Aadha Such Novel by Nayab Jeelani Novel 20800 | Complete Urdu Novel
Aadha Such Novel by Nayab Jeelani Novel 20800
Second Marriage | Forced Marriage | Family Drama | Emotional Romance | Tribal Culture

محبت، خودداری اور دوسری شادی کے درمیان بکھرتے رشتوں کی دل گداز داستان۔
“سلطان خان نے اپنی سوتیلی ماں کی بھانجی سے دوسری شادی کر لی ہے
“کیا؟” درِ شہوار کے دل میں نیزے کی انی پیوست ہو گئی۔وہ دلہن بنی اپنی زندگی کی شروعات کرنے جا رہی تھی جب شادی کی پہلی رات ہی یہ خبر سن کر اسکا رواں رواں سلگ اٹھا تھا۔
“پھوپھی جان، یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔” وہ وحشت سے بولی۔
عالمتاب کی سوکن زیتون بانو کی بھانجی سیتو نے اس کو ہرا دیا تھا۔ درِ شہوار گویا پورے قد سے ڈھے گئی۔ اس قدر تذلیل اور توہین کے احساس نے اس کی آنکھوں کو نم کر دیا تھا۔
کیا کوئی درِ شہوار کو بھی رد کر سکتا ہے؟ آئینہ اس کے قیامت سراپے کو دیکھ کر تمسخر اڑانے لگا۔
“شہوار بچے، اپنی پھوپھی کو معاف کر دو۔” وہ دونوں ہاتھ جوڑ کر رونے لگیں.
“پلیز پھوپھی جان! کیوں گنہگار کر رہی ہیں۔ اس میں بھلا آپ کا کیا قصور؟” اس نے فوراً ان کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر چوما۔
“میں کبھی اپنے چھوٹے بھائی زریاب خان کے سامنے سر اٹھا کر نہیں جی سکوں گی۔” ان کے آنسو ایک تواتر سے بہہ رہے تھے۔
“نصیبوں کے کھیل ہیں۔” وہ تلخی سے بولی۔ “آپ خود کو دوش مت دیں۔”
“درِ شہوار، تمہاری ہمت سے بڑھ کر بوجھ تمہارے کندھوں پر آن پڑا ہے۔ کیا اس بوجھ کو اٹھانے کی طاقت ہے تم میں؟” وہ اس سے کس چیز کی امید رکھتی تھیں، درِ شہوار سمجھ چکی تھی۔
ایک خود غرض شخص نے اپنی ضد اور خواہش کے آگے کسی کی پوری زندگی داؤ پر لگا دی ہے۔ سلطان خان ایک ضدی اور انا پرست ہے تو میری رگوں میں بھی آفریدی خاندان کا لہو دوڑ رہا ہے۔ مجھے اپنی عزت اور ذات کا افتخار، خودداری ہر شے سے عزیز ہے۔ اس کمرے کی کوئی بھی بات آفریدی قبیلے تک تو کیا، اس حویلی کی غلام گردشیں بھی سن نہیں پائیں گی۔ آپ بے فکر ہو جائیں پھوپھی جان! میں اپنی بکھری ذات کو سمیٹ لوں گی۔ بس مجھے اس ایک رات اپنی محبت کی شکست پر جی بھر کے رونے دیں۔ شاید اس دل کا کچھ بوجھ آنسو بن کر بہہ جائے۔” وہ اپنا لباس سمیٹ کر اندر چلی گئی تھی۔
بہت دیر بعد جب وہ لباس تبدیل کر کے باہر آئی تو اس کا دل گویا اچھل کر حلق میں آ گیا۔ سامنے صوفے پر سلطان خان بیٹھا تھا۔ اس کی یہاں موجودگی درِ شہوار کے لیے باعثِ حیرت تھی۔ اسے آتا دیکھ کر وہ ایک دم سیدھا ہوا۔
“کیسی ہو درِ شہوار؟”
“کیسا ہونا چاہیے مجھے؟” اس نے الٹا سوال داغ دیا۔ لہجہ بے انتہا تلخ تھا۔
“تمہیں یقیناً کچھ دیر پہلے ہونے والی کارروائی کے متعلق خبر ہو چکی ہے۔” درِ شہوار کے دھلے دھلائے چہرے اور خصوصاً آنکھوں کے تاثرات سے وہ بالکل ٹھیک اندازہ لگا چکا تھا۔ وہ سیج سجائے نہیں بیٹھی تھی۔ اس کا انداز عام روایتی دلہنوں جیسا بھی نہیں تھا۔
“میں پوچھ سکتی ہوں کہ میرے ساتھ اس ڈرامے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟” اس کے لفظ لفظ میں تلخی رچی ہوئی تھی، آنکھوں میں سرخی اترنے لگی۔
“اس وقت تم غصے میں ہو، ہم بعد میں بات کریں گے۔ رات بہت ہو گئی ہے، میرا خیال ہے اب سو جانا چاہیے۔” وہ کتنے اطمینان سے کہہ رہا تھا، اسے بے اطمینان کر کے۔
“کون سی بات کرو گے؟ میں تم سے کلام کرنا بھی گوارا نہیں کرتی۔ دھوکا دیا ہے تم نے مجھے۔ یہاں سونے کی بھی ضرورت نہیں، میرے کمرے میں آنے کی بھی ضرورت نہیں۔ جاؤ اپنی نئی نویلی دلہن کے پاس۔” وہ گویا ایک دم پھٹ پڑی۔
“میں نے تمہیں دھوکا نہیں دیا۔ اگر بڑی اماں (عالمتاب) نے تمہیں کچھ نہیں بتایا تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ اور نکاح تو مجھے سیتو سے کرنا ہی تھا۔ اگر آج ہی میں اسے حویلی لے آیا ہوں تو یہ وہ عہد ہے جسے مجھے ہر صورت نبھانا تھا۔ ہمارے ہاں عہد سے پھرنے والا بے غیرت اور بزدل کہلاتا ہے۔ مجھے چھوٹی اماں زیتون بانو سے کیا وعدہ ضرور پورا کرنا تھا۔ انسلٹ تو تمہاری تب ہوتی جب میں سیتو کو اولیت دیتا، پہلے اس سے نکاح کرتا، اس وقت سیتو کے کمرے میں موجود ہوتا۔ تم درِ شہوار آفریدی ہو، کوئی تمہاری جگہ نہیں لے سکتا، کوئی تمہارا مقابلہ نہیں کر سکتا۔” سلطان خان بہت نرمی سے، بہت رسان سے کہہ رہا تھا۔
“تم نے اسے میرے برابر تو کھڑا کر دیا ہے۔ تم نے مجھے میری ہی نظروں سے گرا دیا ہے۔ اگر اتنا ہی عشق نے اندھا کر رکھا تھا تو میرے گلے میں اس نام نہاد بندھن کا طوق کیوں ڈالا؟” وہ زہر خند ہوئی۔
“میں اسی لیے تم سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ شہر کی عورتیں ہوتی ہی بدزبان اور بدلحاظ ہیں۔” سلطان بھی شائستگی کا چولا اتار کر دہاڑا۔ اس عشق کے الزام نے اسے سر تا پا سلگا دیا تھا۔
“تو نہ کرتے، کس نے مجبور کیا تھا؟”
“تمہاری پھوپھی جان نے۔” وہ بھی کرختگی سے بولا۔
“کسی نے گن پوائنٹ پر نکاح نہیں پڑھوایا تھا۔ مرد تھے، انکار کر دیتے۔” درِ شہوار پھنکاری۔
“انکار کرنے ہی گیا تھا کراچی جب تمہیں۔۔۔” وہ مزید کچھ کہنے سے پہلے لب بھیج کر خاموش ہو گیا۔
“تم نے مجھے برباد کر دیا ہے۔”
“ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا۔ تم اپنے ہر فیصلے میں آزاد ہو، خوب سوچ سمجھ لو۔ مجھے تمہارا ہر فیصلہ منظور ہو گا۔” وہ زچ ہو کر دھیمے سے بولا۔
“کون سا فیصلہ کر لوں؟ یہی نہ کہ میں تم سے طلاق کا مطالبہ کروں۔ تم میرے کندھے پر بندوق رکھ کر چلانا چاہتے ہو، خود پر سے فرماں برداری کا یہ لیبل نہیں اتروانا چاہتے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں تم سے کبھی طلاق نہیں لوں گی۔ مجھے شمائلہ نہیں بننا۔ ہر دور میں عورت مجبور رہی ہے، کبھی خاندان کی وجہ سے، کبھی ماں باپ کی عزت کی وجہ سے اور کبھی اس نسب کو بچانے کی وجہ سے عورت عالمتاب کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ آج سے ستائیس سال پہلے تمہارے باپ نے میری پھوپھی پر سوکن کو بٹھایا تھا، تم بھی تو اسی باپ کی اولاد ہو۔” درِ شہوار نے تنفر سے کہا۔
“درِ شہوار، میں تم سے سخت لہجے میں بات نہیں کرنا چاہتا۔” اس نے ہاتھ اٹھا کر شہوار کو مزید بولنے سے روکا۔ “ابھی برابر والے کمرے میں جا رہا ہوں۔ ذرا ٹھنڈے دماغ سے سوچنا کہ بسترِ مرگ پر ماں موجود ہو، اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں، سانسوں کی ڈور ٹوٹنے والی ہو اور وہ آخری خواہش کا اظہار کرے تو آدمی کو کیا کرنا چاہیے؟ بڑی اماں نے تو صرف پیدا کیا تھا جبکہ مجھے پالنے والی چھوٹی اماں تھیں جن سے مجھے عقیدت کی حد تک محبت ہے۔ سیتو مزارعے خیرا کی بیٹی تھی، زیتون بانو کی بھانجی تھی مگر اب وہ سلطان خان کی زوجیت میں ہے۔ جتنے تمہارے حقوق ہیں، اتنے ہی سیتو کے بھی ہیں۔ اگر تمہیں میرا فیصلہ، میرا ساتھ منظور نہ ہوا تو میں تمہاری خوشی کا احترام کروں گا۔ دلوں کے سودے زور زبردستی سے نہیں ہوتے۔ اپنے فیصلے سے آگاہ کر دینا۔ تم یونیورسٹی کی پوزیشن ہولڈر ہو اور میں کم پڑھا لکھا عام سا انسان ہوں۔ خانوں کی پشتوں میں آج تک کسی نے بیوی کو طلاق نہیں دی، یہ عورت کی ہی نہیں مردانگی کی بھی توہین ہے، مگر مجھے درِ شہوار کی خوشی عزیز ہے۔” وہ اپنی بات مکمل کر کے ڈگ بھرتا باہر نکلتا چلا گیا۔
“میں سلطان خان سے بھلا طلاق کسی طرح لے سکتی ہوں؟ ممی تو اس رشتے کے حق میں ہی نہیں تھیں۔ میں اس سے طلاق لوں؟ ہرگز نہیں، کبھی نہیں۔ میں کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع کیوں دوں، سب میرا تمسخر اڑائیں گے اور میں اس ذلت کو کیسے برداشت کروں گی۔” وہ تکیے پر سر رکھے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔
Click the below link to download Novel
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤن لوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی
1st Link
Download link
2nd Link
Download Link
3rd Link
Download Link
4th Link
Download Link
Summary
وہ پاگلی دل کی ملکہ ہمایرا رباب کا ایک منفرد رومانوی ناول ہے جس میں محبت، معصومیت، شادی، خاندانی روایات اور جذباتی تعلقات کو خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ کہانی سبحان اور اس کی نئی نویلی دلہن کے گرد گھومتی ہے، جس کی بے ساختہ معصومیت، بچوں جیسی باتیں اور منفرد انداز ہر لمحے کہانی کو دلچسپ بنا دیتے ہیں۔ وقت کے ساتھ دونوں کی زندگی میں محبت، اعتماد، آزمائش اور جذبات کے کئی رنگ سامنے آتے ہیں جو قاری کو آخری صفحے تک اپنے ساتھ باندھے رکھتے ہیں۔
Woh Pagli Dil Ki Malika by Humaira Rubab, Humaira Rubab Novels, Complete Urdu Novel, Romantic Urdu Novel, Age Gap Romance, Emotional Love Story, Pakistani Urdu Novel
FAQs
Woh Pagli Dil Ki Malika kis qisam ka novel hai?
Yeh aik romantic, emotional aur comedy family drama Urdu novel hai.
Is novel ki writer kaun hain?
Is novel ki writer Humaira Rubab hain.
Kya Woh Pagli Dil Ki Malika complete novel hai?
Ji haan, yeh complete Urdu novel hai jo Novelistan par dastiyab hai.
Is novel ki kahani kis bare mein hai?
Yeh kahani arranged marriage, masoom heroine, mohabbat, family relationships aur zindagi ke khoobsurat safar par mabni hai.
Woh Pagli Dil Ki Malika online kahan parh sakte hain?
Aap Novelistan par is novel ko online aur mukammal taur par parh sakte hain.
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕