Skip to navigation Skip to main content
Dasht e Wehshat ka Sehra Urdu novel cover
Rank#22
Views451.6K

READ URDU NOVELS AT NOVELISTAN.COM

Dasht e Wehshat ka Sehra

No ratings yet

Rate this novel

CompleteChildhood NikahFamily Drama

Novel code: Novel90066

Read OnlineDownload PDF

دس سال پرانا نکاح پشمینہ کے مستقبل کا سوال بن جاتا ہے جب سلمان حسن ملک رخصتی سے انکار کر دیتے ہیں۔ خاندان کی روایات، بزرگوں کی توقعات اور ذاتی پسند کے درمیان یہ اختلاف حویلی کا سکون چھین لیتا ہے۔

Read the Novel

Sneak

\
 ملک سجاول کی حویلی میں کہرام برپاہوا تھا جب سلمان حسن ملک نے رخصتی سے انکار کیا تھا۔۔ دس سال تک اپنے نکاح میں بندھی لڑکی کو وہ طلاق دینا چاہتے تھے جو تیرہ سال کی عمر سے ہی سلمان ملک کے نکاح میں تھی ۔بابا سائیں! میں شرمندہ ہوں، مگر... میں اس تعلق کو نبھانے سے لاچار ہوں!"

بابا سائیں کے پاؤں تلے جیسے کسی نے انگارے بچھا دیے تھے۔ ایک لمحے کو تو بھونچکا رہ گئے۔ "سلمان حسن!" اُن کے گلے سے نکلی گھن گرج، اُن کے بوڑھے چہرے پر نمودار ہونے والی غیض و غضب کی کیفیت نے بی بی جان کو اندر تک دہلا دیا تھا۔ چائے کے برتن تھامے دروازے کے قریب کھڑی رعنا کے رگ و پے میں سنسنی سی دوڑ گئی تھی۔

"تم جانتے ہو، تم کیا کہہ رہے ہو؟" وہ جلال کے عالم میں دھاڑے تھے۔ پھر بے قراری کے عالم میں کمرے میں چکر کاٹا۔ "کسی کی جرات ہے ملکوں کی پگ نیچی  کرنے کی؟ تیرا کیا خیال ہے؟ انگریزیاں پڑھ کے تو کسی غیب دان کے مرتبے پر پہنچ گیا ہے؟" اُن کے لہجے میں پوشیدہ درشتی رگوں کا خون منجمد کردیتی تھی۔

"بابا سائیں! میں گستاخی نہیں کر رہا، اپنی رائے اور اپنا فیصلہ بتا رہا ہوں۔"

"ناں! اب تو ہمیں فیصلے سنایا کرے گا؟ ہمیں پڑھائے گا؟" ان کا شعلے برساتا انداز ایک دم ماحول کو ہراساں و سراسیمہ بنا گیا تھا۔ سلمان بھی خوف زدہ سے ہو گئے تھے۔ بابا سائیں بہت کم غصے میں آتے تھے۔ عام حالات میں بھی ان کے انداز کا مخصوص بارعب اور پرجلال تاثر مخاطب کو مرعوب کر دیتا تھا۔ طیش زدہ انداز تو دوسروں کے حواس مختل کر دیتا تھا۔

" فیصلہ بہرحال یہی رہے گا!" وہ کہہ کر ایک دم باہر نکل گئے تھے۔

فائزہ بابا سائیں کے انتہا کو چھوتے غضب کا نظارہ کرنے کو مزید نہیں ٹھہری، بلکہ گولی کی طرح ہال کمرے کی طرف بھاگی تھی۔ وہ میڈیکل میں اپلائی کرنے کے لیے بابا سائیں سے مناظرہ کرنے آئی تھی، کہ اندر سے "گولہ باری" کی آوازیں سن کر باہر ہی رک گئی تھی۔

جلد ہی یہ خبر ملک ہاؤس کے ایوانوں سے نکل کر گاؤں میں حویلی کے مکینوں تک بھی پہنچ گئی۔ ملک سجاول خود آئے، بیٹے کو سمجھایا، بابا سائیں کے غصے سے ڈرایا، مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ بابا سائیں تو ان کی صورت دیکھنے کے روادار تک نہ تھے۔ دیکھو فوزی! خدا کے واسطے میرا تماشا نہیں بنواؤ!" پشمینہ نے کوئی دسویں مرتبہ منت سماجت کی تھی۔

"کیا تم اپنا نکاح برقرار نہیں رکھنا چاہتیں؟" اس نے تلملا کر پوچھا۔

"ہاں، مگر یہ طریقہ تو..." مگر اس نے بھنا کر بات کاٹ دی تھی۔

"بس کرو! عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ حق چھوڑے نہیں اور فرض پورا کرنے میں کوتاہی نہ کرے۔ ارے تمہارا شوہر ہے، تمہارا جائز مرد!"

"ویسے میں بھی فوزی کی رائے کے حق میں ہوں!" نیلم نے دھیمے انداز میں کہا۔

مگر نیلم! تم سوچو تو..." پشمینہ نے کسمسا کر اسے دیکھا۔ "میں اس طرح خود کو اُن کے سامنے کیسے پیش کر سکتی ہوں؟"

"نہیں، نہیں! میں یہ نہیں کر سکوں گی!" اس نے اپنا سرخ ہوتا چہرہ دونوں ہاتھوں کے پیالے میں چھپا لیا تھا۔

"ارے! کھا نہیں جائیں گے تمہیں..." اس نے دانت پیسے، پھر لہجہ بدل لیا۔ "پلیز شمی آیا! بس میرے کہنے سے اٹھو! یقین مانو، اس طرح تمہارا مستقبل محفوظ ہو جائے گا، اور یہ روز مرنے کی اذیت کا خاتمہ بھی ہو جائے گا! وہ بس ایک جھلک پا کر ہی دیوانے ہو جائیں گے، مجھے پکا پتا ہے!"

واقعی، پشمینہ ایسی ہی تھی! وہ خاندان کی سب سے خوبصورت اور نرم و نازک لڑکی تھی، اس کی ماں پٹھان تھی، اسی کے نقشِ قدم پر آئی تھی وہ اور اس کی چھوٹی بہن روشینہ، جو ننھیال کے ساتھ گاؤں میں تھی۔

ایسا حشر ساماں حسن، ایسا زہر شکن سراپا! تم دیکھنا، وہ تو مجنون ہو جائیں گے! وہ اسے گھسیٹتی بتدریج باہر لا رہی تھی، اس کا رخ لان کی طرف تھا، جہاں ایک گوشے میں وہ کتاب میں مگن ایزی چیئر پر نیم دراز تھے۔ "ویسے تم خود بھی انہیں دیکھ کر مبہوت رہ جاؤ گی! تمہاری  ٹکر کےہیں، قسم سے اے ون جوڑا ہے!"

"فوزی! فوزی! پلیز چھوڑ دو مجھے..." دھک دھک کرتے دل، شرم سے چور چور سراپے سمیت وہ بدستور زار و قطار احتجاج کیے جا رہی تھی، مگر وہ فائزہ کیا؟ اپنے منصوبے کو پایہِ تکمیل تک پہنچائے...

"ہیلو حسن بھائی! اٹینشن پلیز!" وہ قریب جا کر قدرے شوخی سے بولی تھی۔ یہ بے تکلفی اس قربت اور اپنائیت کا اعجاز تھی جو اس کھیل کے بعد ان میں وقتاً فوقتاً پیدا ہوتی رہی تھی۔

انہوں نے خوشگوار تاثر سمیت اس کی طرف دیکھا، اور پھر اُن کی نظریں اپنا ہاتھ چھڑاتی لاجونتی کی طرح سمٹی لجاتی حسین مورتی کی جانب سوالیہ انداز سے اٹھ گئیں۔

"جناب! یہ ہیں آپ کی منکوحہ!" وہ ہوشیاری سے ان کی نظروں کا تعاقب کر رہی تھی، ساتھ ہی ساتھ چہرہ بھی پڑھ رہی تھی، مگر کچھ اندازہ نہ کر سکی۔

"اوہ! آئی سی! کیسی ہیں آپ؟" انہوں نے دھیمے سے پوچھا، مگر جواب میں وہ تیزی سے ہاتھ چھڑا کر اندر بھاگ گئی تھی!

"کیسی لگیں حسن بھائی؟" اس نے دھپ سے سبزے پر بیٹھ کر معنی خیز تبسم سے دریافت کیا۔

وہ چپ چاپ ایزی چیئر پر بیٹھے رہے، پھر ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولے: "کس لحاظ سے کہہ رہی ہو؟"

"بھئی! ہر لحاظ سے! ایک بیوی ہونے کے ناتے..." اس نے اُن کی جانب نگاہ کی۔

"ایک لڑکی ہونے کے ناتے وہ بہت خوبصورت اور حسین و جمیل لڑکی ہیں، ایک بیٹی ہونے کی حیثیت سے فرمانبردار بیٹی ہیں، ایک بہن ہونے کے ناتے یقیناً بہت ایثار پسند ہوں گی، مگر ایک بیوی کی حیثیت سے قطعی ان فٹ ہیں! کم از کم میرے جیسے بندے کے لیے!" انہوں نے تفصیلی اپنا تجزیہ بیان کیا۔

وہ ہکا بکا رہ گئی۔ "تو پھر آپ جیسے بندے کو کس طرح کی بیوی چاہیے؟"

ملک سجاول کی حویلی میں کہرام برپاہوا تھا جب سلمان حسن ملک نے رخصتی سے انکار کیا تھا۔۔ دس سال تک اپنے نکاح میں بندھی لڑکی کو وہ طلاق دینا چاہتے تھے جو تیرہ سال کی عمر سے ہی سلمان ملک کے نکاح میں تھی ۔بابا سائیں! میں شرمندہ ہوں، مگر... میں اس تعلق کو نبھانے سے لاچار ہوں!"

\#childhoodnikah #urdunovels #novels #secondmarriage #Dusrishadi #novels #EmotionalStory #HeartTouching\
 \

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Description — Urdu

Dasht e Wehshat ka Sehra میں بچپن کے نکاح اور رخصتی سے انکار کی کہانی پڑھیے۔ سلمان حسن ملک کا فیصلہ پشمینہ اور پورے خاندان کو بحران میں ڈال دیتا ہے۔

Summary — Urdu

سلمان حسن ملک دس سال پہلے ہونے والے نکاح کو نبھانے اور پشمینہ کی رخصتی کروانے سے انکار کرتے ہیں۔ خاندان کے بزرگوں کی ناراضی بھی ان کا فیصلہ نہیں بدلتی۔ فائزہ اور نیلم پشمینہ کی ملاقات سلمان سے کرواتی ہیں، مگر وہ اس کی خوبیوں کو تسلیم کرنے کے باوجود اسے اپنے لیے موزوں شریک حیات نہیں سمجھتے۔

Related Keywords

Dasht e Wehshat ka Sehra Urdu Novel
Share this Novel

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote this novel?

This novel is written by Novelistan.

Is this novel complete or ongoing?

The recorded status is complete novel.

Join Our Community

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *