Sneak
ادھر بیٹھو آ کے۔“ انہوں نے بیڈ پر ہی اپنے قریب اشارہ کیا۔ ”دیکھئے! مجھے اچھا نہیں لگ رہا ہے ایسے آنا، آپ کی امی کیا سوچیں گی؟“ ”اس وقت کوئی بات نہیں ہوگی، صرف میری اور تمہاری ہوگی۔“ چند بول سے ہی وہ اس رشتے میں بندھ گئے تھے اور شہل کو فطری جذبات اکسا رہے تھے کہ وہ ان کی ہے اور پورا استحقاق رکھتے ہیں۔ ”جب تک ہمارا رشتہ سب کے سامنے نہیں آ جاتا، پلیز آپ...“ اس نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، جو وہ تھام چکے تھے۔ ”تم یہ شرط مجھ پر عائد کیوں کر رہی ہو؟ وقت آنے پر میں بتا دوں گا۔“ وہ غصے میں آ گئے، کیونکہ اس نے اپنا آپ ان سے چھڑا لیا تھا۔ ”ٹھیک ہے، وقت آنے پر میں بھی آپ کو نہیں روکوں گی۔“ اس وقت وہ بھی روکھی پھیکی بن گئی تھی۔ وہ حیرانگی سے اس لڑکی کو دیکھنے لگے جو ان کے سامنے ڈری سہمی ہی رہتی تھی۔ ”اقصیٰ! تم مجھ پر اعتبار نہیں کر رہی ہو۔“ وہ افسردہ سے ہو گئے۔ بات اعتبار کی نہیں ہے، بلکہ دل کی ہے، آپ نے مجبوری میں مجھ سے رشتہ جوڑا ہے، اس لیے میں مزید آپ پر بوجھ نہیں بننا چاہتی۔“ وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی ”تم اتنی نروس مت ہو، بس اتنی سی گزارش ہے کہ سارے گھر کی ذمہ داری تو اٹھا لی، ایک تمہارا شوہر بھی ہوتا ہے، ذرا اس کی بھی، زیادہ نہیں تو تھوڑی سی ذمہ داری تو اٹھا لو۔“ انہوں نے بڑے نرم لہجے میں ایک شکوہ ہی کیا۔ ”جی، وہ... میں بھی نہیں...“ شرم و حیا سے رخسار تو اس کے سرخ ہی ہونے لگے تھے۔ اس پر شہل کی آنچ دیتی قربت سے تو پگھلنے ہی لگی تھی۔ ”اس کمرے پر نگاہ ڈالو، پھر وارڈروب کھولو، کافی بے ترتیبی ہے، ذرا یہ سب کر دیا کرو۔“ ”جی، اچھا۔“ اس نے رکی سانس بحال کی، ورنہ تو اس کی کوئی نئی فرمائش پر ہی حیا سے سمٹ رہی تھی کہ شہل شاید کچھ اور طلب کرنا چاہ رہے ہیں۔ اقصیٰ نے جلدی جلدی کمرے کو سنوارا، پھر اس کی وارڈروب کے سارے کپڑے باہر نکالے۔ تہہ لگا کے رکھے، جو استری کرنے والے تھے وہ الگ کر کے رکھے۔ شہل صوفے پر نیم دراز اس کی حرکات و سکنات خاصی دلچسپی سے دیکھ رہے تھے، بلیو کپڑوں میں سر تک حسب معمول آنچل لپٹا ہوا تھا۔ ”یہ کپڑے میں کل پریس کر کے ہینگ کر دوں گی۔“ الماری بند کرنے کے بعد ارادہ اس کا جلد از جلد کمرے سے نکلنے کا ہی تھا، پھر ایک بج رہا تھا، کچھ کام باقی تھے۔ ”اقصیٰ! ادھر میرے پاس آ کے بیٹھو۔“ شہل کا لب و لہجہ تک سحر انگیز ہو گیا۔ وہ آہستگی سے قدم اٹھاتی اس کے قریب آ کے کھڑی ہو گئی۔ شہل خود ہی اٹھے، پھر اس کا نازک سا بایاں ہاتھ پکڑے بیڈ تک لائے اور بٹھا دیا۔ وہ میکانکی انداز میں سب کرتی جا رہی تھی۔ ”میں مانتا ہوں اقصیٰ! یہاں آپ خوش نہیں ہیں، چچی جان کا مشکوک اور تنقیدی انداز آپ کو خاصا پریشان کر رہا ہے۔“ ”جب آپ سے رشتہ جوڑ لیا، تو اس گھر کے تمام افراد سے جوڑ لیا۔ آپ ہی نے تو کہا تھا کہ پہلے مجھے سب کا بننا ہے، جب ہی پھر سب میرے بنیں گے۔“ وہ جھٹ سے اس کی کہی بات یاد دلانے لگی۔ ”تم یہ بھی سوچتی ہوگی کہ میں نے تم سے شادی تو کر لی، ابھی تک وہ عزت و مقام نہیں دیا۔“ انہوں نے اس کے جھکے سر کو شہادت کی انگلی سے اوپر اٹھایا۔ ”مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے، میں اب اس گھر کی بہو ہوں اور میں سب کا دل جیت کے ہی دکھاؤں گی۔“ وہ پرعزم اور اٹل لہجے میں گویا ہوئی۔ شہل دنگ رہ کر اسے دیکھنے لگے، جس کی فسوں خیز آنکھوں سے دو موتی لڑھک کر اس کے آنچل پر گرے تھے۔ ”میری بس آپ سے ایک گزارش ہے، آئندہ آپ مجھے مجبور نہیں کریں گے اور نہ اس طرح کمرے میں بلائیں گے۔“ ”لیکن اقصیٰ! میں تمہارا شوہر ہوں، فطری جذبات رکھتا ہوں۔“ وہ ایک دم مستقل مزاجی سے بولے۔ ”تم میرے ساتھ اس طرح نہیں کر سکتی ہو۔“ ”میں چاہتی ہوں کہ سب گھر والے جب سب جان جائیں ہمارے اس رشتے کے بارے میں، میں پھر آپ کو نہیں روکوں گی۔“
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
Summary — Urdu
وہ شہل کو اپنا شوہر تسلیم کرتی ہے اور اس رشتے کی اہمیت بھی سمجھتی ہے، لیکن اس کی خواہش ہے کہ پہلے سب گھر والوں کو ان کے نکاح کا علم ہو اور اسے باقاعدہ طور پر اس گھر کی بہو اور شہل کی بیوی کا مقام دیا جائے۔
دوسری جانب شہل اس نکاح کو اپنی زندگی کا ایک حقیقی رشتہ سمجھتے ہیں۔ وہ اقصیٰ سے اپنی بیوی جیسی توجہ، قربت اور اپنائیت چاہتے ہیں، مگر اقصیٰ کی جھجک اور مسلسل احتیاط ان کے لیے پریشانی کا باعث بننے لگتی ہے۔
ایک دن شہل اقصیٰ کو اپنے کمرے میں بلاتے ہیں اور بستر پر اپنے قریب بیٹھنے کے لیے کہتے ہیں۔
اقصیٰ اس صورت حال سے گھبرا جاتی ہے۔ اسے فکر ہوتی ہے کہ اگر شہل کی والدہ نے اسے اس طرح ان کے کمرے میں دیکھ لیا تو وہ کیا سوچیں گی۔
مگر شہل اس کی پریشانی کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے یقین دلاتے ہیں کہ اس وقت وہ صرف اپنے اور اقصیٰ کے رشتے کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں۔
شہل کے نزدیک نکاح کے بعد اقصیٰ ان کی بیوی ہے اور وہ اس سے ازدواجی قربت کی خواہش رکھتے ہیں۔
لیکن اقصیٰ اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے درخواست کرتی ہے کہ جب تک ان کا رشتہ سب کے سامنے ظاہر نہیں ہو جاتا، شہل اس سے ایسی توقعات نہ رکھیں۔
اس کے انکار پر شہل ناراض ہو جاتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ وہ ان پر یہ شرط کیوں عائد کر رہی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ مناسب وقت آنے پر خود سب کو ان کے رشتے کے بارے میں بتا دیں گے۔
اقصیٰ بھی اپنے مؤقف پر قائم رہتی ہے اور جواب دیتی ہے کہ جب وہ وقت آئے گا تو وہ بھی انہیں نہیں روکے گی۔
اس جواب سے شہل حیران رہ جاتے ہیں، کیونکہ اقصیٰ عموماً ان کے سامنے ڈری سہمی اور خاموش رہتی ہے، لیکن اس مرتبہ وہ اپنے فیصلے پر مضبوطی سے کھڑی ہوتی ہے۔
شہل کو محسوس ہوتا ہے کہ شاید اقصیٰ ان پر اعتبار نہیں کرتی۔
وہ افسردگی سے اس کے سامنے اپنا شکوہ رکھتے ہیں، مگر اقصیٰ کی پریشانی کی اصل وجہ کچھ اور ہوتی ہے۔
وہ بھرائی ہوئی آواز میں بتاتی ہے کہ اسے شہل پر بے اعتمادی نہیں، بلکہ وہ سمجھتی ہے کہ انہوں نے کسی مجبوری کے تحت اس سے نکاح کیا ہے۔
اسی لیے وہ ان پر مزید بوجھ نہیں بننا چاہتی۔
اقصیٰ کے الفاظ میں احساسِ کمتری، جھجک اور اپنے رشتے کے مستقبل کے متعلق بے یقینی نمایاں ہوتی ہے۔
شہل اس کی پریشانی کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے نرم لہجے میں کہتے ہیں کہ وہ پورے گھر کی ذمہ داریاں تو سنبھال رہی ہے، لیکن اس کا ایک شوہر بھی ہے جسے اس کی تھوڑی سی توجہ کی ضرورت ہے۔
ان کی بات سن کر اقصیٰ شرما جاتی ہے اور اپنے جذبات چھپانے کی کوشش کرتی ہے۔
لیکن اگلے ہی لمحے شہل اسے اپنے کمرے کی بے ترتیبی اور الماری میں بکھرے کپڑوں کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
وہ اقصیٰ سے کہتے ہیں کہ کبھی ان کے کمرے اور کپڑوں کی ترتیب کا بھی خیال رکھا کرے۔
اقصیٰ فوراً ان کی بات مان لیتی ہے۔
وہ کمرہ درست کرتی ہے، الماری کے کپڑے نکال کر ترتیب سے تہہ لگاتی ہے اور جن کپڑوں کو استری کی ضرورت ہوتی ہے انہیں الگ رکھ دیتی ہے۔
شہل صوفے پر بیٹھے خاموشی سے اسے کام کرتے دیکھتے رہتے ہیں۔
اقصیٰ اپنے کام میں مصروف رہتی ہے، مگر اس کے دل میں اس رشتے کی غیر یقینی حیثیت اور گھر والوں کے ردعمل سے متعلق پریشانی موجود ہوتی ہے۔
کمرے کی صفائی مکمل کرنے کے بعد وہ وہاں سے نکلنے کا ارادہ کرتی ہے، لیکن شہل اسے دوبارہ اپنے قریب بیٹھنے کے لیے کہتے ہیں۔
وہ اقصیٰ کو بستر پر بٹھاتے ہیں اور اس کے جذبات کے متعلق بات شروع کرتے ہیں۔
شہل اعتراف کرتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں اقصیٰ اس گھر میں پوری طرح خوش نہیں ہے۔
انہیں یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ چچی جان کا مشکوک اور تنقیدی رویہ اقصیٰ کو پریشان کر رہا ہے۔
مگر اقصیٰ شکایت کرنے کے بجائے انہیں ان کی اپنی بات یاد دلاتی ہے۔
وہ کہتی ہے کہ جب اس نے شہل سے رشتہ جوڑ لیا ہے تو اس گھر کے تمام افراد سے بھی اپنا تعلق قائم کر لیا ہے۔
شہل نے ہی اسے سمجھایا تھا کہ پہلے اسے سب کا بننا ہوگا، تبھی سب اسے اپنا سمجھیں گے۔
اقصیٰ اسی اصول پر عمل کرتے ہوئے پورے خاندان کا دل جیتنا چاہتی ہے۔
شہل اس سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ یہ بھی سوچتی ہے کہ انہوں نے نکاح کے باوجود اسے ابھی تک وہ عزت اور مقام نہیں دیا جس کی وہ حق دار ہے۔
اقصیٰ صاف کہتی ہے کہ اسے شہل سے کوئی شکایت نہیں۔
وہ خود کو اس گھر کی بہو سمجھتی ہے اور پورے یقین سے کہتی ہے کہ ایک دن سب کا دل جیت کر دکھائے گی۔
لیکن اس پراعتماد جواب کے باوجود اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلتے ہیں۔
شہل اس کی خاموش تکلیف محسوس کرتے ہیں، مگر اقصیٰ اپنی ایک درخواست پھر دہراتی ہے۔
وہ چاہتی ہے کہ آئندہ شہل اسے اس طرح اپنے کمرے میں نہ بلائیں اور نہ ہی کسی ایسی بات پر مجبور کریں جس کے لیے وہ ابھی ذہنی طور پر تیار نہیں۔
شہل اسے یاد دلاتے ہیں کہ وہ اس کے شوہر ہیں اور ان کے بھی فطری جذبات اور ازدواجی توقعات ہیں۔
لیکن اقصیٰ اپنے مؤقف پر قائم رہتی ہے۔
وہ کہتی ہے کہ جب گھر کے سب افراد ان کے نکاح سے واقف ہو جائیں گے تو وہ شہل کی قربت سے گریز نہیں کرے گی۔
یہ گفتگو ان دونوں کے درمیان موجود بنیادی اختلاف کو نمایاں کرتی ہے۔
شہل نکاح کے رشتے کی بنیاد پر اپنی بیوی کی توجہ اور قربت چاہتے ہیں، جبکہ اقصیٰ اس رشتے کو سب کے سامنے قبول کیے جانے اور اپنی حیثیت واضح ہونے تک انتظار کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔
ایک طرف شہل کی خواہش ہے کہ اقصیٰ ان کے تعلق کو اعتماد کے ساتھ قبول کرے، جبکہ دوسری جانب اقصیٰ کے دل میں یہ احساس موجود ہے کہ وہ کسی مجبوری کے تحت ان کی زندگی کا حصہ بنی ہے۔
یہ جذباتی رومانوی کہانی پوشیدہ نکاح، خاندانی قبولیت، ازدواجی اختلافات، عزتِ نفس، باہمی رضامندی اور رشتے میں اعتماد کے گرد گھومتی ہے۔
کیا شہل اقصیٰ کے دل میں موجود بے یقینی اور احساسِ کمتری کو سمجھ سکیں گے؟ کیا اقصیٰ کو اس گھر میں وہ مقام مل سکے گا جس کی وہ خواہش رکھتی ہے؟ اور کیا ان کے نکاح کا سب کے سامنے اعلان دونوں کے درمیان موجود فاصلے کم کر پائے گا؟
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕





