Sneak
"تم۔۔۔ تمہیں شرم نہیں آتی میں تمہاری ٹیچر ہوں۔۔۔" مناہل نے تڑپ کر اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ "ٹیچر ہو تو کیا ہوا؟؟ ہو تو مجھے چھوٹی نا۔۔۔" بالاج شاہ کہتے ہوئے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے مقابل کر گیا تھا۔ مناہل ایک کالج میں پڑھاتی تھی۔۔۔ اور ساتھ ساتھ پرائیویٹ اپنی پڑھائی بھی جاری رکھی ہوئی تھی۔۔۔ پرنسپل نے ایک دن اس کی ڈیوٹی بوائز کیمپس میں لگا دی تھی۔۔۔ بالاج شاہ پہلی ہی نظر میں اس کا دیوانہ ہو گیا تھا۔۔۔ دو سال پہلے اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا اور اس نے پڑھائی چھوڑ دی تھی۔۔۔ اسی لیے باقی بچوں کے مقابلے میں ان سے سینئر تھا۔ اس نے مناہل کو پروپوز کیا تھا پر مناہل نے اسے ریجیکٹ کر دیا تھا۔۔۔ غصے میں آکر اس نے مناہل کو کڈنیپ کر لیا تھا۔۔۔ "کچھ دیر بعد ہمارا نکاح ہے۔۔۔ تیار رہنا۔۔۔" بالاج کہتے وہاں سے نکلا تھا جب۔۔۔۔
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
**دیوانگیٔ عشق** ایک ٹیچر اسٹوڈنٹ لو اسٹوری، یک طرفہ محبت اور زبردستی شادی کے موضوعات پر مبنی جذباتی اردو ناول ہے۔ اس کہانی میں ایک ایسی لڑکی کی زندگی پیش کی گئی ہے جو اپنے مستقبل کے لیے محنت کر رہی ہے، لیکن ایک طالب علم کی ضد اس کی زندگی کو غیرمتوقع حالات سے دوچار کر دیتی ہے۔
مناہل ایک کالج میں پڑھاتی ہے اور ساتھ ساتھ اپنی پرائیویٹ تعلیم بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے نبھاتی ہے۔ اس کی زندگی اپنے کام اور پڑھائی کے گرد گھوم رہی ہوتی ہے کہ اچانک کالج کی پرنسپل اس کی ڈیوٹی بوائز کیمپس میں لگا دیتی ہیں۔
یہیں مناہل کا سامنا بالاج شاہ سے ہوتا ہے۔
بالاج شاہ دو سال پہلے ایک حادثے کا شکار ہو چکا ہوتا ہے۔ اس حادثے کے بعد اس نے اپنی پڑھائی چھوڑ دی تھی، جس کی وجہ سے وہ دوسرے طالب علموں کے مقابلے میں سینئر ہے۔
بالاج پہلی ہی نظر میں مناہل کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ اس کی پسندیدگی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے جذبات کا اظہار کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔
وہ مناہل کو پروپوز کرتا ہے، مگر مناہل اس کی پیشکش مسترد کر دیتی ہے۔
مناہل کے لیے یہ معاملہ صرف پسند یا ناپسند کا نہیں، بلکہ اس کی اپنی مرضی اور ایک استاد کی حیثیت سے اس کے مقام کا بھی ہے۔ وہ بالاج کو سمجھانے کی کوشش کرتی ہے کہ وہ اس کی ٹیچر ہے۔
لیکن بالاج اس کے انکار کو قبول نہیں کرتا۔
وہ غصے میں ایک انتہائی قدم اٹھاتا ہے اور مناہل کو اغوا کر لیتا ہے۔ مناہل کی مرضی کے خلاف اسے اس صورتحال میں لانا بالاج کے رویے کی سنگینی ظاہر کرتا ہے۔
اغوا کے بعد مناہل اسے دوبارہ سمجھانے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ اسے یاد دلاتی ہے کہ وہ اس کی ٹیچر ہے اور اسے اپنے رویے پر شرم آنی چاہیے۔
مگر بالاج شاہ اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ٹیچر ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے، جبکہ مناہل عمر میں اس سے چھوٹی ہے۔
اس گفتگو کے دوران بالاج مناہل کو بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کر لیتا ہے۔ مناہل کی پریشانی کے باوجود وہ اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹتا۔
پھر بالاج ایک ایسا اعلان کرتا ہے جو صورتحال کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔
وہ مناہل سے کہتا ہے کہ کچھ دیر بعد ان کا نکاح ہونے والا ہے اور اسے تیار رہنا چاہیے۔
یہ کہہ کر بالاج وہاں سے چلا جاتا ہے، جبکہ مناہل ایک ایسے فیصلے کا سامنا کر رہی ہوتی ہے جو اس کی رضامندی کے بغیر اس پر مسلط کیا جا رہا ہے۔
**دیوانگیٔ عشق** کے اس حصے میں یک طرفہ کشش، انکار کو قبول نہ کرنا، اغوا اور زبردستی نکاح کا ارادہ کہانی کے بنیادی عناصر ہیں۔
کیا مناہل اس صورتحال سے نکل پائے گی؟ کیا بالاج اپنی ضد چھوڑے گا؟ اور کیا نکاح واقعی ہو سکے گا؟
ان سوالات کے جواب ابھی Sneak میں سامنے نہیں آئے۔
Summary — Urdu
**دیوانگیٔ عشق** ایک ٹیچر اسٹوڈنٹ اور یک طرفہ محبت پر مبنی جذباتی اردو ناول ہے، جس کے مرکزی کردار مناہل اور بالاج شاہ ہیں۔
مناہل ایک کالج میں پڑھاتی ہے اور ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھتی ہے۔ ایک دن پرنسپل اس کی ڈیوٹی بوائز کیمپس میں لگا دیتی ہیں، جہاں اس کی ملاقات بالاج شاہ سے ہوتی ہے۔
بالاج دو سال پہلے ایک حادثے کے بعد اپنی پڑھائی چھوڑ چکا تھا، اسی لیے وہ دوسرے طالب علموں کے مقابلے میں سینئر ہے۔
بالاج پہلی ہی نظر میں مناہل کو پسند کرنے لگتا ہے۔ وہ اسے پروپوز کرتا ہے، مگر مناہل اس کی پیشکش مسترد کر دیتی ہے۔
بالاج مناہل کا انکار برداشت نہیں کر پاتا اور غصے میں اسے اغوا کر لیتا ہے۔
مناہل اسے سمجھاتی ہے کہ وہ اس کی ٹیچر ہے، لیکن بالاج اس کی بات سننے کے بجائے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کر لیتا ہے۔
وہ مناہل سے کہتا ہے کہ ٹیچر ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے، جبکہ وہ عمر میں اس سے چھوٹی ہے۔
مناہل کی مرضی اور انکار کے باوجود بالاج اپنے فیصلے پر قائم رہتا ہے۔
آخرکار وہ مناہل کو بتاتا ہے کہ کچھ دیر بعد ان کا نکاح ہونے والا ہے اور اسے تیار رہنا چاہیے۔
یہ اعلان مناہل کی زندگی میں ایک سنگین موڑ پیدا کرتا ہے۔
کیا مناہل اس زبردستی کے فیصلے کو روک سکے گی؟ کیا بالاج اس کے انکار کا احترام کرے گا؟ اور اس واقعے کا انجام کیا ہوگا؟
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕





