Sneak
"معاف کیجیے مسٹر ارحم شیرازی۔ آپ کی وائف کبھی ماں نہیں بن سکتی۔" ڈاکٹر نے تو جیسے دونوں کے سر پہ بم پھوڑا۔ "پلیز دھیان سے چیک کریں۔" منہا کی شادی کو دو سال ہوئے تھے، پر اولاد نہ ہونے کے طعنے سنتے آج وہ شوہر کے ساتھ اپنا چیک اپ کروانے آ ہی گئی تھی۔ پہلے بے اولادی کا طعنہ اور اب بانجھ پن کا طعنہ، وہ ایک کمرے تک محدود ہو کے رہ گئی۔ "منہا تمہارا شوہر اولاد کی خاطر دوسری شادی کر رہا ہے۔" منہا کا دل بری طرح دکھا۔ "سہاگ کی سیج آپ کی میں سجاؤں گی، ارحم۔" وہ دلہن کی طرح تیار ہوتی اپنے ہی شوہر کی سیج سجا رہی تھی۔ "پلیز، مجھے طلاق مت دینا۔" دوسری بیوی پہلی رات ہی بدکردار نکلی۔ "منہا! منہا!" ہاتھ میں رپورٹس پکڑے وہ اسے آدھی رات کو ہر جگہ ڈھونڈ رہا تھا۔ وہ اس کے جڑواں بچوں کی ماں... کلینک کے چھوٹے سے کمرے میں عجیب سی خاموشی تھی۔ ڈاکٹر تسنیم نے اپنے چہرے پر لگا چشمہ اتارا اور سامنے رکھی ہوئی رپورٹس کو ایک بار پھر غور سے دیکھا۔ ان کے چہرے کی سنجیدگی ارحم اور منہا کے دلوں کی دھڑکنیں تیز کر رہی تھی۔ "معاف کیجیے مسٹر ارحم شیرازی۔ آپ کی وائف کبھی ماں نہیں بن سکتی۔" ڈاکٹر کے منہ سے نکلے یہ چند الفاظ ارحم اور منہا کے سر پر بم بن کر گرے۔ منہا نے تڑپ کر ارحم کا ہاتھ تھامنا چاہا لیکن ارحم کی انگلیاں بالکل بے حس ہو چکی تھیں۔ اس کی آنکھیں ڈاکٹر کے چہرے پر جم گئی تھیں۔ "ڈاکٹر صاحبہ آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں؟" ارحم کی آواز حلق میں اٹک رہی تھی۔ "پلیز دھیان سے چیک کریں۔ ہماری شادی کو صرف دو سال ہوئے ہیں۔ اتنی جلدی... اتنا بڑا فیصلہ؟" "مسٹر ارحم میں نے تمام رپورٹس دو بار چیک کی ہیں۔" ڈاکٹر تسنیم نے ہمدردانہ انداز میں کہا۔ "اندرونی پیچیدگیاں اتنی زیادہ ہیں کہ میڈیکل سائنس کی رو سے مسز منہا کا ماں بننا ناممکن ہے۔ آپ چاہیں تو کسی اور ڈاکٹر سے سیکنڈ اوپینین لے سکتے ہیں لیکن حقیقت تبدیل نہیں ہوگی۔" منہا نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپایا اور اس کی سسکیاں کمرے میں گونجنے لگیں۔ "نہیں ارحم... ایسا نہیں ہو سکتا۔ اللہ اتنا بے رحمانہ فیصلہ نہیں کر سکتا۔ ارحم کچھ بولو نا!" ارحم نے منہا کی طرف دیکھا بھی نہیں اور خاموشی سے کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے چہرے پر دکھ سے زیادہ ایک عجیب سی ویرانی اور غصہ تھا۔ "چلیں منہا۔" ارحم نے سرد مہری سے کہا۔ "ارحم پلیز کسی اور ڈاکٹر کو چیک کروا لیتے ہیں، ہو سکتا ہے کہ کوئی غلط فہمی ہوئی ہو، رپورٹس بدل گئی ہوں۔" منہا نے روتے ہوئے اس کا بازو تھامنے کی کوشش کی۔ "میں نے کہا نا گھر چلو۔" ارحم نے اپنا بازو چھڑایا اور تیز قدموں سے کمرے سے باہر نکل گیا۔ گھر کا مرکزی دروازہ کھلتے ہی بیگم نسیم اور ماہم سامنے ہی موجود تھیں۔ ان کے چہروں پر بے صبری اور تجسس صاف نظر آ رہا تھا۔ "کیا ہوا ارحم؟ ڈاکٹر نے کیا کہا؟" "منع کر دیا ہے امی۔" ارحم نے مدہم آواز میں کہا۔ "منع کر دیا ہے؟ کیا مطلب منع کر دیا ہے؟" بیگم نسیم نے حیرت سے پوچھا۔ "معاف کیجیے مسٹر ارحم شیرازی، آپ کی وائف کبھی ماں نہیں بن سکتی۔۔۔ یہی کہا ہے ڈاکٹر نے۔" ارحم نے یہ الفاظ جیسے چبا چبا کر کہے۔ یہ سنتے ہی بیگم نسیم کے چہرے کے تاثرات لمحے بھر میں بدل گئے۔ ان کی آنکھوں میں رحم کی جگہ نفرت اور غصے نے لے لی۔ "کیا؟" بیگم نسیم نے چیخ کر کہا۔ "بانجھ؟ یہ عورت بانجھ ہے۔ میں پہلے ہی کہتی تھی کہ اس لڑکی میں کوئی نقص ہے لیکن تم نے میری ایک نہ سنی اور اسی سے شادی کی۔" "امی پلیز۔۔۔" منہا نے ہاتھ جوڑے۔ "ایسا مت کہیں۔ یہ اللہ کی مرضی ہے۔ رپورٹس میں غلطی بھی تو ہو سکتی ہے۔ اللہ کے ہاں کس چیز کی کمی ہے۔۔۔" "خاموش رہو تم!" ماہم نے فوراً آگے بڑھ کر منہا کو دھکا دیا۔ "اب تم صفائیاں دو گی؟ دو سال سے تم ہمارے بھائی کی زندگی برباد کر رہی تھی۔ تم نے ہمارے پورے خاندان کی خوشیاں چھین لیں۔ ارحم بھائی اتنے بڑے بزنس میں ہیں، ان کا وارث کون بنے گا؟ کون ان کی نسل آگے بڑھائے گا؟ تم؟" "ارحم۔۔۔ تم خاموش کیوں ہو؟ کچھ بولو نا!" منہا نے روتے ہوئے ارحم کی طرف دیکھا۔ "تم تو جانتے ہو نا کہ میں تم سے کتنا پیار کرتی ہوں۔ کیا ہمارا رشتہ صرف ایک رپورٹ کا محتاج ہے؟" ارحم نے منہا کی آنکھوں میں دیکھنے سے گریز کیا۔ اس نے اپنا رخ موڑ لیا اور بولا، "میں اس وقت کوئی بات نہیں کرنا چاہتا منہا۔" "دیکھ لیا؟" بیگم نسیم نے طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے کہا۔ "میرا بیٹا اب تمہاری مکارانہ باتوں میں نہیں آنے والا۔ تم نے اسے بے اولاد بنا کر رکھ دیا۔ دو سال سے ہم پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے طعنے سن رہے تھے۔" "اللہ جب چاہے گا اولاد دے دے گا، لیکن اب تو ٹھپہ لگ گیا ہے کہ تم بانجھ ہو۔" "امی مجھے کچھ وقت دیں۔" منہا کی آواز آنسوؤں میں دب گئی۔ "کیسا وقت؟ تم نے دو سال برباد کر دیے، اب کیا پورا گھر برباد کرو گی؟" ماہم نے نفرت سے کہا۔ "تم جیسی عورتوں کا اس گھر میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔" "ارحم میری بات سنو۔" بیگم نسیم نے ارحم کا ہاتھ تھاما۔ "میں اپنے اکلوتے بیٹے کو بے اولاد جیتے نہیں دیکھ سکتی۔ اگر یہ عورت تمہیں اولاد نہیں دے سکتی تو اس کا حل بھی میرے پاس ہے۔ تم دوسری شادی کرو گے۔" یہ لفظ سنتے ہی منہا کا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا۔ "دوسری شادی؟ نہیں ارحم نہیں۔۔۔ ایسا مت کرنا۔ میں مر جاؤں گی۔" ارحم نے اب بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ نہ اس نے اپنی ماں کی بات کی تردید کی اور نہ ہی منہا کا ساتھ دیا۔ وہ بس ایک پتھر کے مجسمے کی طرح کھڑا رہا۔ "مجھے تنگ مت کرو منہا!" ارحم نے غصے سے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔ "میں اس وقت بہت پریشان ہوں۔ تم اپنے کمرے میں جاؤ۔" "کمرے میں کیوں جائے؟" بیگم نسیم نے کڑک دار آواز میں کہا۔ "اب یہ اس گھر کی بہو نہیں بلکہ ایک بوجھ ہے۔ ماہم اسے لے جاؤ اور اوپر والے کمرے میں بند کر دو۔ جب تک میں کوئی فیصلہ نہ کر لوں یہ نیچے نہیں آئے گی۔" "چلو اٹھو یہاں سے!" ماہم نے منہا کا بازو سختی سے پکڑا اور اسے گھسیٹتے ہوئے سیڑھیوں کی طرف لے جانے لگی۔ "ارحم مجھے بچاؤ، ارحم پلیز! سچ مانو میں تمہارے بغیر نہیں جی سکتی۔ ارحم!" منہا مسلسل روتی رہی اور ارحم کو پکارتی رہی۔ ارحم نے ایک بار بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ وہ صوفے پر بیٹھ گیا اور اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔ ماہم نے منہا کو کمرے میں دھکا دیا اور باہر سے کنڈی لگا دی۔ "آج کے بعد تم اسی کمرے تک محدود رہو گی۔ کھانا تمہیں یہیں مل جائے گا لیکن نیچے آ کر اپنی منحوس شکل دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔" ماہم نے باہر سے چلا کر کہا اور چلی گئی۔ منہا کی بند دروازے کے ساتھ سسکیاں اور زیادہ تیز ہو گئیں۔ دو سال کی محبت، عزت اور مان ایک ہی لمحے میں خاک میں مل چکے تھے۔ وہ جوں جوں ارحم کی خاموشی کے بارے میں سوچتی، اس کا دل بری طرح دکھتا۔ پہلے بے اولادی کا طعنہ اور اب بانجھ پن کا داغ۔ منہا ایک تاریک کمرے میں تنہا اور بے بس ہو کر رہ گئی تھی۔
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
Summary — Urdu
لیکن اس کی ازدواجی زندگی میں ایک ایسی کمی سمجھی جا رہی ہوتی ہے جس کی وجہ سے اسے مسلسل طعنوں اور ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
شادی کے دو سال بعد بھی منہا اور ارحم کے ہاں اولاد نہیں ہوئی ہوتی۔ اس وجہ سے ارحم کے گھر والے منہا کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور اس کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔
آخرکار منہا اپنے شوہر کے ساتھ ڈاکٹر تسنیم کے کلینک میں معائنے کے لیے پہنچتی ہے۔
کلینک کے چھوٹے سے کمرے میں دونوں پریشانی کے عالم میں ڈاکٹر کے جواب کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر تسنیم جب رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد انہیں بتاتی ہیں کہ منہا کبھی ماں نہیں بن سکتی تو یہ الفاظ دونوں کے لیے شدید صدمے کا باعث بنتے ہیں۔
منہا کو یقین نہیں آتا کہ اس کی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ چند میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر سنا دیا گیا ہے۔
وہ روتے ہوئے ارحم کا ہاتھ تھامنے کی کوشش کرتی ہے، مگر ارحم صدمے اور غصے کے باعث اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔
ارحم ڈاکٹر سے دوبارہ رپورٹس چیک کرنے کی درخواست کرتا ہے اور یاد دلاتا ہے کہ ان کی شادی کو ابھی صرف دو سال ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر تسنیم انہیں یقین دلاتی ہیں کہ رپورٹس دو مرتبہ دیکھی جا چکی ہیں، تاہم وہ کسی دوسرے ڈاکٹر سے رائے لینے کا امکان بھی بتاتی ہیں۔
منہا کو امید ہوتی ہے کہ شاید کسی غلطی یا غلط فہمی کی وجہ سے یہ نتیجہ سامنے آیا ہے۔
وہ ارحم سے درخواست کرتی ہے کہ کسی اور ڈاکٹر سے بھی معائنہ کروا لیا جائے، لیکن ارحم اس کی بات سننے کے بجائے اسے گھر چلنے کا کہتا ہے۔
گھر پہنچتے ہی بیگم نسیم اور ماہم دونوں کے چہروں پر پریشانی اور تجسس نمایاں ہوتا ہے۔
وہ فوراً ارحم سے ڈاکٹر کی رپورٹ کے متعلق سوال کرتی ہیں۔
ارحم جب بتاتا ہے کہ ڈاکٹر کے مطابق منہا ماں نہیں بن سکتی تو بیگم نسیم کے چہرے کے تاثرات بدل جاتے ہیں۔
وہ منہا کو ہمدردی دینے کے بجائے اس پر سخت الزامات لگانا شروع کر دیتی ہیں۔
بیگم نسیم کہتی ہیں کہ انہیں پہلے ہی منہا میں کسی کمی کا شبہ تھا اور ارحم نے ان کی بات نہ مان کر غلطی کی۔
منہا ہاتھ جوڑ کر انہیں سمجھانے کی کوشش کرتی ہے کہ اولاد اللہ کی عطا ہے اور رپورٹس میں غلطی بھی ہو سکتی ہے۔
لیکن اس کی وضاحت سننے کے بجائے ماہم بھی اسے طعنے دینا شروع کر دیتی ہے۔
وہ منہا پر الزام لگاتی ہے کہ اس نے دو سال سے ارحم کی زندگی اور خاندان کی خوشیاں برباد کر رکھی ہیں۔
ماہم کو اپنے بھائی کے کاروبار اور خاندان کے وارث کی فکر ہوتی ہے، مگر منہا کی تکلیف اور جذبات اس کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔
منہا اس قدر سخت رویے کے سامنے ٹوٹنے لگتی ہے۔
وہ بار بار ارحم کی طرف دیکھتی ہے، اس امید کے ساتھ کہ جس شخص سے وہ محبت کرتی ہے، وہ کم از کم اس مشکل وقت میں اس کے حق میں آواز اٹھائے گا۔
وہ روتے ہوئے ارحم سے سوال کرتی ہے کہ کیا ان کا دو سال کا ازدواجی رشتہ صرف ایک میڈیکل رپورٹ کا محتاج ہے؟
مگر ارحم اس کی آنکھوں میں دیکھنے سے گریز کرتا ہے۔
وہ کہتا ہے کہ اس وقت کسی بات پر گفتگو نہیں کرنا چاہتا۔
ارحم کی یہ خاموشی منہا کے لیے گھر والوں کے طعنوں سے بھی زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوتی ہے۔
اسے محسوس ہوتا ہے کہ جس رشتے کو وہ اپنی زندگی کا سب سے مضبوط سہارا سمجھتی تھی، وہ ایک ہی لمحے میں کمزور پڑ گیا ہے۔
بیگم نسیم ارحم کی خاموشی کو اپنے فیصلے کی حمایت سمجھ لیتی ہیں۔
وہ اعلان کرتی ہیں کہ اپنے اکلوتے بیٹے کو بے اولاد نہیں دیکھ سکتیں، اس لیے ارحم کو دوسری شادی کرنا ہوگی۔
دوسری شادی کا ذکر سنتے ہی منہا کے دل پر جیسے ایک اور ضرب لگتی ہے۔
وہ ارحم سے التجا کرتی ہے کہ وہ ایسا نہ کرے اور اسے تنہا نہ چھوڑے۔
مگر ارحم نہ تو اپنی ماں کے فیصلے کی مخالفت کرتا ہے اور نہ ہی بیوی کو کوئی تسلی دیتا ہے۔
منہا کی مسلسل فریاد سے پریشان ہو کر وہ غصے میں اس کا ہاتھ جھٹک دیتا ہے اور اسے اپنے کمرے میں جانے کا حکم دیتا ہے۔
لیکن بیگم نسیم کے نزدیک اب منہا کو اس گھر میں عزت اور آزادی کے ساتھ رہنے کا بھی حق نہیں ہوتا۔
وہ ماہم کو حکم دیتی ہیں کہ منہا کو اوپر والے کمرے میں بند کر دیا جائے۔
ماہم سختی سے منہا کا بازو پکڑتی ہے اور اسے سیڑھیوں کی طرف لے جانے لگتی ہے۔
منہا مسلسل ارحم کو پکارتی رہتی ہے۔
وہ شوہر سے التجا کرتی ہے کہ اسے بچا لے، مگر ارحم ایک مرتبہ بھی مڑ کر اسے نہیں دیکھتا۔
بالآخر ماہم اسے کمرے میں دھکیل کر باہر سے کنڈی لگا دیتی ہے۔
وہ اسے بتاتی ہے کہ اب اسے اسی کمرے میں رہنا ہوگا اور گھر کے دوسرے حصوں میں آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
تنہائی میں بند منہا کی سسکیاں شدت اختیار کر جاتی ہیں۔
اسے اپنی دو سال کی محبت، شوہر پر اعتماد اور ازدواجی زندگی کے تمام خواب بکھرتے محسوس ہوتے ہیں۔
وہ سوچتی ہے کہ پہلے اولاد نہ ہونے کے طعنے برداشت کیے اور اب اسی بنیاد پر اس کی عزتِ نفس اور رشتے کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
سب سے زیادہ تکلیف اسے ارحم کی بے حسی سے پہنچتی ہے۔
وہی ارحم جس سے اسے محبت اور ساتھ کی امید تھی، آج اسے ظلم سے بچانے کے لیے ایک لفظ بھی نہیں بولتا۔
کہانی کی ابتدائی جھلک اس دردناک صورت حال سے آگے آنے والے چند اہم واقعات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔
اس میں ارحم کی دوسری شادی کا ذکر سامنے آتا ہے، جبکہ منہا اپنے شوہر کی نئی دلہن کے لیے ازدواجی کمرہ سجانے کی تکلیف دہ صورت حال سے گزرتی دکھائی دیتی ہے۔
جھلک میں دوسری بیوی کے متعلق پہلی ہی رات ایک سنگین انکشاف کا اشارہ بھی موجود ہے۔
اسی دوران ہاتھ میں میڈیکل رپورٹس لیے ارحم آدھی رات کو منہا کو تلاش کرتا دکھائی دیتا ہے۔
سب سے حیران کن اشارہ یہ ہوتا ہے کہ جس منہا کو پہلے کبھی ماں نہ بن سکنے کی خبر سنائی گئی تھی، اسی کے متعلق جڑواں بچوں کی ماں بننے کا ذکر سامنے آتا ہے۔
یہ تمام اشارے کہانی میں کئی سوالات پیدا کرتے ہیں۔
کیا منہا کے متعلق سامنے آنے والی پہلی رپورٹس درست تھیں؟ ارحم کو بعد میں کن حقائق کا علم ہوتا ہے؟ اور کیا وہ اپنی خاموشی اور بیوی کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا احساس کر پائے گا؟
یہ جذباتی خاندانی ناول ازدواجی وفا، دوسری شادی، بے اولادی کے طعنوں، سسرال کے رویوں، عورت کی خودداری اور بدلتے ہوئے خاندانی تعلقات کو پیش کرتا ہے۔
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
Frequently asked questions
Who wrote this novel?
This novel is written by MR Novels.
Is this novel complete or ongoing?
The recorded status is complete novel.





