Sneak
"بجلی کا بل تیرا باپ دے گا جو اے سی چلا کر سو رہی ہے؟" عالیہ پھپھو کی کرخت آواز پر عنایہ کے سینے سے لگا ننھا منان نیند ٹوٹنے پر رونے لگا۔ "امی! ڈاکٹر نے کہا تھا ٹانکوں کو گرمی نہیں لگنی چاہیے ورنہ نیچے انفیکشن ہو جائے گا۔" وہ نازک جان ہفتہ پہلے ڈیلیوری جیسے دردناک عمل سے گزری تھی، تبھی ٹانکوں میں شدید جلن محسوس کرتے اس نے پہلی بار اے سی آن کیا تھا۔ "لگتا ہے فارغ رہ کر تیرا دماغ خراب ہو گیا ہے، چلو اٹھ برتن دھو! شام کو نمرہ کے سسرال والے آئیں گے۔" عالیہ بیگم بیٹیوں سمیت اے سی والے کمرے میں جا سوئیں۔ جبکہ وہ بمشکل اپنا بکھرا وجود سنبھالتی تپتی دوپہر میں برتن مانجھ رہی تھی کہ گھر والوں کو سرپرائز دینے نوید شاہ اچانک گھر میں آیا تو گرمی سے بے حال منان اور عنایہ کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ ساری رات منان جاگتا رہا، نیند پوری نہ ہونے کی سرخی ابھی تک عنایہ کی آنکھوں میں تھی اور ساتھ ہی ساتھ سر اتنا بھاری ہو رہا تھا کہ اس وقت منان کا رونا اسے مزید تکلیف دے رہا تھا۔ وہ ابھی صرف دس دنوں کا تھا۔ وہ ساری رات جاگتا رہتا اور دن میں بھی گرمی کی وجہ سے اسے کوئی خاص نیند نہیں آتی تھی۔ بیٹھ بیٹھ کر اس کا اپنا زخم اکڑ چکا تھا۔ اس وقت اسے اپنی ماں کی کتنی شدت سے یاد آ رہی تھی! کاش وہ بتا سکتی، اس کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ اڑ کر اپنی ماں کے پاس پہنچ جائے یا کسی بھی طرح سے اس کی ماں کو بلا لیا جائے۔ اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے وہ اٹھی اور مشکل سے بیڈ سے اتری۔ درد کو برداشت کرتے ہوئے اس نے دروازہ بند کیا اور اے سی آن کر لیا۔ پہلی بار وہ یہ جسارت کر رہی تھی، عالیہ بیگم کی اجازت کے بغیر اے سی آن کرنا! دوپٹہ اتار کر سائیڈ پر رکھتے ہوئے اس نے بالوں کو سمیٹا اور ایک بار پھر منان کو اٹھا کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ کمرے میں گرمی کی حدت کم ہوتی جا رہی تھی اور منان بھی پرسکون ہوا۔ آہستہ آہستہ وہ اس کے سینے سے لگ کر گہری نیند میں چلا گیا، جبکہ آنکھیں بند کرتے ہوئے وہ بھی کس وقت نڈھال ہو کر نیند کی آغوش میں گئی، اسے بالکل بھی اندازہ نہیں ہوا۔ ایک سکون اس کے چہرے پر سرایت کرتا چلا گیا۔ رات سے جاری ہلکا ہلکا درد اب آرام پانے لگا۔ کچن میں برتنوں کے پٹخنے کی آواز بتا رہی تھی کہ آج کچن عالیہ بیگم کے ذمے لگا ہوا ہے۔ بڑبڑا کر وہ اسے خوب سنا رہی تھیں۔ "ہم نے بھی بچے پیدا کیے ہیں، خیر سے دو تین دنوں کے بعد اٹھ کر اپنے کام سنبھالتے تھے، ایک یہ مہارانی ہے کہ بیڈ سے اترنے سے بھی فرصت نہیں!" ان کی بیٹیاں بھی اپنے کمرے میں تھیں۔ انہوں نے نہ ہی کبھی پہلے گھر کے کسی کام کو ہاتھ لگایا تھا اور نہ ہی اب۔ کچن سے وہ جس وقت نکلیں، ان کے چہرے کی رنگت سرخ تھی۔ کتنے عرصے کے بعد انہیں کھانا بنانا پڑ رہا تھا اور یہ کام انہیں سراسر موت نظر آ رہا تھا۔ پہلے اس گھر کی تمام ذمہ داریوں کو عنایہ نے سنبھالا ہوا تھا، لیکن صرف ایک ہفتہ پہلے اس کی ڈلیوری ہوئی اور بادل نخواستہ اسے آرام کے لیے روک دیا گیا۔ لیکن یہ آرام اب عالیہ بیگم کے گلے پڑ چکا تھا۔ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جاتے ہوئے وہ سیدھا اس کے کمرے میں چلی گئیں۔ انہوں نے کبھی دروازے پر دستک دینا مناسب نہیں سمجھا تھا اور نہ ہی اسے اجازت تھی دروازے کو لاک کر کے سونے کی، اس لیے دھاڑ سے دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوئیں اور اے سی کی ٹھنڈک نے ان کا استقبال کیا۔ ان کے چہرے کے تاثرات بدلتے چلے گئے، جبکہ وہ اتنی گہری نیند میں تھی کہ ان کے اندر آنے پر بھی اسے ہوش نہیں تھا۔ قدم آگے بڑھاتے ہوئے عالیہ بیگم نے سختی سے اس کا بازو جھٹکا اور اسے اٹھا کر بٹھا دیا، جبکہ تکلیف کی شدت سے سنبھل کر بیٹھتے ہوئے وہ سر اٹھا کر پھوپھو کو دیکھنے لگی۔ "بجلی کا بل تمہارا باپ دے گا جو اے سی چلا کر سو رہی ہو تم؟" ان کی تیز دھاڑتی ہوئی آواز اسے سہم جانے پر مجبور کر رہی تھی۔ اپنی بڑی بڑی آنکھوں کو کھولے وہ حیرت سے انہیں دیکھ رہی تھی اور اگلے ہی لمحے جب غنودگی ختم ہوئی تو ایک نظر منان کو دیکھنے کے بعد وہ ہاتھ اٹھا کر انہیں خاموش رہنے کا اشارہ کرنے لگی۔ عالیہ بیگم نے سختی سے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔ "تمہاری اتنی اوقات نہیں ہے کہ یہاں بستر پر آرام کرو اور میں کچن میں سڑتی رہوں۔" انہیں کہاں برداشت تھا کہ وہ بستر پر آرام سے سوئی رہتی! ان کا بیٹا مکمل طور پر ان کے قبضے میں تھا۔ اس وقت اس تک وہی بات پہنچتی جو وہ خود پہنچانا چاہتی تھیں اور ان باتوں میں زیادہ تر عنایہ کی ہی برائی ہوتی۔ سو اس قید مسلسل سے جان چھوٹنا اتنا آسان نہیں تھا۔ "پھوپھو! میں نے بس تھوڑی دیر کے لیے لگایا ہے۔" ڈر کر روتے ہوئے بیٹے کو اٹھا کر اس نے سینے سے لگا لیا، لیکن عالیہ کو نہ اپنے پوتے کی فکر تھی اور نہ ہی اس کی حالت کی۔ "تھوڑی دیر کے لیے لگایا ہے! یہ زیادہ دیر کے لیے تمہیں میری چیزوں کو ہاتھ لگانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ اگر اتنی ہی آگ لگی ہوئی ہے تمہارے اندر تو جاؤ اور باپ سے کہو، وہ تمہارے لیے اے سی لگوا دے۔" کاش وہ کہہ پاتی کہ یہاں خرچ ہونے والے پیسے بھی تو اس کے شوہر کے تھے، لیکن کیسے کہتی؟ اگر وہ اتنی زبان چلاتی تو عالیہ بیگم ضرور اس وقت تک اسے زیر زمین دفن کر دیتیں۔ انہوں نے جھٹکے سے منان اس کے ہاتھ سے کھینچ لیا۔ وہ چند دنوں کا بچہ، جو ان کے بیٹے کی اکلوتی اولاد ہونے کے باوجود ان کی نفرت کی بھینٹ چڑھ رہا تھا۔ "اترو نیچے، ابھی اور اسی وقت!" ان کے حکم دینے پر وہ دوپٹہ اٹھا کر جلدی سے بیڈ سے اتری۔ ایک ہفتہ پہلے کسی سرکاری ہسپتال سے چھوٹے آپریشن کے ذریعے اس کی نارمل ڈلیوری کروائی گئی تھی اور دو دن اس نے جو عذاب جھیلے، وہ وہی جانتی تھی اور اس کا خدا جانتا تھا۔ لیکن یہ سزا تھی کہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ بھری ہوئی آنکھوں کے ساتھ اپنے بیٹے کے رونے کی آواز سنتی ہوئی وہ کمرے سے باہر نکلی۔ اس کا رخ کچن کی جانب تھا، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ عالیہ بیگم اس وقت گندے کچن کو کبھی بھی برداشت نہیں کریں گی۔ انہوں نے کھانا تو بنا لیا تھا، لیکن کھانے کے بعد برتنوں کا ڈھیر دھونا اور کچن کو سمیٹنا باقی تھا۔ اس کے بعد ہی اسے تھوڑا آرام مل سکتا تھا۔ اپنے ٹوٹتے ہوئے وجود کو سنبھال کر وہ کچن میں چلی آئی۔ آنکھوں سے لگاتار آنسو بہہ رہے تھے۔ باہر سے ہنگاموں اور بچے کے رونے کی آواز پر حمزہ کے علاوہ کسی نے جھانک کر نہیں دیکھا۔ "کیا ہوا بھابھی، سب ٹھیک ہے؟" کانوں میں ہیڈ فری لگا کر وہ اشارے سے پوچھ رہا تھا اور اس نے بس ہاں میں سر ہلا دیا اور کچن میں چلی گئی۔ جبکہ اس کے چہرے پر ایک نظر ڈالتے ہوئے، روتے ہوئے منان کو سنبھالنے کی کوشش میں ہلکان ہوتی عالیہ بیگم نے نیچے جا کر اپنی بیٹیوں کو بلایا جو فوراً اے سی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گئیں۔ یونیورسٹی سے آنے کے بعد ویسے بھی وہ ان کے آرام کرنے کی جگہ ہوتی۔ اب کھانا بن رہا تھا تو وہ آرام سے یہاں بیٹھ کر کھانا کھاتیں اور اس کے بعد بیٹھ یا لیٹ جاتیں۔ منان کو انہوں نے تھوڑی دیر ہی سنبھالا، جب تک کہ عالیہ بیگم ان کے لیے کھانا نکال کر وہیں کمرے میں نہیں لے گئیں۔ عنایہ کا پورا وجود کانپ رہا تھا۔ صبح سے اس نے کچھ نہیں کھایا تھا اور درد تھا کہ اس کے سر چڑھتا جا رہا تھا۔ تکلیف کی شدت سے ایک پاؤں کو اٹھاتی اور دوسرے پاؤں کو نیچے رکھتی، یہاں پر اس کی ماں کو بھی آنے کی اجازت نہیں تھی۔ بظاہر تو عالیہ بیگم اس کی ماں کی نند تھیں، لیکن انہوں نے ساری زندگی اپنے بھائی کے گھر پر راج کیا تھا اور اس کے باپ کو بڑی محبت دکھاتے ہوئے کہہ دیا تھا کہ بھابھی کو بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔ عنایہ کی ایک ماں اپنے گھر پر ہے اور وہ اس کا بہت اچھے سے خیال رکھ سکتی ہے۔ اس کے باپ نے پہلے اسے بیٹی ہونے کا درجہ دیا تھا، لیکن اب اپنی بہن کے خلاف اس کی باتوں کو کیسے تسلیم کرتا؟ یعنی دونوں طرف سے گھیر لی گئی وہ! ایک طرف عالیہ بیگم کا بیٹا ان کے ہاتھ میں تھا اور دوسری طرف اس کا باپ۔ اذیت در اذیت! بس کچھ ہی دیر گزری اور جیسے ہی وہ برتن دھو کر پلٹی، عالیہ بیگم نے منان کو بھی اس کے حوالے کر دیا۔ "یہ لو! اسے لاؤنج میں بیٹھ کر دودھ پلاؤ، بچیاں کمرے میں سو گئی ہیں تو ان کو ڈسٹرب کرے گا۔" حیرت سے انہیں دیکھنے کے بعد اس نے وہ نازک سا وجود اٹھا لیا جو روئی کے گالے کی طرح نرم اور سفید تھا۔ کچھ دیر اسے اپنے سینے سے لگائے رکھا اور پھر وہیں لاؤنج میں ہی اسے پنکھے کے نیچے رکھ کر دوبارہ کچن میں چلی آئی۔ منان ایک بار پھر گہری نیند میں جا چکا تھا اور اس کے سوتے ہی وہ باقی سارے کام سنبھال سکتی تھی۔ سر تھا کہ چکراتا جا رہا تھا، لیکن اس وقت تک اسے کچھ کھانے کی اجازت نہیں تھی جب تک وہ پورا گھر نہ سمیٹ لیتی۔ اس کے سامنے کھڑا ہوا شخص نوید شاہ تھا! وہ، جسے دیکھنے کے لیے اس کی آنکھیں ترس جاتی تھیں۔ وہ، جس کے بغیر رہنے کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ بڑی بڑی بھوری آنکھوں میں اترتے ہوئے آنسو بے یقینی کے تھے یا دکھ کے، وہ سمجھ نہیں پائی۔ جبکہ اس کے چہرے کی رنگت، اس کا زرد پڑتا ہوا وجود اور درد سے نڈھال ہو کر سلگنا وہ بخوبی دیکھ چکا تھا۔ "تم یہاں کیا کر رہی ہو؟" اس کی حیرت بھری سرگوشی عنایہ کے کانوں سے ٹکرائی۔ "برتن دھو رہی تھی۔" روندھے ہوئے لہجے میں اس نے کہہ دیا اور آنسو اس کی آنکھوں سے ٹوٹ کر رخساروں پر گرنے لگے۔ "تم برتن کیوں دھو رہی تھی اور منان باہر سو رہا تھا؟ باقی سب کدھر ہیں؟" زندگی میں پہلی بار وہ اس کے سامنے دھاڑ نہیں رہا تھا۔ وہ بہت آرام سے، سرگوشی اور حیرت سے پوچھ رہا تھا۔ اس کے لہجے سے پھوٹتا ہوا دکھ عنایہ کے سامنے بالکل واضح تھا۔ "باقی سب سو رہے ہیں اور یہ باہر سو رہا ہے کیونکہ اے سی میں باقی سب آرام کر رہے ہیں۔ سب لوگ ڈسٹرب ہوتے ہیں جب یہ روتا ہے!" بنا پلکیں جھپکائے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ بس سرگوشیاں کر رہے تھے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ ایک کی آنکھوں میں آنسو جمے ہوئے تھے اور دوسرے کی آنکھوں سے آنسو رخساروں پر بہتے جا رہے تھے۔ خوش فہمی کا محل اس کے قدموں میں زمین بوس ہوتا چلا گیا۔ "امی کہاں ہیں؟" اس نے دوبارہ وہی سوال دہرایا۔ "اوپر کمرے میں ریسٹ کر رہی ہیں۔" خود کو سنبھال کر پیچھے ہٹتے ہوئے اس نے نوید کے ہاتھوں سے منان کو لے لیا۔ اسے سینے سے لگا کر وہ چپ چاپ کچن سے نکلتی چلی گئی اور وہ بے یقینی سے اس کی پشت کو دیکھ رہا تھا۔ "نہیں، نہیں! اے سی تو بس اسی وقت چلتا ہے جب عنایہ کو آرام کرنا ہوتا ہے اور ہمارے چاند کا ٹکڑا کمرے میں ہوتا ہے، ورنہ تمہیں تو پتہ ہے، مجھے اے سی کی عادت نہیں ہے اور تمہاری بہنیں ویسے سارا سارا دن کام میں الجھی رہتی ہیں، کام بھی تو بہت بڑھ گیا ہے نا!" صرف دو دن پہلے اس نے اپنی ماں سے بات کی تھی اور ان کے الفاظ ابھی تک اس کے ذہن کی اسکرین پر دوڑ رہے تھے۔ وہ اس کے پیچھے نہیں گیا۔ وہ نڈھال وجود کے ساتھ صوفے پر گرا، لیکن وہ اسے دیکھنے کے لیے نہیں گیا۔ مضبوط قدم اٹھا کر وہ سرخ آنکھوں کے ساتھ اس کمرے کی طرف بڑھتا جا رہا تھا جو اس کے نام سے منسوب تھا، جس پر سب سے زیادہ حق اس کی بیوی اور بچے کا تھا۔ آج تک وہ اپنی ماں پر اندھا اعتماد کر کے جی رہا تھا۔ اس نے ہر رشتے کو پس پشت ڈال دیا۔ اس لڑکی کو وہ صرف محبت کرنے کی سزا دیتا رہا، جو لڑکی اس کے نام سے منسوب تھی، جس کے حقوق پورے کرنے میں اس نے ہر بار کوتاہی کی۔ ہر بار اسے ماں کے حوالے کرتے ہوئے اس کی ذات کو فراموش کر گیا۔ لڑکھڑاتا ہوا ہاتھ اس نے دروازے کے ہینڈل پر رکھا اور دروازہ کھول دیا۔ یہ جھوٹ تو نہیں تھا، بالکل سچ تھا! سامنے بیڈ پر اس کی ماں لیٹی ہوئی تھیں، ساتھ اس کی بہنیں، نیچے میٹرس بچھا ہوا تھا۔ ایک بہن آڑی ترچھی نیچے لیٹی موبائل چلا رہی تھی اور دوسری اوپر۔ اپنے ماتھے پر بازو رکھے عالیہ بیگم کی آنکھیں بند تھیں۔ سب سے پہلے اسے رابعہ نے دیکھا۔ وہ جلدی سے اٹھی، حیرانگی اس کے چہرے پر تھی۔ "بھائی آپ؟" اس کی آواز میں ہلکی سی پرجوشی تھی، جس نے بھائی کے چہرے پر پھیلے ہوئے تاثرات بھی نہیں جاننے دیے۔ وہ قدم بڑھا کر اندر داخل ہوا۔ مہوش نے بھی موبائل رکھا اور جلدی سے بیڈ سے اتری۔ کمرے میں ہونے والے ہنگامے پر عالیہ بیگم نے بھی سر اٹھایا، لیکن اپنے سامنے کھڑے ہوئے بیٹے کو دیکھ کر ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں! پہلے تو انہیں یقین ہی نہیں آیا کہ ان کا بیٹا بغیر بتائے گھر واپس آ گیا ہے۔ آخر یہ ہوا تو ہوا کیسے؟ وہ باہر تھا، یقیناً وہ اپنی بیوی اور بچے کو دیکھ کر آ رہا ہوگا اور وہ لوگ کمرے میں سو رہے تھے! دوسرے ہی لمحے انہوں نے پینترا بدلتے ہوئے وہی جذبات اپنے چہرے پر سجائے اور تڑپتے ہوئے بیڈ سے اتریں۔ "ماں صدقے، میرا شہزادہ!" اس کے خوبرو چہرے کو دونوں ہاتھوں میں تھامے وہ اس کے ماتھے پر لب رکھتیں، اس کے کندھوں کو چومتیں۔ وہ اسے اپنی محبت کے جال میں پھنسانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ اب جو ہو چکا تھا، اس پر مٹی ڈالنا بھی تو بہت ضروری تھا۔ "رابعہ! جا بھاگ کے دوسرے کمرے سے اپنی بھابھی کو جگا کر لا، نیچے سو رہی ہوگی۔" ان کے چہرے پر وہی پرجوش تاثرات تھے جو اسے دیکھنے کے بعد آ جاتے تھے۔ جس محبت سے وہ اس کی بیوی کو لانے کا حکم دے رہی تھیں، کبھی اپنی بھابھی کو منہ نہ لگانے والی رابعہ بھی جلدی سے کمرے سے نکلی اور وہیں سے گلا پھاڑ کر اسے بلانا شروع کر دیا۔ "بھابھی اوپر آئیں، بھائی آ گئے ہیں، بھابھی جان!" جس کی پیٹھ پیچھے وہ صرف ان کے لیے منحوسیت کی علامت تھی، اس کے سامنے وہ ان کے لیے ان کی بھابھی جان تھی، ان کی سب سے پسندیدہ انسان بھی! کتنا منافق ہوتا ہے انسان اور آج وہ منافقت بھرے چہرے اس کے سامنے نقاب اتارتے جا رہے تھے۔ صوفے پر بیٹھتے ہوئے اس نے چپ چاپ سر جھکا لیا۔ ایک بہن نیچے سے پانی لانے کے لیے دوڑی، ماں تو صدقے واری جاتے نہیں تھک رہی تھیں۔ جس وقت عنایہ اندر داخل ہوئی، اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔ وہ نہیں جانتی تھی اب کیا ہوگا؟ عالیہ بیگم اس پر کون کون سے الزام لگائیں گی؟ اسے دوبارہ نوید کے سامنے کٹہرے میں کھڑا ہو کر نہ جانے کون کون سے جواب دینے ہوں گے! وہ نازک سا وجود ابھی تک اس کے سینے سے لگا تھا، جسے دیکھنے کے بعد لگتا تھا کہ وہ صرف اور صرف اسی کا ہے، کیونکہ اس کے لیے تمام تر تکلیفیں برداشت کرنے والی وہ اکیلی تھی۔ اس شخص نے تو سوائے ایک رات کے کبھی اس میں اپنا حصہ شامل ہی نہیں کیا۔ "ماں صدقے، اسے مجھے پکڑا دو، آج سارا دن ماں مصروف تھی، میری بچی کی حالت کیسے ہو گئی ہے؟" انہوں نے جلدی سے عنایہ کے ہاتھوں سے منان لے لیا۔ "امی، یہ کچن میں برتن دھو رہی تھی، وہ بھی اس حالت میں، کیوں؟" اتنے عرصے میں یہ پہلا سوال تھا جو اس کی ذات سے منسوب تھا۔ نوید شاہ کی یہ پوچھی ہوئی پہلی بات تھی، جس کے آخر میں کیوں لگا کر وہ اپنی ماں کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ "نہیں بیٹا، میں نے تو نہیں کہا، عنایہ بچے! تم کچن میں کیا کرنے گئی تھی؟" ہمیشہ کی طرح اسے آنکھوں سے خبردار کرتے ہوئے انہوں نے لہجے کی نرمی کو مزید میٹھا کر لیا۔ ان کی آواز لڑکھڑا رہی تھی، لیکن وہ اتنی آسانی سے ہار ماننے والی نہیں تھیں۔ "بس کر دیں امی، خدا کا واسطہ ہے، بس کر دیں، مجھے میری ہی نظروں میں مت گرائیں!" وہ دھاڑا! کمرے کے در و دیوار نے سہم کر اسے دیکھا تھا۔ رابعہ اور مہوش نفرت سے اپنی بھابھی کو دیکھ رہی تھیں جن کی وجہ سے آج ان کا بھائی اپنی ماں سے گستاخی کر رہا تھا۔ یہی تو ہمارے گھرانوں کا مسئلہ ہوتا ہے۔ چاہے مرد اپنی بیوی کی بوٹی بوٹی کر کے کتوں کو کھلا دے تو اسے تسلیم کر لیا جاتا ہے، لیکن اگر وہ بیوی کے حق میں اپنی ماں سے ذرا سے اونچے لہجے میں بات کرتا ہے تو معاشرہ اسے نیزے کی نوک پر سوار کر لیتا ہے۔ آج پہلی بار نوید کو اپنے رویے میں اعتدال کی ضرورت کا احساس ہو رہا تھا۔ "تم مجھ پر چلا رہے ہو! اس بدکردار لڑکی کے لیے تم مجھ پر چلا رہے ہو؟" انہوں نے اس کے زخموں کو کھرچنا چاہا۔ وہی بات، جس کو بنیاد بنا کر وہ آج تک اس پر اپنا حکم چلاتی آئی تھیں، آج بھی وہ اسی بات کا سہارا لے رہی تھیں۔ عالیہ بیگم نے پلٹتے ہوئے عنایہ کو بازو سے دبوچا اور لا کر نوید کے سامنے کھڑا کر دیا۔ "بتاؤ! کیا ڈاکٹر نے تمہیں اے سی کے سامنے سونے سے منع کیا ہے؟ ارے! ابھی ابھی ڈیلیوری ہوئی ہے، ہوا لگ جائے گی۔ اس نے مجھے خود کہا ہے کہ اے سی کے سامنے سوتی ہے تو ہاتھ پاؤں اکڑ جاتے ہیں!" وہ حیرت سے انہیں دیکھ رہی تھی۔ انسان کے معیار کو اتنا بھی نہیں گرنا چاہیے کہ وہ آپ کی نظر میں انسان بھی نہ رہے۔ سہمی ہوئی آنکھوں سے نوید کو دیکھ کر اس نے نفی میں سر ہلا دیا، لیکن وہ نہایت دکھ سے انہیں دیکھ رہا تھا۔ ایک ہنگامہ تھا، ایک جان لیوا ہنگامہ! عالیہ بیگم نے تو آسمان سر پر اٹھا لیا۔ دوڑتا ہوا حمزہ کمرے میں داخل ہوا۔ شاید اسے بھی آوازوں کی خبر ہو چکی تھی۔ مہوش اور رابعہ چیخ چیخ کر عنایہ پر الزام لگا رہی تھیں اور اس کے حق میں بولنے والا شخص بس خاموش کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔ اسے لگا، جو کچھ ہو رہا ہے وہ کبھی بھی برداشت نہیں کر پائے گی۔
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
Summary — Urdu
بچے کی پیدائش کو ابھی چند دن ہی گزرے ہوتے ہیں۔ عنایہ کے جسم پر زخموں اور ٹانکوں کی تکلیف باقی ہوتی ہے، جبکہ نومولود منان کی دیکھ بھال، مسلسل جاگنے اور نیند پوری نہ ہونے سے اس کی کمزوری بڑھتی جا رہی ہوتی ہے۔
ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق اسے آرام اور مناسب ماحول کی ضرورت ہے، لیکن اس کی ساس عالیہ بیگم اس کی جسمانی حالت سمجھنے کے بجائے اسے گھر کے کاموں کی ذمہ دار سمجھتی ہیں۔
شدید گرمی میں ننھا منان رات بھر بے چین رہتا ہے۔ اس کی وجہ سے عنایہ بھی سو نہیں پاتی اور اس کا پورا جسم درد سے نڈھال ہو جاتا ہے۔
ایک دن مسلسل تکلیف اور بے آرامی سے مجبور ہو کر عنایہ ہمت کرتی ہے اور ساس کی اجازت کے بغیر اپنے کمرے کا اے سی چلا لیتی ہے۔
کمرے میں ٹھنڈک پھیلتے ہی ننھا منان اپنی ماں کے سینے سے لگ کر سکون سے سو جاتا ہے۔ عنایہ بھی کئی گھنٹوں کی تھکن اور تکلیف کے بعد پہلی مرتبہ کچھ دیر کے لیے نیند کی آغوش میں چلی جاتی ہے۔
مگر اس کے نصیب میں یہ سکون بھی زیادہ دیر نہیں ہوتا۔
عالیہ بیگم گھر کے کام کرتے ہوئے مسلسل عنایہ کے متعلق شکایتیں کرتی رہتی ہیں۔ انہیں یہ بات برداشت نہیں ہوتی کہ ان کی بہو بچے کی پیدائش کے بعد بستر پر آرام کر رہی ہے، جبکہ انہیں خود باورچی خانے کا کام سنبھالنا پڑ رہا ہے۔
وہ غصے میں عنایہ کے کمرے میں داخل ہوتی ہیں اور اے سی چلتا دیکھ کر مزید مشتعل ہو جاتی ہیں۔
بغیر اس کی تکلیف کا خیال کیے وہ سختی سے اس کا بازو جھٹک کر اسے نیند سے جگا دیتی ہیں۔
ان کی بلند آواز سے ننھا منان بھی جاگ کر رونے لگتا ہے۔
عنایہ گھبرا کر بتاتی ہے کہ ڈاکٹر نے ٹانکوں کو گرمی سے بچانے کی ہدایت کی ہے، اسی لیے اس نے تھوڑی دیر کے لیے اے سی چلایا تھا۔
مگر عالیہ بیگم اس کی وضاحت سننے کے بجائے بجلی کے بل اور گھر کے اخراجات کا طعنہ دیتی ہیں۔
وہ اسے بستر سے اٹھنے اور باورچی خانے میں جا کر برتن دھونے کا حکم دیتی ہیں، کیونکہ شام کو نمرہ کے سسرال والے آنے والے ہوتے ہیں۔
عنایہ کے لیے اپنی تکلیف بیان کرنا بھی آسان نہیں ہوتا۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ساس کے سامنے زیادہ بولنے کی صورت میں اس کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
وہ روتے ہوئے منان کو سینے سے لگاتی ہے، مگر عالیہ بیگم بچے کو بھی اس سے لے لیتی ہیں اور اسے فوراً نیچے جا کر کام کرنے کا حکم دیتی ہیں۔
عنایہ اپنا درد برداشت کرتے ہوئے کچن میں پہنچ جاتی ہے۔
اس کی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے ہوتے ہیں۔ ٹانکوں میں جلن، شدید کمزوری اور نیند کی کمی کے باوجود وہ برتن دھونے میں مصروف ہو جاتی ہے۔
دوسری جانب عالیہ بیگم اپنی بیٹیوں کے ساتھ اے سی والے کمرے میں آرام کرنے چلی جاتی ہیں۔
ان کے نزدیک بہو کا کام کرنا ضروری ہے، لیکن اپنی بیٹیوں کے آرام میں کوئی خلل نہیں آنا چاہیے۔
جب منان کے رونے سے ان کی بیٹیوں کو پریشانی ہوتی ہے تو عالیہ بیگم بچے کو دوبارہ عنایہ کے حوالے کر دیتی ہیں اور اسے لاؤنج میں بیٹھ کر دودھ پلانے کا کہتی ہیں۔
عنایہ اپنے ننھے بیٹے کو سنبھالتی ہے، پھر اسے سلا کر دوبارہ باقی کاموں میں لگ جاتی ہے۔
صبح سے کچھ نہ کھانے کی وجہ سے اس کا سر چکرا رہا ہوتا ہے، مگر اسے گھر کے کام مکمل ہونے تک کھانے اور آرام کی فرصت نہیں ملتی۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی ماں کو بھی اپنے پاس نہیں بلا سکتی۔
عالیہ بیگم نے اس کے والد کو یقین دلا رکھا ہوتا ہے کہ وہ عنایہ کی اپنی بیٹی کی طرح دیکھ بھال کر رہی ہیں، اس لیے اس کی والدہ کو آنے کی ضرورت نہیں۔
عنایہ دونوں طرف سے بے بس ہو کر رہ جاتی ہے۔
اس کا شوہر نوید شاہ بھی اپنی ماں کی باتوں پر مکمل اعتماد کرتا ہے۔ عالیہ بیگم اسے ہمیشہ یہی یقین دلاتی ہیں کہ عنایہ اور منان بہت آرام سے رہ رہے ہیں اور گھر میں سب ان کا خیال رکھتے ہیں۔
مگر ایک دن حالات اچانک بدل جاتے ہیں۔
نوید شاہ گھر والوں کو حیران کرنے کے لیے بغیر اطلاع دیے واپس آ جاتا ہے۔
گھر میں داخل ہوتے ہی وہ اپنی بیوی اور بچے کی ایسی حالت دیکھتا ہے جس کا اس نے کبھی تصور نہیں کیا ہوتا۔
عنایہ شدید گرمی اور کمزوری میں گھر کے کام کر رہی ہوتی ہے، جبکہ نومولود منان بھی مناسب آرام سے محروم ہوتا ہے۔
نوید اپنی بیوی کی زرد رنگت، تھکے ہوئے چہرے اور درد سے نڈھال وجود کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے۔
وہ پوچھتا ہے کہ عنایہ اس حالت میں برتن کیوں دھو رہی ہے اور منان باہر کیوں سو رہا ہے۔
عنایہ روتے ہوئے بتاتی ہے کہ گھر کے باقی افراد اے سی والے کمرے میں آرام کر رہے ہیں اور منان کے رونے سے انہیں پریشانی ہوتی ہے۔
یہ سن کر نوید کے ذہن میں اپنی ماں کی وہ تمام باتیں گونجنے لگتی ہیں جن میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ عنایہ اور بچے کی بہترین دیکھ بھال ہو رہی ہے۔
اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسی خوش فہمی میں زندگی گزار رہا تھا جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
نوید خاموشی سے اپنی ماں کے کمرے کی طرف بڑھتا ہے۔
وہاں عالیہ بیگم اور ان کی بیٹیاں آرام سے اے سی میں موجود ہوتی ہیں۔
اپنے بیٹے کو اچانک سامنے دیکھ کر عالیہ بیگم پہلے گھبرا جاتی ہیں، مگر فوراً اپنے رویے میں تبدیلی لے آتی ہیں۔
وہ محبت بھری باتوں سے نوید کا استقبال کرتی ہیں اور بہو کے متعلق بھی ایسے انداز میں گفتگو شروع کر دیتی ہیں جیسے انہیں عنایہ سے بے حد محبت ہو۔
ان کی بیٹیاں بھی اپنے بھائی کے سامنے بھابھی کے لیے غیر معمولی اپنائیت ظاہر کرنے لگتی ہیں۔
مگر اس مرتبہ نوید سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوتا ہے۔
اسے اپنی بیوی کی تکلیف اور گھر والوں کے دوہرے رویے کا احساس ہونے لگتا ہے۔
جب عنایہ منان کو لے کر کمرے میں آتی ہے تو وہ خوف زدہ ہوتی ہے کہ کہیں ساس اس پر مزید الزام نہ لگا دیں۔
لیکن نوید پہلی مرتبہ اپنی ماں سے سوال کرتا ہے کہ عنایہ بچے کی پیدائش کے اتنے کم دن بعد بھی اس حالت میں برتن کیوں دھو رہی تھی۔
عالیہ بیگم فوراً اپنی ذمہ داری سے انکار کرتے ہوئے ظاہر کرتی ہیں کہ انہوں نے تو عنایہ کو ایسا کوئی حکم نہیں دیا تھا۔
وہ اپنے دفاع میں یہ بھی کہتی ہیں کہ عنایہ کو اے سی میں سونے سے تکلیف ہوتی ہے۔
مگر عنایہ کے ردعمل سے نوید کو احساس ہو جاتا ہے کہ اس کے سامنے ایک اور غلط بیانی کی جا رہی ہے۔
اپنی ماں کی مسلسل صفائیوں اور بیوی کی حالت کو دیکھ کر نوید کا ضبط جواب دے جاتا ہے۔
وہ پہلی مرتبہ اپنی ماں کے سامنے بلند آواز میں انہیں مزید جھوٹ بولنے سے روک دیتا ہے۔
اس کے اس ردعمل پر عالیہ بیگم اور ان کی بیٹیاں حیران رہ جاتی ہیں۔
عالیہ بیگم اپنے بیٹے پر ناراض ہوتی ہیں اور عنایہ کے کردار پر بھی الزام لگاتی ہیں تاکہ نوید کو دوبارہ اپنی باتوں کے زیرِ اثر لا سکیں۔
گھر کا ماحول شدید کشیدہ ہو جاتا ہے۔
عنایہ ایک بار پھر خود کو الزامات اور تلخ گفتگو کے درمیان گھرا ہوا محسوس کرتی ہے۔
وہ اس شخص کو دیکھتی ہے جس نے آج تک اسے ماں کے حوالے کر کے اپنی ذمہ داریوں سے آنکھیں چرائے رکھی تھیں، مگر آج پہلی مرتبہ وہ اس کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر سوال اٹھا رہا ہوتا ہے۔
اس کے باوجود عنایہ کے دل میں یہ خوف باقی رہتا ہے کہ شوہر کی اچانک واپسی کے بعد حالات اس کے حق میں بدلیں گے یا مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔
یہ جذباتی خاندانی ناول ایک ایسی ماں کی تکلیف اور قربانیوں کو پیش کرتا ہے جو نومولود بچے کے ساتھ اپنے ہی گھر میں مناسب آرام اور عزت سے محروم ہے۔
دوسری جانب نوید شاہ کے سامنے حقیقت آنے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ اپنی ماں کے اثر سے نکل کر بیوی اور بچے کے حقوق کو سمجھ سکے گا؟
کیا عنایہ کو اس گھر میں وہ سکون اور تحفظ مل پائے گا جس کی اسے سب سے زیادہ ضرورت ہے؟
یا سسرال والوں کی الزام تراشیاں اس کی زندگی کو ایک اور مشکل امتحان میں ڈال دیں گی؟
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕





