Skip to navigation Skip to main content
Teri Khatir Beqarar Novel90007 Urdu novel cover
Rank#9
Views605.2K

READ URDU NOVELS AT NOVELISTAN.COM

Teri Khatir Beqarar

No ratings yet

Rate this novel

CompleteBillionaire HeroForced Marriage Based

Novel code: Novel90007

Read OnlineDownload PDF

ولی خانزادہ کو معلوم ہوا کہ اس کے ماموں کی سوتیلی بیٹی عائشہ کے ساتھ کاروباری مفادات کے لیے ایک خطرناک سودا کیا جا رہا ہے۔ اسے بچانے کے لیے ولی نے عائشہ کو اغوا کیا اور اس سے زبردستی نکاح کر لیا۔ مگر عائشہ اس کے سخت مزاج اور غصے سے خوف زدہ رہتی تھی۔ ایک دن ولی اسے ڈرانے کے لیے قریب آیا تو عائشہ روتے ہوئے اسے روکنے لگی۔ ولی نے اچانک ماضی کا وہ واقعہ یاد دلایا جب عائشہ نے سب کے سامنے اسے تھپڑ مارا تھا۔ عائشہ کو لگا کہ شاید ولی بدلہ لینا چاہتا ہے۔ وہ اس قدر خوف زدہ ہوئی کہ بے ہوش ہو کر ولی کی بانہوں میں گر گئی۔

Read the Novel

Sneak

"مم۔۔۔ میں تمہاری ہر بات مانوں گی پلیز رک جاؤ۔" وہ روتے ہوئے اسے خود سے دور کرنے لگی۔ ولی خانزادہ بس اسے ڈرانے دھمکانے کیلئے قریب آیا تھا۔ وہ بیوقوف نہیں جانتی تھی وہ کتنی بڑی مصیبت میں ہے جسے وہ بچا رہا تھا۔ اس لئے کڈنیپ کرتا اس نے زبردستی اس سے نکاح کر لیا۔ عائشہ اسکے ماموں کی سوتیلی بیٹی تھی جس کا سودا وہ بزنس میں کر رہے تھے۔ اور یہ خبر ولی خانزادہ کو ملی جو بزنس کی دنیا کے بے تاج بادشاہ تھا۔ لیکن عائشہ اسکے سخت مزاج اور غصے سے خوفزدہ رہتی تھی۔

"تمہیں یاد ہے ایک بار تم نے مجھے سب کے سامنے تھپڑ مارا تھا۔" وہ آج سارے حساب لینے کے موڈ میں تھا لیکن عائشہ اندر تک کانپ گئی تو کیا اسے وہ پرانی بات یاد تھی اس لئے یہ سب کیا۔۔۔ وہ خوف سے اسکی بانہوں میں جھول گئی۔ "یہ کیا ابھی تو کچھ بھی موڈ بنا تھا اور یہ۔ ڈیم اٹ! آنکھیں کھولو۔۔۔۔۔۔"

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Description — Urdu

**تیری خاطر بے قرار** ایک زبردستی کی شادی، اغوا، خاندانی سازش اور جذباتی کشمکش پر مبنی اردو ناول ہے، جس کے مرکزی کردار ولی خانزادہ اور عائشہ ہیں۔

اس کہانی میں ایک ایسی لڑکی کے حالات دکھائے گئے ہیں جو اپنے ہی خاندان کے بعض افراد کے خطرناک ارادوں کا شکار ہونے والی ہوتی ہے، جبکہ اسے بچانے کے لیے قدم اٹھانے والا شخص خود بھی اس کے لیے خوف اور پریشانی کا باعث بن جاتا ہے۔

ولی خانزادہ کاروباری دنیا کا ایک نہایت بااثر شخص ہے۔ اسے کاروبار کی دنیا کا بے تاج بادشاہ سمجھا جاتا ہے۔

دوسری طرف عائشہ اس کے ماموں کی سوتیلی بیٹی ہے۔

عائشہ کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کتنی بڑی مصیبت میں پھنسنے والی ہے۔

اس کے ساتھ کاروباری مفادات کے لیے ایک خطرناک سودا کیا جا رہا ہوتا ہے۔

جب ولی خانزادہ کو اس معاملے کی خبر ملتی ہے تو وہ عائشہ کو اس صورتحال سے بچانے کا فیصلہ کرتا ہے۔

لیکن وہ اسے بچانے کے لیے ایک ایسا راستہ اختیار کرتا ہے جس میں عائشہ کی مرضی شامل نہیں ہوتی۔

ولی عائشہ کو اغوا کرتا ہے اور اس سے زبردستی نکاح کر لیتا ہے۔

عائشہ پہلے ہی ولی کے سخت مزاج اور غصے سے خوف زدہ رہتی ہے۔

اب اچانک ہونے والے اغوا اور نکاح کے بعد اس کی پریشانی مزید بڑھ جاتی ہے۔

وہ ولی کے ارادوں اور اس کے رویے کو پوری طرح سمجھ نہیں پاتی۔

ایک موقع پر ولی عائشہ کے قریب آتا ہے۔

اس کا مقصد اسے ڈرانا اور دھمکانا ہوتا ہے، لیکن عائشہ اس کے رویے سے بری طرح خوف زدہ ہو جاتی ہے۔

وہ روتے ہوئے ولی سے کہتی ہے کہ وہ اس کی ہر بات مان لے گی، بس وہ رک جائے۔

عائشہ اسے خود سے دور کرنے کی کوشش بھی کرتی ہے۔

اس کی گھبراہٹ ظاہر کرتی ہے کہ وہ ولی کے سامنے خود کو محفوظ محسوس نہیں کر رہی۔

اسی دوران ولی اسے ماضی کا ایک واقعہ یاد دلاتا ہے۔

وہ عائشہ سے پوچھتا ہے کہ کیا اسے یاد ہے جب اس نے سب کے سامنے ولی کو تھپڑ مارا تھا۔

یہ بات سن کر عائشہ کے خوف میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

وہ سوچنے لگتی ہے کہ شاید ولی نے اس پرانی بات کا بدلہ لینے کے لیے اسے اغوا کیا اور زبردستی نکاح کیا ہے۔

ولی اس وقت پرانے حساب یاد کرنے کے انداز میں بات کر رہا ہوتا ہے۔

عائشہ اس کی باتوں اور رویے سے اس قدر گھبرا جاتی ہے کہ اس کے ہوش جواب دے جاتے ہیں۔

وہ بے ہوش ہو کر ولی کی بانہوں میں جھول جاتی ہے۔

عائشہ کو اچانک بے ہوش ہوتے دیکھ کر ولی بھی چونک جاتا ہے۔

وہ بے ساختہ اسے مخاطب کرتا ہے اور آنکھیں کھولنے کے لیے کہتا ہے۔

یہاں Sneak ختم ہو جاتا ہے۔

**تیری خاطر بے قرار** کے اس حصے میں ایک بااثر کاروباری شخصیت، ایک لڑکی کے خلاف خطرناک خاندانی منصوبہ، زبردستی کا نکاح، ماضی کا تھپڑ اور خوف سے بے ہوش ہونے کا واقعہ کہانی میں تجسس پیدا کرتے ہیں۔

کیا عائشہ کو معلوم ہوگا کہ اس کے خلاف کیا منصوبہ بنایا جا رہا تھا؟ کیا ولی اسے اپنے اصل مقصد کے بارے میں بتائے گا؟ اور کیا عائشہ اس کے ساتھ خود کو محفوظ محسوس کر سکے گی؟

ان سوالات کے جواب Sneak میں ابھی واضح نہیں کیے گئے۔

Summary — Urdu

**تیری خاطر بے قرار** ایک زبردستی کی شادی، اغوا اور جذباتی خاندانی کشمکش پر مبنی اردو ناول ہے، جس کے مرکزی کردار ولی خانزادہ اور عائشہ ہیں۔

ولی خانزادہ کاروباری دنیا کا ایک طاقتور اور بااثر شخص ہے، جبکہ عائشہ اس کے ماموں کی سوتیلی بیٹی ہے۔

عائشہ کے ساتھ کاروباری مفادات کے لیے ایک خطرناک سودا کیا جا رہا ہوتا ہے۔

ولی کو اس منصوبے کی خبر ملتی ہے تو وہ عائشہ کو بچانے کے لیے قدم اٹھاتا ہے۔

لیکن اس کا اختیار کیا گیا طریقہ بھی عائشہ کے لیے خوف ناک ثابت ہوتا ہے۔

وہ عائشہ کو اغوا کرکے اس سے زبردستی نکاح کر لیتا ہے۔

عائشہ ولی کے سخت مزاج اور غصے سے خوف زدہ رہتی ہے۔

ایک دن ولی اسے ڈرانے کے لیے اس کے قریب آتا ہے۔

عائشہ روتے ہوئے اسے روکنے کی کوشش کرتی ہے اور کہتی ہے کہ وہ اس کی ہر بات مان لے گی۔

اسی دوران ولی اسے یاد دلاتا ہے کہ ایک مرتبہ عائشہ نے سب کے سامنے اسے تھپڑ مارا تھا۔

یہ سن کر عائشہ مزید گھبرا جاتی ہے۔

اسے لگتا ہے کہ شاید ولی اسی پرانے واقعے کا بدلہ لے رہا ہے۔

خوف کی شدت سے عائشہ بے ہوش ہو کر ولی کی بانہوں میں گر جاتی ہے۔

ولی اسے اچانک بے ہوش دیکھ کر چونک جاتا ہے اور اسے ہوش میں آنے کے لیے پکارتا ہے۔

کیا ولی عائشہ کو اس خطرے کی حقیقت بتائے گا جس سے وہ اسے بچانا چاہتا تھا؟ اور کیا عائشہ اس پر اعتماد کر سکے گی؟

Related Keywords

Teri Khatir Beqarar Novel90007 Novel, Teri Khatir Beqarar Novel90007 Urdu Novel, Teri Khatir Beqarar Novel90007 PDF
Share this Novel

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote this novel?

This novel is written by Novelistan.

Is this novel complete or ongoing?

The recorded status is complete novel.

Join Our Community

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *