Tag Archives: Read Urdu Novels Online
Fatoor e Chahat Novel21023
نکاح میں صرف پندرہ دن باقی تھے اور حیدر خان نے ہانیہ کے سامنے ایسی شرط رکھ دی تھی جسے سن کر وہ غصے سے بھڑک اٹھی۔ سب کے سامنے اس شخص سے عشق کا اعلان کرنا جسے وہ برداشت تک نہیں کرتی تھی، اس کے لیے ناممکن تھا۔ مگر قسمت کو شاید ان دونوں کی ضد سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ ٹھیک پندرہ دن بعد نکاح بھی ہوگیا اور اچانک رخصتی نے دونوں کو ایک ہی رشتے میں آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ اب دلہن بنی ہانیہ آدھی رات تک حیدر کے کمرے میں بیٹھی اس شخص کا انتظار کر رہی تھی جسے وہ شادی سے پہلے ہی سکون سے نہ جینے کی دھمکی دے چکی تھی۔ مگر کیا یہ رشتہ واقعی صرف نفرت اور ضد تک محدود رہنے والا تھا؟
Meri Zindagi Novel21022
شادی کو صرف چھ ماہ ہوئے تھے مگر ابراہیم کو اندازہ ہو چکا تھا کہ اس کی نئی نویلی بیوی عام لڑکیوں جیسی ہرگز نہیں۔ رات کے دو بجے اسے نیند سے جگا کر بارہ بچوں کا منصوبہ پیش کرنے والی ایشل کبھی اپنی معصوم منطق سے اسے لاجواب کر دیتی اور کبھی اپنی شرارتوں سے پورے گھر کو سر پر اٹھا لیتی۔ سنجیدہ مزاج ابراہیم کے لیے اس کی ہر نئی حرکت ایک نئی مصیبت تھی، مگر مسئلہ یہ تھا کہ وہ اس چلتی پھرتی آفت سے ناراض ہونے کے بجائے اس کے عشق میں مزید گرفتار ہوتا جا رہا تھا۔ آخر ایشل کی شرارتیں ان کی شادی شدہ زندگی میں ابھی اور کتنے ہنگامے کھڑے کرنے والی تھیں؟
Nisbat e IShq Novel21018
تین سال سے زین کے نکاح میں ہونے کے باوجود زینب اس کے غصے سے اس قدر خوفزدہ تھی کہ اس کے کمرے میں قدم رکھنے کو بھی تیار نہ تھی۔ مگر مشال کے ایک چھوٹے سے جھوٹ نے اسے یہ یقین دلا دیا کہ زین شہر سے باہر ہے۔ وہ بےفکری سے اسی کے بستر پر سو گئی، اس حقیقت سے بالکل بےخبر کہ آدھی رات کو وہی شخص واپس لوٹنے والا ہے جس کے سامنے جانے سے بھی اس کی سانسیں الجھ جاتی تھیں۔ رات کی خاموشی میں جب زینب کو اچانک اپنے قریب کسی کی موجودگی اور گردن پر گرم سانسوں کا احساس ہوا تو اس کی آنکھیں خوف سے کھل گئیں۔ مگر سامنے کسی اجنبی کے بجائے زین تھا۔ آخر اس رات کے بعد تین سال سے فاصلے پر قائم یہ رشتہ کس سمت جانے والا تھا؟
Teri Bahoon Main By Muskan Novel21019
ایک ماں کی زندگی بچانے کی خاطر میرب نے حسام وجدان کی وہ شرط قبول کر لی تھی جس نے اس کی اپنی زندگی کا رخ بدل دیا۔ حسام کے لیے یہ شادی شاید ایک معاہدہ تھی، مگر وقت نے اس سفاک اور مغرور شخص کو اسی رشتے کے سامنے بےبس لا کھڑا کیا۔ ہسپتال کی سرد راہداری میں آج نہ اس کی دولت کام آ رہی تھی، نہ طاقت اور نہ ہی اس کا غرور۔ ایک طرف میرب کی زندگی خطرے میں تھی اور دوسری جانب تین ننھی جانوں کی سانسیں۔ جس شخص نے کبھی میرب کی مجبوری کی پروا نہیں کی تھی، آج وہی اس کی ایک سانس کے لیے دعا مانگ رہا تھا۔ مگر آپریشن تھیٹر کے بند دروازے کے پیچھے تقدیر نے ان سب کے لیے کیا فیصلہ کر رکھا تھا؟
Ehsaas E Dillbaram By Wahiba Ashqam Novel21020
تیز بارش میں یونیورسٹی کے باہر تنہا کھڑی حورب نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اپنے سخت مزاج پروفیسر سے لی گئی ایک معمولی سی لفٹ اس کی پوری زندگی بدل دے گی۔ ایک غلط فہمی، ایک غیر متوقع نکاح اور پھر حنان کا ایسا فیصلہ جس نے حورب کے لیے واپسی کے تمام راستے مشکل بنا دیے۔ مگر وہ ابھی اس حقیقت سے لاعلم تھی کہ جس شخص کو وہ محض اپنا کھڑوس پروفیسر سمجھ رہی ہے، اس کے رویے کے پیچھے ایک ایسی وجہ پوشیدہ ہے جس کا تعلق شاید آج سے نہیں تھا۔
Terhween By Shireen Haidar Novel20983 – Heart Touching Family Urdu Novel
وہ دنیا میں آئی تو کسی نے اس کی آمد پر خوشی نہیں منائی۔ ماں دنیا چھوڑ چکی تھی اور گھر والوں کے لیے وہ محض ایک اور بیٹی تھی—گھر کی تیرھویں اولاد، تیرھویں بیٹی۔ یہاں تک کہ وقت کے ساتھ اس کا نام بھی اس کی شناخت نہ رہا، لوگ اسے صرف "تیرھویں" کہنے لگے۔
𝐏𝐞𝐡𝐥𝐢 𝐞𝐢d by Rashida Riffat Novel20892
ایک ہی چہرہ... ایک ہی خون... مگر دلوں میں برسوں پرانی دشمنی۔ جڑواں بہنیں ہونے کے باوجود دونوں نے کبھی ایک دوسرے کو بہن مانا ہی نہیں۔ بچپن کی معمولی ضدیں وقت کے ساتھ ایسی نفرت میں بدل گئیں کہ شادی کے بعد بھی ایک دوسرے کو نیچا دکھانا ہی ان کی زندگی کا مقصد بن گیا۔ قسمت نے ایسا پلٹا کھایا کہ انہی دونوں کی اولاد ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئی اور رشتہ بھی طے ہو گیا۔ سب نے سمجھا کہ شاید اب برسوں کی دوریاں ختم ہو جائیں گی... مگر اصل جنگ تو شادی کے بعد شروع ہوئی۔ پہلی عید آئی تو دونوں ماؤں کی انا پھر آمنے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ ایک بضد تھی کہ بہو پہلی عید سسرال میں منائے گی، دوسری نے قسم کھا لی کہ بیٹی پہلی عید میکے ہی آئے گی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک رسم نے ضد کی شکل اختیار کر لی، ضد نے انا کا روپ دھار لیا، اور انا نے دو محبت کرنے والوں کی نئی نئی ازدواجی زندگی کو داؤ پر لگا دیا۔ آخر جیت کس کی ہوگی... محبت کی یا برسوں پرانی دشمنی کی؟
Ab Sawal ye hai keh By Asia Razzaqi Novel20891
"کبھی کبھی قسمت ایک ہی لمحے میں زندگی کا رخ بدل دیتی ہے..."
سمن نے ماں کی وفات کے بعد ہمیشہ اپنوں کی بے رخی، سوتیلی ماں کے ظلم اور ادھورے خوابوں کا بوجھ اٹھایا۔ وہ اپنی تعلیم بھی مکمل نہ کر سکی، مگر اس کی پھوپھی نے ہار نہ مانی اور اسے دوبارہ کالج پہنچا دیا۔ دوسری طرف عادل کے لیے بھی قسمت ایک نیا امتحان لے کر آئی۔ جب ایک زبردستی کا رشتہ اس پر مسلط کرنے کی کوشش ہوئی اور انکار کی قیمت اس کی بہن کا بسا بسایا گھر بننے لگی، تو اس کی ماں نے لمحہ بھر میں ایسا فیصلہ کر دیا جس نے سب کو حیران کر دیا۔ ایک اچانک نکاح نے کئی زندگیاں بدل دیں... مگر کیا یہ رشتہ محبت میں ڈھلے گا، یا خاندانی رنجشیں، حسد اور مجبوریوں کے درمیان ٹوٹ کر بکھر جائے گا؟
Roshani Aur Rasta Novel By Alia Hira Nove20890 Complete Urdu Novel | Kidnapping & Revenge Family Story
پندرہ سال بعد سجاول اپنے آبائی گھر لوٹا تو اسے اندازہ بھی نہ تھا کہ حویلی کی دیواروں میں صرف یادیں نہیں، دشمنیاں بھی زندہ ہیں۔ خاندان کی محبت کے پردے میں حسد، سازشیں اور چھپے ہوئے راز پل رہے تھے۔ کزن مراد ہر قدم پر اس کا دشمن بنا کھڑا تھا، جبکہ امینہ یکطرفہ محبت میں اندھی ہو کر سجاول کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹے الزامات لگانے لگی۔ دوسری طرف پھوپھی زاد بریرہ خاموشی سے ہر مشکل میں اس کا ساتھ دیتی رہی، مگر قسمت نے ان دونوں کے لیے ایک اور آزمائش چھپا رکھی تھی۔ اچانک ایک ہولناک اغوا سب کچھ بدل دیتا ہے، پرانے راز بے نقاب ہونے لگتے ہیں اور انتقام کی ایسی آگ بھڑکتی ہے جس میں پورا خاندان جھلسنے لگتا ہے۔ کیا سجاول اپنے دشمنوں کو پہچان پائے گا، یا اپنوں کی سازشیں اس سے اس کی محبت اور زندگی دونوں چھین لیں گی؟
Shehre E Ashob Novel By Alia Bukhari Novel20889 Complete Urdu Novel
"بیوہ ہونا اتنا بڑا گناہ نہیں تھا... جتنا دوسری بار جینے کی خواہش رکھنا تھا۔"
پہلے شوہر کی جدائی کے بعد خانم نے سمجھا تھا کہ بھائی کا گھر اسے پناہ دے گا، مگر وہاں اسے صرف طعنے، بےرخی اور احساسِ بوجھ ملا۔ مجبور ہو کر اس نے ایک عمر رسیدہ شخص سے نکاح کر لیا، لیکن اس فیصلے نے پورے محلے کو اس کا دشمن بنا دیا۔ ہر قدم پر کردار کشی، ہر دروازے پر نفرت اور ہر نگاہ میں حقارت... آخر خانم کا قصور کیا تھا؟ صرف یہ کہ اس نے بیوہ ہو کر دوبارہ جینے کی کوشش کی تھی؟ شہرِ آشوب ایک ایسی عورت کی دل دہلا دینے والی داستان ہے جو معاشرے کے ظالم فیصلوں کے سامنے ٹوٹنے کے بجائے جینے کی جنگ لڑتی ہے۔