Sneak
توبہ توبہ شادی والے دن دلہن گھر سے بھاگ گی پورے خاندان میں باتیں ہو رہی تھی جب برہان صاحب جھکے کندھے لیے باراتیوں کے سامنے کھڑے ہوئے.. میری بیٹی شادی کے دن ہی گھر سے بھاگ گی ہے اس کی وجہ سے آپ کا شملہ بھی نیچے ہوا۔ تلافی کی کوئی صورت نہیں، لیکن اگر آپ لوگوں کو مناسب لگے تو میں اپنی چھوٹی بیٹی کا نکاح عطیب شاہ سے کرنے پر تیار ہوں۔ ایک مجبور اور بے بس باپ کے اختیار میں اس کے سوا کچھ نہیں۔ فرزین کے کیے کی سزا آپ لوگوں کو کیوں ملے۔ آپ بارات لائے ہیں، دلہن رخصت کروا کر لے جانا آپ کا حق ہے۔" شریف النفس برہان صاحب نے اپنے تئیں تلافی کی کوشش کی تھی۔ فائقہ بیگم کو اس تجویز سے کوئی سروکار نہ تھا، ان کا واویلا جاری تھا جبکہ رضوان صاحب سوچ میں پڑ گئے تھے۔ "آپ لوگ باہمی مشورے سے فیصلہ کر کے ہمیں آگاہ کر دیں۔ ہماری قسمت میں جو ذلت لکھی تھی، وہ اب کوئی نہیں مٹا سکتا۔ دنیا کے سامنے آپ لوگوں کا کچھ بھرم رہ جائے، بس اس کی کوشش ہی کر سکتے ہیں۔" فرزین کے چچا نے رضوان صاحب کا شانہ تھپتھپا کر انہیں سنجیدگی سے مخاطب کیا، پھر اپنے ساتھ کے لوگوں کو لے کر کمرے سے نکل گئے تھے۔ مقصد ان لوگوں کو فیصلے پر پہنچنے کے لیے موقع فراہم کرنا تھا۔ "ایک بیٹی گھر سے شادی والے روز بھاگ گئی۔ اللہ جانے دوسری کے کیا کرتوت ہوں گے۔ رضوان بھائی! سوچ سمجھ کر فیصلہ کیجیے گا۔" عظمیٰ پھوپھو نے چہرے پر تشویش بھرے تاثرات پیدا کر کے بڑے بھائی کو مخاطب کیا تھا۔ "تو اور کیا بھئی! ہماری ایسی کیا مجبوری کہ ہم اپنے بچے کا رشتہ ایسی جگہ جوڑیں۔ عظمیٰ! تمہاری لائبہ بھی تو ہے۔ بھائی کی عزت کا خیال کرو، نازک وقت ہے۔ بارات میں تو چلو گھر کے لوگ ہیں، کل ولیمے کا فنکشن ہے، ایک دنیا اکٹھی ہوگی۔ کس کس کے سامنے تقریب ملتوی ہونے کا جھوٹا سچا عذر پیش کریں گے۔ "اب رونا دھونا بند کریں بیگم! برہان صاحب کی تجویز ماننے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ان کی بڑی بیٹی کا فعل اس کے اپنے ساتھ ہے۔ ہم ان کی چھوٹی بیٹی کو عطیب شاہ کے سنگ رخصت کروا کر لے جاتے ہیں۔" صورت حال کی نزاکت کا خیال کرتے ہوئے رضوان صاحب نے دلہن والوں کی تجویز کو سندِ قبولیت بخش دی تھی۔ "لیکن ابو!" آئمہ نے کچھ کہنا چاہا۔ فائقہ بیگم نے بھی شوہر کی بات پر تڑپ کر انہیں دیکھا تھا۔ "بیٹا! جوش کے بجائے ہوش سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ تمہاری ماں نے آدھے شہر کو اکلوتے بیٹے کی دعوتِ ولیمہ کے کارڈ بانٹے ہیں، یہ ہماری بھی عزت کا سوال ہے۔" رضوان صاحب نے بیٹی کا اعتراض سننے سے پہلے ہی اسے سمجھانا چاہا تھا۔ "دنیا کو تو پھر بھی سب خبر ہو جائے گی، ایسی باتیں بھلا چھپتی تھوڑی ہیں۔" بڑی تائی نے ٹھنڈی سانس بھر کر خود کلامی کی۔ رضوان صاحب نے بھاوج کو بھی کچھ نہ کہا، وہ سوالیہ نگاہوں سے بیوی کو تک رہے تھے۔ فائقہ نے شوہر کی نگاہوں کا پیغام سمجھ کر آنسو پونچھے تھے۔ "عطیب شاہ سے پوچھ لیں، اگر اسے کوئی اعتراض نہ ہو..." وہ دھیرے سے بولی تھیں۔ سب کی نگاہوں کا مرکز اب عطیب شاہ بنا تھا۔ وہ بانکا سجیلا دولہا جو اب کلاہ اتار کر دونوں ہاتھوں میں سر پکڑے بیٹھا تھا۔ رضوان صاحب نے کچھ کہے بنا بیٹے کے شانے پر ہاتھ رکھا۔ اس نے بے بسی کے عالم میں سر اٹھا کر باپ کو دیکھا۔ "برہان صاحب کو ہاں کہہ دوں نا بیٹا؟" وہ فرماں بردار بیٹے سے ایسے آڑے وقت میں فرماں برداری کا ثبوت مانگ رہے تھے۔ اس کی تو اپنی عقل بری طرح ماؤف ہو چکی تھی، باپ کو کیا جواب دیتا، بس خالی نگاہوں سے انہیں تکتا گیا۔ "انسان کی زندگی میں بعض اوقات اس سے بھی بڑے بحران آتے ہیں بیٹا۔ اللہ سے خیر کی امید رکھو، یہ مشکل وقت بیت جائے گا۔ اللہ نے تمہارے مقدر میں فرزین کے بجائے برہان صاحب کی چھوٹی بیٹی کا ساتھ ہی لکھا ہو، یہ سوچ کر اپنے دل کو رشتہ جوڑنے پر آمادہ کر لو۔" وہ رسانیت بھرے لہجے میں بیٹے سے مخاطب تھے۔ "جیسا آپ مناسب سمجھیں ابو..." عطیب شاہ یہی کہہ پایا۔ آدھے گھنٹے بعد فرزین برہان کے بجائے تابین برہان اس کی منکوحہ بن چکی تھی۔ نکاح سے محض چند گھنٹے قبل وہ کسی اور کے ہمراہ زندگی کے نئے سفر پر نکل گئی تھی اور وہ لڑکی جو اب اس کی منکوحہ بن کر اس کے بیڈ روم میں موجود تھی، عطیب شاہ اس کی شکل تک دیکھنے کا روادار نہ تھا۔ فرزین نام سے جڑا کوئی حوالہ اسے اب اپنی زندگی میں گوارا نہ تھا، لیکن فرزین کی چھوٹی بہن اس کی زندگی کی اٹل حقیقت بن کر اس کے کمرے میں موجود تھی۔ بیڈ کے ایک کونے میں بیٹھی، ڈری سہمی اور انتہائی حواس باختہ شکل والی اس لڑکی پر عطیب شاہ کو ایک پل کے لیے بھی ترس نہ آیا، بلکہ اس کے غصے اور جھنجھلاہٹ میں اضافہ ہی ہوا تھا۔ آخر اس نے باپ کی بات مانی ہی کیوں؟ وہ لڑکی ذات تو نہ تھا کہ گھر کی دہلیز سے بارات لوٹتے وقت بدنامی کے خوف سے کسی بھی دستیاب شخص سے رشتہ جوڑنا پڑ جاتا۔ اسے نکاح سے انکار کر دینا چاہیے تھا، کچھ عرصے بعد کوئی معقول اور مناسب سا جیون ساتھی مل ہی جاتا۔ اسے فرزین جیسی لڑکی کی بہن سے کوئی رشتہ ہرگز نہ جوڑنا چاہیے تھا۔ اپنی حماقت پر اب رہ رہ کر تاؤ آ رہا تھا۔ "یوں آنکھیں پھاڑ کر مجھے کیا دیکھ رہی ہو؟ جانتی ہو اس مضحکہ خیز حلیے میں تم اس وقت کوئی کارٹون کریکٹر لگ رہی ہو۔" وہ اپنی ناگواری کا اظہار کیے بنا نہ رہ پایا تھا۔ تابین نے پلکیں جھپک کر آنسو چھلکنے سے روکے تھے۔ "میرا بس چلے تو ایک پل ضائع کیے بنا تمہیں اس کمرے سے بھی بے دخل کر دوں اور اپنی زندگی سے بھی، لیکن فی الحال مجبور ہوں۔ میرے ماں باپ دنیا والوں کی زبانوں سے خائف ہیں، محض ان کے بھرم کی خاطر میں نے یہ رشتہ جوڑا ہے، لیکن مجبوری کے اس بندھن سے کوئی توقع لگانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میری زندگی میں تمہاری گنجائش کبھی نہیں نکل سکتی۔ تمہاری حیثیت بتانے کے لیے مجھے تم سے مخاطب ہونا پڑا ہے ورنہ میں تم جیسی لڑکی پر دوسری نگاہ تک نہیں ڈالنا چاہتا جس کی بڑی بہن شادی والے دن گھر سے بھاگ گی ہو ۔" اس نے تنفر بھرے انداز میں تابین کو مخاطب کیا تھا اور وہ اس کی آخری بات سن کر تڑپ ہی تو گئی تھی۔ #forcedmarriage #urdunovels #noveladdict #RomanticNovel #EmotionalStory #HeartTouching #afterNikah #aftermarriage
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
Summary — Urdu
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕





