Skip to navigation Skip to main content
Chahaton ki Zanjeer Novel90031 Urdu novel cover
Rank#23
Views446.0K

READ URDU NOVELS AT NOVELISTAN.COM

Chahaton ki Zanjeer

No ratings yet

Rate this novel

CompleteAfter MarriageCross Marriage

Novel code: Novel90031

Read OnlineDownload PDF

شانزے اور ازمیر کا رشتہ خاندانی فیصلوں اور محبت کے درمیان جڑتا ہے، مگر بداعتمادی ان کے ساتھ کو الجھا دیتی ہے۔ چاہتوں کی یہ کہانی ایک ایسے ازدواجی تعلق کے گرد گھومتی ہے جہاں قریب آنے کی خواہش کے ساتھ غلط فہمیاں بھی موجود ہیں۔

Read the Novel

Sneak

"کھانا ہم اس وقت ہی کھائیں گے جب آپ ہمیں شانزے بیٹی کا رشتہ ازمیر کے لیے دے دیں گے۔"
"لیکن بھائی صاحب! ہمیں سوچنے کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔" عاصمہ بیگم نے کہا۔
"سوچنے کی آپ کو قطعی ضرورت نہیں ہے۔ شانزے ایک گھر سے نکل کر دوسرے گھر میں جائے گی۔ جتنی محبت آپ لوگوں نے علینہ کو دی ہے شانزے کو بھی لال حویلی میں اتنی ہی محبت اور عزت ملے گی۔ ہم اسے بے حد چاہ سے بیاہ کر لے جائیں گے۔" جہانزیب اکبر شاہ کا لہجہ ان کے الفاظ کا بھرپور ساتھ دے رہا تھا، کچھ کہنے کی گنجائش ہی نہیں چھوڑی تھی انہوں نے۔
"کہاں ہے شانزے؟ اسے بلائیں۔" بڑی ماں نے کہا تو علینہ شانزے کو لینے اس کے کمرے میں چلی گئی۔ بڑے ابا کی آواز آ رہی تھی: "ہم شانزے کے امتحانوں کے بعد پہلے ہفتے میں بارات لے آئیں گے۔"
شانزے آئی تو بڑی ماں یعنی زرینہ جہانزیب نے اپنے پاس بٹھایا اور اپنی کلائیوں سے جڑاؤ کنگن اتار کر شانزے کی کلائیوں میں پہنا دیے اور اس کی بلائیں لینے لگیں: "میرے ازمیر کی دلہن!" شانزے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتی رہ گئی۔
کھانے کے بعد وہ دونوں لوٹ گئے۔ شہلا بھابھی کو قلق تھا کہ وہ ازمیر سے مل نہیں پائیں کیونکہ وہ ویسے ہی چلا گیا تھا بزنس ٹور پر، البتہ اظہر بھائی نے آذر بھائی کی ملاقات ازمیر سے کروا دی تھی اور وہ بھی اس سے بے حد متاثر ہوئے تھے۔
جب شانزے کو معلوم ہوا کہ اس کی شادی ازمیر سے طے ہو گئی ہے اور وہ بھی امتحانوں کے فوراً بعد تو وہ شہلا بھابھی کے گلے لگ کر رونا شروع ہو گئی۔
"یار! رخصتی میں زیادہ عرصہ نہیں ہے، ان آنسوؤں کو رخصتی کے لیے بچا رہنے دو۔" نومی نے شرارت کی۔
"مما! اس طرح رشتے طے ہوتے ہیں؟ آپ نے مجھ سے پوچھا بھی نہیں۔" اس نے شکوہ کیا۔
"جانو! وہ لوگ تمہیں بے حد چاہت سے اپنا رہے ہیں اور میں جانتی ہوں میری بیٹی اپنی ماں کا بھروسہ کبھی نہیں توڑے گی۔" عاصمہ بیگم کے چہرے پر بڑی چمک تھی، سو اس نے خاموشی اختیار کر لی۔ ورنہ جب سے اسے معلوم ہوا تھا کہ ازمیر علینہ کا کزن ہے اس کا دل بہت برا ہوا تھا۔ "جاگیردار لوگ کب اپنی بیویوں سے وفا کرتے ہیں!" وہ دل ہی دل میں دعائیں مانگتی رہی کہ اللہ کرے ازمیر جہانزیب کی کوئی حسینہ اسے اپنے جال میں گرفتار کر لے تاکہ وہ جو شادی سے دو دن پہلے لوٹنے والا ہے، شادی کے دن بھی واپس نہ آ سکے۔ کیونکہ تینوں بھائی ازمیر کے خلاف کچھ سننے کو تیار نہیں تھے، سو تھک ہار کر وہ امتحانوں کی تیاری میں مگن ہو گئی جبکہ مما اور علینہ بھابھی اس کی شادی کی تیاریوں میں لگ گئیں۔
ادھر اس کے امتحان ختم ہوئے ادھر گھر میں شادی کی رونق لگ گئی۔اس کی نگاہ دائیں جانب گئی جہاں اندھیرا تھا لیکن ایک منظر اس کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا گیا۔ علینہ بھابھی ازمیر جہانزیب کے کندھے پر سر رکھے روتے ہوئے کچھ کہہ رہی تھیں۔ اس نے ذرا توجہ دی تو آواز سمجھ میں آنے لگی:
"اتنی دیر کیوں لگا دی تم نے؟ جانتے ہو نہ میں تمہارے بغیر کچھ نہیں کر سکتی، میرا اتنا نقصان ہو گیا ازمیر!" وہ اور بھی کچھ کہہ رہی تھی لیکن اس میں سننے کی سکت نہیں تھی۔
تو کیا علینہ بھابھی اور ازمیر جہانزیب ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور اظہر بھائی بیچ میں آ گئے؟ اسے یاد آیا کہ جن دنوں علینہ بھابھی کی شادی تھی ان دنوں ان کا ایک کزن انگلینڈ میں مقیم تھا، تو یہ وہی کزن تھا جو اگر یہاں ہوتا تو علینہ بھابھی کو اظہر بھائی کی نہیں ہونے دیتا۔ وہ وہیں کارپٹ پر بیٹھ گئی اور پتا بھی نہ چلا کہ کب اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ وہ بہت مخلص تھی اور اپنے ہم سفر کو بھی ایسا ہی دیکھنے کی متمنی تھی۔ بیس سالہ زندگی میں اس نے اپنی سوچوں میں کسی نام کو داخل نہیں ہونے دیا تھا، س نے اپنے سارے جذبے اس مرد کے لیے بچا رکھے تھے جو شرعی حیثیت سے اس کی زندگی میں داخل ہوتا۔ ازمیر سے شادی پر اسے یہی اختلاف تھا کہ وہ بندہ بہت امپریسو پرسنالٹی کا مالک تھا اور پھر اتنا عرصہ انگلینڈ جیسے معاشرے میں گزار چکا تھا، پھر جاگیردار کا بیٹا تھا وہ بھی اکلوتا، ایسا کس طرح ہو سکتا تھا کہ اس کی زندگی میں کوئی لڑکی داخل نہ ہوئی ہو! یہاں علینہ بھابھی کو بیوقوف بنایا ہو اور وہاں کسی گوری چمڑی والی سے شادی بھی رچا چکا ہو۔
وہ بدگمانی میں کیا کیا سوچنے لگی،
رخصتی کے وقت اس کا ضبط ٹوٹ گیا حالانکہ دونوں بھائیوں نے اسے سختی سے رونے سے منع کیا تھا۔ پجارو میں ازمیر اس کے ساتھ بیٹھا تھا جبکہ ان دونوں کے علاوہ ازمیر کی والدہ اور چچی بھی ہمراہ تھیں۔ ڈرائیونگ سیٹ پر ازمیر کا پھوپھی زاد فرہاد تھا جو ازمیر کا ہم عمر تھا۔ لال حویلی میں اس کا شاندار استقبال ہوا۔ آخر وہ جہانزیب اکبر شاہ کی اکلوتی بہو تھی۔ یہاں بھی کئی مرحلوں سے گزرنے کے بعد اسے ازمیر کے سجے سجائے کمرے میں پہنچایا گیا۔ وہ سب اسے تنہا چھوڑ کر چلی گئیں تو اس نے ایک طویل سانس لی، اس کا جوڑ جوڑ درد کر رہا تھا۔ ذہنی حالت تو جسمانی حالت سے زیادہ بری تھی۔ ایک نظر کمرے پر ڈالی، بے حد پرتعیش کمرہ تھا اور عروسی سجاوٹ نے کمرے کے حسن میں اضافہ کر دیا تھا ۔ سائیڈ ٹیبل پر ازمیر کی تصویر فریم میں لگی ہوئی تھی جبکہ دائیں دیوار میں اس کی اپنی مایوں کے جوڑے میں اتاری گئی تصویر انلارج کر کے لگائی گئی تھی۔ "آج کے دن میں اس نے یہ کام نمٹایا تھا، شاید مجھے بیوقوف بنانے کے لیے۔" اس نے سوچا اور اپنے پرس سے نیند کی گولیوں کی شیشی نکالی اور دو گولیاں پانی سے پھانک لیں۔ شیشی اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی اور بیڈ کراؤن سے سر ٹکا کر آنکھیں موند لیں۔
ازمیر جب فارغ ہو کر اپنے کمرے میں آیا تو اس کے دل میں کتنے ہی ارمان مچل رہے تھے۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے جذبے منہ زور ہیں تبھی اس نے شانزے کو اپنانے میں جلدی کی تھی۔ اس کا دل ہر پل آواز دیتا تھا کہ وہ شانزے کو اپنے ارد گرد دیکھنے کا خواہاں ہے، "پابندیوں کی زنجیر توڑ دو۔" اس کی وجہ سے شانزے کی رسوائی ہو یہ اسے گوارا نہیں تھا۔ حالانکہ علینہ سے رشتہ جوڑنے کے لیے وہ شانزے کی طرف متوجہ ہوا تھا لیکن اس کی کسی کارروائی سے پہلے ہی علینہ کو عقل آ گئی جبکہ وہ خود پور پور شانزے کی محبت میں ڈوب چکا تھا۔
وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی، آنکھیں بند تھیں۔ وہ کتنی ہی دیر مبہوت اسے تکتا رہا، کس قدر مجسم حسن تھا اس کا! اس نے جیب سے اپنا سامان نکال کر سائیڈ ٹیبل پر رکھا تو اس کی نگاہ دوائی کی شیشی پر گئی۔ اس نے چونک کر شیشی اٹھا کر نام پڑھا اور پھر شانزے کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں بے یقینی تھی۔ شانزے نے ایسا کیوں کیا؟ وہ بیڈ پر اس کے قریب بیٹھا اور اسے آواز دینے لگا، پھر جب اس نے شانزے کے رخسار تھپتھپائے تو اس نے آنکھیں کھولیں لیکن آنکھوں میں نیند کا خمار بھرا ہوا تھا۔ ازمیر کا دل ڈولنے لگا۔
"تم نے ایسا کیوں کیا؟" اس نے بازپرس کی تو وہ کچھ کہنے کی کوشش میں نیند کے جھونکے میں اس کے شانے سے آ لگی۔ ازمیر جہانزیب کا رواں رواں سلگ رہا تھا۔ اس نے شانزے کو بیڈ پر لٹا دیا اور بے چینی سے کمرے میں ٹہلنے لگا۔ پھر اس نے دوائی کی شیشی سے گولیاں نکال کر گنیں تو دو گولیاں کم تھیں، یعنی اس نے دو گولیاں کھائی تھیں، لیکن اس وقت اس کا ذہن بہت منتشر تھا۔ کل اسے دیکھ کر شانزے کا بے ہوش ہو جانا اور آج اس کی یہ حرکت معمولی نہیں تھی کہ وہ درگزر کر دیتا۔ اتنا تو وہ جانتا تھا کہ وہ بہت خالص سوچ رکھنے والی لڑکی ہے، خود کو بہت سنبھال کر رکھا تھا اس نے، تو کیا وہ ازمیر کے بارے میں کسی غلط فہمی کا شکار ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیا غلط فہمی ہے اسے؟ وہ سوچتا رہا۔ نیند تو آنکھوں سے ناراض تھی شاید، پھر بھی وہ کمرے میں آ گیا۔ وہ ویسے ہی لیٹی ہوئی تھی جیسے اس نے لٹایا تھا۔ اس نے ڈریسنگ روم میں جا کر کپڑے تبدیل کیے اور بیڈ پر سے تکیہ لے کر کارپٹ پر لیٹ گیا کیونکہ صوفہ اس کے دراز قد کے لیے ناکافی تھا۔
صبح وہ ازمیر کے جاگنے سے پہلے اٹھ چکی تھی۔ پیرٹ گرین نیٹ کا سوٹ پہنا تھا جس پر موتیوں اور نگوں کا کام بنا ہوا تھا، لمبے بال پشت پر پھیلے ہوئے تھے۔ وہ جیولری پہن رہی تھی، ازمیر اٹھ کر اس کے نزدیک آ گیا۔
"شانزے! یہ کیا حرکت کی تھی تم نے؟" اس کے لہجے میں نرمی کا شائبہ نہیں تھا حالانکہ وہ سوچ کر سویا تھا کہ جس حد تک ہو سکے گا شانزے سے نرمی برتے گا۔
"کون سی حرکت؟" انتہا درجے کی بے نیازی تھی۔
"تم نے سلیپنگ پلز کیوں لی تھیں؟" وہ کارپٹ پر اس کے پاس بیٹھ گیا۔
"آپ سے بات کرنا نہیں چاہتی تھی، اس لیے۔" اس نے صاف گوئی سے کہا۔
"وجہ پوچھ سکتا ہوں؟"
"مجھے دھوکے باز مرد پسند نہیں ہیں۔" وہ بدستور اپنے شغل میں مصروف تھی، دائیں ہاتھ سے بائیں کلائی میں سونے کی چوڑیاں چڑھا رہی تھی۔
"کیسے دھوکا دیا ہے میں نے؟" اس نے پوچھا۔
"مجھے دھوکا دیا ہے آپ نے، مجھے بیوقوف بنایا ہے اور اس سے زیادہ بتانا مجھے پسند نہیں۔" کمال اطمینان تھا اس کے چہرے پر ازمیر کا چین وسکون تباہ کر کے۔
"اب اگر تم نے سلیپنگ پلز کھائیں تو مجھ سے برا کوئی نہ ہو گا۔" اس سے زیادہ برداشت اس میں نہیں تھی، خواہ مخواہ کی الزام تراشیاں کر رہی تھی وہ ازمیر پر جس کے مضبوط کردار کا گواہ ہر وہ شخص تھا جو اسے جانتا تھا، اور یہ چھوٹی سی لڑکی، پتا نہیں کب اسے دھوکا دیا تھا ازمیر نے، کیا غلط فہمی تھی اسے، ازمیر جاننے سے قاصر تھا۔
انٹرکام کی بیل بجی تو ازمیر نے ریسیور اٹھا لیا، ناشتے کا بلاوا تھا۔ وہ ریسیور رکھ کر ڈریسنگ روم میں گھس گیا۔ ٹھیک پندرہ منٹ بعد وہ تیار ہو کر نکلا، فوان کلر کے شلوار سوٹ میں اس کا دراز قد نمایاں تھا، وہ شانزے کے قریب آ کر رک گیا۔
"تم اس کمرے کی حد میں جس طرح چاہو رہو، مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ میں کبھی کسی معاملے میں زبردستی کا قائل نہیں رہا اور تم پر تو ہرگز بھی نہیں، لیکن اس کمرے سے باہر تمہیں میری عزت کا خیال رکھنا ہو گا۔ میں ہرگز یہ برداشت نہیں کروں گا کہ کوئی میری ازدواجی زندگی کو ڈسکس کرے۔
#aftermarriage #urdunovels #noveladdict #RomanticNovel #EmotionalStory #HeartTouching #novels #crossmarriage

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Description — Urdu

Chahaton ki Zanjeer کے اس اقتباس میں شانزے اور ازمیر کے رشتے کے لیے خاندانی گفتگو اور شادی کے بعد کی غلط فہمیاں سامنے آتی ہیں۔ اعتماد اس تعلق کا نمایاں سوال ہے۔

Summary — Urdu

بڑے شانزے کا رشتہ ازمیر کے لیے مانگتے ہیں اور اسے عزت و محبت دینے کا یقین دلاتے ہیں۔ شادی کے بعد ازمیر شانزے کے رویے سے پریشان ہوتا ہے، جبکہ شانزے کی گفتگو اس کے دل میں موجود بداعتمادی ظاہر کرتی ہے۔

Related Keywords

Chahaton ki Zanjeer Novel90031 Urdu Novel,
Share this Novel

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote this novel?

This novel is written by Novelistan.

Is this novel complete or ongoing?

The recorded status is complete novel.

Join Our Community

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *