Sneak
سہاگ رات میں سہاگن وہ ہوتی ہے جو شوہر کی من پسند ہو اور میرے من میں تمہارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ تم جبراً میری زندگی میں آ تو گئی ہو مگر یہ تمہاری خوش فہمی ہی رہے گی کہ جبراً دل میں جگہ بھی پا لو گی۔ تمہارا اور میرا تعلق صرف کاغذی ہے۔ وہ چند گھنٹے کی دلہن تھی جیسے اسکے شوہر نے ایک پل میں اسکئ پاؤں تلے سے زمیں کھینچ لی تھی۔۔ اتنی بے دردی سے ٹھکرائے جانے کے باوجود وہ اس کمرے سے چلی نہیں گئی، بلکہ نجانے کیوں یقین تھا راحیل کہ میں تمہیں جیت لوں گی۔ میرے پاس سارے ہتھیار تھے۔ میں خوبصورت تھی بلکہ خوبصورتی کا چلتا پھرتا تاج محل تھی، میں خوش فہم نہیں تھی بلکہ جو بھی مجھے دیکھتا تھا کہتا تھا کہ خدا نے اگر ساری دنیا کی خوبصورتی دس دن میں پیدا کی تھی تو اس خوبصورتی کو دس گنا بڑھا کے دس دنوں میں آرام سے مجھے نوازا تھا۔ مجھے بنانے میں کوئی جلدی نہیں دکھائی تھی۔ میں خوبصورت تھی تو خوب سیرت بھی تھی، میں پڑھی لکھی، خوش اخلاق، باکردار تھی، ہاں صرف ایک کمی تھی مجھ میں کہ میں خدا تعالیٰ سے اپنے لیے اچھی قسمت نہ لے سکی۔ میری بری قسمت ہی تو تھی کہ تم نے اپنا کہا پورا کیا تھا تم نے مجھے سے پہلے شادی کر لی تھی میں تمہاری پہلی نہیں دوسری بیوی تھی ۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ تم نہ صرف شادی شدہ ہو سکتے ہو بلکہ ایک بچے کے باپ بھی ہو گے۔ میں تو شہوانہ کو تمہاری جذباتی محبت کے آگے کچھ بھی نہیں سمجھی تھی، مجھے یقین تھا کہ میں تمہیں شہوانہ سے چھین لوں گی۔ اے خدایا! تم نے راحیل مجھے کیوں نہیں بتایا تھا کہ شہوانہ تمہاری بیوی اور تمہارے بچے کی ماں ہے؟ تم بزدلی کی حد پر تھے۔ مجھے اگر شہوانہ فون پر روتے ہوئے نہ بتاتی تو میں انجان ہی رہتی۔ شہوانہ مجھے بددعائیں دیتی رہی اور میں سنتی رہی کہ اب کسی بددعا نے کیا لگنا ہے۔ شہوانہ نے تمہیں بتائے بغیر مجھے فون کیا تھا تو میں نے بھی اس راز کو تمہارا ایک اور تحفہ سمجھ کے دل کے نہاں خانوں میں اتار لیا۔ تم لاعلم تھے کہ میں تمہاری شادی سے باخبر ہوں۔ شہوانہ نے بھی تمہیں بے خبر رکھا اپنے اس فون سے جو اس نے مجھے کیا تھا۔ اس نے مجھے ناگن کہا تھا جو اس کے گھر کو ڈسنے چلی تھی۔ مگر اسے علم نہ تھا کہ میرے جیسی ناگنیں ڈسا نہیں کرتیں کہ ان کا زہر تو خود اپنے ہی ہاتھوں سے نکالا جا چکا ہوتا ہے۔ پھر اسی خاموشی میں پورے دو سال گزر گئے۔ تم ویک اینڈ پہ آتے اور لوٹ جاتے۔ تمہیں امی مجبور کرتیں کہ سلینہ کو ساتھ لے جاؤ مگر تم ٹال جاتے، "امی! یہاں پہ آپ اکیلی ہو جائیں گی، اب تو آسیہ کی شادی بھی ہو جائے گی۔" وہ آگے بولنے کا ارادہ کرتیں تو تم انہیں کسی اور بات میں لگا دیتے۔ میں کیوں نہ تمہیں سزا دوں سلینہ ارتضیٰ! ہاں تم آج بھی سلینہ ارتضیٰ ہی ہو۔ سزا سمجھ رہی ہو اپنے کیے کی۔ کتنی منتیں کی تھیں میں نے کہ شادی سے انکار کر دو، میں تم سے شادی نہیں کرنا چاہتا، تم نے پھر بھی ہٹ دھرمی دکھائی تھی۔ اب بندھی رہو اس ادھورے رشتے کی ڈور سے جو تمہیں کچھ بھی نہیں دے سکتا۔ برا کس کا ہوا سلینہ! میرا یا تمہارا؟ میرا تو دل بھی بسا ہوا ہے اور گھر بھی۔ میری بیوی ہے، محبت کرنے والے دو خوبصورت بیٹے ہیں۔ سب کچھ ہے میرے پاس۔ البتہ تم کچھ بھی نہ پا سکیں، نہ گھر آباد کر سکیں اور نہ دل۔ کیا ہے تمہارے پاس؟ ایک ادھورا سا کاغذی رشتہ۔ کتنا کہا تھا میں نے تمہیں کہ میں مجبور ہوں، بیوہ ماں کا دل نہیں توڑ سکتا، تم انکار کر دو۔ اب گزارا کرو ادھوری زندگی کے ساتھ... ادھوری عورت... ادھوری زندگی! سہاگ رات میں سہاگن وہ ہوتی ہے جو شوہر کی من پسند ہو اور میرے من میں تمہارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ تم جبراً میری زندگی میں آ تو گئی ہو مگر یہ تمہاری خوش فہمی ہی رہے گی کہ جبراً دل میں جگہ بھی پا لو گی۔ تمہارا اور میرا تعلق صرف کاغذی ہے۔ ```
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
Summary — Urdu
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕





