Sneak
پہلا دن تھا تو اسکی دوست اسکو اچھے سے سمجھاتی اسے جاب دلانے میں بہت مدد کی تھی۔۔۔ لیکن اسے بہت امپورٹنٹ فائل اور میٹنگ کے بارے میں بات کرنی تھی تو مجبوراً وہ آفس کے کیبن میں چلی آئی، لیکن دستک دینے پر آواز نا آئی تو وہ اندر چلی گئی۔ جہاں دو پیارے پیارے ٹوئنس بچے آپس میں لڑتے ہوئے رو رہے تھے۔ "ارے رک جاؤ بچوں، میرے بوس بہت خطرناک ہیں، تمہارے ساتھ مجھے بھی باہر پھینک دیں گے۔ چلو چپ ہو جاؤ۔" میلا کو لگا وہ کسی اور کے بچے ہیں جو غلطی سے یہاں آ گئے تھے۔ لیکن پیچھے کھڑا مصطفیٰ حیدر اس لڑکی کو غصے سے گھور رہا تھا۔ "یہ کیا ہو رہا ہے۔۔۔؟" اسکی دھاڑ پر وہ سہم گئی اور بچے اسکے پیچھے ہی چھپ گئے۔ "س۔۔۔ سر پتہ نہیں کس نالائق کے بچے ہیں جو آپ کے آفس میں گھس گئے۔۔۔ میں ابھی سیدھا کرتی ہوں ان کے باپ کو۔" میلا نے اپنی طرف سے سمجھداری والی بات کی لیکن اگلے لمحے اسے جھٹکا لگا، سانس حلق میں خشک ہوا جب بچے بابا بابا بولتے مصطفیٰ کی ٹانگوں سے لپٹ گئے۔ "اب بولیں کیسے سیدھا کریں گی مجھے آپ۔۔۔؟" مصطفیٰ کے سرد لہجے پر میلا کی سٹی گم۔۔۔۔۔۔
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
**اقرارِ محبت** ایک باس ایمپلائی رومانوی کامیڈی اور خاندانی موضوعات پر مبنی اردو ناول ہے، جس کے مرکزی کردار مصطفیٰ حیدر اور میلا ہیں۔ کہانی کے اس دلچسپ حصے میں ایک نئی ملازمہ کی غلط فہمی اسے اپنے ہی باس کے سامنے ایک غیرمتوقع اور شرمندہ کن صورتحال میں پہنچا دیتی ہے۔
میلا اپنی ملازمت کے پہلے دن دفتر کے ماحول سے واقف ہونے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے۔ اس کی ایک دوست اسے کام سمجھانے اور ملازمت حاصل کرنے میں مدد کرتی ہے، جس سے میلا کو نئے دفتر میں کچھ سہولت ملتی ہے۔
تاہم اسے ایک اہم فائل اور میٹنگ کے سلسلے میں اپنے باس سے بات کرنا ضروری ہوتی ہے۔
وہ مجبوراً باس کے کیبن کی طرف جاتی ہے۔ دروازے پر دستک دینے کے باوجود اسے اندر سے کوئی جواب نہیں ملتا، اس لیے وہ خود ہی کیبن میں داخل ہو جاتی ہے۔
اندر کا منظر دیکھ کر وہ حیران رہ جاتی ہے۔
کیبن میں دو پیارے سے جڑواں بچے موجود ہوتے ہیں جو آپس میں لڑتے ہوئے رو رہے ہوتے ہیں۔
میلا کو اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ بچے کس کے ہیں۔ وہ سمجھتی ہے کہ شاید کسی دوسرے شخص کے بچے غلطی سے باس کے دفتر میں آ گئے ہیں۔
وہ بچوں کو خاموش کروانے کی کوشش کرتی ہے اور انہیں سمجھاتی ہے کہ اس کا باس بہت خطرناک ہے۔ اگر اس نے انہیں یہاں دیکھ لیا تو بچوں کے ساتھ اسے بھی دفتر سے باہر نکال دے گا۔
میلا اپنی طرف سے بچوں کی مدد کر رہی ہوتی ہے، لیکن اسے معلوم نہیں ہوتا کہ مصطفیٰ حیدر اس کے پیچھے کھڑا ہے۔
مصطفیٰ حیدر غصے سے اسے دیکھ رہا ہوتا ہے۔
اچانک اس کی بلند آواز گونجتی ہے اور وہ پوچھتا ہے کہ یہاں کیا ہو رہا ہے۔
باس کی آواز سن کر میلا گھبرا جاتی ہے۔ دوسری طرف دونوں بچے بھی خوف زدہ ہو کر میلا کے پیچھے چھپ جاتے ہیں۔
میلا جلدی جلدی صفائی دینے لگتی ہے کہ اسے نہیں معلوم یہ کس نالائق شخص کے بچے ہیں جو باس کے دفتر میں گھس آئے ہیں۔
وہ مزید کہتی ہے کہ ابھی ان بچوں کے باپ کو سیدھا کرتی ہے۔
میلا کو یقین ہوتا ہے کہ وہ صورتحال سنبھال رہی ہے، مگر اگلے ہی لمحے ایسا واقعہ ہوتا ہے جس کی اسے بالکل توقع نہیں ہوتی۔
دونوں بچے اچانک بابا، بابا کہتے ہوئے مصطفیٰ حیدر کی ٹانگوں سے لپٹ جاتے ہیں۔
یہ منظر دیکھ کر میلا کے ہوش اڑ جاتے ہیں۔
اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ جن بچوں کے والد کو وہ ابھی نالائق کہہ رہی تھی، وہ کوئی اور نہیں بلکہ اس کا اپنا باس مصطفیٰ حیدر ہے۔
مصطفیٰ سرد لہجے میں اس سے پوچھتا ہے کہ اب وہ اسے کیسے سیدھا کرے گی۔
میلا کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔
**اقرارِ محبت** کے اس حصے میں نئی ملازمت، سخت مزاج باس، جڑواں بچوں اور ایک حاضر جواب ملازمہ کی دلچسپ غلط فہمی کہانی کو مزاحیہ رنگ دیتی ہے۔
کیا مصطفیٰ حیدر میلا کی اس بے ساختہ بات کو نظرانداز کرے گا؟ کیا میلا اپنی ملازمت کے پہلے ہی دن مشکل میں پڑ جائے گی؟ اور ان جڑواں بچوں کی موجودگی اس کی زندگی میں کیا تبدیلی لائے گی؟
ان سوالات کے جواب ابھی Sneak میں سامنے نہیں آئے۔
Summary — Urdu
**اقرارِ محبت** ایک باس ایمپلائی رومانوی کامیڈی اردو ناول ہے، جس کے مرکزی کردار مصطفیٰ حیدر اور میلا ہیں۔
میلا اپنی دوست کی مدد سے ایک نئی ملازمت حاصل کرتی ہے۔ ملازمت کے پہلے دن اسے ایک اہم فائل اور میٹنگ کے سلسلے میں اپنے باس سے بات کرنا ہوتی ہے۔
وہ باس کے کیبن میں جاتی ہے، جہاں اسے دو چھوٹے جڑواں بچے آپس میں لڑتے اور روتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
میلا سمجھتی ہے کہ یہ کسی دوسرے شخص کے بچے ہیں جو غلطی سے باس کے دفتر میں آ گئے ہیں۔
وہ انہیں خاموش کروانے لگتی ہے اور کہتی ہے کہ اس کا باس بہت خطرناک ہے، اس لیے اگر اس نے بچوں کو یہاں دیکھ لیا تو سب کو باہر نکال دے گا۔
اسی دوران مصطفیٰ حیدر اس کے پیچھے آ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔
مصطفیٰ کی آواز سن کر میلا گھبرا جاتی ہے، جبکہ دونوں بچے اس کے پیچھے چھپ جاتے ہیں۔
میلا اپنے باس کو بتاتی ہے کہ اسے نہیں معلوم یہ کس نالائق شخص کے بچے ہیں۔ وہ کہتی ہے کہ ابھی ان کے باپ کو سیدھا کرتی ہے۔
لیکن اگلے ہی لمحے دونوں بچے بابا کہتے ہوئے مصطفیٰ حیدر کی ٹانگوں سے لپٹ جاتے ہیں۔
یہ دیکھ کر میلا کو شدید حیرت ہوتی ہے۔
مصطفیٰ سرد لہجے میں اس سے پوچھتا ہے کہ اب وہ اسے کیسے سیدھا کرے گی۔
میلا کی یہ غلط فہمی ایک دلچسپ اور شرمندہ کن صورتحال پیدا کر دیتی ہے۔
کیا مصطفیٰ میلا کی بات پر ناراض ہوگا یا یہ واقعہ ان کے درمیان کسی نئی کہانی کی ابتدا بنے گا؟
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕





