Skip to navigation Skip to main content
Abhi Kuch waqt baqi hai Urdu novel cover
Rank#40
Views340.4K

READ URDU NOVELS AT NOVELISTAN.COM

Abhi Kuch Waqt Baqi Hai

No ratings yet

Rate this novel

CompleteAfter MarriageMarriage Crisis

Novel code: Novel90036

Read OnlineDownload PDF

زر مجتبیٰ خان کی زندگی میں اپنی جگہ، اولاد اور اعتماد سے متعلق جواب چاہتی ہے، جبکہ زرمینے سے اس کی وابستگی رشتے کو مزید الجھا دیتی ہے۔ محبت اور دوسری شادی کی یہ کہانی وعدوں، چھپے حقائق اور جذباتی عدم تحفظ کی کشمکش پیش کرتی ہے۔

Read the Novel

Sneak

تم نے کبھی اپنے اور میرے... اپنے اور میرے بچے کے بارے میں بات نہیں کی، کیوں مجتبیٰ خان؟"
"کیوں کی تم نے مجھ سے شادی؟" اس سوال نے مجتبیٰ  خان کو بہت حیران کیا۔
ایک  سوال کے بعد ایک اور سوال! اس سوال نے مجتبیٰ کو مزید چونکایا تھا۔ وہ کس نہج پہ سوچ رہی تھی، اب وہ سمجھ سکتا تھا۔
"بچے تو ہونے ہی تھے زر! اتنی جلدی کیا تھی؟ میں نے اس لیے توجہ نہیں دی۔" اس نے تحمل سے جواب دیا تھا۔
"تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو؟ ہو سکتا ہے کہ مجھ میں کوئی بڑا پرابلم ہو۔ کبھی تم نے بات کی کہ مجھے کسی گائناکالوجسٹ کے پاس جانا چاہیے؟ نہیں نا! تم یہ بات کیوں کرتے مجتبیٰ، جبکہ تمہارے پاس پہلے سے اولاد موجود تھی۔ پھر کیوں خواہش ہوتی تمہیں مجھ سے اولاد کی؟"
وہ جواب کا انتظار کیے بنا بول رہی تھی۔
"ہاں ٹھیک ہے کہ میری زندگی میں  میرا بیٹا عبدل موجود ہے، سو میں نے اس بات کو اہمیت نہیں دی، مگر اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ مجھے تم سے اولاد ہی نہیں چاہیے۔ تم جانتی ہو کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔"
"تم اپنی باتوں سے مجھے مطمئن نہیں کر سکتے۔ تم نے مجھے دھوکا دیا، تم صرف کھیل رہے ہو میرے ساتھ۔"
"زر پلیز! اب مجھے تمہاری باتوں سے تکلیف ہو رہی ہے۔ آئندہ میں..."
"آئندہ؟" اس نے تیز نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے اس کی بات کاٹی۔ "کس آئندہ کی بات کر رہے ہو تم؟" وہ طنزیہ ہنسی۔
وہ خاموش ہو کر اسے دیکھنے لگا تھا۔
"میں کوئی ہنگامہ کری ایٹ نہیں کرنا چاہتی، مجھے ایک پرسکون زندگی چاہیے، ایسی زندگی نہیں جس میں مجھے اپنے شوہر کا پتا دوسرے لوگ آ کر بتائیں۔"
مجتبیٰ کی باتیں، اس کے دلائل، اس کے جوابات... سب کچھ جیسے ختم ہو رہا تھا۔ زر کیا کہنے والی تھی، وہ سمجھ سکتا تھا۔
"زر اور زرمینے... ان کے درمیان کتنا فرق ہے، میں نہیں جانتی۔ اور کمال تو یہ ہے کہ میں یہ تک نہیں جانتی کہ ان دونوں میں سے کون تمہارے دل کے زیادہ قریب ہے۔"
مجتبیٰ نے رنج سے اسے دیکھا۔ ڈیڑھ سال بعد بھی وہ یہ بات کہہ رہی تھی۔
بہر حال وہ مڑی۔ مجتبیٰ کے دل پہ جیسے گھونسا پڑا تھا۔ وہ رو رہی تھی۔
"فیصلہ تو تمہیں کرنا ہے کہ تم کس کے ساتھ زندگی گزارو گے... زر یا زرمینے!"
"یہ کسی شے کے انتخاب کا مسئلہ نہیں ہے۔ ایک انسان سے بہت سے لوگ وابستہ ہوتے ہیں۔ میں ایک بند گلی میں کھڑا ہوں۔ تم دونوں میں سے کسی ایک کو چھوڑنا میرے لیے ایسا ہی ہے جیسے زندگی چھوڑ کر موت کا انتخاب کرنا۔"
وہ یکدم کھڑا ہو کر تیز لہجے میں بولا۔
"زر! ایک چھوٹی سی بات کو لے کر تم کیوں اتنی بڑی بات کر رہی ہو؟ میں نے تم سے جھوٹ بولا، اس کا مطلب یہ تو نہیں ہو گیا کہ میں تم سے محبت نہیں کرتا۔ میں تو تمہیں صرف اس تکلیف سے بچانا چاہتا تھا جو تمہیں میرے زرمینے کے ساتھ ہونے پر ہوتی۔ آئی ایم سوری فار ڈیٹ!" اس کے کندھوں کو دونوں ہاتھوں سے پکڑتے ہوئے بولا۔
زر کے بہنے والے آنسو اور تیزی سے بہنے لگے تھے۔ اس نے مجتبیٰ کو دیکھتے ہوئے اس کے دونوں ہاتھ کندھوں سے ہٹائے۔
"ایک بات بتاؤ گے تم مجھے؟ میں کیا ہوں... تمہاری بیوی یا پھر قانونی رکھیل؟”
کوئی تیز دھار آلہ اتنی تیزی سے نہیں کاٹتا ہو گا جتنی تیزی سے اس بات نے مجتبیٰ کو چیرا تھا۔ وہ سُن ہو کر رہ گیا۔ یک دم اس کا چہرہ سرخ ہوا تھا اور پھر دوسرے ہی لمحے اس نے کھینچ کر زر کے منہ پر تھپڑ دے مارا۔ یہ بہت شدید بات تھی۔
زر بے ساختہ زچ کر رہ گئی تھی۔ اسے اس جواب کی توقع نہیں تھی۔
"یہ تھپڑ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا ہو؟"
ایک بازو سے پکڑ کر اسے کرسی سے سیدھا کرتے ہوئے اس نے کہا، پھر ایک جھٹکے سے......
#secondmarriage #Dusrishadi #UrduNovel2026 #novels #urdunovels #rudehero #urdunovels #EmotionalStory #HeartTouching #RomanticNovel #khan #pathan #family #political

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Description — Urdu

Abhi Kuch waqt baqi hai از sehar sajid کے اس اقتباس میں زر مجتبیٰ خان سے اولاد، اعتماد اور زرمینے کے بارے میں سوال کرتی ہے۔ تلخ گفتگو ان کے رشتے کا تناؤ ظاہر کرتی ہے۔

Summary — Urdu

زر کو شکایت ہے کہ مجتبیٰ نے ان کی اولاد اور اس کے خدشات کو اہمیت نہیں دی۔ وہ زر یا زرمینے میں سے کسی ایک کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ مانگتی ہے۔ مجتبیٰ دونوں سے وابستگی ظاہر کرتا ہے، اور بڑھتی ہوئی تلخی جسمانی تشدد تک پہنچ جاتی ہے۔

Related Keywords

Abhi Kuch waqt baqi hai Urdu Novel
Share this Novel

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote this novel?

This novel is written by sehar sajid.

Is this novel complete or ongoing?

The recorded status is complete novel.

Join Our Community

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *