Skip to navigation Skip to main content
Khushiyan lot ai hain Novel90032 Urdu novel cover
Rank#11
Views771.2K

READ URDU NOVELS AT NOVELISTAN.COM

Khushiyan lot ai hain

No ratings yet

Rate this novel

CompleteAfter MarriageMisunderstanding base

Novel code: Novel90032

Read OnlineDownload PDF

دیان شاہ اور منال کی ازدواجی زندگی میں انشال سے متعلق شک جگہ بناتا ہے اور ادھوری سنی باتیں رشتوں کو سنگین موڑ پر لے آتی ہیں۔ محبت، بدگمانی اور خاندانی ردعمل کی یہ کہانی اعتماد کے بکھرنے کی تکلیف پیش کرتی ہے۔

Read the Novel

Sneak

ان رشتوں کے بیچ شک، غلط فہمیوں اور نفرت کی دیوار شادی کی پہلی رات اس وقت کھڑی ہوئی جب انشال حسان شاہ نے ان کی زندگی میں دستک دی۔ دیان شاہ کواپنی سہاگ رات کو کمرے میں آئے زیادہ وقت نہیں گزرا تھا، ابھی اپنے اور منال کے درمیان بندھنے والے اس نئے بندھن کی شروعات کے بارے میں وہ سوچ ہی رہا تھا جب یکدم دروازے پر دستک ہوئی۔ منال اور شاہ دونوں نے بیک وقت ایک دوسرے کی جانب دیکھا، حیرانگی دونوں کے چہرے پر سوا تھی۔
"یہ کون آ گیا؟" وہ منال کی طرف دیکھتے ہوئے بولا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی، پھر آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تو اپنے سامنے کھڑے انسان کو دیکھ کر وہ سچ مچ چکرا گیا۔
"انشال تم؟" عالمِ حیرت میں صرف یہی بول سکا، اس سے پہلے کہ وہ اس کے یہاں آنے کا مقصد دریافت کرتا، انشال اسے پرے کرتی اندر داخل ہوئی۔
"منال آپی! آپ یہاں کیوں آ گئی ہیں؟ آپ کو پتا ہے نا کہ مجھے آپ کے بغیر بالکل نیند نہیں آتی ہے، پلیز آپ چلیں اپنے کمرے میں۔" وہ منال کا بازو تھامے، بالکل بچوں کی طرح ضد کرتے ہوئے بولی تو اس کے یہاں آنے کا مقصد جان کر منال کے ساتھ ساتھ وہ بھی اپنی جگہ ٹھٹھک گیا۔ یہ سچ تھا کہ وہ اور منال شروع سے ایک ہی کمرہ اور بیڈ استعمال کرتی آئی تھیں، لیکن کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ انشال آج کے دن اس طرح کا ری ایکٹ کرے گی۔
منال تو بالکل پھٹی پھٹی آنکھوں سے کبھی انشال اور کبھی دیان شاہ کو دیکھ رہی تھی، وہ تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ آج کی رات جب کہ وہ نئی زندگی کی شروعات کرنے جا رہی تھی، اس کی بہن اس طرح اس کی خوشیوں کا گلا گھونٹنے چلی آئے گی۔
"انشال گڑیا! اب تو آپ بڑے ہو گئے ہو، اب تو آپ کو اکیلے سونے کی عادت ڈال لینی چاہیے۔" منال نے دل پر جبر کرتے ہوئے سمجھانا چاہا۔
"منال آپی! آپ کو پتا ہے ناں کہ مجھے ڈر لگتا ہے اکیلے میں اور آپ کے بغیر مجھے نیند بھی نہیں آتی ہے۔" اپنی عادت سے مجبور وہ آنکھیں ملتے ہوئے بولی، یوں لگ رہا تھا جیسے وہ گہری نیند سے جاگی ہو۔
"اچھا! ٹھیک ہے تم کمرے میں جا کر اچھے بچوں کی طرح آنکھیں بند کرو میں ابھی آتی ہوں۔" اس نے لاڈ سے ٹالتے ہوئے آخری حربہ استعمال کیا، یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ ضد کی کتنی پکی ہے، اسے لیے بغیر وہ ہرگز نہیں جائے گی۔ پھر وہی ہوا۔
"نہیں آپی! آپ جب تک میرے ساتھ نہیں چلیں گی، میں نہیں جاؤں گی، پلیز چلیں ناں... مجھے نیند آ رہی ہے۔" پھر انشال کی ضد کے آگے اسے ہتھیار ڈالنا پڑے، شاہ الگ اس ساری صورت حال پر پریشان کھڑا تھا۔ تین تو پہلے ہی ہو چکے تھے، اذانوں سے کچھ دیر پہلے وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ کمرے میں لوٹی، شاہ اس کے انتظار میں صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا، منال کے کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کی جانب بڑھا۔
"پلیز دیان شاہ ! میں اس وقت کوئی بات نہیں کرنا چاہ رہی۔" منال نے ہاتھ کے اشارے سے اسے وہیں روک دیا۔ دیان شاہ نے ایک نظر اس کے سنجیدہ، افسردہ چہرے پر ڈالی جو اس کا اندرونی کرب آشکار کر رہا تھا۔ وہ جانتا تھا، اس دن کے ارمان ہر لڑکی اپنی آنکھوں میں سجائے ہوتی ہے، ارمانوں کی یوں کرچیاں ہوں تو دل کیسے ٹوٹتا ہے، ارمانوں کا خون کیسے ہوتا ہے، آنکھوں میں لو دیتے خواہشوں کے دیے ایک ایک کر کے کیسے مدہم پڑ جاتے ہیں، دیان شاہ بخوبی جانتا تھا۔
"دیکھو منال! بچی ہے وہ، پھر تم جانتی ہو کہ وہ شروع سے تمہارے ساتھ سونے کی عادی ہے، اس لیے اگر وہ اس قسم کا ری ایکٹ کر رہی ہے تو پلیز ڈس ہارٹ مت ہو۔ آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جائے گا سب۔" شاہ نے نرمی سے سمجھانا چاہا۔
پتا نہیں وہ مانی بھی یا نہیں، لیکن غلط فہمی اور شک کی پہلی دیوار اس کے دل میں کھڑی ہو چکی تھی۔ پھر اکثر و بیشتر یہی ہونے لگا، انشال کے پاس سے وہ اپنے کمرے میں آتی تو اس کا جی چاہتا کہ ہمیشہ کی ابدی نیند سو جائے۔ شاہ ہاؤس کا کوئی بھی فرد اس تمام صورتحال سے بالکل انجان تھا، منال نے بھی اپنی زبان پر قفل لگا لیا۔ کیا بتاتی کہ انشال حسان شاہ، اس کی سگی بہن، اسے اندر ہی اندر مار رہی ہے، اس کی خوشیوں بھری زندگی میں آگ لگا رہی ہے، قدم قدم پر اس کے لیے دکھوں کا سامان بنتی جا رہی ہے۔ اپنی زندگی کے اس سفر میں دیان شاہ کے ساتھ وہ تنہا تو کہیں بھی نہیں تھی، ہر ہر موڑ پر اور قدم قدم پر انشال حسان شاہ اب بھی ان کے بیچ موجود تھی۔
دو سال کا طویل عرصہ اسی شک، غلط فہمیوں اور نفرتوں کے بیچ گزر گیا۔ کبھی وہ پہلے والی منال بن جاتی، ہنستی کھیلتی، زندگی سے بھرپور، اور کبھی اس کا جی چاہتا شاہ ہاؤس سمیت سب کو آگ لگا دے اور خود بھی اس کا حصہ بن جائے، شاید اس طرح اس کے اندر کی آگ کچھ ٹھنڈی ہو۔ دیان شاہ سے تو اسے کوئی شکایت نہ تھی، اس نے تو ہر موڑ پر، ہر قدم پر ساتھ نبھایا تھا، نہ جانے پھر کیوں وہ اپنے لیے نرم بستر چھوڑ کر کانٹوں کی سیج سجا رہی تھی۔ انہی دنوں جب کہ وہ عجیب کشمکش میں تھی، خوشی کی پہلی کلی اس کے آنگن میں کھلی جب اسے ماں بننے کی نوید ملی تھی۔ اسے لگا سارے جہاں کی خوشیاں اس کی جھولی میں آن گری ہوں، کتنا خوش تھی وہ، بلکہ وہ کیا شاہ ہاؤس کی تمام خوشیاں اس ایک خبر نے دوبالا کر دیں، دیان تو پھولے نہیں سما رہا تھا۔ پہلی چھٹی پر وہ گھر موجود تھا، سب ہی اس کی بے ساختگی پر حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔
"مما! میں بتا رہی ہوں بے بی کا نام میں رکھوں گی، پہلی بار خالہ بن رہی ہوں، اس لیے زیادہ حق میرا ہے۔" منال کے گلے میں بازو ڈالتی وہ خوشی سے چہکتی سامعہ سے مخاطب ہوئی، اس کی بات پر سب ہی مسکرا دیئے۔
"آپ خالہ بن رہی ہیں تو مما، پاپا کے عہدے پر ہم بھی فائز ہو رہے ہیں، اس لیے پہلا حق میرا اور منال کا ہے، اس لیے نام بھی ہماری مرضی سے رکھا جائے گا، کیوں منال؟" دیان نے دانستہ چھیڑتے ہوئے سامنے بیٹھی منال سے پوچھا۔
"بالکل۔" اس نے بھی ہاں میں ہاں ملائی۔
"آغا جان! دیکھ رہے ہیں انہیں۔" وہ چیخی۔
"میں نے کہہ دیا ہے نام میں رکھوں گی، آپ لوگ اگلی بار رکھ لیجیے گا۔" انشال بری طرح چیخی، اس کے انداز پر سب مسکرا دیئے۔
"یہی مشورہ میری طرف سے آپ کے لیے ہے میری گڑیا! کل کا انتظار کیجیے۔" دیان نے چھیڑا۔
"دیان بھائی! مجھے گڑیا نہ کہا کریں، بڑی ہو گئی ہوں اب میں۔" دیان شاہ کے گڑیا کہنے پر وہ غصے سے بولی تو پاس بیٹھی منال نے عجیب سے انداز میں اسے دیکھا، دل نہ جانے کیوں کوئی اور ہی مطلب اخذ کر رہا تھا۔
"اچھا؟" دیان بھرپور مسکراہٹ ہونٹوں پر سجاتے ہوئے بولا۔
"ویسے مما! میں نے اور منال نے سوچا ہے، بیٹی ہوئی تو 'دعا' اور بیٹا ہوا تو 'وہاج' نام رکھیں گے، کیسے ہیں؟" اس نے مزید بتایا۔
"دعا اور وہاج؟" وہ حیرت سے چیخی۔
"میں نے بھی تو یہی نام سوچے تھے، آپ کو کیسے پتا چلا؟" خوشی سے مچلتے وہ بولی تو اسی ایک لمحے میں منال کی خوشی کافور ہو گئی۔ یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ اسے بھی یہی نام پسند ہوں جو دیان نے بتائے؟ اسے لگا انشال نے جان بوجھ کر اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔
"لیکن مجھے یہ نام پسند نہیں۔" منال کی آواز نے سب کو خاموش کروا دیا۔
"کیوں منال! اتنے اچھے تو ہیں نام، پھر تمہاری اور دیان دونوں کی مرضی شامل ہے اس میں، بلکہ میرے خیال سے تو سب ہی کو پسند ہیں دونوں نام۔" فائقہ بولیں۔
"لیکن اب مجھے اچھے نہیں لگ رہے، مجھے 'ایمان' پسند ہے میں وہی رکھوں گی۔" وہ متانت سے بولتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
جوں جوں ڈلیوری کے دن قریب آ رہے تھے، وہ چڑچڑی ہونے لگی۔ ضدی پن اور غصہ بھوت کی طرح سر پر سوار رہنے لگا، بات بے بات غصہ کرنے لگتی، بیٹھے بیٹھے رونے لگتی، خوامخواہ ہی ملازمین پر چلانے لگتی۔ انشال کا وجود اپنی زندگی میں برداشت کرتے کرتے وہ تھک چکی تھی، وہ فقط دیان شاہ کی رہنا چاہتی تھی لیکن اس کے اندر شک کی اتنی دیواریں کھڑی ہو چکی تھیں جنہیں وہ گرانا چاہتی تھی تب بھی گرانا نہ پائی۔
اس دن تو انتہا ہو گئی، وہ شام کی چائے پینے میں مصروف تھی۔ احسان شاہ، حسان شاہ، فائقہ اور سامعہ سب ہی اس وقت لاؤنج میں چائے سے لطف اٹھا رہے تھے۔
"دیان نظر نہیں آ رہا منال؟" آغا جان نے پوچھا۔
"شاور لے رہے ہیں آغا جان! میں دیکھتی ہوں۔" منال بتاتے ہوئے کمرے کی جانب بڑھی۔
اس نے کمرے کا ہینڈل گھما کر جیسے ہی اندر داخل ہونا چاہا، انشال کی آواز نے اس کے قدم وہیں جکڑ دیے، دماغ میں جھکڑ چلنے لگے، جسم کا سارا لہو نچڑ کر چہرے پر آن جمع ہوا۔ شک کا بیج جو اندر کنڈلی مارے بیٹھا تھا، بے بنیاد نہیں تھا؛ دل جو سچ کی گردان کرتا رہتا تھا، اندر سے آتی آوازوں نے اس پر تصدیق کی مہر ثبت کر دی، پھر اس کی برداشت جواب دے گئی، اسے لگا اب بھی خاموش رہی تو اس کا دم گھٹ جائے گا۔
"کیا کہہ رہی ہو منال، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟" لاؤنج میں بیٹھے چاروں نفوس منال شاہ کے انکشاف پر شاک میں آ گئے۔ سب سے پہلے سامعہ کی کیفیت ٹوٹی۔
"میں ٹھیک کہہ رہی ہوں مما! آپ کو یقین نہیں آتا تو خود چل کر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔" وہ روئے جا رہی تھی، وہ سب اوپر پہنچے تو اندر سے آتی آوازوں پر واقعی سکتے میں آ گئے۔
"میں بہت محبت کرتی ہوں آپ سے، آپ کے بغیر تو اب ایک پل گزارنا مشکل ہے میرے لیے، مجھے لگتا ہے یہ سانسیں تھم جائیں گی، اس وجود کی چلتی پھرتی حرکت رک جائے گی، میری سانسوں کو تھمنے سے پہلے اپنا لیں پلیز، پلیز مجھے اپنا لیں۔"
کالج کے ڈرامہ فیسٹول میں شامل ڈائیلاگ بے حد جذباتی انداز میں دیان شاہ کے سامنے لہک لہک کر پڑھنے میں وہ مگن تھی جب دھاڑ کے ساتھ دروازہ کھلا۔ دونوں فوراً سنبھلے، ان پانچوں کو سپاٹ چہروں کے ساتھ اندر داخل ہوتے دیکھ کر دونوں بے طرح حیران ہوئے، لیکن اگلا لمحہ اس سے زیادہ شاکنگ تھا جب سامعہ نے آگے بڑھ کر اس کے چہرے پر تھپڑوں کی بارش کر دی۔
"شرم نہ آئی تجھے انشال! اپنی بہن کا گھر برباد کرتے ہوئے؟ ارے کون سی کمی رہ گئی تھی میری تربیت میں، مجھے پتا ہوتا کہ تو ایسی نکلے گی تو پیدا ہوتے ہی تیرا گلا گھونٹ دیتی، مر کیوں نہ گئی تجھے جنم دیتے ہوئے!" وہ اسے مارنے کے ساتھ ساتھ کوسے جا رہی تھیں۔
"کیا ہو گیا ہے سامعہ چاچی آپ کو؟" دیان انہیں علیحدہ کرتے ہوئے دھاڑا۔
"اب بھی پوچھ رہے ہو دیان کہ کیا ہوا ہے؟ یہ سب کی آنکھوں میں دھول جھونکتی رہی اور ہم انجان بنے رہے۔" فائقہ بیگم اس سے زیادہ دھاڑتی آواز میں بولیں۔
"آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے، ایسا کچھ نہیں ہے جو آپ لوگ سمجھ رہے ہیں۔" وہ سمجھ تو گیا تھا ان کا مطلب۔
"سب کچھ ان گناہ گار کانوں سے سن چکے ہیں، ابھی بھی کہہ رہے ہو کہ غلط فہمی ہوئی ہے؟"
وہ سب تو اس نے غلط فہمی دور کرنا چاہی مگر اس سے پہلے ایک دلسوز آواز نے سب کو چونکا دیا، سیڑھیوں کے پاس منال دیان شاہ خون میں لت پت اوندھے منہ پڑی تھی۔
"آئی ایم سوری، ہم صرف بچی کو بچا سکے۔" ہاسپٹل کے در و دیوار ہل گئے اس انکشاف سے۔
#secondmarriage #Dusrishadi #agedifference #agegap #rudehero #urdunovels #novels #aftermarriage

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Description — Urdu

Khushiyan lot ai hain از wariyal khan کے اس اقتباس میں دیان شاہ اور منال کے رشتے پر غلط فہمیوں کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔ انشال سے متعلق شک ایک سنگین صورت اختیار کرتا ہے۔

Summary — Urdu

انشال کی موجودگی منال کے دل میں شک پیدا کرتی ہے۔ بعد میں ڈرامے کے مکالمے غلط معنی میں سنے جانے سے گھر میں ہنگامہ ہوتا ہے، اور منال خون میں لت پت ملتی ہے۔ ہسپتال میں بتایا جاتا ہے کہ صرف بچی کو بچایا جا سکا۔

Related Keywords

Khushiyan lot ai hain Novel90032 Urdu Novel, Khushiyan lot ai hain Novel90032 PDF Novel,
Share this Novel

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote this novel?

This novel is written by wariyal khan.

Is this novel complete or ongoing?

The recorded status is complete novel.

Join Our Community

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *