Sneak
ختم ہو گئی ہے میری برداشت! میں اب اس بانجھ عورت کو برداشت نہیں کر سکتا۔ میری طرف سے فارغ ہے۔ طلاق دیتا ہوں میں اس کو!" میز کو ٹھوکر مارتا وہ کہہ رہا تھا۔ اب تائی کے اوسان خطا ہوئے۔ وہ فوراً آگے بڑھیں، کبیر کو جھنجھوڑا۔ "اللہ کا واسطہ دے رہی ہوں، آگے ایک لفظ مت کہنا۔" تایا بھی چیخ رہے تھے لیکن کبیر کا غصہ کسی طور کنٹرول نہیں ہو رہا تھا اور اس نے وہ جملہ دو دفعہ مزید دہرایا۔ تائی کے ہاتھ ڈھیلے پڑھ گئے اور چہرہ سفید... اور وہ، پلوشہ... اس کا ہاتھ ماتھے سے گرا، خون سے رنگا... وہ اٹھی، اپنی سفید چادر اٹھائی۔ طلاق کے بعد وہ اپنے باپ کے گھر آگی تھی جو ااپنی بیٹی کو نہ پڑھ سکنے کے غم میں ہلکان تھیں۔ بے بسی کی اعلیٰ مثال بنے، ابو سر جھکائے پلوشہ کو دکھ سے بھی دیکھتے اور بے بسی سے بھی۔ اتنے سارے احساسات کو سنبھال نہیں پا رہے تھے اس لیے آنکھیں بے آواز آنسو چھلکا رہی تھیں۔ منظر بدلا اور انہوں نے دیکھا کہ ان کے کمرے میں تایا بیٹھے ہیں، تائی جو مسلسل بول رہی تھیں اور کبیر جس کا سر جھکا تھا؛ "غصے میں کہہ دیا تھا فراز! غلطی ہو گئی ہے بچے سے۔ غصے میں تو طلاق نہیں ہوتی نا، انسان کو پتا نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔" وہ کہہ رہی تھیں اور ابو بے یقینی سے ان کے ڈھیٹ پن کو دیکھے جا رہے تھے۔ "طلاق؟ مسئلہ طلاق کا ہے؟" ابو نے بے یقینی سے پوچھا تھا۔ تائی ان کے سوال پر زچ ہو کر رہ گئیں۔ حیرت سے ابو کو دیکھا۔ "ماتھے پر نشان دیکھو، گلے پر، ہاتھ پر، پیروں پر... مسئلہ طلاق کا ہے؟" اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے۔ "میں نے تو یہ سوچا تھا کہ بھائی کے ہاں بیاہ رہا ہوں، اپنوں میں بیٹی سمجھتے ہیں۔ کتنی غلط فہمی کا شکار تھا میں۔" ابو کے الفاظ ٹوٹتے جا رہے تھے۔ تائی نے ان کی بات بیچ میں کاٹی: "اللہ، اللہ کی قسم کھا کر کہتی ہوں فراز! بیٹی سے بھی بڑھ کر سمجھا ہے۔ کیا کمی تھی اس کو؟ پوچھیں اپنی بیٹی سے! ہر طرح کی آزادی دے رکھی تھی۔ اب تم جذبات میں ایسا فیصلہ مت کرو۔ ایک عدد تھپڑ مار بھی دیا تو شوہر تو مجازی خدا ہوتا ہے۔ یہ حق رکھتا ہے، تمہارا بھائی بھی تو..." "نہیں رکھتا حق!" ابو چلائے تھے۔ "نہیں رکھتا حق کوئی بھی اپنی بیوی کو مارنے کا! میرے بھائی نے اگر آپ کو مارا بھی تو ہر بار میں آپ کے سامنے آ کھڑا ہوا، بھائی سے لڑ پڑا آپ کے حق کے لیے۔" "ہم مولوی صاحب سے یہ مسئلہ ڈسکس کریں گے، کوئی حل نکل آئے گا فراز! عزت کا معاملہ ہے فراز، عزت کا معاملہ ہے۔" تایا نے پہلی بار سنجیدگی سے اتنی اہم بات کہی تھی۔ ابو استہزائیہ ہنسے تھے۔ "عزت کی ہی تو بات ہے بھائی! دو سالوں تک میری بیٹی اس درندے کی مار سہتی رہی۔ کتنی بار اپنی عزتِ نفس کے قتل پر روئی ہو گی۔ جسمانی درد تو کہیں دور رہ جاتا ہے عزتِ نفس کے کچلنے کے درد کے آگے۔ اور مسئلہ ختم ہو چکا ہے بھائی! طلاق دے دی ہے آپ کے درندے بیٹے نے۔ اب یہ مسئلہ بھی ختم ہو چکا اور یہ رشتہ بھی۔" ابو کا لہجہ آخر میں مضبوط ہو گیا۔ "اے زیتون! تم ہی بولو کچھ ناں، سات بیٹیاں ہیں۔ ابھی پہلی بیٹی کو طلاق ہو جائے تو باقی کا کیا ہو گا؟ لوگ طرح طرح کی باتیں کریں گے۔ سمجھاؤ اپنے میاں کو۔" تائی نے آخری حربہ بھی استعمال کرنا چاہا۔ زیتون بی بی پلوشہ کے ساتھ بیٹھی بے آواز رو رہی تھیں۔ جانے اپنی بیٹی کے زخموں پر یا تائی کی باتوں پر! "آپ میری بیٹیوں کی فکر مت کریں بل کہ کسی کو بھی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ طلاق ہو چکی ہے، اس کے آگے کوئی بھی بحث بیکار ہے اور ایسے لوگوں کے ساتھ تو بالکل بھی نہیں جو میری بیٹی کے ساتھ کیے گئے ظلم میں برابر کے شریک رہے ہوں۔" ابو غصے سے سخت لہجے میں بولے تھے۔ تائی کو جب لگا کہ اب ان کا شاطر پن اور چرب زبانی ناکام ہو چکی تو چیخ کر بولیں: "ارے نیکی کا تو زمانہ ہی نہ رہا! بجائے اس کے کہ شکر ادا کرو ہمارا کہ دو دو بیٹیوں کا بوجھ ہلکا کر دیا، الٹا تکبر سے انکار کر رہے ہو۔ اس بانجھ لڑکی کو کوئی فقیر بھی نہ بیاہے، یہ تو میرے چاند سے بیٹے کا بڑا پن تھا کہ دو سال برداشت کیا ورنہ اس پھوہڑ..." تائی بے حسی کی تمام حدیں عبور کرتی کہے جا رہی تھیں اور ابو یکدم غصے سے اٹھے۔ "اس سے آگے ایک لفظ مزید کہا تو میں سارے رشتے بھول جاؤں گا!" پوری زندگی میں پہلی بار ابو غصے سے چلائے تھے۔ تایا نے غصے سے تائی کو اٹھایا اور چلے گئے۔اور پھر پلوشہ نے اپنی عدت ختم ہونے کے بعد اپنی پڑھایہ جاری رکھی جہاں اس کی ملاقات اسفندیار خان سے ہوئی جس کی بیون پہلے بچہ کی پدایش پر وفات پا گی تھی ۔اسفند یار خان کی ہتھیلیاں پسینہ پسینہ ہو رہی تھیں۔ پاس کے سامنے بیٹھی پلوشہ اس کو حیرت سے دیکھ رہی تھی۔ وہ اس کے بولنے کے انتظار میں تھی۔ "شمائلہ نے آپ کے ماضی کے بارے میں بتایا،" اسفند یار خان نے تمہید باندھی اور توقف کیا۔ پلوشہ نے نچلا لب کاٹا۔ ایک دم سے اس کا چہرہ تاریک ہوا۔ کبیر کا غصہ، اس کی وحشت، طلاق... سب کچھ ایک دم سے اس پر حاوی ہوا۔ اسفند یار خان نے اس کے بدلتے تاثرات غور سے دیکھے تھے۔ "میں اکثر سوچتا تھا کہ آپ کی اداسی کے پیچھے کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ مجھے ایسا لگتا تھا کہ ہم میں ایک چیز کامن ہے اور وہ ہے ایک ناکام شادی، ایک ختم ہو چکی شادی۔" ایک اداس مسکراہٹ اس کے چہرے پر آن ٹھہری۔ "گھر والوں نے مجھے بہت فورس کیا دوسری شادی پر، لیکن مجھے یہ کائنات کے ساتھ بے وفائی لگتی تھی۔ میں دوسری شادی نہ کرنے کی ضد پر اڑا رہا اور یہ ضد تب ٹوٹی جب میں نے حیدر کی نفسیات پر غور شروع کیا۔ وہ جب مجھ سے خفا ہوتا ہے یا اکیلا محسوس کرتا ہے تو وہ کہیں چھپ جاتا ہے۔ پھر میں نے غور کیا، وہ جب جب اپنے کزنز کو اپنے والدین کے ساتھ دیکھتا ہے تو تب بھی وہ ایسا لاشعوری طور پر کرتا ہے۔ امی ٹھیک کہتی تھیں، ابھی وہ چھوٹا ہے دوسری ماں کو قبول کر لے گا، بڑا ہو کر وہ اپنی ماں کی کمی کو بہت محسوس کرے گا اور یہ احساس اس کی انسیکیورٹی نہ بن جائے۔" پلوشہ یکٹک اس کو سنتی جا رہی تھی۔ شاید پہلی بار دونوں نے خود اپنے ارد گرد بنائے خول کو توڑ کر اپنی کہانی شیئر کی تھی۔ "اتنی لمبی تقریر کے بعد اصل مدعے پر آتا ہوں۔ میں نے شادی کے لیے ہاں کر دی ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ یہ فیصلہ حیدر کی پسند پر زیادہ ہو اور وہ اتنے عرصے میں پہلی بار کسی کو دل سے فرینڈ بنا چکا ہے،" اسفند یار خان اس پر نظریں گاڑے کہہ رہا تھا اور پلوشہ کا منہ حیرت سے کھل گیا اور یکدم چہرہ لال ہو گیا۔ کیا وہ؟ "کیا آپ حیدر کی پرفیکٹ فرینڈ بنیں گی؟ اس کے ساتھ ہمیشہ کے لیے اس کے گھر میں رہ کر؟ آپ کے لیے یہ بہت ویئرڈ (عجیب) ہوگا اور مشکل بھی..." لیکن اسفند یار خان خاموش ہو گیا، یوں جیسے بہت تیاری کے بعد کہی گئی باتیں ختم ہو چکی ہوں اور اس کے پاس مزید کہنے کے لیے الفاظ نہیں تھے۔ پلوشہ فوراً اٹھی، اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ اسفند یار خان بھی فوراً اٹھا۔ "اگر آپ کو برا لگا ہو تو آئی ایم ریلی سوری! آپ کے جواب کا انتظار رہے گا۔" پلوشہ رکی، اسفند یار خان اس کو منت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ "میں شمائلہ کو بتا دوں گی،" اتنا کہہ کر وہ فوراً باہر نکل گئی۔ نکاح کے وقت دادی نے اپنا سرخ دوپٹہ نکالا اور پیار سے پلوشہ کے سر پر رکھا، جس پر انہوں نے پلوشہ کا نام لکھا تھا اور اس کو سیتے چار ماہ لگا دیے تھے۔ حجلۂ عروسی میں بیٹھی پلوشہ کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ اس کے گالوں کی حدت ختم ہی نہیں ہو رہی تھی۔ وہ کسی خواب کی کیفیت میں تھی۔ ایک نئی زندگی کی شروعات اور وہ بھی بالکل مختلف حالات کے ساتھ! ایک نئی نویلی دلہن جو نکاح کے فوراً بعد تین سال کے بیٹے کی ماں بن چکی تھی۔ کچھ دیر پہلے حیدر اس کے پاس سے گیا تھا۔ دادی نے اس کو سمجھایا کہ اس کی دوست اب اس کی ماما بن گئی ہے اور حیدر اس 'ماما' کے لفظ پر اتنا خوش ہوا کہ وہ بار بار دادی سے پوچھتا تھا: "میری ماما؟ دادو... میری ماما؟" وہ خوشی سے یقین چاہنے والے انداز میں پوچھتا اور اس کے انداز پر پلوشہ کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ اس کو اپنے فیصلے پر خوشی ہوئی۔ ایک عجیب احساس تھا جو دل پر بھاری تو تھا لیکن وہ اس کو نام نہیں دے پا رہی تھی، شاید وہ حیدر کو اپنا بیٹا تسلیم کر چکی تھی! شاید نہیں، یقیناً! وہ حیدر کا ماتھا چومتی اور دادی رو پڑیں۔ سیما باجی نے دادی کو روکا۔ "دلہن ہے دادی ابھی، کیا کر رہی ہیں آپ؟ حیدر کو ابھی مت بھیجیں۔" مگر جب حیدر اس کے پاس سو گیا، تو اس کو شائستہ بھابھی اپنے پاس سلانے لے کر چلی گئیں۔ اس کا دل چاہا کہ ان کو روکے لیکن کچھ کہہ نہ پائی۔ کچھ دیر بعد جب باہر شور کم ہوا تو اسفند یار خان اندر داخل ہوا اور اس کے آتے ہی کمرہ اس کی مخصوص خوشبو سے مہک اٹھا۔ اسفند یار خان اس کے پاس بیٹھا، گھونگھٹ کے پار اس کے مردانہ ہاتھ ابھرے دکھائی دے رہے تھے۔ یکدم سے اس کا دل گھبرانے لگا۔ مردانہ ہاتھ... مرد کی قربت... ایک دم سے ماضی کی کھڑکیاں دھڑام سے کھلیں اور گھونگھٹ کے پار اسفند یار خان کی جگہ کبیر نے لے لی۔ معاً کبیر کے ہاتھ بڑھے اور اس کا گھونگھٹ اٹھایا۔ وہ یکدم پیچھے ہٹی اور گلے پر ہاتھ رکھا، یوں جیسے ابھی اس کے ہاتھ پلوشہ کے گلے کی طرف بڑھنے والے تھے۔ آنسو کی ایک لمبی لکیر اس کی وحشت سے پر آنکھوں سے بہہ گئی۔ چہرہ زرد پڑ گیا تھا۔ "آر یو اوکے؟" اسفند یار خان جو حیرت سے پوچھ رہا تھا، اس نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑا اور پلوشہ نے یکدم اس سے ہاتھ چھڑایا۔ "پلوشہ؟" اسفند یار خان کی نظریں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں۔ اس نے ایک بار پھر سے اس کا ہاتھ پکڑنا چاہا، لیکن پلوشہ نے فوراً خود کو دور کیا۔ وہ گہری سانسیں لے رہی تھی۔ اسفند یار خان حیران پریشان اس کو دیکھتا جا رہا تھا #secondmarriage #Dusrishadi #UrduNovel2026 #novels #urdunovels #rudehero #pathan #hero #HeartTouchingStory #RomanticNovel #EmotionalStory
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
Summary — Urdu
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕





