Sneak
"نکاح میں صرف ایک شرط پر کرونگا، مجھے رخصتی بھی فوراً چاہیے۔" عالیان آفندی کی بات سنتے ہی پوری حویلی میں ہلچل مچ گئی۔ اپنے کمرے میں کھڑی انیلا خوف سے زمین پر بیٹھ گئی۔ سب اس اکڑو انسان کو جانتے تھے وہ ضد پر آتا تو کسی کی نہیں سنتا تھا۔ آغا جان نے پھر بھی اسکا نکاح اس بے رحم سے کر دیا۔ انیلا کو پتا تھا وہ رخصتی صرف ضد میں کروا رہا ہے کیونکہ انیلا نے آغا جان کو اس رشتے سے صاف منع کیا تھا۔ نکاح ہوتے ہی آغا جان نے رخصتی دے دی۔ عالیان جیسے ہی کمرے میں داخل ہونے لگا تو دیکھا کمرہ لاک تھا۔ "انیلا! یہ کیا بدتمیزی ہے؟ دروازہ کھولو!" وہ ہینڈل گھماتے ہوئے تقریباً غصے سے چلایا۔ "میں نہیں کھولوں گی، اگر کھول دیا تو آپ مجھے چھوڑیں گے نہیں۔" "دروازہ کھول دو ورنہ میں تمہارا تمہاری سوچ سے بھی زیادہ برا حشر کرونگا۔" "فی الحال آپ جائیں میں دروازہ اب صبح ہی کھولوں گی۔" وہ بیڈ پر لیٹتی آرام سے بولی۔ لیکن اگلے پل عالیان کو اندر آتا دیکھ اسکی سٹی گم ہوئی کیونکہ وہ۔۔۔۔۔۔
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
**تیرے عشق میں گھائل** ایک زبردستی کی شادی، سخت مزاج ہیرو، حویلی کے خاندانی فیصلوں اور ازدواجی کشمکش پر مبنی جذباتی اردو ناول ہے، جس کے مرکزی کردار عالیان آفندی اور انیلا ہیں۔
اس کہانی میں ایک ایسی لڑکی کی صورتحال دکھائی گئی ہے جو اپنے لیے کیے گئے نکاح کے فیصلے سے خوش نہیں، لیکن خاندان کے دباؤ کے سامنے اس کی مرضی کو اہمیت نہیں دی جاتی۔
عالیان آفندی ایک ضدی اور سخت مزاج شخص ہے۔ حویلی میں سب جانتے ہیں کہ جب وہ کسی بات پر اڑ جائے تو اسے اپنے فیصلے سے ہٹانا آسان نہیں ہوتا۔
ایک دن وہ اعلان کرتا ہے کہ وہ نکاح صرف اسی شرط پر کرے گا کہ رخصتی بھی فوراً ہو۔
اس کی بات سنتے ہی پوری حویلی میں ہلچل مچ جاتی ہے۔
دوسری طرف انیلا اپنے کمرے میں موجود ہوتی ہے۔ عالیان کی شرط سن کر وہ اس قدر خوف زدہ ہوتی ہے کہ زمین پر بیٹھ جاتی ہے۔
انیلا پہلے ہی آغا جان کو واضح طور پر بتا چکی ہوتی ہے کہ وہ اس رشتے کے لیے راضی نہیں۔
اس کے باوجود آغا جان اس کا نکاح عالیان آفندی سے کروا دیتے ہیں۔
نکاح کے فوراً بعد انیلا کی رخصتی بھی کر دی جاتی ہے۔
انیلا سمجھتی ہے کہ عالیان نے فوری رخصتی کی شرط محض اپنی ضد پوری کرنے کے لیے رکھی ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ انیلا اس رشتے سے انکار کر چکی تھی۔
رخصتی کے بعد جب عالیان کمرے میں داخل ہونے کے لیے آتا ہے تو اسے دروازہ بند ملتا ہے۔
وہ دروازے کا ہینڈل گھماتا ہے، مگر دروازہ اندر سے بند ہوتا ہے۔
عالیان غصے میں انیلا کو آواز دیتا ہے اور دروازہ کھولنے کا حکم دیتا ہے۔
لیکن انیلا دروازہ کھولنے سے انکار کر دیتی ہے۔
وہ کہتی ہے کہ اگر اس نے دروازہ کھول دیا تو عالیان اسے نہیں چھوڑے گا۔
انیلا کی اس بات سے اس کا خوف واضح ہوتا ہے۔
دوسری طرف عالیان اس کے انکار پر مزید ناراض ہو جاتا ہے۔
وہ دھمکی دیتا ہے کہ اگر انیلا نے دروازہ نہ کھولا تو وہ اس کے ساتھ اس کی سوچ سے بھی زیادہ برا سلوک کرے گا۔
لیکن انیلا اس کی دھمکی کے باوجود اپنے فیصلے پر قائم رہتی ہے۔
وہ عالیان سے کہتی ہے کہ فی الحال وہ چلا جائے کیونکہ اب وہ دروازہ صبح ہی کھولے گی۔
یہ کہہ کر انیلا بستر پر لیٹ جاتی ہے۔
اسے لگتا ہے کہ بند دروازے کی وجہ سے وہ فی الحال عالیان کا سامنا کرنے سے بچ گئی ہے۔
مگر اگلے ہی لمحے ایک غیرمتوقع واقعہ پیش آتا ہے۔
انیلا اچانک عالیان کو کمرے کے اندر دیکھتی ہے۔
اسے سامنے دیکھ کر اس کے ہوش اڑ جاتے ہیں۔
عالیان اندر کیسے آیا، اس کی وضاحت Sneak میں نہیں کی گئی، کیونکہ کہانی اسی مقام پر ادھوری چھوڑ دی گئی ہے۔
**تیرے عشق میں گھائل** کے اس حصے میں ایک ناپسندیدہ نکاح، فوری رخصتی کی شرط، حویلی کے خاندانی فیصلے اور شوہر کے سخت رویے سے خوف زدہ لڑکی کی صورتحال نمایاں ہے۔
کیا انیلا اپنے فیصلے پر قائم رہ سکے گی؟ عالیان اس کے انکار پر کیا ردعمل دے گا؟ اور وہ بند کمرے میں کیسے داخل ہوا؟
یہ سوالات کہانی کے اگلے حصے کے لیے تجسس پیدا کرتے ہیں۔
Summary — Urdu
**تیرے عشق میں گھائل** ایک زبردستی کی شادی اور حویلی کے خاندانی ماحول پر مبنی جذباتی اردو ناول ہے، جس کے مرکزی کردار عالیان آفندی اور انیلا ہیں۔
عالیان آفندی ایک سخت مزاج اور ضدی شخص ہے۔ وہ نکاح کے لیے شرط رکھتا ہے کہ رخصتی بھی فوراً ہونی چاہیے۔
اس کی شرط سن کر پوری حویلی میں ہلچل مچ جاتی ہے، جبکہ انیلا خوف زدہ ہو جاتی ہے۔
انیلا پہلے ہی آغا جان کو اس رشتے سے انکار کر چکی ہوتی ہے، لیکن اس کی مرضی کے خلاف نکاح کروا دیا جاتا ہے۔
نکاح کے فوراً بعد رخصتی بھی ہو جاتی ہے۔
انیلا سمجھتی ہے کہ عالیان نے فوری رخصتی کا مطالبہ صرف اپنی ضد پوری کرنے کے لیے کیا ہے۔
جب عالیان کمرے میں داخل ہونے آتا ہے تو دروازہ اندر سے بند ملتا ہے۔
وہ انیلا کو دروازہ کھولنے کا حکم دیتا ہے، لیکن انیلا خوف کے باعث انکار کر دیتی ہے۔
عالیان غصے میں اسے دھمکی دیتا ہے، مگر انیلا کہتی ہے کہ وہ اب صبح ہی دروازہ کھولے گی۔
یہ کہہ کر وہ بستر پر لیٹ جاتی ہے۔
لیکن اگلے ہی لمحے عالیان کو کمرے کے اندر دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے۔
عالیان بند دروازے کے باوجود اندر کیسے آیا اور اب کیا ہوگا؟
یہی سوالات کہانی میں تجسس پیدا کرتے ہیں۔
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕





