Skip to navigation Skip to main content
Hum Tumhare Hue Novel90018 Urdu novel cover
Rank#7
Views713.7K

READ URDU NOVELS AT NOVELISTAN.COM

Hum Tumhare Hue

No ratings yet

Rate this novel

CompleteEmotional DramaRomantic Comedy

Novel code: Novel90018

Read OnlineDownload PDF

پروفیسر شایان سوہا کا خراب ٹیسٹ دیکھ کر غصے میں آ گیا۔ اس نے پوچھا کہ کیا سوہا کا پڑھائی میں دل نہیں لگ رہا۔ سوہا نے شرمانے کی اداکاری کرتے ہوئے جواب دیا کہ جس لڑکی کا نکاح ہو جائے، اس کا اپنے شوہر کے علاوہ کہیں دل نہیں لگتا۔ پوری کلاس ہنسنے لگی اور پروفیسر شایان کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ اس نے سوہا کو طنزیہ انداز میں ہنی مون پر جانے کا مشورہ دیا، مگر سوہا نے پھر حاضر جوابی دکھائی۔ اس بار پروفیسر نے کہا کہ وہ اس کا سوال اس کے شوہر تک پہنچا دے گا، جو رات کو خود اس سے بات کر لے گا۔ یہ سن کر سوہا گھبرا گئی۔

Read the Novel

Sneak

"مس سوہا! پڑھائی میں دل نہیں لگ رہا آپ کا۔۔۔" اس کے خراب ٹیسٹ کا رزلٹ دیکھتا وہ شدید غصہ ہوا۔ "سر! جس لڑکی کا نکاح ہو جائے، اس کا اپنے شوہر کے علاوہ کہیں دل نہیں لگتا!" وہ شرمانے کی ایکٹنگ کرتی اسے دل جلا کر گئی۔ پوری کلاس کا ہنسی کے مارے برا حال ہو گیا تھا اور پروفیسر شایان کا چہرہ غصے اور شرمندگی سے لال سرخ۔۔۔ یہ لڑکی منہ پھٹ تو تھی ہی، لیکن کتنی تھی، اس بات کا صحیح معنوں میں اندازہ اسے آج ہوا تھا۔

"شٹ اپ کلاس! اور آپ مس سوہا۔۔۔ چلی جائیں ہنی مون پر، اتر جائے گا یہ چار دن کا بھوت!" پروفیسر کے طنز اور گہری مسکراہٹ پر اب سوہا کا چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا۔ "آ۔۔۔ آپ کو اس سے کیا کہ میں ہنی مون پر جاؤں یا بچے پیدا کروں؟" "۔۔۔ اس سوال کا جواب آپ کے شوہر تک پہنچا دوں گا، وہ رات کو آپ سے خود کر لیں گے بات۔" اس کی اس معنی خیز دھمکی پر وہ لرزا اٹھی، اور جب رات کو اس نے خود کو کسی کی مضبوط گرفت میں۔۔۔۔

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Description — Urdu

**ہم تمہارے ہوئے** ایک ٹیچر اسٹوڈنٹ اور رومانوی مزاح پر مبنی اردو ناول ہے، جس کے مرکزی کردار پروفیسر شایان اور سوہا ہیں۔ اس کہانی کے ایک دلچسپ منظر میں ایک سخت مزاج پروفیسر اور منہ پھٹ طالبہ کے درمیان ایسی نوک جھونک ہوتی ہے کہ پوری کلاس قہقہوں سے گونج اٹھتی ہے۔

سوہا ایک بے باک اور حاضر جواب لڑکی ہے جو اپنی بات کہنے سے نہیں گھبراتی۔ دوسری طرف پروفیسر شایان اپنے طالب علموں کی کارکردگی کو سنجیدگی سے لیتا ہے اور پڑھائی میں لاپروائی برداشت نہیں کرتا۔

ایک دن پروفیسر شایان سوہا کا ٹیسٹ چیک کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ خراب ہوتا ہے، جس پر پروفیسر شدید ناراض ہو جاتا ہے۔ وہ سوہا سے پوچھتا ہے کہ کیا اس کا پڑھائی میں دل نہیں لگ رہا۔

سوہا شرمندہ ہونے کے بجائے ایک غیرمتوقع جواب دیتی ہے۔

وہ شرمانے کی اداکاری کرتے ہوئے کہتی ہے کہ جس لڑکی کا نکاح ہو جائے، اس کا اپنے شوہر کے علاوہ کہیں دل نہیں لگتا۔

اس کی بات سنتے ہی پوری کلاس ہنسنے لگتی ہے۔ پروفیسر شایان کا چہرہ غصے اور شرمندگی سے سرخ ہو جاتا ہے۔ اسے پہلے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سوہا منہ پھٹ ہے، لیکن اس موقع پر اسے اس کی حاضر جوابی کا ایک نیا انداز دیکھنے کو ملتا ہے۔

پروفیسر شایان کلاس کو خاموش کرواتا ہے اور سوہا کو طنزیہ انداز میں مشورہ دیتا ہے کہ وہ ہنی مون پر چلی جائے، تاکہ اس کے سر سے یہ چار دن کا بھوت اتر جائے۔

اس مرتبہ سوہا خود شرمندہ ہو جاتی ہے۔ پروفیسر کے طنز اور گہری مسکراہٹ پر اس کا چہرہ سرخ ہو جاتا ہے۔

وہ بے ساختہ پوچھ بیٹھتی ہے کہ پروفیسر کو اس بات سے کیا مطلب کہ وہ ہنی مون پر جائے یا بچے پیدا کرے۔

پروفیسر شایان اس کے سوال کا جواب دینے کے بجائے ایک معنی خیز دھمکی دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس سوال کو سوہا کے شوہر تک پہنچا دے گا اور اس کا شوہر رات کو خود اس سے بات کر لے گا۔

یہ سن کر سوہا گھبرا جاتی ہے۔

جو لڑکی کچھ لمحے پہلے پوری کلاس کے سامنے بے خوف ہو کر جواب دے رہی تھی، وہ اچانک خاموش اور پریشان ہو جاتی ہے۔

کہانی کے اگلے منظر میں رات کے وقت سوہا کو کسی کی مضبوط گرفت میں دکھایا جاتا ہے، مگر Sneak اسی مقام پر ختم ہو جاتا ہے۔

**ہم تمہارے ہوئے** کے اس حصے میں حاضر جوابی، رومانوی مزاح، نکاح کا ذکر اور پروفیسر کی معنی خیز گفتگو دلچسپی پیدا کرتی ہے۔

کیا پروفیسر شایان سوہا کے شوہر کو جانتا ہے؟ اس کی بات سن کر سوہا اتنی گھبرا کیوں گئی؟ اور رات کے وقت اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟

ان سوالات کے جواب اس Sneak میں مکمل طور پر سامنے نہیں آئے۔

Summary — Urdu

**ہم تمہارے ہوئے** ایک ٹیچر اسٹوڈنٹ اور رومانوی مزاح پر مبنی اردو ناول ہے، جس کے مرکزی کردار پروفیسر شایان اور سوہا ہیں۔

سوہا ایک حاضر جواب اور منہ پھٹ طالبہ ہے، جبکہ پروفیسر شایان سخت مزاج اور پڑھائی کے معاملے میں سنجیدہ ہے۔

ایک دن پروفیسر شایان سوہا کا خراب ٹیسٹ دیکھ کر اس سے پوچھتا ہے کہ کیا اس کا پڑھائی میں دل نہیں لگ رہا۔

سوہا شرمانے کی اداکاری کرتے ہوئے جواب دیتی ہے کہ جس لڑکی کا نکاح ہو جائے، اس کا دل اپنے شوہر کے علاوہ کہیں نہیں لگتا۔

اس کی بات سن کر پوری کلاس ہنسنے لگتی ہے، جبکہ پروفیسر شایان غصے اور شرمندگی سے سرخ ہو جاتا ہے۔

وہ کلاس کو خاموش کرواتا ہے اور سوہا سے طنزیہ انداز میں کہتا ہے کہ وہ ہنی مون پر چلی جائے، تاکہ اس کا یہ بھوت اتر جائے۔

اس بار سوہا کا چہرہ بھی شرم سے سرخ ہو جاتا ہے۔ وہ پروفیسر سے پوچھتی ہے کہ اسے اس بات سے کیا مطلب کہ وہ ہنی مون پر جائے یا بچے پیدا کرے۔

پروفیسر شایان جواب دیتا ہے کہ وہ یہ سوال سوہا کے شوہر تک پہنچا دے گا، جو رات کو خود اس سے بات کر لے گا۔

یہ سن کر سوہا گھبرا جاتی ہے۔

رات کے اگلے منظر میں سوہا کسی کی مضبوط گرفت میں آتی ہے، لیکن Sneak اسی جگہ ختم ہو جاتا ہے۔

پروفیسر کی اس معنی خیز بات کے پیچھے کیا راز ہے اور سوہا کیوں گھبرا گئی؟ یہی سوال کہانی کو دلچسپ بناتے ہیں۔

Related Keywords

Hum Tumhare Hue Novel90018 Novel, Hum Tumhare Hue Novel90018 Urdu Novel, Hum Tumhare Hue Novel90018 PDF
Share this Novel

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote this novel?

This novel is written by Novelistan.

Is this novel complete or ongoing?

The recorded status is complete novel.

Join Our Community

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *