Skip to navigation Skip to main content
Khan ki Hoor Novel90027 Urdu novel cover
Rank#5
Views828.3K

READ URDU NOVELS AT NOVELISTAN.COM

Khan ki Hoor

No ratings yet

Rate this novel

CompleteAge DifferenceAge Gap Romance

Novel code: Novel90027

Read OnlineDownload PDF

دو خاندانوں کے خون کے تنازعے کی قیمت ایک کم عمر لڑکی کے رشتے کی صورت میں مانگی جاتی ہے۔ خون بہا، خاندانی طاقت اور جبری شادی کی یہ کہانی اس ناانصافی کو موضوع بناتی ہے جس میں عورت کی مرضی فیصلوں سے باہر رہ جاتی ہے۔

Read the Novel

Sneak

چوہدری مصطفیٰ جانتا تھا اس کے بیٹے کے ہاتھوں کالی حویلی کا جوان سال بیٹا قتل ہوا تھا، حویلی والے سینکڑوں ایکڑ مربوں کے مالک اور پورے پاکستان میں ٹرانسپورٹ کا وسیع و عریض کاروبار چلا رہے تھے۔ وہ چھوٹی نہر والے پانچ ایکڑ کے عوض ہرگز چوہدری مرتضیٰ کو قتل معاف کرنے والے نہیں تھے، تب ہی تو انہوں نے سالہا سال سے تنازعے کا سبب بننے والی اراضی کے ساتھ بیٹی کا رشتہ سامنے رکھا تھا۔ زمین دے کر صلح کرنا عام تھا لیکن غیر برادری کے ساتھ ساتھ دوسرے پھرے میں بیٹی دینا یہاں بے انتہا بری اور ذلت آمیز بات تھی۔ خاص طور پر چوہدری مصطفیٰ کا خاندان اور برادری اس ضمن میں زیادہ کٹر تھے۔ وہ مقامی سرائیکیوں کے ہاں بیٹی دینے سے زیادہ قتل کرنے پر متفق تھے۔ لوگوں کو اندازہ ہو گیا کہ چوہدری کسی قدر تکلیف میں ہے اور کتنا ٹوٹ چکا ہے، ہر حال میں بیٹے کو موت سے بچانا چاہتا ہے۔ پھر جیسے ایک ساتھ پنچایت میں مکھیوں کی بھن بھن جیسی سرگوشیاں ابھرنے لگیں، یہاں تک کہ سرگوشیاں اونچی آوازوں میں ڈھل گئیں۔ چوہدری مصطفیٰ واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔
”جی خان صاحب، آپ کیا کہیں گے؟“
بلند اقبال خان ابھی تک حیرت زدہ تھے، ان کے وہم و گمان میں نہ تھا چوہدری بازو کے عوض معافی کی پیش کش رکھ دے گا۔ انہوں نے چھوٹے بھائی فرزند اقبال کو دیکھا، آخر کو ان کا فرزند قتل ہوا تھا۔
”پیر سائیں، ہمیں آپس میں بات چیت کے لیے وقت درکار ہے۔“”خان جی، سارا وقت ہی آپ کا ہے لیکن پنچایت یہ چاہتی ہے آپ پیش کش قبول کر لیں، اس سے علاقہ ایک اور جوان موت کے صدمے سے بچ جائے گا۔ حویلی کا بیٹا واپس نہیں آ سکتا لیکن آپ کی حویلی میں خان دلاور کی جگہ نیا فرد آ سکتا ہے، اس میں حرج ہی کیا ہے؟ برسوں سے تنازعے کا سبب بنی اراضی مقتول دلنواز خان کے بالاں (بچوں) کو دے سکتے ہیں۔ اس طرح نکاح سے دو بڑی برادریوں میں رشتہ داری بھی ہو جائے گی۔“
یہ باتیں ہر خون بہا میں دی جانے والی عورت کے بارے میں کی جاتی تھیں، لیکن سب جانتے تھے وہ قاتلوں کی بہن بیٹی ہی رہتی تھی، اسے گھر کا فرد کوئی نہیں بناتا تھا۔ اس لیے رشتہ داری کا سوال ہی نہیں اٹھتا تھا۔ وہ صرف مشقِ ستم اور بدلہ لینے کا ذریعہ ہوتی تھی۔
خان پکے ڈیرے سے ذرا دور ہٹ کر اپنے صلاح مشورے میں مصروف ہو گئے، پنچایت میں حقوں کی گڑگڑاہٹ عروج پر پہنچ گئی۔ چوہدری مصطفیٰ بھری آنکھوں کے ساتھ موت جیسے فیصلے کا انتظار کرنے لگے۔ مخدوم شکیل نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بیش قیمت حقے کی نے (نلی) ان کی طرف بڑھائی۔
”چوہدری صاحب، دل بڑا کریں، ہم یہاں سے مرتضیٰ چوہدری کی معافی کا فیصلہ لے کر ہی اٹھیں گے۔“
”اگر خان نہیں مانے تو؟“ ان کا انداز ڈرا ڈرا تھا۔
”سائیں، وہ اتنے بے وقوف نہیں ہیں کہ پنچایت کا فیصلہ نہ مانیں، آخر کو اسی علاقے میں رہنا ہے۔“
چوہدری مصطفیٰ کو ایک دم اطمینان ہوا کہ یہ حقیقت تو وہ بھی جانتے تھے، قومی اسمبلی اور اقتدار میں بیٹھے مخدوموں سے بلوچ چاہ کر بھی بگاڑ نہیں سکتے تھے۔ آخر کو بزنس چلانے کے لیے انہی سیاست دانوں کی ضرورت پڑتی تھی، یہی سیاست دان بیوروکریسی کی ڈوریاں ہلاتے تھے تو ان کے رکے کام ہوتے تھے۔
”ہمیں خان نذر بلند کے لیے یہ رشتہ منظور ہے۔“ بلوچ برادرز واپس اپنی جگہیں سنبھال چکے تھے۔ خان نذر بلند نے مونچھوں کو تاؤ دیا۔
”خان نذر بلند بچوں والے ہیں، آپ کے چھوٹے صاحبزادے اس نکاح کے لیے موزوں ترین ہیں۔“
”لیکن وہ تو ابھی پڑھتا بھی ہے، بچگانہ ذہن ہے، قبیل داری کی طرف اس کا رجحان ہی نہیں ہے۔“
”سائیں، قبیل داری میں پڑ کر ہی قبیل داری کی طرف رجحان بنتا ہے۔“ یوں پنچایت کے فیصلے پر دونوں پارٹیاں متحد ہو گئیں۔
”میں ابھی نکاح چاہتا ہوں تاکہ صبح کو عدالت میں سارے کاغذات جمع کروا کر چوہدری مرتضیٰ کی رہائی کا بندوبست کیا جا سکے۔“
”صلح نامہ لکھ لیتے ہیں، بیٹی کا نکاح آپ چوہدری مرتضیٰ کے آنے کے بعد رکھ لیں گے۔“
”میں معزز پنچایت کو صاف بتانا چاہتا ہوں کہ یہ سارا کچھ میں اپنے بیٹے کو لاعلم رکھ کر کرنا چاہتا ہوں۔“
وہاں موجود تمام لوگ چوہدری مرتضیٰ کی آتشیں فطرت سے بھی واقف تھے، وہ بہن دینے کے بجائے پھانسی چڑھنا قبول کر لیتا، تب ہی تو فوری نکاح کی تجویز مان لی گئی۔ جی بابا سائیں! وہ مزید مؤدب ہو گئے۔
اس نے چابی باپ کے ہاتھ پر رکھ دی تو انہوں نے لاشاری کی طرف بڑھا دی۔
”بیٹا آپ لوگ گاڑی میں بیٹھیں، ہم ذرا چھوٹے خان سے تنہائی میں بات کر لیں گے۔“ وہ سعادت مندی سے دوبارہ جیپ کی طرف بڑھ گئے۔
”چھوٹے خان! ابھی چوہدری مصطفیٰ کی لڑکی سے تمہارا نکاح ہے، اس لیے بلایا ہے۔“
”ابا سائیں...“ اس کی آواز بلند ہوئی تو بلند اقبال نے ناگواری سے ہاتھ کھڑا کر کے اسے روکا۔
”ابا سائیں نہیں، 
خان سائیں! یہ بلوچوں اور کالی حویلی کے سربراہ کی حیثیت سے میرا حکم ہے۔“
اگلے آدھے گھنٹے بعد وہ جذباتی، مالی اور معاشرتی طور پر بلیک میلنگ کا شکار ہو کر نکاح نامے کے کاغذ پر دستخط کرنے کے لیے تیار بیٹھا تھا۔
چوہدری، ایک بار پھر سے سوچ لو، خان زادہ بخت میرے پوتے والے کالج میں ہی پڑھتا ہے، بڑا تنک مزاج اور خود پرست سا لڑکا ہے۔ خان نذر بلند بڑی اچھی آپشن بن سکتا ہے، میچور اور زمانہ ساز بندہ ہے، چاہے گا تو دوسری بیوی کی حیثیت حویلی میں جلد تسلیم کر سکتا ہے۔“ مخدوم شکیل نے چوہدری مصطفیٰ کو ایک بار پھر سے نظر ثانی کی پیش کش کی۔
”پیر سائیں، خان نذر بلند کی تو اپنی بیٹی اس کے جتنی ہوگی، عمروں میں بڑا فرق ہے، اب اسے اپنے ہاتھوں سے مار رہا ہوں تو کوشش کر رہا ہوں موت تو آسان سے دوں۔“
”حوصلہ کرو چوہدری...“ پیر شکیل نے رسمی کلمات کہے کہ جانتے تو سب تھے خون بہا میں جانے والیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے۔
نکاح کے بعد چوہدری مصطفیٰ کھڑے ہو گئے۔
”دروازے تک حویلی کی امانت کو میں خود حویلی کے دروازے پر چھوڑ جاؤں گا۔ آپ لوگ یہ زحمت نہ کریں، تو مجھے زیادہ خوشی ہوگی۔“
کسی کو بھلا کیا اعتراض ہو سکتا تھا، خان زادوں نے مونچھوں کو مزید تاؤ دیا کہ اب چوہدریوں کی اتنی اوقات ہی رہ گئی ہے جو خود بیٹی کو کالی حویلی چھوڑ کر جائیں گے۔
گھر میں ان کا استقبال خاندان کی چند سرکردہ عورتوں نے روتے ہوئے کیا سرتاپا سفید کپڑوں میں ملبوس حور بانو ان کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ سلیماں نے ہی سرخ کے بجائے سفید کپڑے منتخب کیے تھے۔ انہوں نے بے تابی سے بیٹی کو گلے لگا لیا۔ ابھی پچھلے سال تو وہ دبی سے اس کے لیے بجلی سے چارج ہونے والی گڑیا لے کر آئے تھے۔ چند مہینے پہلے تو وہ پندرھویں سال میں گئی تھی۔ آج بیٹے کو پھانسی کے پھندے سے بچانے کے لیے انہوں نے اپنی شریکِ حیات کی کاربن کاپی، اپنی پیاری بیٹی قربان کر دی تھی۔
وہ باپ کے ساتھ لپٹی باپ کے رونے پر سسک رہی تھی۔ جب سے مریم باجی کی شادی ہوئی تھی اس کا بھی دل تو کرتا تھا شادی ہو گی، پسند کے کپڑے ملیں گے، روز مریم باجی کی طرح ہوٹل سے کھانا کھایا کرے گی، مریم باجی کی طرح اچھے کپڑے پہن کر تیز سرخی لگا کر تیار ہو کر آؤٹنگ پر بھی جایا کرے گی۔ لیکن ایسے شادی ہوگی، اس کے بالکل نہیں سوچا تھا، باپ اتنا روئے گا، یہ تو اس کے وہم و گمان میں نہ تھا۔
”بس کریں چوہدری صاحب، میرا کلیجہ پھٹ رہا ہے۔“ شیر علی نے دہائی دے ڈالی۔
”بانو! میری بات غور سے سنو۔“ انہوں نے بیٹی کا سر اوپر اٹھایا۔ ”تم دشمنوں میں جا رہی ہو، وہاں کوئی ہم نفس یا ہم زباں نہیں ہوگا، کوئی امید نہ رکھنا میری بیٹی، امید زیادہ تکلیف دیتی ہے۔ جیسے بھی حالات ہوں، شوہر کی وفادار رہنا، وہ دشمن ہے، وہ ہم زبان نہیں ہے پر پھر بھی تیرا شوہر ہے، تو اچھی عورت وہی ہوتی ہے جو شوہر کی عزت کو عزت سمجھتی ہے۔ دھی رانی! اس کی وفاداری میں جان دینی پڑے تو چاہے خود اپنی جان لے لینا، مجھے یقین ہے فرشتے خودکشی نہیں لکھیں گے۔“
امتیاز! تم مہمانوں کو باغ والے ڈیرے پر لے جاؤ، میں بی بی جان سے مل آؤں پھر اکٹھے نکلتے ہیں۔“
”پاگل ہو گئے ہو؟ کچھ دیر پہلے تمہاری شادی ہوئی ہے، تم ہمارے ساتھ جانے کی بات کر رہے ہو، سکون سے ہفتہ بھر کو ادھر رکو۔“
”پاگل میں نہیں تم ہو گئے ہو، ایگریمنٹ کو پتہ نہیں کیا سمجھ رہے ہو؟ دشمنوں کی بیٹی ہے وہ، حویلی کے نوکروں سے بھی گئی گزری، تم اسے میری بیوی بنا دو! ہمارے ہاں غیر خاندان، غیر زبان اور غیر برادری کی عورتوں کو بیوی نہیں بنایا جاتا۔“ بخت بلند نے سارا غصہ ان پر نکالا۔
”تمہیں تو پنجابیوں میں شادی کرنے کا شوق تھا، دیکھو اللہ نے کیسے پورا کر دیا ہے۔ اب تم لوگ سمجھو نہ سمجھو ہے تو بھابھی، تمہاری وائف۔“ سہیل نے سنجیدگی سے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
”مجھے شادی کے نام سے ہی نفرت ہے، ایسے ہی شغل لگانے کے لیے، تمہیں چڑانے کی خاطر کہہ دیا تھا، مجھے پنجابی لڑکیاں پسند ہیں، پنجابن سے شادی کروں گا۔ میں لعنت بھیجتا ہوں شادی، بیوی وغیرہ وغیرہ پر۔ یہاں پیار کی قسمیں کھانے والیاں وفادار نہیں، وہ بدلے میں آئی کہاں سے وفا کرے گی؟ میرا خون کھول رہا ہے، لڑکی کی خاطر بابا سائیں نے بھائی کے قاتل کو معاف کر دیا۔ چند دن بعد فیصلہ تھا، ان کے گھر بھی لاش پڑی ہوتی، چاچی، بی بی جان اور ہمیں بھی سکون نصیب ہوتا کہ بھائی کا قاتل بھی اپنے انجام کو پہنچا۔“
کالی حویلی کے سارے مرد اکٹھے ہی حویلی کے بڑے گیٹ سے داخل ہوئے تو آگے حویلی کی عورتوں کے بین سینہ چیرنے لگے۔ یوں لگا جیسے خان دلنواز خان آج پھر سے قتل ہوا ہو۔ خان دلنواز کی بیوی کا سر کھلا تھا اور چیخیں آسمان چھو رہی تھیں، عنایت بی بی نے اپنے شوہر خان فرزند اقبال کا گریبان پکڑ لیا۔
”سائیں! آپ دلنواز کو بھول گئے؟ مجھے دلنواز کا پوتر ایک لمحہ نہیں بھولنے دیتا۔“ اس نے خان دلنواز کی موت کے بعد پیدا ہوئے اس کے بیٹے کو بی بی جان کے بازوؤں سے لے کر سب کے سامنے لہرایا۔
”حوصلہ کرو اماں...“ (خاص موقعوں پر خود سے چھوٹوں کو بھی پیار اور احترام میں سرائیکی اماں اور ابا کہہ کر مخاطب کر لیتے ہیں) خان بلند اقبال نے مداخلت کی۔ ”حویلی سے خان دلنواز کا ’مردہ‘ جنازہ نکلا تھا لیکن چوہدریوں کی حویلی سے زندہ نکلا ہے۔ پورا علاقہ تھو تھو کر رہا ہے۔ بہن بیچ کر زندگی خریدی ہے چوہدری مرتضیٰ نے۔ یہ ایسا زخم ہے جو اس کی زندگی موت سے بدتر بنائے رکھے گا، سمجھو تو سہی۔“
لیکن عورتیں نہیں سمجھ رہی تھیں، انہیں صرف اتنا پتہ تھا دلنواز کا قتل معاف کر دیا گیا۔ خان بخت بلند ماں سے پہلے پھوپھی یعنی بی بی جان کی طرف بڑھا تو بی بی نے منہ پھیر لیا۔ وہ ماں، بچی، بیوہ، بھرجائی اور پھوپھی کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
”تجھے کندھوں پر اٹھا کر ان کے کندھے تھکے تھے بخت! اور تو نے ان کے قاتل کی بہن کو بیوی بنا کر معاف کر دیا؟“
”بھرجائی! میں بے قصور ہوں۔“ وہ عورت ہوتا تو ان کی طرح چیخ چیخ کر رو پڑتا لیکن خان بلند اقبال کو روتے ہوئے مرد بہت برے لگتے تھے۔
انہوں نے بچپن سے ہی حویلی کے سارے لڑکوں کو ”مرد روتے نہیں“ پر پکا کر دیا ہوا تھا۔ نذر بلند کا گیارہ سال کا بیٹا اگر کبھی انہیں روتا نظر آ جاتا تو پوتے کو بھی کڑی سزا دیتے تھے اور سچ مچ رونے بھی نہ دیتے تھے۔ جو روتا رہتا، اس کی سزا بڑھا دی جاتی۔
”بھائی جان! دشمن کی بیٹی حویلی کی بہو بن گئی ہے! ادھر عیش کرے گی، حویلی کی وارث بنے گی۔ چوہدریوں کی بیٹی ہمارے پرکھوں کی حویلی کی بہو بن گئی، ان کا چھور (لڑکا) بھی بچ گیا! وہ تو ہر طرح سے فائدے میں رہے! جان! خود سے اونچے لوگوں میں بنا خرچے کی چھوری بھی پرنا (بیاہ) دی، لڑکا بھی بچ گیا، میرا دلنواز دنیا سے چلا گیا۔ کیا سمجھاؤں، کیسے سمجھاؤں بھائی جان!‘‘ بی بی جان دلنواز کے نام پر آ کر دھاڑیں مارنے لگیں۔
تو بخت بلند نے زبردستی ساتھ لگا لیا۔
”وہ حویلی کی کنوار نہیں ہے جو حویلی کی نسل بڑھائے، نوکر ہے کام کاج کے لیے۔ جب مر جائے گی تو حویلی سے دھوم دھام سے جنازہ نکالیں گے، چوہدری مرتضیٰ کو چین نہیں لینے دیں گے۔ تو اب شادی شدہ ہے خان بیوی ہے تیرے گھر ۔۔۔
”کس کی شادی، کمینے؟ کتنی بار بتا چکا ہوں، میں سدا بہار چھڑا رہوں گا۔ وہ شادی نہیں تھی، دو بڑے لیکن مختلف خاندانوں میں سمجھوتا تھا، جس سے کسی قاتل کی پھانسی رک گئی۔“
”لیکن بھابھی تمہاری حویلی میں تمہاری بیوی کی حیثیت سے موجود ہے۔“ سہیل نے سنجیدگی سے کہا۔
”اس سے بندے کو کوئی فرق پڑتا ہے نہ کسی اور کو! ایسی ہی ایک غیر خاندانی، غیر زبان کی عورت رحیم یار خان میں میرے ماموں کی حویلی میں قصاص میں آئی تھی، چند سال پہلے فوت ہوئی ہے، جنازے میں پورا خاندان بھی شریک نہ ہوا تھا، تو حویلی میں موجود ہونے کی بات کر رہا ہے۔“
”یہ کوئی فخر کی بات تو نہیں، بخت! یہ تو عورت پر ظلم ہے۔“اوہ عورت نہیں، ٹین ایجر بچی ہے!“ بخت خان نے قہقہہ لگایا
#agegap #agedifference #UrduNovel2026 #pathan #khan #wani #urdunovels #novels #RomanticNovel

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Description — Urdu

Khan ki Hoor کے اس اقتباس میں قتل کے بدلے صلح کے لیے بیٹی کا رشتہ پیش کیا جاتا ہے۔ خاندانی دشمنی اور عورت کو معاملے کے تصفیے کا ذریعہ بنانا اس کے نمایاں موضوعات ہیں۔

Summary — Urdu

چوہدری مصطفیٰ کے بیٹے کے ہاتھوں کالی حویلی کے ایک نوجوان کا قتل ہو جاتا ہے۔ صلح کے لیے متنازع زمین کے ساتھ بیٹی کا رشتہ بھی پیش کیا جاتا ہے، جبکہ گفتگو میں عمر کے فرق اور ایسی شادی میں لڑکی کے مقام پر سوال اٹھتے ہیں۔

Related Keywords

Khan ki Hoor Novel90027 Urdu Novel, Khan ki Hoor Novel90027 PDF
Share this Novel

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote this novel?

This novel is written by Novelistan.

Is this novel complete or ongoing?

The recorded status is complete novel.

Join Our Community

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *