Sneak
"میرا کام ہو گیا اب دفع ہو جاؤ یہاں سے۔" ہادی شاہ نے میرب کو بازو سے پکڑ کر دروازے کی طرف دھکا دیا۔ وہ لڑکھڑاتی ہوئی زمین پر جا گری۔ اس کے بکھرے ہوئے بال چہرے پر پھیل گئے۔ کپڑے بے ترتیب تھے۔ آنکھوں میں آنسو تھے۔ ہادی نے نفرت سے اسے دیکھا۔ "ایسے کیا دیکھ رہی ہو تم مجھے۔ کیا کر لو گی میرا۔" میرب نے اپنی چادر اٹھائی۔ اپنے وجود کو سمیٹا۔ خاموشی سے دروازے کی طرف چل دی۔ ہادی کو اس کی خاموشی پر بھی غصہ آیا۔ "سن لو میرب۔ دوبارہ میری زندگی میں آنے کی کوشش مت کرنا۔" میرب دروازے پر رکی۔ اس نے پلٹ کر کہا۔ "تمہیں اپنی اس حرکت پر ایک دن بہت پچھتاوا ہوگا ہادی شاہ۔" ہادی قہقہہ لگا کر ہنسا۔ "میں اور پچھتاؤں گا۔" وہ کمرے سے باہر نکل گئی۔ میرب ایک یتیم لڑکی تھی۔ اس دنیا میں اس کا کوئی ایسا نہیں تھا جس کے کندھے پر سر رکھ کر وہ اپنے دکھ بیان کر سکتی۔ ہادی نے اسے اپنی دولت اور طاقت کے نشے میں روندنے کی کوشش کی تھی۔ میرب اس دن کے بعد غائب ہو گئی۔ ہادی نے بھی چند دن بعد اس واقعے کو ذہن سے نکال دیا۔ دن کے وقت وہ شاہ حویلی میں ایک فرمانبردار بیٹے کا روپ دھارے پھرتا۔ پانچ وقت کی نماز پڑھتا۔ بڑے ابو کے سامنے نظریں جھکا کر بات کرتا۔ شمشیر شاہ کی نظر میں ہادی سے بہتر کوئی لڑکا نہیں تھا۔ ہادی ان کے مرحوم بھائی کا بیٹا تھا۔ انہوں نے اسے بچپن سے اپنے بیٹے کی طرح پالا تھا۔ اسے اپنی جائیداد کا وارث بنانے کا فیصلہ بھی کر چکے تھے۔ ہادی جانتا تھا کہ اس حویلی میں اس کی اصل حیثیت کیا ہے۔ شمشیر شاہ کے سامنے اس کی ایک غلطی بھی معاف نہیں ہوتی تھی۔ مگر حویلی کے دروازے سے باہر نکلتے ہی اس کا اصل چہرہ سامنے آ جاتا۔ رات ہوتے ہی وہ کلبوں میں پہنچ جاتا۔ شراب پیتا۔ لڑکیوں کے ساتھ وقت گزارتا۔ وہ جانتا تھا کہ شمشیر شاہ کو اس کی حرکتوں کی خبر نہیں تھی۔ دو مہینے گزر گئے۔ میرب کا کہیں کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ پھر ایک دن شاہ حویلی کے دروازے پر ایک گاڑی آ کر رکی۔ یہ میرب تھی۔ اس کے چہرے پر تھکن تھی۔ لباس سادہ تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک فائل تھی۔ وہ سیدھی حویلی کے اندر داخل ہوئی۔ اس نے صرف اتنا کہا کہ اسے شمشیر شاہ سے ملنا ہے۔ شمشیر شاہ نے اسے اپنے کمرے میں بلانے کا حکم دے دیا۔ "بیٹی تم کون ہو۔ تمہیں مجھ سے کیا کام ہے۔" میرب نے اپنے لرزتے ہاتھوں سے فائل میز پر رکھ دی۔ "مجھے آپ سے انصاف چاہیے شمشیر شاہ صاحب۔ آپ کے بھتیجے نے میری زندگی برباد کر دی ہے۔ میں ہادی شاہ کے بچے کی ماں بننے والی ہوں۔" شمشیر شاہ نے فائل کھولی تو اندر طبی معائنے کی رپورٹ موجود تھی۔ "تم جانتی ہو تم کیا کہہ رہی ہو۔" "جی۔ میں جانتی ہوں۔ میرے پاس کوئی نہیں ہے۔ میں اس بچے کو دنیا میں لانے والی ہوں۔ میں نہیں چاہتی کہ میرا بچہ پیدا ہونے سے پہلے ہی باپ کی پہچان سے محروم ہو جائے۔" شمشیر شاہ نے فوراً ہادی کو بلانے کا حکم دیا۔ ہادی ہاتھ میں تسبیح لیے حسب معمول ادب سے کھڑا ہو گیا۔ "جی بڑے ابو آپ نے بلایا۔" "ہادی مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔ پہلے یہ بتاؤ کیا تمہاری زندگی میں کبھی کوئی لڑکی آئی ہے۔" "لڑکی میری زندگی میں کیا کام کرے گی بڑے ابو۔ میں تو لڑکیوں کی طرف دیکھتا تک نہیں ہوں۔" شمشیر شاہ نے دروازے کی طرف دیکھا۔ ملازم کو اشارہ کیا تو اگلے ہی لمحے میرب اندر داخل ہو گئی۔ ہادی کے ہاتھ میں موجود تسبیح رک گئی۔ اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ آنکھیں پھیل گئیں۔ محسوس ہوا جیسے کسی نے اچانک اس کے قدموں تلے سے زمین کھینچ لی ہو۔ "یہ لڑکی کہہ رہی ہے کہ تم اس کے بچے کے باپ ہو۔ اب مجھے بتاؤ کہ اگر تمہاری زندگی میں کبھی کوئی لڑکی آئی ہی نہیں تو یہ تمہارے بچے کی ماں کیسے بننے والی ہے۔" ہادی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ شمشیر شاہ نے میز پر ہاتھ مارا۔ "یہ کیا ہادی۔ میں تم سے جواب مانگ رہا ہوں۔" ہادی نے سر جھکا لیا۔ اس کی خاموشی نے سب کچھ واضح کر دیا تھا۔ شمشیر شاہ کی آنکھوں میں شدید غصہ اتر آیا۔ "مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی۔ میں نے تمہیں اپنا بیٹا سمجھ کر پالا۔ تم نے میری تربیت کا یہ صلہ دیا ہے۔ تمہیں اس لڑکی سے نکاح کرنا ہوگا۔ اسے اپنی زندگی میں جگہ دینی ہوگی۔ اس بچے کو اپنا نام دینا ہوگا۔ یہی تمہاری غلطی کی سزا ہے۔ یہی تمہاری اصلاح کا راستہ ہے۔" ہادی نے فوراً سر اٹھایا۔
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
Summary — Urdu
Wo Tere Gehre Zakham ایک ایسی بے سہارا یتیم لڑکی میرب کی کہانی ہے جو اپنی زندگی کے ایک دردناک واقعے کے بعد خاموشی سے شکست تسلیم کرنے کے بجائے اپنے حق اور آنے والے بچے کی شناخت کے لیے آواز اٹھانے کا فیصلہ کرتی ہے۔
میرب کا اس دنیا میں کوئی مضبوط سہارا نہیں ہوتا۔ وہ ایک ایسی لڑکی ہے جس کے پاس نہ والدین کی شفقت موجود ہے اور نہ ہی کوئی ایسا اپنا جس کے سامنے وہ کھل کر اپنے دکھ بیان کر سکے۔
اس کی زندگی اس وقت ایک شدید آزمائش میں مبتلا ہو جاتی ہے جب ایک بااثر خاندان سے تعلق رکھنے والا ہادی شاہ اس کے ساتھ زیادتی کرتا ہے۔
ہادی اپنی دولت اور طاقت کے نشے میں اس کی بے بسی کا فائدہ اٹھاتا ہے اور پھر اسے اپنی زندگی سے نکل جانے کا حکم دے دیتا ہے۔
وہ میرب کو بازو سے پکڑ کر دروازے کی طرف دھکیلتا ہے، جس سے وہ زمین پر گر جاتی ہے۔
بکھرے ہوئے بال، بے ترتیب لباس اور آنسوؤں سے بھری آنکھوں کے ساتھ میرب اپنے وجود کو سنبھالنے کی کوشش کرتی ہے۔
ہادی اس کی تکلیف پر شرمندہ ہونے کے بجائے اسے حقارت سے دیکھتا ہے اور سوال کرتا ہے کہ وہ اس کے خلاف آخر کر ہی کیا سکتی ہے۔
میرب خاموشی سے اپنی چادر اٹھاتی ہے اور کمرے سے باہر نکلنے لگتی ہے۔
لیکن جانے سے پہلے وہ ہادی کو ایک بات ضرور کہتی ہے۔
وہ اسے خبردار کرتی ہے کہ ایک دن اسے اپنی اس حرکت پر شدید پچھتاوا ہوگا۔
ہادی اس کی بات پر قہقہہ لگاتا ہے، جیسے اسے اپنے کیے کی کسی جواب دہی کا خوف ہی نہ ہو۔
اس واقعے کے بعد میرب کہیں غائب ہو جاتی ہے۔
چند دن گزرنے پر ہادی بھی اس واقعے کو اپنی یادداشت سے نکال دیتا ہے اور اپنی معمول کی زندگی گزارنے لگتا ہے۔
لیکن ہادی شاہ کی زندگی کا ایک ایسا پہلو بھی ہوتا ہے جس سے اس کے خاندان کے بیشتر افراد لاعلم ہوتے ہیں۔
شاہ حویلی کے اندر وہ ایک فرمانبردار، نیک اور باادب نوجوان کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے۔
وہ اپنے بڑے ابو شمشیر شاہ کے سامنے نظریں جھکا کر بات کرتا ہے، عبادات کا اہتمام کرتا ہے اور ہمیشہ ایسا تاثر دیتا ہے جیسے اس سے زیادہ شریف اور ذمہ دار نوجوان کوئی نہیں۔
شمشیر شاہ ہادی کے مرحوم والد کے بھائی ہیں۔
انہوں نے ہادی کو بچپن سے اپنے بیٹے کی طرح پالا ہوتا ہے اور اس پر بے حد اعتماد کرتے ہیں۔
یہاں تک کہ وہ اسے اپنی جائیداد کا وارث بنانے کا فیصلہ بھی کر چکے ہوتے ہیں۔
ہادی اچھی طرح جانتا ہے کہ شمشیر شاہ کے سامنے اپنی اصل زندگی کی حقیقت ظاہر ہونے دینا اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اسی لیے وہ حویلی کے اندر اپنے رویے کو مکمل طور پر مختلف رکھتا ہے۔
لیکن حویلی سے باہر اس کی شخصیت کا دوسرا رخ سامنے آتا ہے۔
وہ رات کے وقت کلبوں میں جاتا ہے، شراب نوشی کرتا ہے اور مختلف لڑکیوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے۔
شمشیر شاہ اس کی ان سرگرمیوں سے مکمل طور پر بے خبر ہوتے ہیں۔
ان کی نظروں میں ہادی اب بھی ایک مثالی نوجوان ہوتا ہے۔
وقت گزرتا رہتا ہے اور میرب کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔
پھر دو ماہ بعد اچانک شاہ حویلی کے سامنے ایک گاڑی آ کر رکتی ہے۔
اس گاڑی سے میرب اترتی ہے۔
اس کا لباس سادہ ہوتا ہے، چہرے پر تھکن نمایاں ہوتی ہے اور ہاتھ میں ایک فائل موجود ہوتی ہے۔
لیکن اس مرتبہ وہ کسی کے سامنے اپنی بے بسی چھپانے نہیں آئی ہوتی۔
وہ اپنے ہونے والے بچے کے حق اور شناخت کے لیے جواب مانگنے آئی ہوتی ہے۔
حویلی میں داخل ہو کر وہ صرف شمشیر شاہ سے ملاقات کرنے کی خواہش ظاہر کرتی ہے۔
شمشیر شاہ اسے اپنے کمرے میں بلوا لیتے ہیں۔
وہ اس اجنبی لڑکی کو دیکھ کر اس کے آنے کا مقصد پوچھتے ہیں۔
میرب کانپتے ہاتھوں سے اپنی فائل ان کے سامنے رکھ دیتی ہے۔
پھر وہ ایسی حقیقت بیان کرتی ہے جسے سن کر شمشیر شاہ حیران رہ جاتے ہیں۔
میرب بتاتی ہے کہ ان کے بھتیجے ہادی شاہ نے اس کی زندگی برباد کر دی ہے اور اب وہ اسی کے بچے کی ماں بننے والی ہے۔
شمشیر شاہ فائل کھول کر طبی معائنے کی رپورٹ دیکھتے ہیں۔
وہ میرب سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ اپنے دعوے کی سنگینی کو سمجھتی ہے۔
میرب واضح کرتی ہے کہ وہ جانتی ہے کیا کہہ رہی ہے۔
وہ بتاتی ہے کہ اس کا کوئی سہارا نہیں، مگر وہ اپنے بچے کو دنیا میں لانا چاہتی ہے اور نہیں چاہتی کہ اس کا بچہ پیدائش سے پہلے ہی باپ کی شناخت سے محروم ہو جائے۔
میرب کی بات سن کر شمشیر شاہ فوراً ہادی کو بلانے کا حکم دیتے ہیں۔
کچھ دیر بعد ہادی حسب معمول ہاتھ میں تسبیح لیے نہایت ادب سے ان کے سامنے حاضر ہوتا ہے۔
اسے اندازہ نہیں ہوتا کہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا راز سامنے آنے والا ہے۔
شمشیر شاہ اس سے پوچھتے ہیں کہ کیا اس کی زندگی میں کبھی کوئی لڑکی آئی ہے۔
ہادی بڑے اعتماد سے انکار کر دیتا ہے۔
وہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ تو لڑکیوں کی طرف دیکھتا تک نہیں۔
یہ جواب سننے کے بعد شمشیر شاہ ملازم کو اشارہ کرتے ہیں۔
اگلے ہی لمحے میرب کمرے میں داخل ہو جاتی ہے۔
میرب کو اچانک اپنے سامنے دیکھ کر ہادی کے چہرے کا رنگ بدل جاتا ہے۔
اس کے ہاتھ میں موجود تسبیح رک جاتی ہے اور وہ حیرت سے میرب کو دیکھنے لگتا ہے۔
جس لڑکی کو وہ اپنی زندگی سے ہمیشہ کے لیے نکال چکا تھا، وہ اب اس شخص کے سامنے کھڑی ہوتی ہے جس سے ہادی اپنی اصل حقیقت چھپاتا رہا تھا۔
شمشیر شاہ ہادی سے سوال کرتے ہیں کہ اگر اس کی زندگی میں کبھی کوئی لڑکی آئی ہی نہیں تو پھر میرب اس کے بچے کی ماں کیسے بننے والی ہے۔
ہادی کے پاس فوری طور پر کوئی جواب نہیں ہوتا۔
اس کی خاموشی شمشیر شاہ کے غصے اور مایوسی میں اضافہ کر دیتی ہے۔
وہ میز پر ہاتھ مارتے ہوئے ہادی سے جواب طلب کرتے ہیں۔
مگر ہادی سر جھکائے خاموش کھڑا رہتا ہے۔
شمشیر شاہ کو اپنے بھتیجے کے رویے سے شدید صدمہ پہنچتا ہے۔
وہ اسے یاد دلاتے ہیں کہ انہوں نے اسے اپنے بیٹے کی طرح پالا اور ہمیشہ اس پر اعتماد کیا۔
لیکن آج انہیں معلوم ہو رہا ہوتا ہے کہ جس نوجوان کو وہ اپنی تربیت کی کامیابی سمجھتے تھے، اس نے ان کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔
شمشیر شاہ غصے میں ہادی کو حکم دیتے ہیں کہ اسے میرب سے نکاح کرنا ہوگا۔
وہ چاہتے ہیں کہ ہادی میرب کو اپنی زندگی میں جگہ دے اور ہونے والے بچے کو اپنا نام اور شناخت فراہم کرے۔
ان کے نزدیک یہ ہادی کی غلطی کی جواب دہی اور اصلاح کا راستہ ہے۔
یہ فیصلہ سنتے ہی ہادی فوراً سر اٹھاتا ہے۔
یہیں کہانی کا فراہم کردہ حصہ ایک اہم موڑ پر پہنچ جاتا ہے۔
اب یہ واضح نہیں کہ ہادی اس حکم پر کیا ردعمل ظاہر کرے گا اور میرب خود اس فیصلے کے متعلق کیا سوچتی ہے۔
میرب انصاف اور اپنے بچے کے حق کے لیے شاہ حویلی آئی تھی، مگر شمشیر شاہ کا نکاح کا حکم اس کے سامنے ایک نئی اور پیچیدہ صورت حال پیدا کر دیتا ہے۔
کیا صرف نکاح کا حکم ہادی کے کیے ہوئے ظلم کی جواب دہی کے لیے کافی ہوگا؟
کیا ہادی اپنی چھپی ہوئی زندگی اور میرب کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی پوری حقیقت تسلیم کرے گا؟
اور کیا میرب کو وہ انصاف، تحفظ اور اختیار مل سکے گا جس کے لیے وہ دو ماہ بعد واپس آئی ہے؟
یہ سنجیدہ سماجی اور خاندانی ناول عورت کی بے بسی، طاقت کے ناجائز استعمال، سماجی منافقت، خاندانی اعتماد اور انصاف کی تلاش جیسے موضوعات کو نمایاں کرتا ہے۔
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
Frequently asked questions
Who wrote this novel?
This novel is written by Fazila Mumtaz.
Is this novel complete or ongoing?
The recorded status is complete novel.





