا، لیکن لڑکی بار بار گھڑی دیکھ رہی تھی۔ اسے گھر جلدی پہنچنا تھا کیونکہ آج اسے دیکھنے کے لیے رشتے والے آنے والے تھے۔ اس نے حدید سے دادی کی طبیعت خراب ہونے کا بہانہ بنا کر چھٹی مانگی۔ حدید اس کی بار بار غیر حاضریوں سے ناراض تھا، اس لیے اسے سختی سے ڈانٹ کر جانے دیا۔ گھر پہنچ کر لڑکی تیار ہوئی اور رشتے والوں کے سامنے سر جھکا کر بیٹھ گئی۔ اچانک کسی نے طنزیہ انداز میں اس کی دادی کی طبیعت پوچھی۔ اس نے سر اٹھایا تو سامنے پروفیسر حدید کو دیکھ کر ساکت رہ گئی۔

Read the Novel

Sneak

”کچھ کہنا ہے آپ کو؟“ پروفیسر حدید اسائنمنٹ چیک کر رہا تھا مگر نگاہ وقتاً فوقتاً اسی کے چہرے پر اٹھ رہی تھی۔ وہ کبھی انگلیاں چٹخاتی، کبھی گھڑی دیکھتی۔ اس کی بے چینی صاف ظاہر کر رہی تھی۔ حدید کے ماتھے پر بل پڑے۔ ”ج۔۔۔ جی سر! وہ مجھے آج گھر جلدی جانا ہے، دادی کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے۔“ اسے جھوٹ بولنا پڑا، کیونکہ آج اسے دیکھنے کے لیے رشتے والے آ رہے تھے۔ وہ اپنے بھائی اور بھابی پر مزید بوجھ بن کر نہیں رہنا چاہتی تھی۔ حدید بیزار تھا اس لڑکی سے، اسے آئے روز کوئی بہانہ چاہیے ہوتا تھا چھٹی کا۔
”آپ جانتی ہیں کتنی چھٹیاں کر چکی ہیں؟ اب پیپرز میں بیٹھنے نہیں دوں گا۔ جاؤ، دفع ہو جاؤ!“ وہ غصے سے دھاڑا تو وہ فوراً آفس سے بھاگ نکلی۔ گھر پہنچ کر وہ مجبوراً تیار ہوئی۔ ”آجاؤ، لڑکے والے آ گئے ہیں، سر جھکا کر بیٹھی رہنا، زیادہ بک بک مت کرنا۔“ وہ خاموشی سے سر جھکائے بیٹھ گئی۔ ”آپ کی دادی کیسی ہیں اب۔۔۔؟“ اچانک طنزیہ آواز سن کر اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔ اس کا پورا وجود ساکت ہو گیا کیونکہ سامنے پروفیسر حدید۔۔۔۔۔۔

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Description — Urdu

**خواہشِ زندگی** ایک ٹیچر اسٹوڈنٹ، جذباتی اور خاندانی حالات پر مبنی اردو ناول ہے، جس میں ایک سخت مزاج پروفیسر اور اپنی زندگی کے فیصلوں سے پریشان طالبہ کی دلچسپ صورتحال دکھائی گئی ہے۔

کہانی کی مرکزی لڑکی اپنے بھائی اور بھابی کے ساتھ رہتی ہے۔ وہ نہیں چاہتی کہ اس کی ذمہ داری مزید ان پر رہے، اسی لیے اپنی شادی کے معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہوتی ہے۔

ایک دن اسے دیکھنے کے لیے رشتے والے آنے والے ہوتے ہیں۔

اسے گھر جلدی پہنچنا ہوتا ہے، مگر اس وقت وہ پروفیسر حدید کے سامنے موجود ہوتی ہے، جو اس کی اسائنمنٹ چیک کر رہا ہوتا ہے۔

حدید کام میں مصروف ہونے کے باوجود بار بار اس کے چہرے کی طرف دیکھتا ہے۔ لڑکی کی بے چینی واضح ہوتی ہے۔ کبھی وہ انگلیاں چٹخاتی ہے اور کبھی گھڑی کی طرف دیکھتی ہے۔

پروفیسر حدید اس کی حرکتیں محسوس کر لیتا ہے اور پوچھتا ہے کہ کیا اسے کچھ کہنا ہے۔

لڑکی گھبراہٹ میں جواب دیتی ہے کہ اسے آج گھر جلدی جانا ہے کیونکہ اس کی دادی کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے۔

حقیقت میں یہ ایک بہانہ ہوتا ہے۔

وہ پروفیسر کو نہیں بتا سکتی کہ اسے دیکھنے کے لیے رشتے والے آ رہے ہیں، اس لیے دادی کی بیماری کا جھوٹ بول دیتی ہے۔

لیکن حدید اس کی بات سے متاثر نہیں ہوتا۔

وہ پہلے ہی اس کی بار بار چھٹیاں کرنے کی عادت سے بیزار ہوتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ یہ لڑکی آئے دن کسی نہ کسی بہانے چھٹی مانگتی رہتی ہے۔

وہ غصے میں اسے اس کی غیر حاضریاں یاد دلاتا ہے اور خبردار کرتا ہے کہ اب اسے امتحانات میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دے گا۔

آخرکار وہ سخت لہجے میں اسے وہاں سے جانے کا حکم دے دیتا ہے۔

لڑکی فوراً اس کے دفتر سے نکل جاتی ہے اور گھر پہنچتی ہے۔

گھر میں اسے مجبوراً تیار ہونا پڑتا ہے کیونکہ رشتے والے آ چکے ہوتے ہیں۔

اسے ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ سر جھکا کر بیٹھی رہے اور زیادہ باتیں نہ کرے۔

وہ خاموشی سے سب کے سامنے بیٹھ جاتی ہے۔

اسی دوران اچانک ایک طنزیہ آواز اس سے پوچھتی ہے کہ اب اس کی دادی کی طبیعت کیسی ہے۔

یہ سوال سنتے ہی وہ چونک کر سر اٹھاتی ہے۔

سامنے موجود شخص کو دیکھ کر اس کا پورا وجود ساکت ہو جاتا ہے۔

وہ کوئی اور نہیں بلکہ پروفیسر حدید ہوتا ہے۔

جس شخص سے اس نے گھر جلدی جانے کے لیے دادی کی بیماری کا بہانہ بنایا تھا، وہی اب اس کے سامنے موجود ہوتا ہے۔

یہ صورتحال لڑکی کے لیے غیرمتوقع اور پریشان کن ہوتی ہے، کیونکہ حدید اس کے جھوٹ سے واقف ہو چکا ہوتا ہے۔

**خواہشِ زندگی** کے اس حصے میں ایک طالبہ کی خاندانی مجبوری، شادی کے لیے آنے والا رشتہ، سخت مزاج پروفیسر اور ایک اچانک ملاقات کہانی میں دلچسپی پیدا کرتے ہیں۔

کیا پروفیسر حدید خود رشتے کے سلسلے میں آیا ہے؟ کیا وہ لڑکی کے جھوٹ پر مزید ناراض ہوگا؟ اور اس غیرمتوقع ملاقات کے بعد کیا ہوگا؟

ان سوالات کے جواب Sneak میں ابھی واضح نہیں کیے گئے۔

Summary — Urdu

**خواہشِ زندگی** ایک ٹیچر اسٹوڈنٹ اور جذباتی اردو ناول ہے، جس کے مرکزی کردار پروفیسر حدید اور اس کی ایک طالبہ ہیں۔

لڑکی اپنے بھائی اور بھابی پر مزید بوجھ نہیں بننا چاہتی۔ ایک دن اسے دیکھنے کے لیے رشتے والے آنے والے ہوتے ہیں، اس لیے اسے گھر جلدی پہنچنا ہوتا ہے۔

وہ پروفیسر حدید سے چھٹی مانگنے کے لیے دادی کی طبیعت خراب ہونے کا بہانہ بناتی ہے۔

پروفیسر حدید پہلے ہی اس کی بار بار چھٹیوں سے ناراض ہوتا ہے۔ وہ اسے سختی سے ڈانٹتا ہے اور خبردار کرتا ہے کہ مزید غیر حاضری کی صورت میں اسے امتحانات میں بیٹھنے نہیں دے گا۔

لڑکی جلدی سے گھر پہنچ جاتی ہے، جہاں رشتے والے آ چکے ہوتے ہیں۔

اسے تیار ہونے اور خاموشی سے سر جھکا کر بیٹھنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔

وہ خاموشی سے بیٹھی ہوتی ہے کہ اچانک ایک جانی پہچانی طنزیہ آواز اس سے دادی کی طبیعت کے بارے میں پوچھتی ہے۔

لڑکی چونک کر سر اٹھاتی ہے اور سامنے پروفیسر حدید کو دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے۔

اب وہی شخص اس کے سامنے موجود ہوتا ہے جس سے وہ کچھ دیر پہلے جھوٹ بول کر آئی تھی۔

پروفیسر حدید وہاں کیوں آیا ہے اور اس ملاقات کا انجام کیا ہوگا؟ یہی سوال اس Sneak کو دلچسپ بناتے ہیں۔

Related Keywords

Khwahish E Zindagi Novel90014 Novel, Khwahish E Zindagi Novel90014 Urdu Novel, Khwahish E Zindagi Novel90014 PDF
Share this Novel

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote this novel?

This novel is written by Novelistan.

Is this novel complete or ongoing?

The recorded status is complete novel.

Join Our Community

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *