Skip to navigation Skip to main content
Dasht e Talab Urdu novel cover
Rank#16
Views634.4K

READ URDU NOVELS AT NOVELISTAN.COM

Dasht e Talab

No ratings yet

Rate this novel

CompleteCross MarriageEmotional Fiction

Novel code: Novel90033

Read OnlineDownload PDF

ایک رشتے کے بدلے دوسرا رشتہ مانگنے کی شرط ہدیہ کو مہران شاہ کی زندگی سے جوڑ دیتی ہے۔ بدلے کی شادی، خوف اور سخت رویوں کی یہ کہانی خاندانی فیصلوں کے بوجھ تلے دبے ایک ازدواجی تعلق کو موضوع بناتی ہے۔

Read the Novel

Sneak

" رشتے کے لیے ہاں کہہ دیں مگر ایک شرط کے ساتھ۔" یہ مہران شاہ کی آواز تھی اور لیلیٰ کی دھڑکن تھم سی گئی۔
"کیسی شرط؟" سب ہی نے حیران ہو کر پوچھا تھا۔
"یہ کہ بدلے میں انہیں اپنی بیٹی دینی ہو گی۔"
"مگر ان کی بیٹی تو لیلیٰ سے بھی چھوٹی ہے، پڑھ رہی ہے اور پھر ان کی ایک ہی بیٹی ہے، بہت لاڈلی ہے۔ وہ اتنی جلدی اس کی شادی تو ہرگز نہیں کریں گے۔"
"آپ خود سے مفروضے مت قائم کریں، بات کریں ان سے، اگر انہیں یہ شرط منظور ہے تو ٹھیک ہے ورنہ دوسری صورت میں ہماری طرف سے صاف انکار ہے۔"
اب اس پر بحث فضول ہے، آپ میری بات ان تک پہنچا دیں، اگر راضی ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ نہیں، کوئی ایسی مصیبت نہیں پڑی ہوئی، لیلیٰ کے لیے رشتے بہت ہیں، وہ کوئی دوسرا گھر دیکھ لیں۔"
جب حسین کی امی نے دوسرے دن فون کیا تو امی نے اپنی شرط کچھ ہچکچاہٹ کے ساتھ ان کے سامنے رکھ دی۔ وہ سن کر خاموش ہو گئیں۔
"کیا آپ کو ہماری شرط منظور نہیں؟" امی نے پوچھا۔
"میں ابھی کچھ کہہ نہیں سکتی، گھر میں سب سے بات ہو گی اور جو بھی سب کا متفقہ فیصلہ ہو گا، اس سے آپ کو آگاہ کر دوں گی۔ مگر ایک بات ضرور کہوں گی، لیلیٰ صرف میری ہی نہیں، میرے بیٹے حسین کی بھی پسند ہے اور میں بہت خوش تھی کہ اتنی اچھی لڑکی بس کچھ ہی عرصے میں ہماری بن کر ہمارے گھر آ جائے گی مگر آپ نے بدلے میں رشتہ مانگ کر مجھے فکر مند کر دیا۔ میری بیٹی ہدیہ ابھی صرف ایف ایس سی میں ہے، وہ بہت لائق لڑکی ہے، پڑھنا چاہتی ہے۔"
"پڑھائی تو شادی کے بعد بھی ہو سکتی ہے، یقین کریں بہن! مجھے آپ کا گھرانہ بہت پسند آیا ہے، آپ کے سارے بچے بہت اچھے ہیں، حسین اور ہدیہ کو اپنا کر ہم بہت خوشی اور فخر محسوس کریں گے۔ آپ نے فون کیا تو میں نے بھی بہن سمجھ کر ابھی یہ بات آپ سے کہہ دی ورنہ تو میں آج شام باقاعدہ رشتہ لے کر آنے والی تھی۔
اور آخر حسین کی والدہ نے ان کی بات قبول کر کے دونوں رشتوں کے لیے ہامی بھر لی۔ حسین نے لیلیٰ کو فون کر کے مبارک باد دی۔ اپنی بے تابیوں کے بارے میں بتایا اور مستقبل کے بارے میں بہت خوبصورت باتیں کیں، جبکہ مہران شاہ کی طرف سے ایسا کچھ نہیں تھا، وہ پہلے کی طرح اب بھی ہدیہ کے امی ابو سے سرسری انداز میں ملا تھا۔ ادھر ہدیہ خوشی کے ساتھ ساتھ کچھ خوفزدہ بھی تھی۔ بے شک مہران شاہ کی پرسنالٹی نظر انداز کرنے والی نہیں تھی مگر اس کے چہرے اور اس کے لہجے میں کھردرا پن تو تھا۔ وہ بہت سخت دکھائی دیتا تھا۔ہدیہ تو بڑی لاڈلی رہی تھی، شروع سے کبھی کسی نے سخت لہجے میں اس سے بات نہیں کی تھی۔ "پتا نہیں وہ کیسے ہوں گے، کہیں بہت زیادہ غصے والے نہ ہوں۔" اس کا دل بے چین سا تھا۔ حسین بھائی نے لیلیٰ بھابھی سے فون پر بات کی تھی، انہیں مبارک باد دے رہی تھی تو وہ بھی مہران شاہ کے فون کا انتظار کرنے لگی تھی مگر ایسا نہیں ہوا، ادھر سے کوئی فون نہیں آیا اور اس کا دل ایک نامعلوم خوف میں جکڑا گیا۔ "آخر انہوں نے بدلے میں میرا رشتہ کیوں طلب کیا؟"
دونوں طرف شادی کی تیاریاں تھیں، امی لیلیٰ کی طرف جا کر اسے ساتھ لے لیتیں تاکہ بَری اس کی پسند کے مطابق بن سکے، اکثر حسین بھائی بھی ساتھ ہو لیتے۔ مگر ہدیہ کو جب بھی یہ لوگ اپنے ساتھ بَری کی شاپنگ کرانے لے کر گئے، مہران شاہ کبھی بھی ساتھ نہیں آیا۔ اپنے بھائی کی خوشی اور شوق دیکھتی تو اسے مہران شاہ کا انداز بہت کھلنے لگتا، دل میں کئی وسوسے جنم لیتے مگر وہ یہ سب کسی سے کہہ نہیں سکتی تھی۔ منگنی کے بعد لیلیٰ کے چہرے پر کیسا نکھار آ گیا تھا اور حسین بھائی کتنے خوش دکھائی دیتے تھے اور روزانہ لیلیٰ کو فون کرتے، پتا نہیں کیا باتیں ہوتی تھیں ان کے درمیان! ہدیہ تو بس یہ دیکھتی، فون کرنے کے بعد حسین بھائی کے ہر انداز میں شوخی نمایاں ہوتی، مزاج تو پہلے بھی بہت اچھا تھا مگر اب تو بات ہی اور تھی۔
ہدیہ بجھی سی تھی۔ کئی بار اس کا دل چاہتا وہ لیلیٰ سے پوچھے: "آخر آپ لوگوں نے بدلے میں میرا رشتہ کیوں طلب کیا؟" مگر پھر کچھ سوچ کر خاموش ہو رہتی۔
شادی کے دن قریب آ رہے تھے۔ پہلے انہیں بارات لے کر جانا تھا اور جس روز حسین کا ولیمہ تھا، اس روز ہدیہ کو رخصت ہونا تھا، اسے افسوس تھا کہ وہ بھائی کی بارات میں بھی نہیں جا سکتی تھی۔ حسین بھائی کس قدر خوش تھے، کیا مہران شاہ کا بھی یہی حال ہو گا؟ حسین نے اپنا کمرہ لیلیٰ سے پوچھ کر اس کی پسند کے مطابق خود سیٹ کیا تھا۔ وہ سب دیکھتی رہی، ایک خوف اس کے گرد جال بننے لگا، اسے لگا وہ مہران شاہ کو زبردستی سونپی جا رہی ہے، ورنہ اسے اس کی نہ پروا ہے نہ خیال، ہائے میں کیسے رہوں گی وہاں اپنے تمام پیار کرنے والوں کو چھوڑ کر! اس کا دل بھر آیاپھر اگلے روز وسوسوں میں گھری وہ نازک پیاری چھوٹی سی لڑکی دلہن بن کر مہران شاہ کے گھر آ گئی۔ آج حسین اور لیلیٰ کا ولیمہ تھا اور رواج کے مطابق لیلیٰ کو بھی آج میکے آنا تھا مگر حسین کی دادی کی طبیعت اچھی نہیں تھی، وہ دل کی مریضہ تھیں، اکلوتی لاڈلی پوتی کی جدائی کے خیال سے ان کی طبیعت خراب ہونے لگی تھی۔ لیلیٰ نے حسین سے کہا: "میں کل صبح چلی جاؤں گی۔" حسین تو خود بھی یہی کہنا چاہتا تھا، ہدیہ کے ساتھ ساتھ اگر لیلیٰ بھی چلی جاتی تو گھر میں بہت بے رونقی ہو جاتی، اب لیلیٰ کی موجودگی دادی جان کو بہت حد تک بہلا سکتی تھی۔
رخصتی کے وقت مہران شاہ نے ماں سے لیلیٰ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مختصر الفاظ میں اتنا بتایا: "آج حسین کی دادی کی طبیعت اچھی نہیں ہے، لیلیٰ صبح آ جائے گی۔"
"لیلیٰ کیا ڈاکٹر ہے؟ پہلے ہی روز سے میری بہن پر پانی... ایسا تو بیلا کے سسرال والوں نے بھی نہیں کیا تھا۔"
اس کے دل و دماغ میں دھواں سا بھرنے لگا تھا۔ اس نے ایک سلگتی ہوئی نگاہ دلہن بنی لڑکی پر ڈالی اور نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبا کر اس کے برابر میں آ بیٹھا۔ وہ کچھ سمٹ سی گئی تھی مگر مہران شاہ نے محسوس نہ کیا، وہ اپنی ہی آگ میں سلگ رہا تھا۔
ہدیہ کو لا کر خوبصورت انداز میں سجائے ہوئے کمرے میں بٹھا دیا گیا۔ وہ سر جھکائے بیٹھی رہی، ایک بار بھی سر اٹھا کر جائزہ لینے کی کوشش نہیں کی۔ میران شاہ کمرے میں آیا تو وہ اپنی نازک دلہن دیکھ کر ہی شاکڈ ہو گیا وہ اتنی پیاری لگ رہی تھی کہ اسے خود پر قابو رکھنا مشکل تھا اور پھر وہ اسکی مرضی جانے بغیر اس سے اپنا حق وصول کر چکا تھا۔۔۔رات جب مہران شاہ سو گیا تھا، تب وہ بے آواز روتی رہی، اسے ایک پل بھی نیند نہیں آئی۔ کمرے میں گرم دودھ، چائے، فروٹ اور مٹھائی موجود تھی مگر اس نے کچھ بھی نہیں کھایا۔ سر درد سے پھٹ رہا تھا، وہ دونوں ہاتھوں میں سر دبائے روتی رہی اور جلد صبح ہونے کی دعا کرتی رہی۔ صبح جب اس نے مہران شاہ کے کھلے چہرے اور بات بے بات مسکراتے لبوں کو دیکھا تو یہی سمجھی فاتح فتح کے نشے میں ہے۔ "پتا نہیں کب شام ہو گی اور میں واپس اپنے گھر جا سکوں گی۔" وہ خاموش، اداس بیٹھی بار بار ٹائم دیکھتی تھی۔ولیمہ کی تقریب کے اختتام پر جب مہمان رخصت ہو رہے تھے، اس کی امی قریب آئیں اور اسے گلے لگا کر بولیں: "اچھا بیٹی! ہم لوگ اب چلتے ہیں، تم اپنا خیال رکھنا اور کوئی بات دل پر مت لینا ہدیہ۔"
"کیا مطلب! میں آپ لوگوں کے ساتھ نہیں جاؤں گی؟" اس نے کچھ پریشان ہو کر پوچھا۔ وہ نظریں چرا گئیں۔
"تم مہران شاہ کے ساتھ آنا۔"
"تو آپ کہیں نہ ان سے، وہ بھی ابھی چلیں۔"
"انہیں بہت کام ہے، اکیلا تو ہے وہ، کوئی بھائی نہیں ہے اس کا اور تمہارے سسر بیمار آدمی ہیں۔ تم اس کے ساتھ آ جانا اور دیکھو دل میلا مت کرنا، شادی شدہ زندگی میں بہت کچھ سہنا پڑتا ہے۔"
"امی! میں یہاں نہیں رہ سکتی، مجھے جانا ہے۔" اس نے یہ بھول کر کہ اب حقوق کسی دوسرے شخص کو سونپ چکی ہے، ضد کی۔
"لیلیٰ کو دیکھو کیسی سمجھ دار لڑکی ہے، تم بھی بچپنا چھوڑنے کی کوشش کرو۔" پھر بھائی اور ابو بھی اس سے ملے۔ وہ سب خاموش سے تھے، ضرور کچھ ہوا ہے۔ اس کا جی گھبرانے لگا۔ مہمانوں کے جانے کے بعد یہ لوگ بھی گھر واپس آ گئے۔ کار میں اس کی ساس اور سسر دونوں اس کے ساتھ تھے۔ مکمل خاموشی چھائی رہی اور یہ چپ اسے بے چین کرتی رہی، بری طرح ستاتی رہی۔ اسے ان سب پر شدید غصہ تھا۔
اسے کیوں روک لیا گیا؟ میکے کیوں نہیں جانے دیا؟ بظاہر یہ ساس صاحبہ کتنے میٹھے مزاج کی لگتی ہیں مگر میں بھول گئی تھی، ساس تو ساس ہی ہوتی ہے۔ گھر آئے تو سب لوگ ان کے کمرے میں آ کر بیٹھ گئے۔ لیلیٰ خوب چہک رہی تھی۔
"امی! میرا کمرہ تو کسی نے نہیں کھولا؟ میری چیزیں تو ادھر ادھر نہیں کیں؟ لوگ جو میرے لیے گفٹ لے کر آئے تھے، وہ کہاں رکھے ہیں؟ امی! صبح میں بریانی کھاؤں گی، وہ بھی آپ کے ہاتھ کی بنی ہوئی۔"
وہ ماں کی گود میں سر رکھے لیٹی تھی اور ہدیہ کو اپنے لوگ یاد آ رہے تھے۔ پھر جب یہ سب سونے کے لیے اپنے کمروں میں چلے گئے تو مہران شاہ نے اسے کپڑے بدلنے کے لیے کہا۔
"جی میں ایسے ہی ٹھیک ہوں۔" وہ بڑی سنجیدگی سے بولی تھی۔
"ایسے ہی؟ اتنے زیور لاد کر اور اتنے بھاری کپڑوں میں؟" وہ استہزائیہ انداز میں ہنسا تھا۔ "مجھے معلوم ہے تم تھک گئی ہوگی مگر لباس تبدیل کرنا تو ضروری ہے۔" کل کے مقابلے میں اب اس کا انداز کافی نرم تھا۔
"ہوں! اب بھی بھاری لباس اور زیور مجھے ڈسٹرب کیا کرے گا۔ میرا تو دل جل رہا ہے، کتنا ظلم کیا ہے مجھ پر۔"
"اب کیوں بیٹھی ہو ایسے؟" اس نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر نرمی سے پوچھا۔ اس نے بیزاری سے ہاتھ چھڑا لیا۔ اس بات پر وہ کچھ چونکا اور بولا:
"تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟"
"ہوں! اب بھلا کیا ہو سکتا ہے میری طبیعت کو۔" وہ آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو پینے کی کوشش کرتے ہوئے کچھ بھرائی ہوئی آواز میں بولی تھی۔
"کسی نے کچھ کہا ہے تمہیں؟"
"میں اپنے گھر جانا چاہتی تھی،" آخر اس نے کہہ دیا اور ایک مصلحانہ سی مسکراہٹ مہران شاہ کے لبوں پر دوڑ گئی۔
"کل یقیناً لیلیٰ بھی ایسے ہی رو رہی ہوگی، بلکہ اس سے بھی زیادہ کہ وہ تو اپنے بھائی کی بارات کے ساتھ نہیں آ سکی تھی۔"
تب ہدیہ نے چونک کر سر اٹھایا۔ مہران شاہ کا چہرہ کچھ جتاتا ہوا سا تھا، اس نے گھبرا کر سر جھکا لیا۔
"یہ رونا دھونا مجھے بالکل پسند نہیں، نہ ہی میں کسی کی منتیں کر سکتا ہوں۔ اٹھو اور یہ زیور اتار کر چینج کر کے بیڈ پر آؤ۔"میران شاہ کی آواز میں خمار تھا ہدیہ کا رواں رواں سلگ اٹھا
#crossmarriage #urdunovels #rudehero #RevengeBaseNovel #EmotionalStory #HeartTouching #novels See less

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Description — Urdu

Dahst e Talab کے اس اقتباس میں ایک رشتے کے بدلے دوسرا رشتہ مانگنے کی شرط سامنے آتی ہے۔ ہدیہ کی گھبراہٹ اور مہران شاہ کا سخت رویہ اس کی نئی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔

Summary — Urdu

مہران شاہ لیلیٰ کے رشتے کے لیے اس شرط پر رضامندی دیتا ہے کہ بدلے میں ہدیہ کا رشتہ دیا جائے۔ ہدیہ اس کے سرد رویے سے پہلے ہی خوفزدہ ہے، اور شادی کے بعد بھی اس کے آنسو اور بے آرامی برقرار رہتے ہیں۔

Related Keywords

Dasht e Talab Urdu Novel,

Share this Novel

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote this novel?

This novel is written by Novelistan.

Is this novel complete or ongoing?

The recorded status is complete novel.

Join Our Community

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *