Skip to navigation Skip to main content Skip to content
Ashna e Dil Urdu novel cover
Rank#2
Views909.5K

READ URDU NOVELS AT NOVELISTAN.COM

Ashna e Dil

No ratings yet

Rate this novel

CompleteAfter Nikah BasedFamily Drama

Novel code: Novel90052

Read OnlineDownload PDF

"میرا پوتا معذور ہے، بول بھی نہیں سکتا! ایک بار اس حویلی میں قدم رکھ دیا تو واپس نہیں جا سکو گی!" سلطان خانزادہ کی رعب دار آواز پر یتیم زرمینہ نے آنسو چھپا کر نکاح کے لیے سر جھکا دیا۔ اپنے بیمار چھوٹے بھائی کے مستقبل کی خاطر اسے یہ قربانی دینا تھی۔ نکاح کے بعد وہ خاموشی سے اپنے خوب صورت مگر بستر پر بے حس و حرکت لیٹے شوہر میر ہادی خانزادہ کو کھانا کھلا رہی تھی کہ اچانک سوپ اس کی شرٹ پر گر گیا۔ زرمینہ دوسری شرٹ لینے پلٹی، مگر واپس مڑی تو خوف سے اس کی سانس رک گئی۔ جس شخص کو معذور اور گونگا بتایا گیا تھا، وہ اپنے پیروں پر کھڑا مسکراتے ہوئے بول رہا تھا! "دادا نے تمہیں خیال رکھنے کا کہا ہے، اتنا فری ہونے کو نہیں بولا!" زرمینہ صدمے سے وہیں بے ہوش ہو گئی۔ ہوش آیا تو میر ہادی آرام سے کتاب پڑھ رہا تھا۔ "تم ٹھیک ہو تو گھر والوں کو معلوم کیوں نہیں؟" اس کے سوال پر میر ہادی کا جواب مزید حیران کن تھا۔ "یہ بات صرف تم جانتی ہو، گھر والے نہیں! اور اگر تم نے بتایا بھی تو کوئی یقین نہیں کرے گا!" آخر میر ہادی خانزادہ صحت مند ہونے کے باوجود پورے خاندان کے سامنے معذور بن کر کیوں رہ رہا تھا؟ اور کیا زرمینہ اس حویلی میں چھپے اس راز کے ساتھ زندگی گزار سکے گی؟

Read the Novel

Sneak

"میرا پوتا جسمانی طور پر معذور ہے۔ بات بھی نہیں کر سکتا۔ اگر ایک بار تو نے اس حویلی میں قدم رکھ دیا تو واپس نہیں جا سکے گی۔" بوڑھے سلطان خانزادہ کی رعب دار آواز پر زرمینہ نے آنسوؤں کا گلا گھونٹتے بمشکل اقرار میں سر ہلایا۔ اپنے چھوٹے بھائی کا مستقبل بنانے کیلئے اس یتیم کو یہ قربانی دینی ہی تھی۔ "اسکو کھانا وقت پر کھلانا ہوگا اور دوا بھی"
وہ آنسو پیتی بستر پر لیٹے اپنے شوہر کو دیکھنے لگی۔ کیا ہی خوبصورت مرد تھا وہ! جبکہ اسکی خاموش نگاہیں مسلسل روتی ہوئی زرمینہ کے چہرے پر تھیں۔ سوپ گرنے پر اسکی شرٹ خراب ہو گئی تو زرمینہ نے جلدی سے دوسری شرٹ نکالی۔ جوں ہی وہ پلٹی تو اسکی آنکھیں مارے خوف کے پھیلیں۔ جہاں وہ مزے سے اپنے پیروں پر کھڑا شرٹ کی جانب اشارہ کر رہا تھا۔
"دادا نے تمہیں خیال رکھنے کا کہا ہے، اتنا فری ہونے کو نہیں بولا۔ ہمت کی داد دینی پڑے گی پہلے ہی دن تم میری شرٹ تک پہنچ گئی۔ لاؤ ادھر شرٹ میری" اس نے قدم بڑھائے تھے کہ زرمینہ وہیں صدمے سے بے ہوش ہوتی اس کی بازوؤں میں جھول گئی تھی۔
"کتنی بے وقوف لڑکی ہے یہ، مطلب کوئی پہلی مرتبہ ہی اپنے اتنے ہینڈسم اور خوبصورت شوہر کو دیکھتے ہوئے بے ہوش ہوتا ہے کیا، ذرا سی بھی قدر نہیں ہے اسے۔" سنجیدہ سی آواز میں کہتے ہوئے اس نے اپنی بازو کے حصار میں زرمینہ کے نازک سا وجود مضبوطی سے تھاما تھا۔ جھک کر اسے برائیڈل سٹائل میں اٹھاتے وہ اسے بستر پر دراز کر چکا تھا۔ "ویسے ماننا پڑے گا دادا نے لڑکی میرے ٹکر کی چنی ہے، خوبصورت تو کافی ہے لیکن نہیں میر ہادی خانزادہ کا جوڑ، ڈرپوک سی لڑکی بالکل بھی نہیں بن سکتی۔" افسوس میں سر ہلاتے ہوئے اس نے زرمینہ کے چہرے کی جانب دیکھا تھا۔ سرخ و سفید رنگت کے ساتھ بڑی بڑی بھوری آنکھیں لیے ہوئے وہ ریشم جیسے بھورے بالوں کے ساتھ ایک خوبصورت لڑکی تھی۔ نگاہ اس کے چہرے سے پھسلتے ہوئے گردن تک گئی تھی تو بے اختیار سٹپٹاتے ہوئے وہ اپنی نگاہوں کو پھیر چکا تھا۔ "میر ہادی تم اتنے بھی کمزور انسان نہیں ہو۔" خود سے بڑبڑا کر کے اس نے کمبل اٹھا کر زرمینہ کے وجود پر ڈالا تھا کہ اس کا چہرہ تک کمبل میں چھپ چکا تھا۔ گلا کھنگار کر اس نے دوسری جانب بڑھتے ہوئے نیچے سے جھک کر شرٹ اٹھائی تھی اور اپنے قدم باتھ روم کی جانب بڑھا لیے تھے۔ "بے وقوف لڑکی۔" جھنجھلائی ہوئی سی آواز باتھ روم میں داخل ہونے سے پہلے اس کی گونجی تھی۔
نا جانے رات کا کون سا پہر تھا جب اچانک سے اسے ہوش آیا تھا تو وہ اپنی پلکوں کو جھپکاتے ہوئے یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ آخر اس کے ساتھ ہوا کیا تھا۔ جیسے ہی ذہن بیدار ہوا تھا آہستہ آہستہ سے تمام بات اس کے ذہن میں اترتی چلی گئی تھی۔ ہسپتال میں اس کے بھائی کی حالت، اس کے بعد سلطان خانزادہ کا اسے اپنے ساتھ حویلی میں لے کر آنا، ان کے پوتے کے ساتھ نکاح اور پھر نکاح کے بعد کمرے کا وہ منظر سب کچھ اسے یاد آیا تھا وہ ایک جھٹکے سے بستر پر اٹھ بیٹھی تھی۔
"آرام سے اس قدر اچانک اٹھنے سے تمہیں چکر آ جائیں گے اور پھر تم گرتی پڑتی دکھائی دو گی۔" سنجیدہ سی آواز سنائی دی تھی تو اس نے پلٹ کر پھیلی ہوئی آنکھوں کے ساتھ میر ہادی خانزادہ کی جانب دیکھا تھا جو بغیر شرٹ کے بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے ہاتھ میں کتاب تھامے ہوئے تھا۔ "تم۔۔ تم ٹھیک ہو؟" سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ بے یقین سے کہتی ہوئی وہ اس کی جانب متوجہ ہوئی تھی تو اب کی مرتبہ میر ہادی نے کتاب کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس کی جانب دیکھ کر دونوں آبرو اچکائے تھے۔ "بالکل ٹھیک ہوں کیا تمہیں دکھائی نہیں دیا، کچھ دیر پہلے والا ڈیو میں پھر سے نہیں دہرا سکتا تم ایک نہایت ہی بے وقوف لڑکی ہو۔" اپنے کندھے اچکا کر کہتے وہ اسے شاک ہی تو دے گیا تھا۔
"تو تمہارے گھر والوں کو یہ بات معلوم کیوں نہیں ہے۔" اپنے لبوں کو کتر کر وہ بستر پر اب سیدھی ہو کر بیٹھی تھی جب کہ پریشانی اس کے چہرے سے صاف واضح ہو رہی تھی۔ "اگر وہ ٹھیک تھا تو اس کا اس گھر میں آنے کا کیا مقصد تھا۔" "یہ بات تمہیں معلوم ہے کہ میں ٹھیک ہوں، گھر والوں کو نہیں ویسے بھی اگر تم انہیں یہ بات بتانے کی کوشش کرو گی تو وہ تمہاری بات کا یقین نہیں کریں گے کیونکہ ڈاکٹر خود یہ بات بتا چکے ہیں کہ میں معذور ہو چکا ہوں اور واپس ٹھیک ہونے کی امید نہ ہونے کے برابر ہے۔" سنجیدگی سے اپنے کندھے اچکاتے ہوئے وہ مکمل طور پر زرمینہ کی جانب متوجہ ہو چکا تھا۔
"تم۔۔۔ تمہیں شرم نہیں آتی سب کو دھوکہ دیتے ہوئے۔" بے بسی سے اس کا چہرہ سرخ پڑا تھا تو وہ تپتے ہوئے گویا ہوئی تھی جبکہ میر ہادی کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل چکی تھی۔ آگے بڑھ کر اس کے بازو کو تھام کر اپنی جانب کھینچتے ہوئے وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ گیا تھا۔ "کیا تمہیں مایوسی ہوئی ہے کہ میں ٹھیک کیوں ہوں؟" سنجیدہ سی آواز میں کہتے اس نے زرمینہ کا ہاتھ تھام کر اپنے سینے پر رکھا تھا تو زرمینہ موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے سرخ پڑی تھی۔ "تمہیں شرم نہیں آتی ایک لڑکی کے کمرے میں موجود ہوتے ہوئے بغیر شرٹ کے یوں بیٹھے ہوئے۔"
آنکھیں پھاڑ کر کہتی وہ اسے ڈرانے کی کوشش کر رہی تھی یا پھر شاید شرمندہ کرنے کی مگر میر ہادی خانزادہ کو شرم چھو کر بھی نہیں گزری تھی۔ تبھی ہونٹوں پر دل جلا دینے والی مسکراہٹ لیے ہوئے وہ اس پر جھکا تھا کہ زرمینہ اپنا ہاتھ پیچھے بستر پر ٹکائے ہوئے چہرے کو اس کی پہنچ سے دور لے گئی تھی۔ "کیوں۔۔۔ کیا تمہیں ڈر ہے کہ تم مجھ سے محبت کر بیٹھو گی۔" سنجیدگی سے کہتے اس کی آنکھوں میں شرارت صاف دیکھی جا سکتی تھی۔ "تمہاری خوش فہمی ہے، دور رہو مجھ سے چپکو کہیں کے۔" تڑخ کر کہتی ہوئی وہ اسے پیچھے کی جانب دھکیلتے ہوئے گویا ہوئی تھی تو میر ہادی اپنی آنکھیں گھما کر رہ گیا تھا۔ بستر پر سیدھا ہو کر بیٹھتے ہوئے اس نے پاس پڑی ہوئی ٹی شرٹ اٹھا کر پہنی تھی تب کہیں جا کر زرمینہ کے دل کی بے قابو ہوتی دھڑکنیں اپنے معمول پر آئی تھیں۔

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Description — Urdu

Ashna e Dil از سیما شاہد ایک پراسرار اور رومانوی اردو ناول ہے جس میں ایک یتیم لڑکی کی قربانی، حویلی کے خاندانی فیصلوں اور شوہر کی پوشیدہ حقیقت کو دلچسپ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ زرمینہ اپنے بیمار چھوٹے بھائی کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے سلطان خانزادہ کے پوتے میر ہادی خانزادہ سے نکاح قبول کر لیتی ہے۔ اسے واضح طور پر بتایا جاتا ہے کہ میر ہادی جسمانی طور پر معذور ہیں، بول نہیں سکتے اور انہیں مسلسل دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ زرمینہ اپنی مجبوری اور بھائی کی محبت کے باعث اس رشتے پر رضامند ہو جاتی ہے۔ مگر نکاح کے بعد پہلی ہی رات اس کی زندگی حیران کن موڑ اختیار کر لیتی ہے۔ وہ اپنے شوہر کو کھانا کھلا رہی ہوتی ہے کہ کپڑے تبدیل کرنے کے دوران اچانک اسے اپنے پیروں پر کھڑا دیکھ کر صدمے سے بے ہوش ہو جاتی ہے۔ میر ہادی نہ صرف چل سکتے ہیں بلکہ مکمل اعتماد کے ساتھ گفتگو بھی کرتے ہیں۔ ہوش آنے پر زرمینہ کو معلوم ہوتا ہے کہ میر ہادی نے اپنے گھر والوں سے اپنی صحت کی حقیقت چھپا رکھی ہے، جبکہ ڈاکٹروں کی سابقہ رائے کے باعث کوئی آسانی سے اس کی بات پر یقین بھی نہیں کرے گا۔ میر ہادی کا شوخ اور بے تکلف انداز زرمینہ کی گھبراہٹ میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ یہ ناول پراسرار حویلی، چھپے ہوئے راز، ازدواجی تعلقات، خاندانی مجبوریوں اور ایک غیر متوقع نکاح کے گرد گھومتا ہے۔

Summary — Urdu

Ashna e Dil ایک ایسی یتیم لڑکی زرمینہ کی کہانی ہے جو اپنے چھوٹے بھائی کی خاطر زندگی کا ایک انتہائی مشکل فیصلہ کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
زرمینہ کے لیے اس کا چھوٹا بھائی ہی اس کی زندگی کا سب سے اہم رشتہ ہے۔ جب بھائی کی طبیعت خراب ہوتی ہے اور وہ ہسپتال میں زیرِ علاج ہوتا ہے تو زرمینہ اس کے مستقبل کے متعلق شدید پریشان ہو جاتی ہے۔
انہی حالات میں سلطان خانزادہ اسے اپنی حویلی میں لے آتے ہیں اور اپنے پوتے میر ہادی خانزادہ سے نکاح کی پیشکش کرتے ہیں۔
لیکن یہ کوئی عام رشتہ نہیں ہوتا۔
سلطان خانزادہ اسے پہلے ہی واضح کر دیتے ہیں کہ ان کا پوتا جسمانی طور پر معذور ہے اور بولنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا۔
وہ زرمینہ کو یہ بھی بتاتے ہیں کہ اگر اس نے اس حویلی میں قدم رکھ دیا تو پھر اس کے لیے واپس جانا ممکن نہیں ہوگا۔
زرمینہ یہ سب سن کر اندر سے ٹوٹنے لگتی ہے۔
اسے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کی زندگی کا حصہ بننے جا رہی ہے جسے مسلسل نگہداشت اور مدد کی ضرورت ہوگی۔
مگر اپنے بھائی کی خاطر اسے یہ قربانی قبول کرنا پڑتی ہے۔
وہ آنسو ضبط کرتے ہوئے سلطان خانزادہ کی بات پر رضامندی ظاہر کر دیتی ہے۔
نکاح کے بعد زرمینہ کو میر ہادی کے کمرے میں بھیج دیا جاتا ہے۔
وہ اپنے شوہر کو بستر پر لیٹا دیکھتی ہے تو اس کی خوب صورتی اسے حیران کر دیتی ہے۔
میر ہادی ایک وجیہہ اور دلکش شخصیت کا مالک ہوتا ہے، لیکن اس کی خاموش نگاہیں مسلسل زرمینہ کے چہرے پر جمی رہتی ہیں۔
زرمینہ کو ہدایت دی گئی ہوتی ہے کہ اسے وقت پر کھانا اور دوائیں دینی ہیں۔
وہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے میر ہادی کو سوپ پلانے لگتی ہے۔
مگر اس دوران اچانک سوپ اس کی شرٹ پر گر جاتا ہے۔
زرمینہ فوراً الماری سے دوسری شرٹ نکالتی ہے تاکہ اپنے شوہر کے کپڑے تبدیل کر سکے۔
لیکن جیسے ہی وہ پلٹتی ہے، اس کی آنکھیں خوف اور حیرت سے پھیل جاتی ہیں۔
جس شخص کو اسے جسمانی طور پر معذور بتایا گیا تھا، وہ اپنے دونوں پیروں پر بالکل صحیح سلامت کھڑا ہوتا ہے۔
صرف یہی نہیں، بلکہ وہ نہایت اطمینان سے زرمینہ کو مخاطب بھی کرتا ہے۔
میر ہادی اسے شرٹ دینے کا کہتا ہے اور شوخ انداز میں اسے چھیڑتے ہوئے یاد دلاتا ہے کہ دادا نے اس کی دیکھ بھال کرنے کے لیے کہا تھا، اتنی بے تکلفی اختیار کرنے کے لیے نہیں۔
زرمینہ اس غیر متوقع منظر کو برداشت نہیں کر پاتی۔
وہ اپنے شوہر کو چلتے اور بولتے دیکھ کر اس قدر گھبرا جاتی ہے کہ وہیں بے ہوش ہو جاتی ہے۔
خوش قسمتی سے میر ہادی اسے گرنے سے پہلے ہی اپنی بانہوں میں تھام لیتا ہے۔
وہ اس کی حالت دیکھ کر حیران ہونے کے بجائے اپنے مخصوص طنزیہ انداز میں تبصرہ کرتا ہے کہ بھلا کوئی اپنے اتنے خوب صورت شوہر کو دیکھ کر بھی بے ہوش ہوتا ہے؟
میر ہادی زرمینہ کو اٹھا کر بستر پر لٹا دیتا ہے۔
وہ اس کے چہرے کو غور سے دیکھتا ہے اور اعتراف کرتا ہے کہ اس کے دادا نے اس کے لیے ایک خوب صورت لڑکی منتخب کی ہے۔
تاہم زرمینہ کی خوف زدہ طبیعت اسے کچھ زیادہ پسند نہیں آتی۔
اپنے خیالات میں الجھنے کے بعد وہ زرمینہ پر کمبل ڈال دیتا ہے اور کپڑے تبدیل کرنے کے لیے باتھ روم چلا جاتا ہے۔
رات کے کسی پہر زرمینہ کو ہوش آتا ہے۔
وہ پریشانی کے عالم میں اپنے اردگرد دیکھتی ہے اور آہستہ آہستہ گزشتہ واقعات اس کے ذہن میں واپس آنے لگتے ہیں۔
اسے اپنے بھائی کی خراب حالت، سلطان خانزادہ کے ساتھ حویلی میں آمد، میر ہادی سے نکاح اور پھر کمرے میں پیش آنے والا حیران کن واقعہ یاد آ جاتا ہے۔
وہ گھبرا کر بستر سے اٹھ بیٹھتی ہے۔
اسی دوران اسے میر ہادی کی آواز سنائی دیتی ہے جو اسے اچانک اٹھنے سے منع کر رہا ہوتا ہے۔
زرمینہ پلٹ کر دیکھتی ہے تو میر ہادی بستر سے ٹیک لگائے اطمینان سے کتاب پڑھ رہا ہوتا ہے۔
اس کی گفتگو اور معمول کے مطابق حرکت کرتے دیکھ کر زرمینہ ایک بار پھر حیران رہ جاتی ہے۔
وہ بے یقینی سے پوچھتی ہے کہ کیا میر ہادی واقعی بالکل ٹھیک ہے؟
میر ہادی نہایت بے فکری سے جواب دیتا ہے کہ وہ مکمل طور پر ٹھیک ہے اور اسے یہ حقیقت پہلے بھی اپنی آنکھوں سے نظر آ چکی ہے۔
زرمینہ کے لیے اس جواب کو قبول کرنا آسان نہیں ہوتا۔
اس کے ذہن میں سب سے بڑا سوال یہی ہوتا ہے کہ اگر میر ہادی صحت مند ہے تو گھر والوں کو اس حقیقت کا علم کیوں نہیں؟
وہ اس سے یہی سوال کرتی ہے۔
میر ہادی اسے بتاتا ہے کہ اس کی صحت کی حقیقت صرف زرمینہ جانتی ہے، جبکہ باقی گھر والے اب بھی اسے معذور سمجھتے ہیں۔
وہ مزید بتاتا ہے کہ ڈاکٹر بھی اس کے دوبارہ صحت مند ہونے کی امید نہ ہونے کے برابر قرار دے چکے ہیں۔
اسی لیے اگر زرمینہ گھر والوں کو اس کے چلنے اور بولنے کے متعلق بتانے کی کوشش کرے گی تو ممکن ہے کوئی اس کی بات پر یقین نہ کرے۔
یہ جواب زرمینہ کی پریشانی کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دیتا ہے۔
اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کی بیوی بن چکی ہے جو اپنے گھر والوں سے اپنی زندگی کی ایک بہت بڑی حقیقت چھپا رہا ہے۔
وہ میر ہادی سے ناراض ہو کر سوال کرتی ہے کہ کیا اسے سب کو دھوکا دیتے ہوئے شرم نہیں آتی؟
مگر میر ہادی اس کے غصے سے متاثر ہونے کے بجائے مسکرانے لگتا ہے۔
وہ زرمینہ سے الٹا پوچھتا ہے کہ کیا اسے اس بات سے مایوسی ہوئی ہے کہ اس کا شوہر معذور نہیں بلکہ مکمل صحت مند ہے؟
اس کی بے تکلفی زرمینہ کو مزید الجھا دیتی ہے۔
وہ پہلے ہی ایک غیر متوقع نکاح اور حیران کن انکشاف سے پریشان ہوتی ہے، اب میر ہادی کی شوخی اس کی جھجک میں اضافہ کر دیتی ہے۔
جب زرمینہ اسے بغیر شرٹ کے اپنے سامنے بیٹھا دیکھتی ہے تو ناراضی سے اعتراض کرتی ہے۔
میر ہادی اس کے جواب میں مزید شرارت کرتے ہوئے پوچھتا ہے کہ کیا اسے ڈر ہے کہ کہیں وہ اپنے شوہر سے محبت نہ کر بیٹھے۔
زرمینہ فوراً اس کی خوش فہمی دور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
وہ اسے خود سے دور رہنے کو کہتی ہے اور اس کی بے تکلفی پر غصہ ظاہر کرتی ہے۔
میر ہادی اس کے ردعمل کو دیکھ کر بالآخر اپنی ٹی شرٹ پہن لیتا ہے۔
زرمینہ کچھ پرسکون تو ہو جاتی ہے، مگر اس کے ذہن میں موجود سوالات بدستور باقی رہتے ہیں۔
ایک طرف وہ اپنے چھوٹے بھائی کی خاطر اس حویلی میں آئی ہے، جبکہ دوسری طرف اس کا شوہر اس سے اور پورے خاندان سے ایک ایسی حقیقت چھپا رہا ہے جس کا مقصد ابھی واضح نہیں۔
میر ہادی آخر اپنی صحت کا راز کیوں چھپا رہا ہے؟
کیا سلطان خانزادہ کو واقعی اس کی صحت کے متعلق کچھ معلوم نہیں؟
اور کیا زرمینہ اس غیر متوقع راز کو اپنے تک محدود رکھ سکے گی؟
یہ پراسرار رومانوی کہانی خاندانی مجبوریوں، قربانی، غیر متوقع نکاح، پوشیدہ سچائیوں اور دو مختلف مزاج رکھنے والے افراد کے درمیان شروع ہونے والی جذباتی کشمکش کو پیش کرتی ہے۔

Related Keywords

Ashna e Dil Novel, Ashna e Dil Urdu Novel, Ashna e Dil PDF
Share this Novel

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote this novel?

This novel is written by Seema Shahid.

Is this novel complete or ongoing?

The recorded status is complete novel.

Join Our Community

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *