Sneak
"اوئے صاب۔۔۔ ام تمہارا گاڑی صاف کردے؟" فون پر مصروف زید قادوانی نے ایک نظر اس کم عمر لڑکی کو دیکھ کر اثبات میں سر ہلایا تو وہ معصوم دکھنے والی لڑکی چالاکی سے جلدی جلدی گاڑی کا شیشہ صاف کرنے لگی اور پھر زید کے آگے ہاتھ پھیلا دیے۔ "کام ہوگیا۔۔۔ امارا پیسہ!" زید نے فون پر مصروف رہتے ہوئے اس کے ہاتھ میں سو کا نوٹ رکھا۔ "اوئے تمارا دماغ خراب ہے؟ ام شیشہ صاف کرنے کا پانچ ہزار لیتا ہے۔ جلدی سے پیسہ دو ورنہ شور مچا کر تم پر الزام لگا دے گا۔" زید نے فون کان سے ہٹا کر اس چھٹانک بھر کی لڑکی کو دیکھا۔ شاید وہ لڑکی جانتی نہیں تھی کہ زید قادوانی کون تھا۔ "مچاؤ شور۔" اس کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے وہ سرد لہجے میں بولا تو گل بہار خوف سے فوراً پیچھے ہوئی۔ اس نے غلط شکار پکڑ لیا تھا۔ "دد۔۔۔ دیکھو صاب۔۔۔" وہ بولنے لگی، مگر زید کی پینٹ میں پستول دیکھ کر وہاں سے بھاگ گئی۔ زید قادوانی کے ہونٹوں پر گہری مسکراہٹ اتر آئی۔ دوپہر کے دو بج رہے تھے اور اسلام آباد کی سڑکوں پر ٹریفک سگنل پر گاڑیوں کی لمبی قطار لگی تھی۔ ہارن پر ہارن بج رہے تھے۔ اسی قطار میں کالی پراڈو کھڑی تھی، جس کی اسٹیئرنگ سیٹ پر زید قادوانی بیٹھا تھا۔ سیاہ چشمہ ماتھے پر ٹکا تھا، آستینیں کہنیوں تک موڑی ہوئی تھیں اور کان سے موبائل لگا ہوا تھا۔ "نہیں سر، میں نے کہا نا کہ فائل کل صبح تک آپ کی میز پر ہوگی۔۔۔ جی؟ نہیں، وہ گواہ بیان بدلنے والا نہیں ہے، میں خود اس سے مل کر آیا ہوں۔۔۔ جی ہاں، سمجھا دیا ہے اسے۔" "سمجھا دیا ہے" کہتے ہوئے اس کے لہجے میں جو ٹھنڈک تھی اس سے اندازہ ہو جاتا تھا کہ سمجھانے کا طریقہ کتنا "پیار بھرا" رہا ہوگا۔ اسی لمحے کھڑکی کے شیشے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ زید نے نظر موڑ کر دیکھا۔ ایک دبلی پتلی سی لڑکی، عمر یہی کوئی سترہ اٹھارہ برس، میلے رنگ کا ڈھیلا ڈھالا کرتا پہنے، بکھرے بالوں کی لٹ آنکھوں پر گراتی، ہاتھ میں پرانا سا کپڑا لیے کھڑی تھی۔ چہرے پر ایسی معصومیت تھی کہ دیکھنے والا بے اختیار پسیج جائے۔ "اوئے صاب۔۔۔ ام تمہارا گاڑی صاف کردے؟" زید نے فون کان سے لگائے ہوئے ہی ایک اچٹتی سی نظر اس پر ڈالی اور بے دھیانی میں اثبات میں سر ہلا دیا۔ اس کا دھیان ابھی بھی فائل اور گواہ میں اٹکا ہوا تھا۔ لڑکی کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اس نے پھرتی سے کپڑا شیشے پر پھیرنا شروع کیا۔ دائیں سے بائیں، بائیں سے دائیں، اوپر نیچے۔ شیشہ صاف تو کیا ہوتا، بس گیلا ہو کر دھبوں سے بھر گیا۔ پھر اس نے ایک فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ پھیلا دیا۔ "کام ہوگیا۔۔۔ امارا پیسہ!" زید نے بنا دیکھے جیب میں ہاتھ ڈالا، سو کا نوٹ نکالا اور اس کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔ فون پر دوسری طرف سے کوئی بات کر رہا تھا اور وہ "ہوں، ہاں" میں جواب دے رہا تھا۔ لڑکی نے نوٹ کو یوں دیکھا جیسے کسی نے اس کے ہاتھ پر چھپکلی رکھ دی ہو۔ "اوئے۔۔۔ تمارا دماغ خراب ہے کیا؟" اس نے ایک ہاتھ کمر پر رکھ کر دوسرے ہاتھ میں نوٹ ہوا میں لہرایا۔ "ام شیشہ صاف کرنے کا پانچ ہزار لیتا ہے۔ جلدی سے پیسہ دو، ورنہ شور مچا کر تم پر الزام لگا دے گا کہ تم نے ام کو چھیڑا!" زید کی انگلیاں موبائل پر ٹھہر گئیں۔ اس نے آہستہ سے فون کان سے ہٹایا، کال کاٹی اور گردن موڑ کر اس چھٹانک بھر کی لڑکی کو دیکھا۔ پانچ ہزار؟ شیشہ صاف کرنے کا؟ وہ بھی ایسا شیشہ جسے صاف کرنے کے بعد پہلے سے زیادہ گندا کر دیا گیا تھا؟ اور اوپر سے دھمکی بھی؟ شاید لڑکی جانتی نہیں تھی کہ سامنے بیٹھا شخص کون ہے۔ زید نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اترا۔ چھ فٹ کے قد کے ساتھ جب وہ سامنے کھڑا ہوا تو لڑکی کو گردن اٹھا کر دیکھنا پڑا۔ "مچاؤ شور۔" وہ قدم اس کی طرف بڑھاتے ہوئے سرد لہجے میں بولا۔ لڑکی کے چہرے سے ایک لمحے میں شوخی غائب ہو گئی۔ وہ دو قدم پیچھے ہٹی۔ اس کی چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ اس بار اس نے غلط شکار پکڑ لیا ہے۔ "دد۔۔۔ دیکھو صاب، ام تو۔۔۔" وہ بول ہی رہی تھی کہ زید کے ہاتھ کی حرکت سے اس کی قمیص ذرا سی سرکی اور پینٹ کی بیلٹ میں اڑسی ہوئی کالی گن لڑکی کی نظر میں آ گئی۔ بس پھر کیا تھا۔ سو کا نوٹ ہاتھ میں دبائے وہ ایسی بھاگی جیسے پیچھے شیر لگا ہو۔ گاڑیوں کے بیچ سے، فٹ پاتھ پھلانگتی ہوئی، اور چند سیکنڈ میں بھیڑ میں گم ہو گئی۔ زید قادوانی کے ہونٹوں پر ایک گہری مسکراہٹ اتر آئی۔ پانچ ہزار۔۔۔ واہ۔ لڑکی میں ہمت تو تھی۔ اتنے میں سگنل ہرا ہو گیا۔ پیچھے سے ہارنوں کی بوچھاڑ شروع ہو گئی۔ زید نے سر جھٹکا اور گاڑی میں بیٹھ کر آگے بڑھا دی۔ مگر اس کا دھیان اب فائل میں نہیں تھا۔ ذہن کے کسی کونے میں اس لڑکی کا چہرہ اٹکا رہ گیا تھا۔ کچھ تھا اس کے چہرے میں۔۔۔ کچھ جانا پہچانا۔ شام کو وہ گھر پہنچا تو لاؤنج میں ٹی وی کی ہلکی آواز آ رہی تھی۔ ماما، تسمینہ بیگم، صوفے پر بیٹھی تھیں، ہاتھ میں تسبیح تھی مگر نظریں ٹی وی پر نہیں تھیں۔ وہ کھڑکی سے باہر ڈوبتے سورج کو دیکھ رہی تھیں۔ "السلام علیکم ماما۔" "وعلیکم السلام۔ آ گئے میرے شیر۔" انہوں نے مسکرانے کی کوشش کی، مگر مسکراہٹ آنکھوں تک نہ پہنچی۔ زید نے گھڑی اتار کر میز پر رکھی اور ان کے پاس بیٹھ گیا۔ "ماما، پھر وہی؟" "کیا وہی؟" وہ انجان بنیں۔ "وہی منہ لٹکا ہوا، وہی کھڑکی سے باہر دیکھنا۔ آج کون سی تاریخ ہے ماما؟" تسمینہ بیگم نے ایک گہری سانس لی۔ "آج بائیس تاریخ ہے بیٹا۔ سمینہ کی برسی کی تاریخ نہیں ہے، نہ اس کی شادی کی، نہ اس کے گھر سے جانے کی۔ بس یوں ہی آج بہت یاد آ رہی تھی وہ۔" زید خاموش ہو گیا۔ ماما کی چھوٹی بہن سمینہ، جو کبھی اس گھر کی سب سے شوخ اور ہنس مکھ لڑکی ہوا کرتی تھی۔ جس نے ایک ایسے لڑکے سے محبت کی جسے خاندان نے رد کر دیا تھا۔ جس نے ایک رات سب چھوڑ کر اس سے نکاح کر لیا۔ پھر ناناجان نے دروازے ہی نہیں، دل بھی بند کر لیے۔ "آج سے ہمارے لیے وہ مر گئی۔" بس یہی ایک جملہ تھا جو انہوں نے آخری بار اس کے بارے میں کہا تھا۔ مگر ماما کا دل ماں جیسا تھا۔ وہ چھپ چھپ کر بہن سے رابطہ رکھتی رہیں۔ فون پر باتیں، خطوط، کبھی کبھار کسی پارک میں ملاقات۔ انہی دنوں انہیں پتا چلا کہ سمینہ کی ایک بیٹی ہوئی ہے۔ ننھی سی، گلابی گلابی، جس کا نام بہت پیار سے رکھا گیا تھا۔ گل بہار۔ پھر ایک دن رابطہ ٹوٹ گیا۔ ماما نے بہت ڈھونڈا۔ پرانے پتے پر گئیں تو معلوم ہوا کہ وہ لوگ مکان چھوڑ گئے ہیں۔ پھر خبر ملی کہ سڑک کے ایک حادثے میں میاں بیوی دونوں۔۔۔ اور بچی؟ بچی کا کوئی سراغ نہ ملا۔ "ماما، آپ نے تو کتنی بار کوشش کی۔" زید نے نرمی سے ان کا ہاتھ تھاما۔ "پولیس، اخبار، سب کچھ۔" "کوشش تو کی تھی بیٹا۔ مگر کچھ ملا کیا؟" ان کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ "بس یہ ایک تصویر ہے میرے پاس۔" انہوں نے تسبیح کے ساتھ رکھی ایک پرانی البم اٹھائی اور اس میں سے ایک مڑی تڑی سی تصویر نکالی۔ زید نے وہ تصویر پہلے بھی کئی بار دیکھی تھی۔ ایک سات آٹھ سال کی بچی، گھنگریالے بال، بڑی بڑی شرارتی آنکھیں، گال پر ایک چھوٹا سا تل، اور مسکراتے ہوئے دانتوں کے بیچ ایک ننھی سی جگہ، جہاں شاید دودھ کا دانت گر چکا تھا۔ "اب تو وہ بڑی ہو گئی ہوگی نا زید۔ اتنی بڑی کہ شاید میں سامنے سے گزروں تو پہچان بھی نہ پاؤں۔" ماما کی آواز بھرا گئی۔ "پتا نہیں کہاں ہوگی، کس حال میں، کس کے در پر۔ کہیں بھوکی۔۔۔" "ماما!" زید نے انہیں ٹوک دیا۔ "ایسی باتیں نہیں کریں۔ اللہ مہربان ہے۔" مگر جب اس نے تصویر کو غور سے دیکھا تو دل کے اندر کچھ ہلکا سا کھٹکا۔ اس کا ذہن بجلی کی رفتار سے دوپہر کے سگنل پر پہنچ گیا۔ "پانچ ہزار۔۔۔ شور مچا دے گا۔۔۔" اس لڑکی کی کمر پر رکھا ہوا ہاتھ، تیکھی آنکھیں۔ اور جب وہ گھبرا کر بولی تھی، "دد۔۔۔ دیکھو صاب" تو اس کے گال پر ایک چھوٹا سا کالا نقطہ۔۔۔ زید ایک جھٹکے سے سیدھا ہو گیا۔ "کیا ہوا؟" ماما چونک گئیں۔ "کچھ نہیں ماما۔" اس نے تصویر واپس ان کے ہاتھ میں رکھی۔ اس کا لہجہ بظاہر نارمل تھا، مگر دل کی دھڑکن کی رفتار نارمل نہیں تھی۔ "بس ایک فون کرنا ہے۔ ابھی آیا۔" "مجھے ابھی جانا ہوگا ماما۔" وہ ان کے پاس آتے بولا۔ "کوئی کیس ہے؟" "جی ماما، ایک کیس ہے۔" اس نے چائے کا آخری گھونٹ بھرا اور باہر نکل گیا۔ وہ اسی سگنل پر پہنچا اور گاڑی ذرا ہٹ کر کھڑی کر دی۔ کالا چشمہ آنکھوں پر چڑھایا اور سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا کر باہر دیکھنے لگا۔ سگنل پر وہی چہل پہل تھی۔ پھول بیچنے والے بچے، اخبار والے، بھیک مانگنے والے، اور گاڑیوں کے شیشے صاف کرنے والوں کی ایک چھوٹی سی ٹولی۔ مگر وہ لڑکی نہیں تھی۔ ایک گھنٹہ گزر گیا۔ دو گھنٹے۔ زید کا فون بار بار بج رہا تھا اور وہ ہر بار اسے خاموش کر دیتا تھا۔ آخر جب اس کا صبر جواب دینے لگا، تبھی اس نے اسے دیکھا۔ سڑک کے پار، ایک چھوٹی سی دکان کی چھاؤں تلے، وہ لڑکی بیٹھی تھی۔ ایک ہاتھ میں گنے کے رس کا گلاس، دوسرے میں وہی سو کا نوٹ، جسے وہ بار بار الٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھی اور خود ہی بڑبڑا رہی تھی۔ دور سے آواز تو نہیں آئی مگر ہونٹوں کی حرکت صاف پڑھی جا سکتی تھی۔ شاید وہ کہہ رہی تھی، "پانچ ہزار کا کام کیا، سو روپیہ ملا۔ دنیا میں انصاف نہیں رہا اب۔" زید کی ہنسی چھوٹتے چھوٹتے بچی۔ اس نے خود کو سنجیدہ کیا۔ لڑکی نے رس ختم کیا، نوٹ کو احتیاط سے قمیص کے اندر ڈالا، اور اٹھ کر بھیڑ میں چل پڑی۔ زید نے گاڑی اسٹارٹ کی، مگر پھر خیال آیا کہ گاڑی میں پیچھا کرنا خود کو ظاہر کرنے کے برابر ہوگا۔ اس نے گاڑی ایک سائیڈ پر لگائی اور پیدل اس کے پیچھے ہو لیا۔ وہ لڑکی تیز تیز چل رہی تھی، گلیوں سے گھومتی ہوئی، مڑتی ہوئی۔ اس کے چلنے میں ایک عجیب سی چال تھی، کچھ اکڑ، کچھ شوخی، جیسے پوری دنیا اس کی جاگیر ہو اور وہ بس سیر کو نکلی ہو۔ زید فاصلہ رکھ کر پیچھے چلتا رہا۔ وہ کبھی دیوار کی اوٹ لیتا، کبھی کسی ٹھیلے والے کے پیچھے ہو جاتا۔ لڑکی ایک دو بار رکی، پیچھے مڑ کر دیکھا، مگر زید ہر بار بھیڑ میں گم ہو جاتا۔ "کوئی ہے؟" لڑکی نے ایک بار زور سے پوچھا۔ پھر خود ہی کندھے اچکائے۔ "ام کا واہم ہوگا۔" زید نے اپنے ہونٹ دانتوں تلے دبائے۔ آدھے گھنٹے کی پیدل مسافت کے بعد شہر کا شور مدھم ہونے لگا۔ پکی عمارتیں ختم ہوئیں اور کچی سڑک شروع ہوئی۔ سڑک کے دونوں طرف جھگیاں، ٹاٹ اور پلاسٹک کی چادروں سے بنی ہوئی۔ چھوٹے چھوٹے بچے مٹی میں کھیل رہے تھے اور عورتیں مٹی کے چولہوں پر ہانڈیاں چڑھائے بیٹھی تھیں۔ لڑکی ایک ایسی جھگی کے سامنے رکی جو باقی سب سے ذرا مختلف تھی۔ اس کے سامنے ایک چھوٹی سی چارپائی بچھی تھی اور اس پر ایک بزرگ عورت بیٹھی تھیں۔ سفید میلی چادر، جھریوں بھرا چہرہ اور آنکھوں میں رعب۔ "اماں! ام آ گیا!" لڑکی نے خوشی سے آواز لگائی۔ بزرگ عورت نے سر اٹھایا۔ "گل بہار! آج اتنی دیر کیوں لگائی؟" زید کے قدم زمین میں گڑ گئے۔ گل بہار۔۔۔
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
Summary — Urdu
اسلام آباد کی مصروف سڑکوں پر دوپہر کے وقت زید قادوانی اپنی کالی پراڈو میں بیٹھا فون پر ایک اہم معاملے پر گفتگو کر رہا ہوتا ہے۔ ٹریفک سگنل پر رکی ہوئی گاڑی کی کھڑکی پر اچانک دستک ہوتی ہے۔
سامنے سترہ اٹھارہ سال کی ایک دبلی پتلی لڑکی کھڑی ہوتی ہے، جس کے میلے کپڑے، بکھرے ہوئے بال اور معصوم چہرہ اس کی مشکل زندگی کی جھلک دکھاتے ہیں۔
وہ اپنے مخصوص انداز میں زید سے اس کی گاڑی کا شیشہ صاف کرنے کی اجازت مانگتی ہے۔
زید فون پر مصروف ہونے کے باعث بے دھیانی میں سر ہلا دیتا ہے۔
لڑکی جلدی جلدی شیشہ صاف کرتی ہے، مگر اسے صاف کرنے کے بجائے مزید دھبوں سے بھر دیتی ہے۔ کام ختم ہوتے ہی وہ زید کے سامنے پیسوں کے لیے ہاتھ پھیلا دیتی ہے۔
زید اسے سو روپے کا نوٹ دیتا ہے، لیکن لڑکی یہ رقم دیکھ کر ناراض ہو جاتی ہے۔
وہ دعویٰ کرتی ہے کہ گاڑی کا شیشہ صاف کرنے کے پانچ ہزار روپے لیتی ہے اور اگر زید نے پیسے نہ دیے تو شور مچا کر اس پر چھیڑنے کا الزام لگا دے گی۔
اس غیر متوقع مطالبے پر زید حیران رہ جاتا ہے۔
وہ گاڑی سے اتر کر لڑکی کو شور مچانے کا چیلنج دیتا ہے، مگر جیسے ہی لڑکی کی نظر اس کی کمر پر موجود پستول پر پڑتی ہے، اس کی ساری بہادری غائب ہو جاتی ہے۔
وہ سو روپے کا نوٹ لے کر فوراً وہاں سے بھاگ نکلتی ہے۔
زید کو اس کی شرارت اور حاضر جوابی پر مسکراہٹ آ جاتی ہے، لیکن کچھ دیر بعد اسے محسوس ہوتا ہے کہ لڑکی کا چہرہ عجیب طرح سے جانا پہچانا تھا۔
شام کو گھر واپس پہنچ کر زید اپنی والدہ تسمینہ بیگم کو اداس دیکھتا ہے۔
تسمینہ بیگم اپنی چھوٹی بہن سمینہ کو یاد کر رہی ہوتی ہیں، جس کی زندگی نے برسوں پہلے ایک دردناک رخ اختیار کیا تھا۔
سمینہ نے خاندان کی مخالفت کے باوجود اپنی پسند کے نوجوان سے نکاح کیا تھا۔ اس فیصلے پر اس کے والد نے اس سے تمام تعلقات ختم کر دیے تھے۔
لیکن تسمینہ بیگم نے اپنی بہن کا ساتھ مکمل طور پر نہیں چھوڑا۔
وہ چھپ کر اس سے رابطہ رکھتی رہیں اور انہی دنوں انہیں معلوم ہوا کہ سمینہ کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی ہے، جس کا نام گل بہار رکھا گیا تھا۔
پھر ایک دن سمینہ سے رابطہ اچانک ختم ہو گیا۔
بعد میں خبر ملی کہ سمینہ اور اس کا شوہر ایک سڑک حادثے کا شکار ہو گئے ہیں، مگر ان کی ننھی بیٹی کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔
تسمینہ بیگم نے پولیس، اخبار اور مختلف ذرائع سے اپنی بھانجی کو تلاش کرنے کی کوشش کی، لیکن برسوں گزرنے کے باوجود وہ کامیاب نہ ہو سکیں۔
اب ان کے پاس گل بہار کی صرف ایک پرانی تصویر باقی ہے۔
وہ زید کو تصویر دکھاتے ہوئے افسردگی سے کہتی ہیں کہ نہ جانے اب گل بہار کہاں ہوگی اور کن حالات میں زندگی گزار رہی ہوگی۔
زید تصویر پر نظر ڈالتا ہے تو اچانک اس کے دل میں ایک خیال پیدا ہوتا ہے۔
تصویر میں موجود بچی کی شرارتی آنکھیں، چہرے کے نقوش اور گال پر چھوٹا سا تل اسے دوپہر میں ملنے والی لڑکی کی یاد دلا دیتے ہیں۔
اسے محسوس ہوتا ہے کہ ٹریفک سگنل پر گاڑی کا شیشہ صاف کرنے والی لڑکی اور برسوں پہلے لاپتا ہونے والی گل بہار کے درمیان غیر معمولی مشابہت موجود ہے۔
زید اپنی والدہ کو کچھ بتائے بغیر فوری طور پر گھر سے نکل جاتا ہے۔
وہ دوبارہ اسی ٹریفک سگنل پر پہنچتا ہے جہاں لڑکی سے اس کی پہلی ملاقات ہوئی تھی۔
سڑک پر بہت سے بچے اور لوگ گاڑیوں کے شیشے صاف کر رہے ہوتے ہیں، مگر وہ لڑکی کہیں نظر نہیں آتی۔
زید گھنٹوں انتظار کرتا ہے، یہاں تک کہ اسے سڑک کے دوسری جانب ایک چھوٹی سی دکان کے قریب وہی لڑکی دکھائی دیتی ہے۔
وہ گنے کا رس پی رہی ہوتی ہے اور زید سے ملنے والا سو روپے کا نوٹ بار بار دیکھ رہی ہوتی ہے۔
زید اسے دیکھ کر مسکراتا ہے، پھر خاموشی سے اس کا پیچھا کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔
لڑکی مختلف گلیوں اور راستوں سے گزرتی ہوئی شہر کے ایسے علاقے میں پہنچتی ہے جہاں پکی عمارتوں کی جگہ جھگیاں اور کچے راستے شروع ہو جاتے ہیں۔
زید فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے اس کے پیچھے چلتا رہتا ہے۔
آخرکار لڑکی ایک جھگی کے سامنے رکتی ہے، جہاں ایک بزرگ عورت چارپائی پر بیٹھی ہوتی ہے۔
لڑکی خوشی سے انہیں آواز دیتی ہے۔
بزرگ عورت سر اٹھا کر پوچھتی ہے کہ گل بہار آج اتنی دیر سے کیوں آئی ہے۔
یہ نام سنتے ہی زید کے قدم جیسے زمین میں گڑ جاتے ہیں۔
جس نام کو اس کی والدہ برسوں سے یاد کرتی آ رہی تھیں، وہی نام اس اجنبی لڑکی کے لیے استعمال ہوا تھا۔
اب زید کے سامنے ایک حیران کن سوال کھڑا ہو جاتا ہے۔
کیا ٹریفک سگنل پر اس سے پانچ ہزار روپے مانگنے والی شوخ لڑکی واقعی اس کی گمشدہ خالہ زاد بہن ہے؟
یہ جذباتی خاندانی ڈرامہ برسوں پرانے دکھ، خاندان سے جدائی، گمشدہ شناخت، غربت اور رشتوں کی تلاش جیسے موضوعات کو پیش کرتا ہے۔
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕





