Skip to navigation Skip to main content
Ansoo Dil Ki Kokh Main Palti Mohabbat Urdu novel cover
Rank#32
Views463.3K

READ URDU NOVELS AT NOVELISTAN.COM

Ansoo Dil Ki Kokh Main Palti Mohabbat

No ratings yet

Rate this novel

CompleteAge DifferenceCousin Marriage Based

Novel code: Novel90055

Read OnlineDownload PDF

"یہ لڑکی پاک بی بی بنے گی! خاندان میں اس کی عمر کا کوئی لڑکا نہیں مل رہا!" سعیدہ اماں کے فیصلے نے مہرماہ کی زندگی سے جیسے سارے رنگ چھین لیے۔ وہ ساری عمر سفید چادر اوڑھ کر چار دیواری میں قید رہنے والی تھی، مگر اچانک ایک آواز نے پورے خاندان کو چونکا دیا۔ "میں کروں گا مہرماہ سے شادی!" یہ برہان تھا، مہرماہ سے پانچ سال چھوٹا وہی نوجوان جس نے برسوں پہلے اس سے محبت کا اظہار کیا تھا۔ تب مہرماہ نے اسے تھپڑ مار کر کہا تھا، "میں تم سے مر کر بھی شادی نہیں کروں گی!" اس انکار کے بعد برہان بیرونِ ملک چلا گیا تھا، مگر آج واپس آ کر وہ پھر اسی لڑکی کے لیے کھڑا تھا۔ مہرماہ کو پاک بی بی بن کر تنہا زندگی گزارنا قبول تھا، لیکن برہان کی بیوی بننا نہیں! آخر اس محبت میں ایسا کیا تھا جو برسوں کی جدائی اور سخت انکار کے باوجود ختم نہ ہو سکی؟ اور کیا مہرماہ اپنے خاندان کے فیصلے سے بچنے کے لیے اسی شخص کا ہاتھ تھام سکے گی جسے وہ کبھی اپنی زندگی سے دور کر چکی تھی؟

Read the Novel

Sneak

"یہ لڑکی پاک بی بی بنے گی، اس کی عمر کے مطابق کوئی لڑکا نہیں مل رہا خاندان میں۔" سعیدہ اماں نے اعلانیہ کہا۔ مہرماہ پتھرا چکی تھی، یعنی اس کی زندگی اب سفید چادر میں ان چار دیواری میں گزرنے والی تھی۔
"میں کروں گا مہرماہ سے شادی!" اس سے پانچ سال چھوٹا برہان کھڑے ہوتے ہوئے بولا۔
آج سے چند سال پہلے وہ اس کے اظہارِ محبت کرنے پر اسے تھپڑ مار چکی تھی، جس کی وجہ سے وہ بیرونِ ملک چلا گیا تھا اور جب وہ واپس آیا تو اس کی مدد کرنے کو تیار تھا۔
مہرماہ کو پاک بی بی بننا منظور تھا مگر اس سے شادی کرنا نہیں۔ وہ شرم سے مر جاتی، لیکن برہان بھی اپنی ضد کا پکا تھا۔ اس نے مہرماہ کو اگلے دن اکیلے میں۔۔۔
رات کے بارہ بج چکے تھے۔ ایسے میں دروازے پر بجنے والی دستک پر مہرماہ نے اپنا دوپٹہ شانوں پر درست کرتے ہوئے دروازہ آدھا کھولا۔ وہ دستک کی مخصوص آواز سے پہچان چکی تھی کہ کون ہے۔ اس نے پورا دروازہ نہیں کھولا۔ سامنے برہان ہاتھ میں کتاب لیے کھڑا تھا۔
"برہان تمہیں میرے کمرے میں اس وقت نہیں آنا چاہیے۔" وہ سنجیدگی سے بولی۔ وہ برہان کے بدلتے رویے کو اب بھانپ رہی تھی۔ اس لڑائی کے بعد سے وہ برہان کو نوٹ کر رہی تھی۔ وہ اسے اب الگ نگاہوں سے دیکھتا تھا۔ وہ اس بات پر یقین نہیں کرنا چاہتی تھی مگر وہ اپنی طرف سے ہر طرح کی احتیاط کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
"آپ اس طرح مجھے باہر روک کر پوچھ رہی ہیں، میں کوئی چور تو نہیں ہوں اور یہ پہلی بار تو نہیں ہے جو میں آپ کے کمرے میں آیا ہوں۔" وہ ہلکے پھلکے انداز میں کہتے ہوئے دروازہ کھول کر اندر آ چکا تھا۔
مہرماہ نے دروازہ کھلا چھوڑ دیا۔ وہ تیز آواز میں بول کر کسی کو جگانا نہیں چاہتی تھی۔
"پہلے کی بات اور تھی۔"
"اب بھی بات وہی ہے۔ میں تو آپ سے مل کا ٹیسٹ سمجھنے آیا تھا۔"
"لیکن یہ میں نے تمہیں پڑھاتے ہوئے سمجھا دیا تھا۔" وہ جانتی تھی برہان پڑھائی میں تیز ہے۔ یہ صرف اس کا بہانہ تھا، وہ سمجھ چکی تھی۔
"ہاں، پر مجھے دوبارہ پڑھنے پر سمجھ نہیں آیا۔ آپ تو کہتی ہیں سمجھ کر پڑھنا چاہیے۔" وہ صرف اس کتاب کو بہانہ بنا کر یہاں آیا تھا۔ وہ چاہتا تھا ہر پل مہرماہ اس کے سامنے رہے۔
"بالکل، مگر میں تمہیں صبح ناشتے پر سمجھا دوں گی۔ رات ہو چکی ہے اور آئندہ اس طرح اب میرے کمرے میں نہیں آنا۔"
"کیوں، میں نے کوئی غلطی کر دی کیا؟" وہ پریشانی سے بولا۔
"نہیں، مگر اب تم بڑے ہو چکے ہو۔ اس طرح میرے کمرے میں آنا تمہیں زیب نہیں دیتا۔ میں نہیں چاہتی ملازم یا کوئی اور دیکھے تو باتیں بنائے۔"
"سب کو پتا ہے آپ کا کمرہ میرا دوسرا گھر ہے۔ آپ کو مجھ میں کوئی برائی نظر آ رہی ہے کیا؟ یا آپ مجھ سے ناراض ہیں؟" وہ مہرماہ کے پاس اس کے قدموں میں بیٹھ چکا تھا۔ مہرماہ کو انہونی کا خدشہ ہو رہا تھا۔ وہ برہان کی وجہ سے اپنی عزت، اپنا وقار کھونا نہیں چاہتی تھی۔ ویسے ہی برہان کی ماں فرزانہ بیگم اسے پسند نہیں کرتی تھیں۔
"تم نے کچھ نہیں کیا۔ میں تمہیں بس سمجھا رہی ہوں، ابھی تم جاؤ یہاں سے پلیز۔ بات کو سمجھنے کی کوشش کرو، میرے لیے مشکلات پیدا نہیں کرو۔" وہ التجائیہ انداز میں بولی۔
"اچھا، آپ پریشان نہ ہوں پلیز۔ مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔ آپ جیسا کہیں گی میں ایسا کروں گا، اوکے۔ بس آپ مجھ سے اس طرح بات مت کیجیے گا جیسے میں کوئی غیر ہوں۔" برہان اس کے لہجے پر شکوہ کناں ہوا۔
مہرماہ کی نظریں باہر دروازے پر ہی جمی ہوئی تھیں۔
"کسی نے آپ سے کچھ کہا؟ آپ بتائیں، میں دیکھ لوں گا اسے۔" اب کی بار وہ غصے سے بولا۔ وہ ہرگز کسی کو بھی اپنے اور مہرماہ کے درمیان آنے نہیں دینا چاہتا تھا۔
"نہیں، کسی نے کچھ نہیں کہا۔" اب کی بار مہرماہ کا لہجہ نارمل ہوا۔ وہ جانتی تھی جب تک وہ نارمل نہیں ہوگی، وہ ضد پر اڑا رہے گا۔
برہان کے کندھے ڈھیلے پڑے۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور اسے شب بخیر کہتے ہوئے جا چکا تھا۔ آج اس کی نظروں میں جو مہرماہ نے دیکھا تھا، وہ سچ میں اسے خوفزدہ کر چکا تھا۔
"تم یہاں انتظار کر رہے ہو؟ مہرماہ تو کب کی ملازمہ کو کسی کو ڈسٹرب نہ کرنے کا کہہ کر سو چکی ہے۔" فرزانہ بیگم نے اسے ڈرائنگ روم میں بیگ لے کر بیٹھے دیکھا تو تاسف سے بولیں۔
"انہوں نے مجھے تو نہیں بتایا۔ ان کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟ ورنہ وہ ایسا نہیں کرتیں۔"
"ہنہ! بہانے ہیں یہ سب تو اس لڑکی کے۔ میں تو تمہیں پہلے بولتی ہوں، اس سے پڑھنے سے اچھا ہے کوئی استاد لگا لو، اس طرح بہانے تو نہیں کرے گا۔" وہ منہ بنا کر بولیں۔
انہیں مہرماہ پسند نہیں تھی۔ اس کی بھی وجہ تھی۔ مہرماہ کا رشتہ ان کے بھائی کے لیے مانگا گیا تھا، مگر ان کے بھائی نے کسی اور کو پسند کرنے کی وجہ سے منع کر دیا تھا۔ ایسے میں سعیدہ اماں انہیں بات بات پر اسی چیز کا طعنہ دیتی تھیں۔
"ایسا کچھ نہیں ہے، وہ بہت اچھی ہیں۔ میں جا کر دیکھتا ہوں انہیں۔" وہ اپنی چپل پہن کر اٹھا۔
"سب کو ہی اچھی لگتی ہے وہ مگر یہ سب صرف دکھاوا ہے۔" وہ جلے کٹے انداز میں بولیں۔ وہ دل میں مہرماہ سے خار بھی کھاتی تھیں۔ یہاں سب مہرماہ کی بات کو عزت بھی دیتے تھے کیونکہ وہ بہت عقل مند تھی۔ زمینوں کے معاملات پر بھی اس سے رائے لی جاتی تھی۔ وہ ایک اچھی یونیورسٹی سے ایم بی اے کر رہی تھی۔
برہان اس کے دروازے کے باہر کھڑا دروازہ پیٹ رہا تھا۔
"برہان چلے جاؤ، میں کل تم سے بات کروں گی۔" مہرماہ دروازہ کھولے بغیر بولی۔ وہ جانتی تھی برہان بے چین ہو چکا ہے۔
"میں کہیں نہیں جا رہا جب تک آپ دروازہ نہیں کھول رہیں۔ پوری رات یہیں بیٹھا رہوں گا۔"
مہرماہ نے گہری سانس لی اور دروازہ کھولا۔ وہ جانتی تھی کہ برہان اپنی بات کا پکا ہے۔
"کہو، کیا کہنا ہے؟" وہ ہاتھ پر ہاتھ باندھے بولی۔ برہان اندر آ چکا تھا۔
"آپ آج پڑھانے نہیں آئیں؟ آپ کا رویہ الگ ہو رہا ہے۔ میں نے پہلے بھی آپ سے پوچھا تھا مگر آپ نے ٹال دیا۔"
"میں تمہیں اب نہیں پڑھا سکتی، مجھے اور بھی کام ہوتے ہیں۔" وہ نظریں چراتے اپنی پھیلی ہوئی کتابیں سمیٹنے لگی۔
"کام تو پہلے بھی ہوتے تھے، اب کیا بات ہو گئی ہے؟" اس نے کتابیں مہرماہ سے لے کر ٹیبل پر رکھیں اور اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔
"بس میں تمہیں پڑھانا ہی نہیں چاہتی، سمجھ گئے تم؟ اب جاؤ یہاں سے۔" وہ کچھ سختی سے بولی۔
"آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ کچھ مجھ سے ہوا ہے تو بتائیں۔ آپ جان بوجھ کر ایسا کر رہی ہیں۔"
"ہاں کر رہی ہوں، کیونکہ تم اب پہلے والے برہان نہیں رہے۔ تم بدل رہے ہو۔"
"آپ ٹھیک پہچانیں، میں بدل رہا ہوں۔ میں اپنے جذبات پہلے سمجھ نہیں پا رہا تھا، اب سمجھ آنے لگا ہے۔ آپ جب سامنے نہیں ہوتیں تو میرا دل بے چین ہوتا ہے، میں پاگل سا ہونے لگتا ہوں۔ آپ سامنے ہوتی ہیں تو دل کرتا ہے آپ کو دیکھتا رہوں۔ مجھے آپ سے محبت ہو گئی ہے۔" وہ مہرماہ کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا۔
مہرماہ کو جس کا ڈر تھا وہی ہوا۔ مہرماہ کا ہاتھ اٹھا اور اس کے گال پر نشان چھوڑتا ہوا چلا گیا۔
"شرم آنی چاہیے تمہیں ایسی باتیں کرتے ہوئے۔ میں تم سے پانچ سال بڑی ہوں۔" اس کا ہاتھ سرخ ہو چکا تھا مگر برہان ہنوز یونہی کھڑا رہا۔ اس نے اپنا گال سہلایا اور مسکرایا۔
"تو کیا ہوا؟ کچھ سال بعد میں آپ سے بڑا لگنے لگوں گا۔ یہ میرے لیے دل لگی نہیں، محبت ہے جو مجھے آپ سے ہے۔ میں آپ کے لیے کسی سے بھی لڑنے کو تیار ہوں۔" وہ ڈھٹائی سے بولا۔
مہرماہ کا دوبارہ ہاتھ اٹھا مگر برہان نے پہلے ہی اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
"آپ کہتی ہیں آپ بڑی ہیں مگر دیکھیں۔" اس کا اشارہ مہرماہ کے ہاتھ کی طرف تھا۔ مہرماہ نے اپنا ہاتھ واپس کھینچا۔
"تمہیں اندازہ بھی ہے تمہاری ان باتوں سے میری زندگی پر کیا اثر ہوگا؟ میں نے تو کبھی تمہیں اس نظر سے نہیں دیکھا۔ تمہیں یہ سب کرنا تھا تو باہر منہ مارتے، اپنے گھر کی عورتوں پر بری نظر۔۔۔"
"بس! بہت سن لیا میں نے۔ کب بری نظر رکھی میں نے آپ پر؟ کب آپ کو ان کمفرٹیبل کیا؟ بچپن سے میں آپ کے ساتھ رہا ہوں اور آپ اس طرح کہہ رہی ہیں۔ میں آپ کو راضی کرنے کے بعد سعیدہ اماں سے بھی بات کرنے والا تھا۔" وہ دبا دبا چلایا۔ اس کے ماتھے پر موجود بلوں میں اضافہ ہوا۔
"تمہارا یہ محبت کا بھوت چند دنوں میں ختم ہو جائے گا، مگر کسی کو پتا چلا تو زندگی بھر کا داغ بن جائے گا میرے لیے۔ ابھی تم صرف اٹھارہ سال کے ہو، تمہارے لیے آگے زندگی پڑی ہے۔ میری شادی تم سے نہیں ہو سکتی، میں کبھی تم سے شادی نہیں کروں گی۔" وہ نفرت سے بولی۔
اس کے لہجے میں پہلی بار اپنے لیے نفرت دیکھ کر برہان کا دل کرچی کرچی ہو چکا تھا۔
"آپ کو شاید محبت ہو جائے۔ آپ اس طرح میرا دل نہیں توڑ سکتیں۔ آپ کو کسی سے تو شادی کرنی ہے تو وہ میں کیوں نہیں ہو سکتا؟ ہمارا خاندان بھی ایک ہی ہے۔"
"میں تم سے مر کر بھی شادی نہیں کروں گی۔ نکل جاؤ ابھی کے ابھی میرے کمرے سے!"

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Description — Urdu

Ansoo Dil Ki Kokh Main Palti Mohabbat از وہیبہ اشقم ایک جذباتی اور رومانوی اردو ناول ہے جس میں عمر کے فرق، خاندانی روایات، سماجی پابندیوں اور ایک نوجوان کی یک طرفہ محبت کی کشمکش کو پیش کیا گیا ہے۔ مہرماہ ایک ذہین، باوقار اور تعلیم یافتہ لڑکی ہے جو خاندان میں اپنی سمجھ داری کی وجہ سے اہم مقام رکھتی ہے۔ وہ ایک اچھی یونیورسٹی سے ایم بی اے کر رہی ہے اور خاندانی معاملات میں بھی اس کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ لیکن اس کی ذاتی زندگی کا فیصلہ اسی خاندان میں اس کی مرضی کے بغیر کیا جانے لگتا ہے۔ جب سعیدہ اماں اعلان کرتی ہیں کہ خاندان میں مہرماہ کی عمر کے مطابق کوئی لڑکا موجود نہیں، اس لیے اسے پاک بی بی بنا کر محدود زندگی گزارنی ہوگی، تو مہرماہ اندر سے ٹوٹ جاتی ہے۔ اسی موقع پر اس سے پانچ سال چھوٹا برہان سب کے سامنے اس سے شادی کرنے کا اعلان کرتا ہے۔ برہان برسوں سے مہرماہ کو پسند کرتا ہے اور پہلے بھی اپنی محبت کا اظہار کر چکا ہے، مگر مہرماہ نے اسے سختی سے مسترد کر دیا تھا۔ مہرماہ کو اپنے سے کم عمر لڑکے کی محبت قبول نہیں، کیونکہ اسے خاندان کی بدنامی، اپنی عزت اور برہان کی والدہ فرزانہ بیگم کے ردعمل کا خوف ہے۔ دوسری جانب برہان اپنی محبت کو عارضی جذبہ سمجھنے کے بجائے ایک سنجیدہ رشتہ بنانا چاہتا ہے۔ مہرماہ کا انکار، برہان کی مستقل مزاجی اور خاندان کی سخت روایات دونوں کے درمیان ایک ایسی جذباتی کشمکش پیدا کرتے ہیں جہاں محبت اور ذاتی آزادی ایک دوسرے کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں۔

Summary — Urdu

مہرماہ ایک ذہین، باوقار اور خوددار لڑکی ہے جو اپنے خاندان میں اپنی سمجھ داری اور سنجیدہ طبیعت کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے۔ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہے اور زمینوں سمیت خاندانی معاملات میں بھی اس کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔
لیکن جس لڑکی کی رائے خاندان کے دوسرے فیصلوں میں اہم سمجھی جاتی ہے، اسی کی اپنی زندگی کے متعلق فیصلے میں اس کی خواہش کو نظر انداز کیا جانے لگتا ہے۔
خاندان کی بزرگ سعیدہ اماں اعلان کرتی ہیں کہ مہرماہ کی عمر کے مطابق خاندان میں کوئی مناسب لڑکا موجود نہیں، اس لیے اسے پاک بی بی بنا دیا جائے گا۔
اس فیصلے کا مطلب مہرماہ کے لیے ایک ایسی محدود زندگی ہے جس میں اسے شادی اور اپنی خواہشات سے دستبردار ہو کر چار دیواری کے اندر رہنا ہوگا۔
یہ اعلان سن کر مہرماہ پتھر کی طرح ساکت رہ جاتی ہے۔
اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کی پوری زندگی کا فیصلہ چند الفاظ میں سنا دیا گیا ہے، مگر وہ خاندان کے سامنے اپنی بے بسی ظاہر کرنے کے سوا کچھ نہیں کر پاتی۔
اسی لمحے ایک ایسی آواز بلند ہوتی ہے جس کی کسی کو توقع نہیں ہوتی۔
“میں کروں گا مہرماہ سے شادی!”
یہ اعلان برہان کرتا ہے، جو مہرماہ سے پانچ سال چھوٹا ہے اور برسوں سے اس کے لیے محبت کے جذبات رکھتا ہے۔
برہان کا یہ فیصلہ مہرماہ کے لیے اس لیے بھی غیر متوقع ہوتا ہے کہ وہ ماضی میں اس کی محبت کو سختی سے رد کر چکی ہوتی ہے۔
چند سال پہلے برہان اور مہرماہ کے تعلق میں ایک بڑی تبدیلی آئی تھی۔
بچپن سے برہان مہرماہ کے قریب رہا تھا۔ وہ اس سے پڑھتا، اپنی مشکلات میں اس کی مدد لیتا اور اس کے کمرے میں بلا جھجک آتا جاتا تھا۔
مہرماہ اسے ہمیشہ اپنے سے چھوٹا سمجھتی تھی اور اس کے ساتھ ایک بڑے کی طرح پیش آتی تھی۔
مگر وقت کے ساتھ برہان کے جذبات بدلنے لگتے ہیں۔
وہ مہرماہ کی غیر موجودگی میں بے چین رہنے لگتا ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ اب مہرماہ اس کے لیے محض ایک قریبی عزیز یا رہنما نہیں رہی۔
مہرماہ بھی اس کے بدلتے رویے کو محسوس کرنے لگتی ہے۔
اسے برہان کی نظروں اور بے چینی سے اندازہ ہونے لگتا ہے کہ وہ اسے مختلف انداز سے دیکھنے لگا ہے۔
یہ احساس اسے پریشان کر دیتا ہے، کیونکہ وہ اپنے وقار اور خاندان میں اپنی عزت کے متعلق بہت حساس ہے۔
ایک رات بارہ بجے برہان کتاب ہاتھ میں لیے اس کے کمرے کے دروازے پر پہنچتا ہے۔
مہرماہ دروازے پر ہونے والی مخصوص دستک سے اسے پہچان لیتی ہے، لیکن اس مرتبہ پورا دروازہ کھولنے کے بجائے اسے باہر ہی روکنے کی کوشش کرتی ہے۔
وہ برہان کو سمجھاتی ہے کہ اتنی رات گئے اس کے کمرے میں آنا مناسب نہیں۔
برہان حیران ہوتا ہے، کیونکہ وہ پہلے بھی کئی مرتبہ اس کے کمرے میں آ چکا ہوتا ہے اور کبھی مہرماہ نے اس پر اعتراض نہیں کیا تھا۔
وہ کتاب کا بہانہ بناتے ہوئے کہتا ہے کہ اسے پڑھائی کے ایک موضوع کی سمجھ نہیں آئی اور وہ دوبارہ وضاحت چاہتا ہے۔
مہرماہ جانتی ہے کہ برہان پڑھائی میں تیز ہے اور اس وقت اس کے کمرے میں آنے کی اصل وجہ محض پڑھائی نہیں۔
وہ اسے اگلی صبح سمجھانے کا وعدہ کرتی ہے اور آئندہ رات کے وقت کمرے میں نہ آنے کی تاکید کرتی ہے۔
مہرماہ اسے بتاتی ہے کہ اب وہ بڑا ہو چکا ہے اور اگر گھر کے ملازمین یا خاندان کا کوئی فرد اسے اس کے کمرے میں دیکھ لے تو غیر ضروری باتیں بن سکتی ہیں۔
مگر برہان اس اچانک فاصلے کو سمجھ نہیں پاتا۔
وہ شکوہ کرتا ہے کہ مہرماہ کا کمرہ تو ہمیشہ سے اس کے لیے دوسرے گھر جیسا رہا ہے، پھر اب اسے اجنبیوں جیسا سلوک کیوں محسوس ہو رہا ہے۔
مہرماہ اسے یقین دلاتی ہے کہ وہ اس سے ناراض نہیں، لیکن چاہتی ہے کہ وہ اس کی پریشانی سمجھے اور اس کے لیے مشکلات پیدا نہ کرے۔
برہان اس کی بات مان کر چلا جاتا ہے، مگر مہرماہ کے دل میں اس کی نظروں سے متعلق خوف مزید گہرا ہو جاتا ہے۔
اسے برہان کی والدہ فرزانہ بیگم کے ردعمل کی بھی فکر ہوتی ہے، کیونکہ وہ پہلے ہی مہرماہ کو پسند نہیں کرتیں۔
فرزانہ بیگم کی ناراضی کے پیچھے بھی ایک پرانا خاندانی معاملہ ہوتا ہے۔
کبھی مہرماہ کا رشتہ ان کے بھائی کے لیے مانگا گیا تھا، مگر ان کے بھائی نے کسی دوسری لڑکی کو پسند کرنے کی وجہ سے انکار کر دیا تھا۔
اس واقعے کے بعد سعیدہ اماں فرزانہ بیگم کو اکثر طعنے دیتی رہتی تھیں، جس سے ان کے دل میں مہرماہ کے لیے ناراضی پیدا ہو گئی تھی۔
فرزانہ بیگم کو یہ بات بھی ناگوار گزرتی تھی کہ خاندان میں مہرماہ کو اتنی اہمیت اور عزت حاصل ہے۔
مہرماہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہوتی ہے اور اپنی سمجھ داری کے باعث خاندانی زمینوں کے معاملات میں بھی مشورہ دیتی ہے۔
ایک دن جب برہان اس سے پڑھنے کے لیے آتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ مہرماہ نے کسی سے خلل نہ ڈالنے کا کہہ کر اپنے کمرے کا دروازہ بند کر لیا ہے۔
برہان کو فکر ہونے لگتی ہے کہ شاید مہرماہ کی طبیعت خراب ہے۔
وہ اس کے کمرے کے باہر جا کر دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔
مہرماہ اسے اگلے دن بات کرنے کا کہتی ہے، مگر برہان ضد کرتا ہے کہ جب تک وہ دروازہ نہیں کھولے گی، وہ وہاں سے نہیں جائے گا۔
آخرکار مہرماہ کو دروازہ کھولنا پڑتا ہے۔
برہان اس سے پوچھتا ہے کہ وہ اسے پڑھانے کیوں نہیں آئی اور اچانک اس کا رویہ کیوں بدل گیا ہے۔
مہرماہ پہلے بات ٹالنے کی کوشش کرتی ہے، مگر برہان کے بار بار سوال کرنے پر واضح کر دیتی ہے کہ اب وہ اسے پڑھانا نہیں چاہتی۔
اس جواب سے برہان مزید پریشان ہو جاتا ہے۔
وہ جاننا چاہتا ہے کہ اس سے کون سی غلطی ہوئی ہے جس کی وجہ سے مہرماہ اس سے دور ہو رہی ہے۔
آخر مہرماہ غصے میں اسے بتا دیتی ہے کہ وہ اب پہلے والا برہان نہیں رہا، اس کے جذبات اور انداز بدل رہے ہیں۔
مہرماہ کی بات سن کر برہان اپنے دل کی حقیقت چھپانے کے بجائے صاف اعتراف کر لیتا ہے۔
وہ کہتا ہے کہ اسے مہرماہ سے محبت ہو گئی ہے۔
وہ اس کے سامنے نہ ہو تو بے چین ہو جاتا ہے اور جب وہ قریب ہوتی ہے تو اس کا دل چاہتا ہے کہ بس اسے دیکھتا رہے۔
یہ اعتراف سنتے ہی مہرماہ کے خدشات حقیقت بن جاتے ہیں۔
وہ غصے میں برہان کے چہرے پر تھپڑ مار دیتی ہے۔
اسے یقین نہیں آتا کہ اس سے پانچ سال چھوٹا نوجوان اس کے بارے میں ایسے جذبات رکھتا ہے۔
وہ اسے عمر کے فرق کا احساس دلاتی ہے اور سختی سے سمجھاتی ہے کہ ان دونوں کے درمیان شادی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن برہان اس کے ردعمل سے اپنے جذبات بدلنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
وہ کہتا ہے کہ عمر کا فرق اس کے لیے اہم نہیں اور وہ مہرماہ سے دل لگی نہیں بلکہ سچی محبت کرتا ہے۔
وہ اس کے لیے خاندان کے سامنے بھی کھڑا ہونے کو تیار ہے۔
مہرماہ اسے سمجھاتی ہے کہ اس کی محبت کا یہ اظہار اس کے لیے زندگی بھر کی بدنامی بن سکتا ہے۔
اس وقت برہان صرف اٹھارہ سال کا ہوتا ہے اور مہرماہ کے نزدیک یہ عمر ایسے بڑے فیصلے کے لیے مناسب نہیں۔
مگر برہان اس کے انکار کو قبول نہیں کرتا۔
وہ کہتا ہے کہ اس کی خواہش مہرماہ کی رضامندی حاصل کرنے کے بعد سعیدہ اماں سے رشتے کی بات کرنے کی تھی۔
مہرماہ اس کی بات مسترد کرتے ہوئے اعلان کرتی ہے کہ وہ اس سے کبھی شادی نہیں کرے گی۔
اس تلخ گفتگو کے بعد برہان کی زندگی کا رخ بدل جاتا ہے اور وہ بیرونِ ملک چلا جاتا ہے۔
وقت گزرنے کے بعد جب وہ واپس آتا ہے تو مہرماہ کے سامنے ایک نئی مشکل موجود ہوتی ہے۔
خاندان نے اسے پاک بی بی بنا کر باقی زندگی محدود ماحول میں گزارنے کا فیصلہ سنا دیا ہوتا ہے۔
ایسے نازک وقت میں برہان ایک مرتبہ پھر سب کے سامنے کھڑا ہو کر مہرماہ سے شادی کی پیشکش کرتا ہے۔
اس کا یہ اعلان ثابت کرتا ہے کہ ماضی میں ملنے والے انکار اور جدائی کے باوجود وہ اپنے فیصلے پر قائم ہے۔
لیکن مہرماہ کے لیے صورت حال اب بھی آسان نہیں۔
وہ خاندانی پابندیوں کے ساتھ زندگی گزارنے کا تصور تو قبول کر سکتی ہے، مگر اپنے سے پانچ سال چھوٹے برہان کی بیوی بننا اس کے لیے شدید جھجک اور سماجی خوف کا باعث ہے۔
ایک طرف ایسا خاندان ہے جو اس کی پوری زندگی کا فیصلہ اپنی روایات کے مطابق کرنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری طرف برہان ہے جو اسے اپنی محبت اور نکاح کا رشتہ پیش کر رہا ہے۔
مگر مہرماہ کی اپنی خواہش اور رضامندی ان دونوں فیصلوں کے درمیان الجھ کر رہ گئی ہے۔
یہ جذباتی رومانوی کہانی عمر کے فرق، یک طرفہ محبت، خاندانی پابندیوں، عورت کی خودمختاری، عزتِ نفس اور شادی کے فیصلے میں ذاتی رضامندی جیسے موضوعات کو سامنے لاتی ہے۔
کیا مہرماہ برسوں پہلے دیے گئے اپنے انکار پر قائم رہے گی؟ کیا برہان اس کی مرضی اور خدشات کو سمجھ سکے گا؟ یا خاندان کی سخت روایات دونوں کے مستقبل کو ایک نیا رخ دے دیں گی؟

Related Keywords

Ansoo Dil Ki Kokh Main Palti Mohabbat Novel, Ansoo Dil Ki Kokh Main Palti Mohabbat Urdu Novel, Ansoo Dil Ki Kokh Main Palti Mohabbat PDF
Share this Novel

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote this novel?

This novel is written by Wahiba Ashqam.

Is this novel complete or ongoing?

The recorded status is complete novel.

Join Our Community

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *