Sneak
تم نے کبھی اپنے اور میرے... اپنے اور میرے بچے کے بارے میں بات نہیں کی، کیوں مجتبیٰ خان؟" "کیوں کی تم نے مجھ سے شادی؟" اس سوال نے مجتبیٰ خان کو بہت حیران کیا۔ ایک سوال کے بعد ایک اور سوال! اس سوال نے مجتبیٰ کو مزید چونکایا تھا۔ وہ کس نہج پہ سوچ رہی تھی، اب وہ سمجھ سکتا تھا۔ "بچے تو ہونے ہی تھے زر! اتنی جلدی کیا تھی؟ میں نے اس لیے توجہ نہیں دی۔" اس نے تحمل سے جواب دیا تھا۔ "تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو؟ ہو سکتا ہے کہ مجھ میں کوئی بڑا پرابلم ہو۔ کبھی تم نے بات کی کہ مجھے کسی گائناکالوجسٹ کے پاس جانا چاہیے؟ نہیں نا! تم یہ بات کیوں کرتے مجتبیٰ، جبکہ تمہارے پاس پہلے سے اولاد موجود تھی۔ پھر کیوں خواہش ہوتی تمہیں مجھ سے اولاد کی؟" وہ جواب کا انتظار کیے بنا بول رہی تھی۔ "ہاں ٹھیک ہے کہ میری زندگی میں میرا بیٹا عبدل موجود ہے، سو میں نے اس بات کو اہمیت نہیں دی، مگر اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ مجھے تم سے اولاد ہی نہیں چاہیے۔ تم جانتی ہو کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔" "تم اپنی باتوں سے مجھے مطمئن نہیں کر سکتے۔ تم نے مجھے دھوکا دیا، تم صرف کھیل رہے ہو میرے ساتھ۔" "زر پلیز! اب مجھے تمہاری باتوں سے تکلیف ہو رہی ہے۔ آئندہ میں..." "آئندہ؟" اس نے تیز نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے اس کی بات کاٹی۔ "کس آئندہ کی بات کر رہے ہو تم؟" وہ طنزیہ ہنسی۔ وہ خاموش ہو کر اسے دیکھنے لگا تھا۔ "میں کوئی ہنگامہ کری ایٹ نہیں کرنا چاہتی، مجھے ایک پرسکون زندگی چاہیے، ایسی زندگی نہیں جس میں مجھے اپنے شوہر کا پتا دوسرے لوگ آ کر بتائیں۔" مجتبیٰ کی باتیں، اس کے دلائل، اس کے جوابات... سب کچھ جیسے ختم ہو رہا تھا۔ زر کیا کہنے والی تھی، وہ سمجھ سکتا تھا۔ "زر اور زرمینے... ان کے درمیان کتنا فرق ہے، میں نہیں جانتی۔ اور کمال تو یہ ہے کہ میں یہ تک نہیں جانتی کہ ان دونوں میں سے کون تمہارے دل کے زیادہ قریب ہے۔" مجتبیٰ نے رنج سے اسے دیکھا۔ ڈیڑھ سال بعد بھی وہ یہ بات کہہ رہی تھی۔ بہر حال وہ مڑی۔ مجتبیٰ کے دل پہ جیسے گھونسا پڑا تھا۔ وہ رو رہی تھی۔ "فیصلہ تو تمہیں کرنا ہے کہ تم کس کے ساتھ زندگی گزارو گے... زر یا زرمینے!" "یہ کسی شے کے انتخاب کا مسئلہ نہیں ہے۔ ایک انسان سے بہت سے لوگ وابستہ ہوتے ہیں۔ میں ایک بند گلی میں کھڑا ہوں۔ تم دونوں میں سے کسی ایک کو چھوڑنا میرے لیے ایسا ہی ہے جیسے زندگی چھوڑ کر موت کا انتخاب کرنا۔" وہ یکدم کھڑا ہو کر تیز لہجے میں بولا۔ "زر! ایک چھوٹی سی بات کو لے کر تم کیوں اتنی بڑی بات کر رہی ہو؟ میں نے تم سے جھوٹ بولا، اس کا مطلب یہ تو نہیں ہو گیا کہ میں تم سے محبت نہیں کرتا۔ میں تو تمہیں صرف اس تکلیف سے بچانا چاہتا تھا جو تمہیں میرے زرمینے کے ساتھ ہونے پر ہوتی۔ آئی ایم سوری فار ڈیٹ!" اس کے کندھوں کو دونوں ہاتھوں سے پکڑتے ہوئے بولا۔ زر کے بہنے والے آنسو اور تیزی سے بہنے لگے تھے۔ اس نے مجتبیٰ کو دیکھتے ہوئے اس کے دونوں ہاتھ کندھوں سے ہٹائے۔ "ایک بات بتاؤ گے تم مجھے؟ میں کیا ہوں... تمہاری بیوی یا پھر قانونی رکھیل؟” کوئی تیز دھار آلہ اتنی تیزی سے نہیں کاٹتا ہو گا جتنی تیزی سے اس بات نے مجتبیٰ کو چیرا تھا۔ وہ سُن ہو کر رہ گیا۔ یک دم اس کا چہرہ سرخ ہوا تھا اور پھر دوسرے ہی لمحے اس نے کھینچ کر زر کے منہ پر تھپڑ دے مارا۔ یہ بہت شدید بات تھی۔ زر بے ساختہ زچ کر رہ گئی تھی۔ اسے اس جواب کی توقع نہیں تھی۔ "یہ تھپڑ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا ہو؟" ایک بازو سے پکڑ کر اسے کرسی سے سیدھا کرتے ہوئے اس نے کہا، پھر ایک جھٹکے سے...... #secondmarriage #Dusrishadi #UrduNovel2026 #novels #urdunovels #rudehero #urdunovels #EmotionalStory #HeartTouching #RomanticNovel #khan #pathan #family #political
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
Summary — Urdu
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕





