Sneak
”کچھ کہنا ہے آپ کو؟“ پروفیسر حدید اسائنمنٹ چیک کر رہا تھا مگر نگاہ وقتاً فوقتاً اسی کے چہرے پر اٹھ رہی تھی۔ وہ کبھی انگلیاں چٹخاتی، کبھی گھڑی دیکھتی۔ اس کی بے چینی صاف ظاہر کر رہی تھی۔ حدید کے ماتھے پر بل پڑے۔ ”ج۔۔۔ جی سر! وہ مجھے آج گھر جلدی جانا ہے، دادی کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے۔“ اسے جھوٹ بولنا پڑا، کیونکہ آج اسے دیکھنے کے لیے رشتے والے آ رہے تھے۔ وہ اپنے بھائی اور بھابی پر مزید بوجھ بن کر نہیں رہنا چاہتی تھی۔ حدید بیزار تھا اس لڑکی سے، اسے آئے روز کوئی بہانہ چاہیے ہوتا تھا چھٹی کا۔ ”آپ جانتی ہیں کتنی چھٹیاں کر چکی ہیں؟ اب پیپرز میں بیٹھنے نہیں دوں گا۔ جاؤ، دفع ہو جاؤ!“ وہ غصے سے دھاڑا تو وہ فوراً آفس سے بھاگ نکلی۔ گھر پہنچ کر وہ مجبوراً تیار ہوئی۔ ”آجاؤ، لڑکے والے آ گئے ہیں، سر جھکا کر بیٹھی رہنا، زیادہ بک بک مت کرنا۔“ وہ خاموشی سے سر جھکائے بیٹھ گئی۔ ”آپ کی دادی کیسی ہیں اب۔۔۔؟“ اچانک طنزیہ آواز سن کر اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔ اس کا پورا وجود ساکت ہو گیا کیونکہ سامنے پروفیسر حدید۔۔۔۔۔۔
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
**خواہشِ زندگی** ایک ٹیچر اسٹوڈنٹ، جذباتی اور خاندانی حالات پر مبنی اردو ناول ہے، جس میں ایک سخت مزاج پروفیسر اور اپنی زندگی کے فیصلوں سے پریشان طالبہ کی دلچسپ صورتحال دکھائی گئی ہے۔
کہانی کی مرکزی لڑکی اپنے بھائی اور بھابی کے ساتھ رہتی ہے۔ وہ نہیں چاہتی کہ اس کی ذمہ داری مزید ان پر رہے، اسی لیے اپنی شادی کے معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہوتی ہے۔
ایک دن اسے دیکھنے کے لیے رشتے والے آنے والے ہوتے ہیں۔
اسے گھر جلدی پہنچنا ہوتا ہے، مگر اس وقت وہ پروفیسر حدید کے سامنے موجود ہوتی ہے، جو اس کی اسائنمنٹ چیک کر رہا ہوتا ہے۔
حدید کام میں مصروف ہونے کے باوجود بار بار اس کے چہرے کی طرف دیکھتا ہے۔ لڑکی کی بے چینی واضح ہوتی ہے۔ کبھی وہ انگلیاں چٹخاتی ہے اور کبھی گھڑی کی طرف دیکھتی ہے۔
پروفیسر حدید اس کی حرکتیں محسوس کر لیتا ہے اور پوچھتا ہے کہ کیا اسے کچھ کہنا ہے۔
لڑکی گھبراہٹ میں جواب دیتی ہے کہ اسے آج گھر جلدی جانا ہے کیونکہ اس کی دادی کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے۔
حقیقت میں یہ ایک بہانہ ہوتا ہے۔
وہ پروفیسر کو نہیں بتا سکتی کہ اسے دیکھنے کے لیے رشتے والے آ رہے ہیں، اس لیے دادی کی بیماری کا جھوٹ بول دیتی ہے۔
لیکن حدید اس کی بات سے متاثر نہیں ہوتا۔
وہ پہلے ہی اس کی بار بار چھٹیاں کرنے کی عادت سے بیزار ہوتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ یہ لڑکی آئے دن کسی نہ کسی بہانے چھٹی مانگتی رہتی ہے۔
وہ غصے میں اسے اس کی غیر حاضریاں یاد دلاتا ہے اور خبردار کرتا ہے کہ اب اسے امتحانات میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دے گا۔
آخرکار وہ سخت لہجے میں اسے وہاں سے جانے کا حکم دے دیتا ہے۔
لڑکی فوراً اس کے دفتر سے نکل جاتی ہے اور گھر پہنچتی ہے۔
گھر میں اسے مجبوراً تیار ہونا پڑتا ہے کیونکہ رشتے والے آ چکے ہوتے ہیں۔
اسے ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ سر جھکا کر بیٹھی رہے اور زیادہ باتیں نہ کرے۔
وہ خاموشی سے سب کے سامنے بیٹھ جاتی ہے۔
اسی دوران اچانک ایک طنزیہ آواز اس سے پوچھتی ہے کہ اب اس کی دادی کی طبیعت کیسی ہے۔
یہ سوال سنتے ہی وہ چونک کر سر اٹھاتی ہے۔
سامنے موجود شخص کو دیکھ کر اس کا پورا وجود ساکت ہو جاتا ہے۔
وہ کوئی اور نہیں بلکہ پروفیسر حدید ہوتا ہے۔
جس شخص سے اس نے گھر جلدی جانے کے لیے دادی کی بیماری کا بہانہ بنایا تھا، وہی اب اس کے سامنے موجود ہوتا ہے۔
یہ صورتحال لڑکی کے لیے غیرمتوقع اور پریشان کن ہوتی ہے، کیونکہ حدید اس کے جھوٹ سے واقف ہو چکا ہوتا ہے۔
**خواہشِ زندگی** کے اس حصے میں ایک طالبہ کی خاندانی مجبوری، شادی کے لیے آنے والا رشتہ، سخت مزاج پروفیسر اور ایک اچانک ملاقات کہانی میں دلچسپی پیدا کرتے ہیں۔
کیا پروفیسر حدید خود رشتے کے سلسلے میں آیا ہے؟ کیا وہ لڑکی کے جھوٹ پر مزید ناراض ہوگا؟ اور اس غیرمتوقع ملاقات کے بعد کیا ہوگا؟
ان سوالات کے جواب Sneak میں ابھی واضح نہیں کیے گئے۔
Summary — Urdu
**خواہشِ زندگی** ایک ٹیچر اسٹوڈنٹ اور جذباتی اردو ناول ہے، جس کے مرکزی کردار پروفیسر حدید اور اس کی ایک طالبہ ہیں۔
لڑکی اپنے بھائی اور بھابی پر مزید بوجھ نہیں بننا چاہتی۔ ایک دن اسے دیکھنے کے لیے رشتے والے آنے والے ہوتے ہیں، اس لیے اسے گھر جلدی پہنچنا ہوتا ہے۔
وہ پروفیسر حدید سے چھٹی مانگنے کے لیے دادی کی طبیعت خراب ہونے کا بہانہ بناتی ہے۔
پروفیسر حدید پہلے ہی اس کی بار بار چھٹیوں سے ناراض ہوتا ہے۔ وہ اسے سختی سے ڈانٹتا ہے اور خبردار کرتا ہے کہ مزید غیر حاضری کی صورت میں اسے امتحانات میں بیٹھنے نہیں دے گا۔
لڑکی جلدی سے گھر پہنچ جاتی ہے، جہاں رشتے والے آ چکے ہوتے ہیں۔
اسے تیار ہونے اور خاموشی سے سر جھکا کر بیٹھنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔
وہ خاموشی سے بیٹھی ہوتی ہے کہ اچانک ایک جانی پہچانی طنزیہ آواز اس سے دادی کی طبیعت کے بارے میں پوچھتی ہے۔
لڑکی چونک کر سر اٹھاتی ہے اور سامنے پروفیسر حدید کو دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے۔
اب وہی شخص اس کے سامنے موجود ہوتا ہے جس سے وہ کچھ دیر پہلے جھوٹ بول کر آئی تھی۔
پروفیسر حدید وہاں کیوں آیا ہے اور اس ملاقات کا انجام کیا ہوگا؟ یہی سوال اس Sneak کو دلچسپ بناتے ہیں۔
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕





