Skip to navigation Skip to main content
Yaar Se Hai Yeh Gila Urdu novel cover
Rank#43
Views272.0K

READ URDU NOVELS AT NOVELISTAN.COM

Yaar Se Hai Yeh Gila

No ratings yet

Rate this novel

CompleteHaveli based novelsPolice Officer Based

Novel code: Novel90067

Read OnlineDownload PDF

"آپ میرے ساتھ گزاری رات کی قیمت کیوں دے رہے ہیں؟ میں آپ کی بیوی ہوں!" انزل نے روتے ہوئے اپنے سامنے رکھے پیسوں کو دیکھا، مگر تیمور شیرازی کے جواب نے اس کے قدموں تلے زمین نکال دی۔ "بیوی نہیں ہو تم میری! یہ صرف کاغذی نکاح تھا۔ اپنے بھائی کو میرا نام بتانا، وہ بتائے گا تم سے نکاح کیوں کیا!" تیمور نفرت سے اسے ہوٹل کے کمرے میں تنہا چھوڑ کر چلا گیا۔ انزل کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس کا بھائی حمزہ، تیمور کی بہن دعا سے محبت کرتا تھا اور دونوں کے درمیان ایک تلخ اختلاف پیدا ہوا تھا۔ اسی کا انتقام تیمور نے حمزہ کی بے قصور بہن سے لیا! بھائی کے خوف اور اپنی بکھری زندگی کو سنبھالنے کے لیے انزل ایک حویلی میں ملازمہ بن گئی۔ پھر اسے اپنے حاملہ ہونے کا علم ہوا۔ مگر اصل دھچکا اس رات لگا جب حویلی کی مالکن کا پوتا بیرونِ ملک سے واپس آیا اور انزل کی اس سے ٹکر ہو گئی۔ وہ تیمور شیرازی تھا! جس شخص نے اسے اپنی بیوی ماننے سے انکار کیا تھا، وہی اب اس کے بڑھے ہوئے پیٹ کو دیکھ کر ششدر رہ گیا۔ آخر جب انتقام لینے والے تیمور کے سامنے اپنے ہی فیصلے کا نتیجہ آیا تو وہ کیا کرے گا؟ اور کیا انزل اس شخص کو اپنی زندگی میں دوبارہ کوئی جگہ دے سکے گی؟

Read the Novel

Sneak

"آپ میرے ساتھ گزاری رات کی قیمت کیوں دے رہے ہیں۔ میں آپ کی بیوی ہوں۔" انزل روتی ہوئی ان پیسوں کو دیکھنے لگی۔
"بیوی نہیں ہو تم میری۔ یہ صرف کاغذی نکاح تھا۔ اپنے بھائی کو میرا نام بتانا تو وہ بتائے گا تم جیسی لڑکی سے نکاح کیوں کیا۔"
تیمور نے نفرت سے انزل کو ہوٹل کے کمرے میں چھوڑا اور وہاں سے چلا گیا۔

انزل کا بھائی پولیس والا تھا جس نے ایک بار تیمور شیرازی کی بہن کے بارے میں غلط بولا تو اس کا بدلہ لینے کے لیے تیمور نے انزل کی زندگی برباد کر دی۔
انزل کا بھائی تو اسے جان سے مار دیتا۔ وہ ایک حویلی میں ملازمہ بن گئی۔ اسی دوران حاملہ ہو گئی۔ ایک رات حویلی کی مالکن کا پوتا بیرونِ ملک سے آیا اور اس کی اس سے ٹکر ہوئی۔ وہ تیمور شیرازی ہی تھا۔ وہ حیرت سے انزل کے بڑھے پیٹ کو دیکھنے لگا۔

"اتنا غصے میں کیوں لگتے ہیں بھائی؟ دنیا کا ہر مسئلہ آپ ٹھیک نہیں کر سکتے۔ چار سو لوگ اچھے ہوں گے تو پانچ سو برے بھی ہوں گے، اس میں کیا ہے؟ آپ اپنا خون جلا کے رکھیں گے بھائی تو کیسے لگے گا؟ پولیس والے ہونے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ہر برائی کا ٹھیکہ آپ نے اٹھا کے رکھا ہے۔"

"انزل پولیس والا ہوں اس لیے ہر برائی بری لگتی ہے۔ مگر آج میں اس لیے غصے میں نہیں ہوں۔"

"تو غصے میں کیوں ہیں؟ جس کو جس چیز سے منع کرو، وہ وہی کرتا ہے۔"

"آپ نے کس کو کس چیز سے منع کیا تھا؟"

"دعا کی بات کر رہا ہوں۔"

"اوہ، دعا، کیا کیا ہے دعا نے؟"

"میں نے اسے منع کیا تھا کہ وہ اپنے اس چھچھورے دوستوں کے ساتھ ٹرپ پہ نہیں نکلے گی، مگر نکل گئی۔ اب میں کیا کروں اس امیر باپ کی بگڑی ہوئی بیٹی کا، جس کو میری محبت سے سمجھانے کا بھی کوئی اثر نہیں ہوتا؟ غصہ کرو تو پھر روٹھ جاتی ہے، نہ بات کرو تو گھر چلی آئے گی۔ دماغ خراب کیا ہوا ہے اس لڑکی نے میرا۔ شادی کے بعد کیا بات مانے گی یہ میری؟ اوپر سے اس کے گھر والوں کو منانا ایک الگ آفت ہے، کیونکہ شیرازی خاندان کا بس چلے تو وہ اپنے جیسے ہی پتلے بنا لے۔"

وہ ہنسے جا رہی تھی اپنے بھائی کی باتوں پر۔

"اتنی محبت کرتے ہیں دعا سے؟"

"محبت؟ یار میں اس کے علاوہ زندگی کو تصور نہیں کرتا۔ ٹھیک ہے تو پھر جا کے بات کر لینا اس سے۔ اب چلی گئی ہے نا، وہ ٹرپ پر۔ واپس آئے گی تو بات کر لوں گا۔ فی الحال میں بہت تپا ہوا ہوں۔"

"یہ کون ہے دعا، دوست ہے میرا۔ حالت دیکھی ہے تم نے اس کی، نشے میں ہے۔ تم اس کے ساتھ یہاں آئی ہو ٹرپ سے واپس؟"

"ہاں، مگر وہ دوست ہے میرا، مجھے اس سے کوئی نقصان نہیں ہے۔"

"دعا، میں نے تمہیں کتنی دفعہ سمجھایا ہے کہ ان مردوں سے، جن کو تم جانتی نہیں ہو، جو تمہارے بلڈ میں نہیں آتے، ان سے دور رہا کرو۔ کس لینگویج میں تم میری بات سمجھو گی؟"

"شوہر نہیں ہو تم میرے حمزہ، اس لیے مجھ پہ یہ رعب نہیں کرو۔"

"بننے والا شوہر تو ہوں نا، میں تمہیں ہمیشہ اس نظر سے دیکھتا ہوں کہ تم فیوچر وائف ہو میری۔ محبت کی دعویدار ہوتے ہوئے بھی تمہیں میری بات سمجھ میں نہیں آتی؟ کیا میں تمہارے لیے غلط سوچ سکتا ہوں؟"

"تم میرے کردار کو جج کر رہے ہو۔"

"میں ایسا کچھ بھی نہیں کر رہا۔ پولیس والے ہو میں جانتی ہوں پولیس والوں کے دماغ میں گند ہوتا ہے، مگر حمزہ، تم نے مجھ سے محبت کرنے سے پہلے یہ نہیں دیکھا تھا کہ تم کون ہو، اس لیے مجھ سے محبت کرنے سے پہلے تم بھی یہ نہ دیکھتے کہ میں کیسی ہوں، کیونکہ محبت میں کریکٹر سرٹیفیکیٹ نہیں دیے جاتے۔ اینڈ آئی ایم سوری، مسٹر حمزہ، تم نے مجھے مایوس کیا ہے۔"

"دعا رکو تو سہی، مجھے کوئی بات نہیں سنی تمہاری۔ رو کیوں رہی ہو؟"

"تیمور بھائی، پلیز جائیں یہاں سے، مجھے رونے دیں، کیونکہ میں رونا ڈیزرو کرتی ہوں۔"

"ارے، تم آج ہی تو ٹرپ سے واپس آئی ہو۔ ٹرپ سے تو سب خوش واپس لوٹتے ہیں، مگر تم نے تو گھر میں آتے ہی ماتم منایا ہوا ہے۔ عجیب سا رویہ ہے۔ کیوں رو رہی ہو؟ کس نے میری بہن کو پریشان کیا ہے؟ بتاؤ تو سہی مجھے جان سے مار دوں گا میں اسے۔"

"کیا میرا کردار برا ہے، بھائی؟" وہ چپ ہوا۔

"تم سے کس نے کہا کیوں تم لوگوں کو اپنا کردار جسٹیفائی کرتی پھرو؟"

"ایسے ہی، بھائی، بس پوچھ رہی تھی۔" وہ آنسو صاف کرتی اٹھ کے چلی گئی تھی۔ وہ بہن کو بغور دیکھنے لگا، جو ٹھیک نہیں لگتی تھی۔

"جواد، تم یہاں کیا کر رہے ہو؟"

"آج بہت خوبصورت لگ رہی ہو تم۔"

"جواد، پلیز ڈونٹ ٹچ می۔ نشے میں ہو تم، پی کے آئے ہو۔ دیکھو، میں شکایت کر دوں گی تمہاری۔ اس وقت یونیورسٹی میں موجود ہیں۔ یہ بکواس میرے ساتھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔"

"بہت پیاری ہو تم۔" جواد نے اسے دھکا دیا تھا، وہ بینچ پہ گری تھی۔ وہ اس پہ جھپٹا چلا گیا تھا۔ تبھی دروازہ دھڑام سے کھولا۔

وہ جواد کو دھکا دیتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ حمزہ تھا۔

"حمزہ! مجھے بچاؤ، یہ تباہ کر دے گا مجھے۔"

حمزہ آگے بڑھا، جواد کو تیز مارنے لگا۔ "تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہ سب کچھ کرنے کی؟ میری دعا کو چھوؤ گے تم؟ اتنی اوقات ہے تمہاری؟" وہ اسے مارے جا رہا تھا، شدید مارے جا رہا تھا۔ یونیورسٹی کے انتظامیہ تھوڑی ہی دیر میں جمع ہو گئی تھی اور جواد کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا تھا۔

"تمہیں میں نے سمجھایا تھا نا، ایسے لڑکوں پہ اعتبار مت کیا کرو۔ مگر وہ دعا ہی کیا جو حمزہ کی بات مان لے۔" وہ غصہ کر رہا تھا، شدید غصہ۔

"غلطی صرف اس کی نہیں ہے، میری بھی ہے۔ تم نے اس کو اتنی کمفرٹ دی کہ وہ تمہارے اس قدر پاس آیا۔"

"حمزہ، میرے کردار کو جج نہیں کر سکتے تم۔"

"ٹرپ سے لوٹنے کی رات تم نشے میں ساری رات اس کے ساتھ سفر کرتی آئی۔ ایک مرد کے لیے یہ اشارہ کافی ہے کہ ایک عورت اس کے ساتھ نشے میں کمفرٹیبل ہے۔ دوبارہ بھی اس نے وہی حرکت کی تمہارے ساتھ، مگر میں جو تمہارے ساتھ سر پھوڑتا رہتا ہوں کیا بکواس کرتا ہوں؟ آج اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میں کیا کرتا؟"

"تم مجھ پہ شک کر رہے ہو۔" وہ روتی ہوئی اس سے دور ہوئی۔

"شک؟ میں تمہاری پرواہ کر رہا ہوں۔"

"یوں ڈیم اٹ۔ مجھے تمہاری یہ پرواہ نہیں چاہیے، چونکہ تمہیں مجھ پہ اعتبار ہی نہیں ہے۔ دعا تم یہ کیا کہہ رہی ہو؟ نفرت کرتی ہو میں تم سے۔ تم ہر وقت بس میرے کردار کو جسٹیفائی کرتے رہتے ہو۔ تمہیں بس میری پیورٹی چاہیے، مجھ سے محبت نہیں ہے تمہیں۔ اگر مجھ سے محبت ہوتی تو تمہیں میرے لیے پریشانی ہوتی، مگر نہیں، تمہیں اس چیز کا ڈر تھا کہ میں تباہ ہو جاتی تو تمہارا کیا ہوتا؟"

حمزہ نے اپنے سر پہ ہاتھ رکھ لیا تھا۔ "پاگل لڑکی، اگر ایسا ویسا کچھ ہوتا تو میں تمہیں تکلیف میں نہ دیکھ پاتا۔ تم ایسے کیسے سوچ سکتی ہو میرے بارے میں؟ میری ہی غلطی تھی کہ مجھے تم سے محبت ہو گئی۔"

"میں جا رہی ہوں۔"

"دعا، میری بات تو سنو۔"

"مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سننی، حمزہ۔"

"اچھا، مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے؟ تین دن سے کھانا کیوں چھوڑا ہوا ہے تم نے؟ حمزہ سے کوئی جھگڑا ہوا ہے تمہارا؟" وہ بے ساختہ بھائی کی طرف دیکھنے لگی۔

"ایسے مت دیکھو مجھے، تمہیں کیا لگتا ہے، تم کچھ بتاتی نہیں ہو تو میں جانتا نہیں ہوں؟ کیا کیا ہے اس نے؟ بتاؤ مجھے۔" وہ چھوٹے چھوٹے لفظوں میں سب کچھ اپنے بھائی کو بتا گئی تھی۔

"بھائی، میں اسے ایک بگڑے ہوئے باپ کی بگڑی ہوئی بیٹی لگتی ہوں جس کو اپنی عزت پیاری نہیں، اسے لگتا ہے میں کسی کے ساتھ بھی کبھی بھی۔۔۔"

"چپ کر جاؤ۔" تیمور نے بے ساختہ اسے روکا تھا، کیونکہ وہ سن نہیں پا رہا تھا۔

"حمزہ ایسا کیسے کر سکتا ہے تم سے بہت محبت کرتا ہے وہ۔"

"کرتا ہے یا ہوگا، مجھے نہیں پتا، مگر میں نے اس کے لفظوں میں اپنے لیے بے اعتباری دیکھی ہے، بھائی۔ صرف اس لیے کیونکہ میں اونچے خاندان سے ہوں، وہ میرا دل توڑتا ہے، میرے کردار کو جج کرتا ہے، بھائی۔" وہ روتے ہوئے بھائی کے سینے سے لگ گئی تھی۔

"میری بہن کا دل توڑتے ہوئے تم نے یہ نہیں سوچا کہ خود بھی ایک بہن کے بھائی ہو تم۔"

حمزہ اٹھ کھڑا ہوا۔ "یہاں میری بہن ڈسکس کیوں ہو رہی ہے؟ اس کا اس سب میں کوئی تعلق نہیں۔"

"اچھا، اور دوسروں کی بہن کی عزت کو جج کرنا بہت آسان ہے تمہارے لیے۔ میں دعا سے بہت محبت کرتا ہوں، تیمور۔ میرے لیے اس کی عزت مذاق نہیں ہے، اسی لیے میں اسے پروٹیکٹ کرتا ہوں، اسے سمجھاتا ہوں، مگر وہ میری بات نہیں سمجھتی۔ تم تو بڑے ہو اس سے، کم سے کم تم تو مجھے سمجھو کہ میں کیا سمجھاتا ہوں اسے۔ بے شک وہ تمہاری بہن ہے، مگر اپنی بہن کو غلط اور صحیح تو سمجھا سکتے ہو نا؟"

"تم چپ کر جاؤ۔ آئندہ اگر تم نے میری بہن کو جج کیا یا اسے ہرٹ کرنے کی کوشش کی تو مجھ سے برا اور کوئی نہیں ہوگا۔ میں تم سے وہ انتقام لوں گا کہ تم اپنا چہرہ چھپاتے پھرو گے۔ یہ بات یاد رکھنا۔"

"آئی ایم سوری۔"

"اٹس اوکے، مگر میں تم سے خفا ہوں۔ میں جانتا ہوں، دعا، مگر اس سب سے کچھ نہیں ملے گا تمہیں۔ میں جانتا ہوں تم میرے بغیر نہیں رہ سکتی، تم جانتی ہو میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا، تو یہ جنگ کیسی ہے؟"

"تم مجھے جج کرتے ہو؟"

"نہیں، میں تم سے پیار کرتا ہوں۔"

"میں بھی تم سے پیار کرتی ہوں۔"

"ہم جن سے پیار کرتے ہیں دعا ان کے لیے پروٹیکٹو ہوتے ہیں بہت۔ میں تمہیں سیف دیکھنا چاہتا ہوں۔ کبھی ایسا مت سوچنا کہ حمزہ تم پر شک کر سکتا ہے۔ میں شک نہیں کرتا تم پر، تمہارے ارد گرد کے لوگوں سے ڈرا ہوا ہوتا ہوں کہ وہ ٹھیک نہیں ہے۔ بیٹھو۔ کیا غلط چاہتا ہوں؟ چلو ٹھیک ہے، تمہارا ایک دو میل فرینڈ ہے بھی تو کم سے کم وہ مجھے کوئی اچھے گھر کے تو لگے۔ سب موالی قسم کے ہیں اور میں تمہیں ایسے گروپس میں نہیں دیکھ سکتا۔ خون کھولتا ہے میرا۔ ہم جن کی عزت کرتے ہیں یا جو ہماری عزت ہوتے ہیں، ہم انہیں ایسے ماحول میں نہیں دیکھ سکتے۔" وہ اس کے ہاتھ تھامتے ہوئے چوم گیا۔

"میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں، دعا، بہت جلد۔ تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا، اور اپنے ذہن سے بھی یہ خیال نکال دو کہ حمزہ تمہارے بغیر جی سکتا ہے۔" دعا مسکرائی تھی۔

"انزل، کیا حمزہ گھر پر ہے؟"

"نہیں یار، بھائی تو گھر پہ نہیں ہے۔ پتہ نہیں کہاں چلے گئے ہیں۔ جلدی کہہ کر گئے تھے کہ آئیں گے، مگر ابھی تک نہیں آیا۔ اچھا، میں کال کر کے دیکھتی ہوں۔" دعا کی کال کرنے پہ اسے معلوم ہوا کہ وہ پولیس اسٹیشن بھی نہیں ہے، تو پھر وہ کہاں جا سکتا تھا؟

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Description — Urdu

Yaar Se Hai Yeh Gila از این کے ناولز ایک جذباتی اور انتقامی رومانوی اردو ناول ہے جس میں محبت، بے اعتباری، خاندانی انا اور بے قصور رشتوں کو انتقام کا نشانہ بنانے کے نتائج سامنے آتے ہیں۔ پولیس افسر حمزہ دعا سے بے حد محبت کرتا ہے، لیکن اس کی کچھ دوستیوں اور غیر محتاط رویوں سے پریشان رہتا ہے۔ وہ دعا کو بعض دوستوں سے دور رہنے کا مشورہ دیتا ہے، مگر دعا اسے اپنی ذات اور کردار پر شک سمجھتی ہے۔ دونوں کے درمیان اختلاف اس وقت شدت اختیار کرتا ہے جب دعا کا ایک دوست جواد اس کے ساتھ بدسلوکی کی کوشش کرتا ہے اور حمزہ اسے بچاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد بھی حمزہ اور دعا کے درمیان اعتماد کی کشمکش ختم نہیں ہوتی۔ دعا اپنے بھائی تیمور شیرازی کو اپنی دل آزاری کے متعلق بتاتی ہے تو وہ حمزہ سے انتقام لینے کی دھمکی دیتا ہے۔ کہانی کی ابتدائی جھلک میں تیمور اسی انتقام کے لیے حمزہ کی بہن انزل سے نکاح کرکے اسے دھوکا دیتا ہے اور ہوٹل میں تنہا چھوڑ جاتا ہے۔ انزل بدنامی کے خوف سے ایک حویلی میں ملازمت اختیار کرتی ہے اور حاملہ ہو جاتی ہے۔ ایک رات حویلی کی مالکن کا پوتا بیرونِ ملک سے واپس آتا ہے تو انزل کے سامنے ایک حیران کن حقیقت کھلتی ہے۔ وہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ تیمور شیرازی ہوتا ہے، جو اس کے بڑھے ہوئے پیٹ کو دیکھ کر ششدر رہ جاتا ہے۔ یہ ناول محبت میں اعتماد، انتقام، ازدواجی دھوکے، خاندانی عزت اور ایک بے قصور عورت کی زندگی میں آنے والی مشکلات کو پیش کرتا ہے۔

Summary — Urdu

Yaar Se Hai Yeh Gila ایک جذباتی اور انتقامی کہانی ہے جس میں دو محبت کرنے والوں کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیاں ایک بے قصور لڑکی کی زندگی کو شدید آزمائش میں مبتلا کر دیتی ہیں۔

حمزہ ایک پولیس افسر ہے جو اپنے پیشے کی وجہ سے معاشرے کے مختلف رویوں اور خطرات سے بخوبی واقف ہے۔ وہ دعا نامی لڑکی سے بے حد محبت کرتا ہے اور اس کے ساتھ شادی کرکے زندگی گزارنے کے خواب دیکھتا ہے۔

دعا ایک امیر اور بااثر خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کی طبیعت آزاد خیال اور بے باک ہے، جبکہ حمزہ اس کے دوستوں اور میل جول کے بارے میں زیادہ محتاط رہتا ہے۔

حمزہ کو دعا کے بعض دوستوں کا انداز مناسب نہیں لگتا۔ وہ اسے ان کے ساتھ سفر کرنے اور زیادہ بے تکلف ہونے سے روکتا ہے، مگر دعا اس کی باتوں کو اپنی آزادی اور عزتِ نفس میں مداخلت سمجھتی ہے۔

ایک دن حمزہ اپنی بہن انزل کے سامنے دعا کے متعلق اپنی پریشانی کا اظہار کرتا ہے۔

وہ بتاتا ہے کہ اس کے منع کرنے کے باوجود دعا اپنے دوستوں کے ساتھ ایک سفر پر چلی گئی ہے۔

انزل اپنے بھائی کو سمجھاتی ہے کہ وہ ہر مسئلے پر اس قدر غصہ نہ کرے اور دعا کی واپسی پر اطمینان سے بات کر لے۔

جب انزل حمزہ سے پوچھتی ہے کہ کیا وہ دعا سے اتنی محبت کرتا ہے تو حمزہ اعتراف کرتا ہے کہ وہ دعا کے بغیر اپنی زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔

اس کے باوجود دونوں کے درمیان اختلافات بڑھتے جاتے ہیں۔

ایک موقع پر دعا اپنے ایک دوست کے ساتھ سفر سے واپس آتی ہے جو نشے کی حالت میں ہوتا ہے۔

حمزہ اس صورت حال سے پریشان ہو جاتا ہے اور دعا سے سوال کرتا ہے کہ وہ ایسے لوگوں پر اعتماد کیوں کرتی ہے جن کے متعلق اسے مکمل معلومات نہیں۔

دعا کو محسوس ہوتا ہے کہ حمزہ اس کے کردار پر شک کر رہا ہے۔

وہ سختی سے اسے یاد دلاتی ہے کہ ابھی وہ اس کا شوہر نہیں اور اسے اپنی زندگی کے ہر فیصلے پر اختیار جتانے کا حق حاصل نہیں۔

حمزہ اپنی محبت اور مستقبل کے رشتے کا حوالہ دیتا ہے، مگر دعا اس کی باتوں سے مزید دکھی ہو جاتی ہے۔

وہ سمجھتی ہے کہ محبت میں ایک دوسرے پر اعتماد ہونا چاہیے اور ہر بات پر کردار کی وضاحت مانگنا مناسب نہیں۔

یہ اختلاف دونوں کے درمیان ناراضی پیدا کر دیتا ہے۔

دعا اپنے گھر پہنچ کر رونے لگتی ہے۔

اس کا بھائی تیمور شیرازی اس کی پریشانی محسوس کرتا ہے اور وجہ پوچھتا ہے، مگر دعا ابتدا میں اسے کچھ نہیں بتاتی۔

دوسری جانب حالات اس وقت سنگین ہو جاتے ہیں جب دعا کا دوست جواد نشے کی حالت میں یونیورسٹی میں اس کے قریب آنے اور اسے زبردستی چھونے کی کوشش کرتا ہے۔

دعا اسے اپنے سے دور رہنے کو کہتی ہے، مگر جواد اس کی بات نہیں مانتا۔

وہ دعا کو دھکا دے کر بینچ پر گرا دیتا ہے اور اس کی طرف بڑھتا ہے۔

اسی لمحے حمزہ وہاں پہنچ جاتا ہے۔

دعا خوف زدہ ہو کر اسے مدد کے لیے پکارتی ہے۔

حمزہ فوراً جواد کو دعا سے دور کرتا ہے اور شدید غصے میں اسے مارنے لگتا ہے۔

یونیورسٹی کی انتظامیہ موقع پر پہنچتی ہے اور جواد کو یونیورسٹی سے نکال دیا جاتا ہے۔

اس خطرناک واقعے سے بچ جانے کے باوجود دعا اور حمزہ کے درمیان نئی تلخی پیدا ہو جاتی ہے۔

حمزہ دعا کو یاد دلاتا ہے کہ وہ پہلے ہی اسے ایسے دوستوں سے محتاط رہنے کا مشورہ دے چکا تھا۔

وہ دعا کے بعض رویوں کو بھی غیر محتاط قرار دیتا ہے، لیکن دعا اس کے الفاظ کو اپنے کردار پر الزام سمجھتی ہے۔

دعا اسے بتاتی ہے کہ وہ اس کی حفاظت کے نام پر اس کی ذات اور نیت کے متعلق فیصلے نہیں کر سکتا۔

حمزہ وضاحت کرتا ہے کہ وہ دعا پر شک نہیں کرتا بلکہ اس کے اردگرد موجود غیر ذمہ دار لوگوں سے پریشان ہوتا ہے۔

لیکن اس وقت دونوں جذباتی ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی بات مکمل طور پر نہیں سمجھ پاتے۔

دعا ناراض ہو کر وہاں سے چلی جاتی ہے۔

اس واقعے کے بعد وہ کئی دن تک پریشان رہتی ہے اور کھانا پینا بھی کم کر دیتی ہے۔

تیمور اپنی بہن کی حالت دیکھ کر مزید فکر مند ہو جاتا ہے۔

وہ دعا سے سختی سے پوچھتا ہے کہ آخر حمزہ نے اس کے ساتھ کیا کیا ہے۔

دعا اپنے بھائی کے سامنے حمزہ کے الفاظ اور اپنے احساسات بیان کر دیتی ہے۔

وہ روتے ہوئے کہتی ہے کہ حمزہ اسے ایک امیر باپ کی بگڑی ہوئی بیٹی سمجھتا ہے اور اس کے کردار پر اعتماد نہیں کرتا۔

تیمور اپنی بہن کی بات سن کر شدید غصے میں آ جاتا ہے۔

اس کے نزدیک دعا کی دل آزاری اور عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچانا ناقابلِ برداشت ہوتا ہے۔

وہ حمزہ سے ملاقات کرکے اسے خبردار کرتا ہے کہ آئندہ اس کی بہن کو تکلیف پہنچانے کی کوشش نہ کرے۔

حمزہ اسے سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ دعا سے بے حد محبت کرتا ہے اور اسے محفوظ دیکھنا چاہتا ہے۔

وہ تیمور کو بتاتا ہے کہ اس کی پریشانی کا تعلق دعا کے کردار سے نہیں بلکہ اس کے اردگرد موجود ایسے لوگوں سے ہے جن پر اسے اعتماد نہیں۔

مگر تیمور اس کی وضاحت سے مطمئن نہیں ہوتا۔

وہ حمزہ کو دھمکی دیتا ہے کہ اگر اس نے دوبارہ دعا کے متعلق ایسی بات کی تو وہ اس سے سخت انتقام لے گا۔

اس موقع پر دونوں کے درمیان خاندانی عزت اور بہنوں کے احترام کا معاملہ بھی سامنے آتا ہے۔

حمزہ اپنی بہن انزل کو اس اختلاف سے الگ رکھنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن تیمور کے الفاظ آنے والے خطرے کا اشارہ دیتے ہیں۔

بعد میں حمزہ اور دعا کے درمیان دوبارہ بات چیت ہوتی ہے۔

حمزہ اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے اور دعا کو یقین دلاتا ہے کہ وہ اس پر شک نہیں کرتا۔

وہ اسے سمجھاتا ہے کہ بعض دوستوں کے متعلق اس کے خدشات صرف حفاظت کی وجہ سے ہیں۔

دعا بھی اس سے اپنی محبت کا اعتراف کرتی ہے۔

حمزہ جلد شادی کرنے کی خواہش ظاہر کرتا ہے، کیونکہ وہ دعا کے بغیر زندگی گزارنے کا تصور نہیں کر سکتا۔

اس کے باوجود کہانی کی ابتدائی جھلک میں ایک ایسا واقعہ سامنے آتا ہے جو ان تمام تعلقات کو ایک نئی آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔

تیمور شیرازی حمزہ سے انتقام لینے کے لیے اس کی بہن انزل کو نشانہ بناتا ہے۔

وہ انزل سے نکاح کرتا ہے اور اس کے ساتھ ایک رات گزارنے کے بعد ہوٹل کے کمرے میں اسے رقم دے کر چھوڑنے لگتا ہے۔

انزل حیرت اور دکھ سے سوال کرتی ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ گزارے وقت کی قیمت کیوں ادا کر رہا ہے۔

وہ اسے یاد دلاتی ہے کہ وہ اس کی بیوی ہے۔

لیکن تیمور بے رحمی سے کہتا ہے کہ یہ صرف کاغذی نکاح تھا اور وہ اسے اپنی بیوی تسلیم نہیں کرتا۔

وہ انزل سے کہتا ہے کہ اپنے بھائی کو اس کا نام بتائے، تب اسے معلوم ہوگا کہ یہ نکاح کیوں کیا گیا تھا۔

انزل کو احساس ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ ہونے والا یہ دھوکا کسی ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہے جس کا اسے خود کوئی علم نہیں تھا۔

تیمور اسے ہوٹل کے کمرے میں تنہا چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔

انزل کے لیے اپنے بھائی کے سامنے واپس جانا بھی خوفناک ہو جاتا ہے۔

وہ اس کے غصے اور ممکنہ ردعمل سے خوف زدہ ہوتی ہے۔

اسی بے بسی میں وہ ایک حویلی میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے لگتی ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ اسے اپنے حاملہ ہونے کا علم ہوتا ہے۔

اب وہ صرف اپنی زندگی نہیں بلکہ اپنے ہونے والے بچے کے مستقبل کے متعلق بھی پریشان ہوتی ہے۔

ایک رات حویلی کی مالکن کا پوتا بیرونِ ملک سے واپس آتا ہے۔

انزل کا اچانک اس سے سامنا ہوتا ہے۔

وہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ تیمور شیرازی ہوتا ہے۔

تیمور انزل کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے، مگر اس سے بھی زیادہ حیرت اسے اس کے بڑھے ہوئے پیٹ کو دیکھ کر ہوتی ہے۔

جس لڑکی کو وہ انتقام کا نشانہ بنا کر اپنی زندگی سے نکال چکا تھا، وہی اب اس کے سامنے حاملہ حالت میں موجود ہوتی ہے۔

یہ غیر متوقع ملاقات کہانی کو ایک اہم موڑ پر لے آتی ہے۔

کیا تیمور اپنے انتقامی فیصلے کے نتائج کا سامنا کرے گا؟

کیا انزل کو اپنے اور آنے والے بچے کے لیے عزت، تحفظ اور انصاف مل سکے گا؟

اور کیا دعا اور حمزہ کے درمیان محبت اور اعتماد کی کشمکش اس حقیقت کے سامنے آنے کے بعد مزید پیچیدہ ہو جائے گی؟

یہ جذباتی اور انتقامی ناول خاندانی انا، ازدواجی دھوکے، بے قصور انسان کو بدلے کا نشانہ بنانے، محبت میں اعتماد اور ایک عورت کی خودداری جیسے موضوعات کو سامنے لاتا ہے۔

Related Keywords

Yaar Se Hai Yeh Gila Novel, Yaar Se Hai Yeh Gila Urdu Novel, Yaar Se Hai Yeh Gila PDF
Share this Novel

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote this novel?

This novel is written by NK Novels.

Is this novel complete or ongoing?

The recorded status is complete novel.

Join Our Community

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *