Sneak
\ ملک سجاول کی حویلی میں کہرام برپاہوا تھا جب سلمان حسن ملک نے رخصتی سے انکار کیا تھا۔۔ دس سال تک اپنے نکاح میں بندھی لڑکی کو وہ طلاق دینا چاہتے تھے جو تیرہ سال کی عمر سے ہی سلمان ملک کے نکاح میں تھی ۔بابا سائیں! میں شرمندہ ہوں، مگر... میں اس تعلق کو نبھانے سے لاچار ہوں!" بابا سائیں کے پاؤں تلے جیسے کسی نے انگارے بچھا دیے تھے۔ ایک لمحے کو تو بھونچکا رہ گئے۔ "سلمان حسن!" اُن کے گلے سے نکلی گھن گرج، اُن کے بوڑھے چہرے پر نمودار ہونے والی غیض و غضب کی کیفیت نے بی بی جان کو اندر تک دہلا دیا تھا۔ چائے کے برتن تھامے دروازے کے قریب کھڑی رعنا کے رگ و پے میں سنسنی سی دوڑ گئی تھی۔ "تم جانتے ہو، تم کیا کہہ رہے ہو؟" وہ جلال کے عالم میں دھاڑے تھے۔ پھر بے قراری کے عالم میں کمرے میں چکر کاٹا۔ "کسی کی جرات ہے ملکوں کی پگ نیچی کرنے کی؟ تیرا کیا خیال ہے؟ انگریزیاں پڑھ کے تو کسی غیب دان کے مرتبے پر پہنچ گیا ہے؟" اُن کے لہجے میں پوشیدہ درشتی رگوں کا خون منجمد کردیتی تھی۔ "بابا سائیں! میں گستاخی نہیں کر رہا، اپنی رائے اور اپنا فیصلہ بتا رہا ہوں۔" "ناں! اب تو ہمیں فیصلے سنایا کرے گا؟ ہمیں پڑھائے گا؟" ان کا شعلے برساتا انداز ایک دم ماحول کو ہراساں و سراسیمہ بنا گیا تھا۔ سلمان بھی خوف زدہ سے ہو گئے تھے۔ بابا سائیں بہت کم غصے میں آتے تھے۔ عام حالات میں بھی ان کے انداز کا مخصوص بارعب اور پرجلال تاثر مخاطب کو مرعوب کر دیتا تھا۔ طیش زدہ انداز تو دوسروں کے حواس مختل کر دیتا تھا۔ " فیصلہ بہرحال یہی رہے گا!" وہ کہہ کر ایک دم باہر نکل گئے تھے۔ فائزہ بابا سائیں کے انتہا کو چھوتے غضب کا نظارہ کرنے کو مزید نہیں ٹھہری، بلکہ گولی کی طرح ہال کمرے کی طرف بھاگی تھی۔ وہ میڈیکل میں اپلائی کرنے کے لیے بابا سائیں سے مناظرہ کرنے آئی تھی، کہ اندر سے "گولہ باری" کی آوازیں سن کر باہر ہی رک گئی تھی۔ جلد ہی یہ خبر ملک ہاؤس کے ایوانوں سے نکل کر گاؤں میں حویلی کے مکینوں تک بھی پہنچ گئی۔ ملک سجاول خود آئے، بیٹے کو سمجھایا، بابا سائیں کے غصے سے ڈرایا، مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ بابا سائیں تو ان کی صورت دیکھنے کے روادار تک نہ تھے۔ دیکھو فوزی! خدا کے واسطے میرا تماشا نہیں بنواؤ!" پشمینہ نے کوئی دسویں مرتبہ منت سماجت کی تھی۔ "کیا تم اپنا نکاح برقرار نہیں رکھنا چاہتیں؟" اس نے تلملا کر پوچھا۔ "ہاں، مگر یہ طریقہ تو..." مگر اس نے بھنا کر بات کاٹ دی تھی۔ "بس کرو! عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ حق چھوڑے نہیں اور فرض پورا کرنے میں کوتاہی نہ کرے۔ ارے تمہارا شوہر ہے، تمہارا جائز مرد!" "ویسے میں بھی فوزی کی رائے کے حق میں ہوں!" نیلم نے دھیمے انداز میں کہا۔ مگر نیلم! تم سوچو تو..." پشمینہ نے کسمسا کر اسے دیکھا۔ "میں اس طرح خود کو اُن کے سامنے کیسے پیش کر سکتی ہوں؟" "نہیں، نہیں! میں یہ نہیں کر سکوں گی!" اس نے اپنا سرخ ہوتا چہرہ دونوں ہاتھوں کے پیالے میں چھپا لیا تھا۔ "ارے! کھا نہیں جائیں گے تمہیں..." اس نے دانت پیسے، پھر لہجہ بدل لیا۔ "پلیز شمی آیا! بس میرے کہنے سے اٹھو! یقین مانو، اس طرح تمہارا مستقبل محفوظ ہو جائے گا، اور یہ روز مرنے کی اذیت کا خاتمہ بھی ہو جائے گا! وہ بس ایک جھلک پا کر ہی دیوانے ہو جائیں گے، مجھے پکا پتا ہے!" واقعی، پشمینہ ایسی ہی تھی! وہ خاندان کی سب سے خوبصورت اور نرم و نازک لڑکی تھی، اس کی ماں پٹھان تھی، اسی کے نقشِ قدم پر آئی تھی وہ اور اس کی چھوٹی بہن روشینہ، جو ننھیال کے ساتھ گاؤں میں تھی۔ ایسا حشر ساماں حسن، ایسا زہر شکن سراپا! تم دیکھنا، وہ تو مجنون ہو جائیں گے! وہ اسے گھسیٹتی بتدریج باہر لا رہی تھی، اس کا رخ لان کی طرف تھا، جہاں ایک گوشے میں وہ کتاب میں مگن ایزی چیئر پر نیم دراز تھے۔ "ویسے تم خود بھی انہیں دیکھ کر مبہوت رہ جاؤ گی! تمہاری ٹکر کےہیں، قسم سے اے ون جوڑا ہے!" "فوزی! فوزی! پلیز چھوڑ دو مجھے..." دھک دھک کرتے دل، شرم سے چور چور سراپے سمیت وہ بدستور زار و قطار احتجاج کیے جا رہی تھی، مگر وہ فائزہ کیا؟ اپنے منصوبے کو پایہِ تکمیل تک پہنچائے... "ہیلو حسن بھائی! اٹینشن پلیز!" وہ قریب جا کر قدرے شوخی سے بولی تھی۔ یہ بے تکلفی اس قربت اور اپنائیت کا اعجاز تھی جو اس کھیل کے بعد ان میں وقتاً فوقتاً پیدا ہوتی رہی تھی۔ انہوں نے خوشگوار تاثر سمیت اس کی طرف دیکھا، اور پھر اُن کی نظریں اپنا ہاتھ چھڑاتی لاجونتی کی طرح سمٹی لجاتی حسین مورتی کی جانب سوالیہ انداز سے اٹھ گئیں۔ "جناب! یہ ہیں آپ کی منکوحہ!" وہ ہوشیاری سے ان کی نظروں کا تعاقب کر رہی تھی، ساتھ ہی ساتھ چہرہ بھی پڑھ رہی تھی، مگر کچھ اندازہ نہ کر سکی۔ "اوہ! آئی سی! کیسی ہیں آپ؟" انہوں نے دھیمے سے پوچھا، مگر جواب میں وہ تیزی سے ہاتھ چھڑا کر اندر بھاگ گئی تھی! "کیسی لگیں حسن بھائی؟" اس نے دھپ سے سبزے پر بیٹھ کر معنی خیز تبسم سے دریافت کیا۔ وہ چپ چاپ ایزی چیئر پر بیٹھے رہے، پھر ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولے: "کس لحاظ سے کہہ رہی ہو؟" "بھئی! ہر لحاظ سے! ایک بیوی ہونے کے ناتے..." اس نے اُن کی جانب نگاہ کی۔ "ایک لڑکی ہونے کے ناتے وہ بہت خوبصورت اور حسین و جمیل لڑکی ہیں، ایک بیٹی ہونے کی حیثیت سے فرمانبردار بیٹی ہیں، ایک بہن ہونے کے ناتے یقیناً بہت ایثار پسند ہوں گی، مگر ایک بیوی کی حیثیت سے قطعی ان فٹ ہیں! کم از کم میرے جیسے بندے کے لیے!" انہوں نے تفصیلی اپنا تجزیہ بیان کیا۔ وہ ہکا بکا رہ گئی۔ "تو پھر آپ جیسے بندے کو کس طرح کی بیوی چاہیے؟" ملک سجاول کی حویلی میں کہرام برپاہوا تھا جب سلمان حسن ملک نے رخصتی سے انکار کیا تھا۔۔ دس سال تک اپنے نکاح میں بندھی لڑکی کو وہ طلاق دینا چاہتے تھے جو تیرہ سال کی عمر سے ہی سلمان ملک کے نکاح میں تھی ۔بابا سائیں! میں شرمندہ ہوں، مگر... میں اس تعلق کو نبھانے سے لاچار ہوں!" \#childhoodnikah #urdunovels #novels #secondmarriage #Dusrishadi #novels #EmotionalStory #HeartTouching\ \
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
Summary — Urdu
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕





